پاکستان میں لوٹ مار کے مختلف اور منفرد طریقے

(Aslam Lodhi, Lahore)
میں نے ایک سونار(سونے کا کاروبار کرنے والا) سے پوچھا کہ آپ کی دکان میں پندرہ بیس بلب روشن ہیں کیا اس کا بل نہیں آتا اور اگر آتا ہے تو آپ اس کی ادائیگی کیسے کرتے ہیں جبکہ کئی گھنٹوں سے ایک بھی گاہک نہیں آیا ۔ آپ کاایک بیٹا انگلینڈاور دو بیٹے یہاں زیر تعلیم ہیں ۔ان کے پاس الگ الگ بائیک بھی ہے جس پر وہ روزانہ پڑھنے جاتے ہیں۔ کم ازکم 200 روپے روزانہ پٹرول پر بھی خرچ ہوتے ہوں گے۔ ماشااﷲ گھر کے تمام افراد ویل ڈریس بھی ہیں جو کھاتے پیتے گھرانے کے فرزند لگتے ہیں ۔ آپ کا مکان محلے میں سب سے بڑااور خوبصورت ہے ۔جس کے ہر کمرے میں ائیرکنڈیشنڈ بھی نصب ہیں ۔ گرمیوں میں ایک عام گھرانے کا بجلی کا بل آٹھ دس ہزار آتا ہے ۔ آپ کا بل یقینا پچاس ہزار روپے آتا ہوگا۔ سونار نے کہاآپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ایک شادی میں ان کی بیگم سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی سونے سے لدی نظر آئی ۔ گاڑی بھی ان کے پاس ٹویوٹا کرولا تھی جس کی قیمت بیس لاکھ سے کم تو نہیں ہوگی ۔ میں نے پوچھا کہ آخر اتنے اخراجات آپ کہاں سے پورے ہیں ۔سونار چونکہ میرا دوست تھا۔ اس نے بتایا کہ مہینے میں ایک بھی گاہک دکان پر آجائے تو یہ تمام خرچے پورے ہوجاتے ہیں لیکن آپ کسی کو بتانا نہیں کیونکہ یہ کاروباری راز ہے ۔ میں نے کہا وہ کیسے ؟حسن اتفاق سے ابھی ہم بات کرہی رہے تھے کہ ایک خاتون دکان میں داخل ہوئی ۔اس نے اپنے زیورات فروخت کرنے تھے ،جو چند سال پہلے ڈیڑھ لاکھ روپے میں بنوائے تھے ۔ سونار نے نگ ، موتی اور ڈوری اتار کر وزن کرکے بتایا ۔باجی ان زیورات کی قیمت اس وقت 47ہزار ہے ۔ یہ سنتے ہی خاتون غصے میں آگئی اور چیختے ہوئے کہا جب آپ زیور فروخت کرتے ہیں تو نگ اور موتی سونے میں شامل کرتے ہیں۔ اب ان کے بغیر وزن کیا جارہاہے ۔ یہ زیادتی ہے ۔ سونار نے کہاباجی ہمارا کاروباری دستور یہی ہے ۔میں یہ کاروباری لین دین دیکھ رہا تھا سوچا کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے پورے مہینے کے اخراجات پورے کرلیے جاتے ہیں ۔اگر مہینے میں بیس تیس گاہگ آجائیں تو کوٹھی اورکار بھی خریدی جاسکتی ہے۔ یہ تو ایک سونار کی بات تھی ۔ آج کل رکشے والے بھی سونار کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ایک ہی گاہک سے سارے دن کی کمائی طلب کرتے ہیں ۔جتناکرایہ لاہورسے ساہیوال کاہے۔ رکشے والے اس سے کہیں زیادہ کرایہ ٹھوکر نیاز بیگ سے اپر مال کا مانگتے ہیں۔ میں نے ایک رکشے والے سے دریافت کیا کہ آپ اتنا زیادہ کرایہ کیوں مانگتے ہیں ۔اس نے جواب دیا جناب اگر ہم لاری اڈے سے گلبرگ کا پانچ سو روپے مانگتے ہیں تو اس میں ایک سو کا پٹرول، دو سو روپے ٹریفک پولیس کا بھتہ ، سو روپے گھر کا خرچ ، ایک سو ہماری مزدوری شامل ہوتی ہے۔ہوگئے نا پانچ سو روپے۔اس نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا ہر چوک پر ٹریفک پولیس والابھتہ مانگتا ہے، جسے دیئے بغیر جان نہیں چھوٹتی ۔یہ بات طے ہے کہ اگر ہمیں رکشہ ہی چلانا ہی تو پھر ٹریفک پولیس کی مٹھی گرم کرنی ہی پڑے گی ۔ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی نہیں ڈالی جاتی۔اگر ہم بھتہ نہ دیں تو سوئے مار کر ٹائروں کوناقابل استعمال بنادیا جاتاہے، کبھی پولیس والے لفٹرسے اٹھاکر پٹخ دیتے ہیں جس سے پھر رکشہ چلنے کے قابل نہیں رہتا ۔ریلوے اسٹیشن کے اردگرد سول کپڑوں میں پولیس اہلکار سواری اٹھانے کے دو سوروپے نقد اور سرے عام وصول کرتے ہیں۔اگر ہم ہسپتال میں کسی مریض کو لے کر جائیں تو ہسپتال کاگیٹ کیپر ہم سے فی پھیرا 20 روپے مانگتا ہے جبکہ سواری ہسپتال کے اندر اترنا چاہتی ہے ۔لاہور میں صرف دو تین رکشہ سٹینڈ ہیں اگرکسی اورجگہ سواری کے لیے کھڑے ہوں تو پولیس چالان کردیتی ہے ۔اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں۔ ہم پولیس کو بھتہ دیئے بغیر رکشہ نہیں چلا سکتے ۔اگر رکشہ نہیل چلائیں گے تو بیوی بچوں کا پیٹ کہاں سے بھریں گے۔میں نے کہا ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں لیکن ایک ہی گاہک پر اپنے تمام اخراجات کا بوجھ ڈالنا کہاں کی دانشمندی ہے ۔اس نے جواب دیا آپ صرف ہمارے ہی پیچھے کیوں پڑے ہیں۔ کبھی آپ نے دالوں ، گھی اور سبزیوں کا ریٹ پوچھا ہے۔ جو دال چند سال پہلے 20 سے 25 روپے کلو ملتی تھی وہ اب 280 روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ بناسپتی گھی جو 50 روپے ملتا تھا۔ اب 150 روپے تک پہنچادیا گیا ہے ۔یہی عالم سبزیوں کا ہے ۔آج ایک چھوٹے سے گھر میں بھی ہانڈی پانچ سوروپے سے کم نہیں پکتی۔ چھوٹے اور بڑے گوشت کا تصور ہی مشکل ہوچکاہے ۔جناب آپ نے کبھی کسی مٹھائی کی دکان پرگئے جہاں نمکو بھی مٹھائی کی قیمت میں فروخت ہورہی ہے ۔وہاں ایک بسکٹ کی قیمت20 روپے ہے ۔ آپ نے کبھی فوڈ کریانہ اینڈ جنرل سٹور ایسوسی ایشن کی لوٹ مار پر توجہ دی جو انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کاغذ کاایک ٹکڑا(ریٹ لسٹ) لاہور کے دس لاکھ دکانداروں کو روزانہ 20 روپے فی دکاندار فروخت کرکے دو کروڑ روپے روزانہ بھتہ وصول کررہے ہیں۔حکومت کے سامنے یہ سب کچھ ہورہا ہے کسی نے ایکشن لینے کی کوشش کی ۔ اتنی بڑی رقم کس کی جیب میں جاتی ہے ۔آلو اگر منڈی سے 20 روپے کلو ملتے ہیں تو دکاندار 60 روپے کلو کیوں فروخت کر رہے ہیں ۔سبزی فروخت کرنے والا ہو یا پھل فروش وہ پہلے ایک دوگھنٹے میں ہی اپنی رقم وصول کرلیتے ہیں، پھر شام تک جتنی سبزی اور پھل بچتا ہے وہ ان کامنافع ہوتا ہے ۔ جناب صرف رکشے والوں نے ہی لوٹ نہیں مچائی بلکہ ہر کاروباری افراد نے عوام کو لوٹنے کے لیے چھریاں تیزکررکھی ہیں ۔ جب ہمیں بیدردی سے ہر جگہ لوٹا جاتاہے تو ہم پوری کسر کیوں نہ نکالیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ مارکیٹ کمیٹی والے ریٹ لسٹ 10 روپے کی فروخت کرکے روزانہ بیس سے پچیس لاکھ روپے اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں ۔ اس کے باوجود ریٹ لسٹ کے مطابق کہیں بھی نہ سبزی اور پھل فروخت ہوتے ہیں اور نہ ہی اشیائے خورد و نوش ۔ یہ بھتہ خوری نہیں تو اور کیا ہے ۔ آپ کو پتہ ہے کہ اراکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں حکومت نے 300 فیصد اضافہ کردیاگیا وہ کونسی توپ چلاتے ہیں جو ہم نہیں چلا سکتے ۔صبح سے شام تک گردو غبار کے ماحول میں ہم مزدوری کرتے ہیں پھر بھی نہ گھر کا خرچ پورا ہوتاہے ، نہ بچوں کو کسی اچھے تعلیمی ادارے میں پڑھا سکتے۔پریپ اور نرسری بچے کی فیس دو ہزار مانگتے ہیں انگلش میڈیم سکول والے ۔کیا ہم پاکستان کے شہری نہیں ