شاہراہ جامعہ کراچی جتنی اہم اتنی ہی خستہ حال

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر اور غریب پرور شہرکی حیثیت رکھتا تھا اس کی نمائندگی کرنے والے فخریہ اس کی ترقی اور دیکھ بھال میں دن رات مصروف رہا کرتے تھے ۔ آج یہ شہر لاوارث اور ان شہروں میں شامل ہوچکا ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں، اس شہر کو اون کرنے والا کوئی نہیں، کوئی سیاسی جماعت اس شہر کی زبوں حالی کا ماتم کرنے والی نہیں۔ یوں تو پورا شہر ہی خستہ حالی کا شکار ہے، ہر جانب کوڑے کرکٹ کے ڈھیر، ہر سڑک کے کنارے ٹھیلے والوں کا راج، فٹ پاتھ چلنے والوں کے بجائے پتھارے داروں اور ٹھیلے والوں کی انکروچمنٹ شدہ دکانوں سے سجے ہوئے ہیں ،عمارتیں غیر قانونی طور پر بلند سے بلند تر ہوتی جارہی ہیں، کوئی کسی سے پوچھنے والا نہیں،گٹر ابل ابل کر عوام الناس کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں، سیورج کی لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں، اسٹریٹ کرائمز پر رینجرز نے کراچی آپریشن کے تحت کچھ کنٹرول کیا ہے لیکن جوں آپریشن ہلکا ہوتا ہے اسٹریٹ کرائم کرنے والے دوبارہ سے اپنی کاروائیاں شروع کردیتے ہیں،دہشت گردی کی صورت حال سب کے سامنے ہے، یہاں کے قبرستان عاملوں ، جادو ٹونا کا کاروبار کرنے والوں اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ، یہاں کی سڑکیں، گلیاں ٹوٹ پھوٹ کی تمام حدود عبور کرتے ہوئے کھنڈرات کا منظر پیش کرتی نظر آر ہی ہیں۔یوں تو ہر سڑک خواہ چھوٹی ہو یا بڑی زبوں حالی کا شکار ہے لیکن کراچی یونیورسٹی روڈ جو بابائے قوم کے مزار سے شروع ہوتی ہے سوک سینٹر کو چھوتی ، شہر کی اہم و معروف چار جامعات یعنی جامعہ کراچی ،جامعہ این ای ڈی، جامعہ سرسید اور وفاقی اردو یونیورسٹی، سوک سینٹر، ایکسپوسینٹر، نم(نیپا)، اے جی سندھ اور اے جی پی آر، میٹر کیش اینڈ کیری، سفا ری پارک کے سامنے سے ہوتی ہوئی سفورہ چورنگی پر اختتام پزیر ہوتی ہے جس سے چند قدم پر ملیر کنٹونمنٹ ایریا،ائر پورٹ اور بائیں جانب سپر ہائی وے منسلک ہو جاتا ہے۔اس شاہراہ پر بے شمار اسپتال قائم ہیں ان میں کرن اسپتال، میمن اسپتال، ڈاؤ یونیورسٹی و اسپتال، ماڈرن اسپتال، ابن سینا اسپتال، اشفاق میموریل اسپتال قائم شامل ہیں ۔مریضوں اور ایمبولینسز کا اس سڑ ک سے گزر کر اسپتالوں تک پہنچنا انتہائی پریشنان کن ہوتا ہے۔ گویا یہ شاہراہ مریضوں اور مریضوں کو لے جانے والے ایمبولینسز کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

