تربیت کس کے لیے لازمی؟

(Kanwal Naveed, Karachi)
تربیت کا لفظ سنتے ہی جو پہلا خیال ذہین میں جو آتا ہے وہ بچوں کی تربیت سے متعلق ہوتا ہے مطلب تربیت کو بچوں سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ اکثر جہاں بچے والدین کی بات نہیں مانتے یا کوئی بڑا غلط کام ان سے سرذد ہو جاتا ہے توفورا سے لوگ کہنے لگتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں کمی رہ گئی ۔یہ کمی ہمارے ہاں عمومی طور پر ماں پر ڈال دی جاتی ہے ،کوئی بچہ بھی جب بدتمیز ،بدزبان یا ضدی ہوتا ہے تو فورا اس کے والدین پر بات آتی ہے کہ وہ بچے کی تربیت نہیں کر پائے۔ اب سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی بچے کو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ بچے کو سنبھالتے کیسے ہیں یہ بتا دیا جاتا ہے ،بچے کو کھلاتے کیسے ہیں یہ سمجھا دیا جاتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ بچے کی تربیت کیسے کی جائے ۔ سائیکل دینے سے پہلے سائیکلینگ سکھا دی جاتی ہے ،کتاب پڑھانے سے پہلے زبان سمجھا دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں والدین کو کیسا ہونا چاہئے یہ کوئی نہیں سکھاتا۔ ہمارے ہاں مردوں کی طرح عورتیں بھی کیریر بنانے کو سوچتی ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تعلیم کا اہم مقصد ہمارے ہاں یہ ہی بتایا جاتا ہے کہ نوکری اچھی ملے گئی نہ کہ زندگی میں بہتری آئے گی سوچ میں بہتری آئے گی۔گویا نوجوان جب شادی کے بندھن میں باندھ دیے جاتے ہیں ،یہاں باندھ دیے جانے کا لفظ میں نے شعوری طور پر لیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی شادیاں ماں باپ کی مرضی سے ہی طے ہوتی ہیں۔محبتیں آپ اپنی مرضی سے جتنی چاہیں کریں خیر۔وہ ہمارے ہاں کی کہاوت ہے کہ اوکھلی میں سر دیا تو دھماکوں سے کیا ڈرنا،جیسے تیسے میاں بیوی آپس میں نباہ کر لیتے ہیں لیکن مسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب بچے ہوتے ہیں۔دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ تربیت کس بلا کا نام ہے ۔دونوں اپنے اپنے نظریات بچے پر استعمال کرتے ہیں ،کیا ہی مزے کی بات ہے کہ انسان جو اشرف المخلوق ہے اپنے والدین کے ہاتھوں محض ایک تجربہ کرنے والی کٹ پتلی بنا رہتا ہے۔ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ماں اپنے پہلے بچے سے بہت پیار کرتی ہے باقی بچوں کی نسبت اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے ایک لڑکی سے عورت بنا دیتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ پہلا بچہ ذیادہ پستا ہے اس پر تجربہ ذیادہ ہوتے ہیں ،ماں چونکہ ترحم کے جذبہ سے مذین ہوتی ہے لہذا وہ اپنے بچے سے ذیادہ محبت کرتی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ بچوں کی تربیت جس کے ذمے لگائی جاتی ہے ،اسے اس قابل نہیں سمجھا جاتا کہ وہ فیصلہ کر سکے۔ہمارے ہاں بمشکل بیس فی صد عورتیں مردوں کے ساتھ ان کے فیصلوں میں شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں ۔ذیادہ تر مرد عورت کو لاشعوری طور پر بے وقوف سمجھتے ہیں ،یہ ان کا قصور نہیں ہمارے ہاں یہ چیز غیر ارادی طور پر سکھا دی جاتی ہے ۔بچے جب باپ کا رعب ودبدبہ دیکھتے ہیں یا کوئی غلطی ہو جانے پر آدمی جس لہجے میں بات کرتا ہے یا جو الفاظ استعمال کرتا ہے وہ بچے کے دماغ کی خالی سلیٹ پر تا حیات نقش ہو جاتے ہیں خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ہم اس طرح سے جو سیکھا ہوتا ہے اکثر آگے منتقل کر دیتے ہیں۔

میں اور میری ایک دوست جب بچوں کے بگاڑ پر بحث کر رہے تھے تو اس نے مجھ سے پوچھا کیا ہم لوگ اپنے بچوں کے بگاڑ کی وجہ بنتے ہیں کیا ساری زمہ داری ماں پر عائد ہوتی ہے، تو مجھے اس چیز پر کہیں دن سوچنے اور اپنی ذات پر تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ ہم سب ہی بچوں میں بگاڑ کی وجہ بنتے ہیں کبھی تو ارادی طور پر کبھی غیر ارادی طور پر۔ہمارے پاس جو چیز ہے نہیں وہ ہم کسی دوسرے کو کیسے دےسکتے ہیں۔ ایمانداری ،سچ، بے غرضی اور دوسرے کو اپنے جتنی اہمیت دینا ہمارے ہاں سکھایا ہی نہیں جاتا ۔عورتیں اکثر اپنے شوہروں کی غیبت کرتی دیکھائی دیتی ہیں بچے سب کچھ مشاہدہ کرتے رہتےہیں۔بچے دیکھتے ہیں کہ باپ ماں کے ساتھ تو بہت سنجیدہ رہتا ہے۔اگر کوئی کام کہہ دے تو اچھا کہہ کر ایک لمبا انتظار دے دیتا ہے لیکن محلے سے کوئی عورت بھائی جان کہتی ہوئی کوئی کام لے کر آتی ہے تو خواہ کیسا ہی تھکا ہو اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ایسے میں بچہ سیکھتا ہے کہ کیسے ہر بندے کی الگ الگ اوقات ہے ،یہ ہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو ماں کو تو لمبا انتظار دے کر کام کر دیتے ہیں لیکن آنٹی کا کام شوق سے کرتے ہیں۔

مثالیں اگر دیکھیں تو ماں باپ مل کر بچے کی شخصیت کو چار چاند لگاتے ہیں۔بچے ایسے میں بد زبان،یا بدتمیز ہو تو فقط عورت پر الزام دینا ناانصافی ہوگی۔ہمارے ہاں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ باپ بچوں سے بات جیت ہی نہیں کرتے ،ماں میسج دینے والی ایک واحد مشین ہوتی ہے جو ادر کا پیغام اُدھر اور اُدھر کا ادر دے رہی ہوتی ہے۔ اگر معاملہ تلخ ہو تو اس بے چاری کو ادر اور اُدھر دونوں فریقوں کی تلخ باتیں سننا پڑھتی ہے بیٹا سمجھتا ہے کہ ماں بیوی ہونے کی وجہ سے باپ کی بات مجھ سے منوانا چاہتی ہے جبکہ باپ شوہر سمجھتاہے کہ بیٹے کے بگڑنے کی وجہ یہی ہے۔معاشرے میں ایسی عورتوں کا حال اس شعر کے مترادف ہوتا ہے
نہ خدا ہم ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

یہاں ایک اہم سوال جو اُٹھتا ہے کہ ہم جسے کسی قابل نہیں سمجھتے اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بچوں کو قابل بنا دے تو ایسا ممکن نہیں۔تربیت کی ضرورت ہمارے معاشرے میں پہلے مردوں کو ہے پھر عورتوں کو ۔مردکو برتری اسی لیے ہے کہ وہ کو زبردستی بھی اپنی طے کردہ رہ کی طرف لے جاتا ہے جب کہ عورت اگر غلط ہو تو اسے چھوڑ کر درست عورت کا انتخاب بھی باآسانی کر سکتا ہے لیکن عورت ہمارے ہاں جیسا بھی آدمی مل جائے خواہ اچھا ہو یا برا اپنی زندگی کاٹ ہی لیتی ہے۔بچوں کا ہونا ہمارے ہاں خوش بختی مانا جاتا ہے ،جتنے ذیادہ ہوں اُتنا اچھا۔ لوگ قرآن سے دلیل دیتے ہیں کہ عورت مرد کی کھیتی ہے۔ہمارے معاشرے میں چیزوں کو اپنی ضرورت اور آسانی کے تحت مرد مطابقت دے لیتے ہیں ۔وہ عورت جو ہر سال ایک بچہ پیدا کرتی ہو چار پانچ چھوٹے بچوں کو سنبھالتی ہو ،اس کے پاس تربیت کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں ہوتا وہ تربیت کیا خاک کرے گی۔کچھ عورتیں ماں بننا ہی نہیں چاہتی ان کے لیے ایک بچہ بھی بہت بڑی زمہ داری ہوتا ہے تربیت کی بہتری کے متعلق وہ بھی نہیں سوچتی کیونکہ انہیں اپنے بارے میں سوچنے سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ ؎

اب سوچنا یہ ہے کہ ان مساہل کا حل کیسے تلاش کیا جائے۔ہمارے ہاں یونیورسٹی لیول کی تعلیم میں بچوں کی تربیت کا ایک مضمون مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہونا چاہئے ۔بچہ ہماری آنے والے نسلوں کا امین ہوتا ہے اس کی تربیت کے لیے والدین کی تربیت کی انتہائی ضرورت ہے۔ مردوں کو گھریلو زندگی میں کس قدد نرم مزاج ہونا چاہئے خاص کر اس وقت جب ایک عورت ماں بننے کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہے، اُسے اپنے شریک حیات کی جو رہنمائی اور محبت درکار ہوتی ہے وہ کیسے مہیا کرئے یہ علم ہونا ہر مرد کے لیے لازم قرار دیا جائے۔ بچہ جب رحم مادر میں حرکت کرتا ہے تب سے ہی اپنے والدین کی باتیں سننا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی تربیت وہاں سے ہی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔عورتیں جو اپنے شوہروں کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتی ہیں ان کے بچے بھی کبھی دوسروں پر اعتبار نہیں کرتے۔لہذا مرد و عورت دونوں کو آپس میں بیٹھ کر اس سلسلے میں مشورہ کرنا چاہیے کہ وہ بچے کو کیسا بنانا چاہتے ہیں۔ کیا جو وہ اپنے بچے میں چاہتے ہیں ،آیا ان کے اندر بھی موجود ہے یا نہیں ۔ اگر نہیں تو اپنی تربیت کا آغاز کرنا شروع کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 184863 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
10 Dec, 2016 Views: 280

Comments

آپ کی رائے