شاہراہ جامعہ کراچی شہر کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔ اس سڑک کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اسے شاہراہ کہنا شاہراہوں کی توہین لگتا ہے۔ جگہ جگہ سے سڑک ٹوٹی ہوئی ، بعض بعض جگہ گہرے گھڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس شاہراہ سے گزر کر جانے والوں میں اہم عہدوں پر فائز سول و عسکری افسران بھی ہوں گے جو روز نہ سہی ہفتے یا مہینے میں اس شاہراہ کو ضرور استعمال بھی کرتے ہوں گے،اس پر سے گزر کر سندھ اسمبلی پہنچنے والے عوام کے منتخب نمائندے بھی ہوں گے، بلدیاتی نمائندے اور افسران بھی ہوں گے انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کیوں نہ وہ ہی حکام متعلقہ کی توجہ اس جانب دلادیں۔ یوں تو کراچی کی ہر سڑک بے بسی ، بے چارگی، لاوارثی کا منظر پیش کر رہی ہے لیکن جامعہ کراچی کے نام سے موسوم یہ شاہراہ جس قدر اہم ہے اس کی حالت زار اس سے کہیں زیادہ ابتر ہے۔ اس شاہرہ کی حالت کی جانب ہر طرح سے توجہ دلانے کی سعی کی گئی، احتجاج ہوا، ریلی نکالی گئی، بینرز لگائے گئے، کیمپ لگا کر مائیک پرچلا چلا کر حکام ِبے حس کی توجہ اس جانب منذول کرائی گئی لیکن نہیں معلوم حکومت یا بلدیاتی حکام اس شاہراہ سے گزرنے والوں کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں۔ میئر کراچی کو جیل سے رہا ہوئے کافی عرصہ ہوچکا، وہ اس شاہراہ سے گزر بھی چکے ہیں لیکن حیرت ہے کہ انہوں نے بھی تاحال اس جانب توجہ نہیں کی۔ وجوہات سمجھ سے بالا ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سماجی رہنما ، کراچی کا درد رکھنے والے عالمگیر نے اپنی سماجی تنظیم فکس اٹ(Fix IT)کے ساتھیوں کے ساتھ شاہراہ جامعہ کراچی کے لیے ایک تحریک شروع کی جس میں انہوں نے موسمیات بس اسٹاپ پر پر کئی دن بھوک ہڑتال بھی کی ، پفلیٹ،بینر، ہینڈ بلز، اسپرے چاکنگ اور دیگر ذرائع کے ذریعہ حکام متعلقہ کی توجہ اس جانب منزول کرانے کی پوری کوشش کی لیکن تمام تر کوششیں لاحاصل ثابت ہوئیں، حکام متعلقہ کی کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ احتجاج اور توجہ دلاؤ مہم کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ، کچھ دن قبل ایک سیاسی جماعت ’جماعت اسلامی ‘ نے شاہراہ جامعہ کراچی کی ابتر صورت حال اور اسے از سرِ نو بنانے کی مہم شروع کی ہوئی ہے۔یہ مہم اور یہ آواز صرف عالمگیر یا کسی ایک یا چند سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ یہ آواز ہر اس سفر کرنے والے کی ہے جو دن میں کم از کم دو بار اس پر سے گزرتا ہے اور اپنی منزل پر پہنچ کر حکام بالا کے حق میں کلمات خیر ضرور ادا کرتا ہے۔ بلدیہ عظمیٰ میں اکثریت رکھنے والی جماعت کے میئر نے100دن کی صفائی مہم کا آغاز کیا ہے۔ جس میں وہ اپنی مدد آپ اور موجود وسائل کے ساتھ شہر کراچی کو صاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یہ اچھا آغاز ہے ، ان کا ساتھ دینے، ان کی مدد کرنے سے کسی نے انکار نہیں کیا، سندھ کے وزیر اعلیٰ نے حکومتی مشینری کو اس مہم میں بھر پور مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دیگر ادارے بھی اس اچھے کام میں بلدیاتی نمائندوں کی بھر پور مدد اور تعاون کریں گے۔ میئر کراچی سے دست بستہ استدعا ہے کہ وہ شاہراہ جامعہ کراچی کی ابتر صورت اور اس کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ، اس کی مرمت یا تعمیر میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرکے اس شاہراہ سے گزرنے والے بے شمار لوگوں کوانتہائی مشکل اورپریشانی سے نجاب دلائیں۔شاہراہ جامعہ کراچی کی ابتر صورت حال سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے زمانے سے ہے ، انہوں نے یہاں کے باسیوں کی تمام تر درخواستیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔ اب نئے وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ سے قوی امید ہے کہ وہ اس جانب خصو صی توجہ دیں گے۔ نئے گورنر صحت یابی کے بعد کراچی کے ا س اہم مسئلے کو حل کرانے کی سعی کریں گے۔ حکومت کے لیے جامعہ کراچی شاہراہ کی تعمیر کوئی مسئلہ نہیں ایسی دس شاہراہیں ایک ماہ میں بنا سکتی ہیں اگر نیت صاف ہو، کام کرنے کا ارادہ ہو، عوام کی تکلیف کا احساس ہو۔ آخر اس وقت بھی تو سڑکیں ایک رات میں مرمت ہوجاتی ہیں جب کسی بڑی سیاسی شخصیت کو اس سٹرک سے گزرنا ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے تمام تر توجہ پنجاب کی جانب کی ہوئی ہے ، ایسا کرنا ان کا سیاسی حق اور فیصلہ ہے لیکن انہیں سندھ خاص طور پر کراچی کے مسائل اور مشکلات کی جانب بھی توجہ دینی چا ہیے۔ کراچی پی پی کا گڑ نہیں لیکن اس جماعت کے جانثار بے شمار اس شہر کے باسی ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کی توجہ چاہتے ہیں۔(8 دسمبر2016)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659160 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
08 Dec, 2016 Views: 309

Comments

آپ کی رائے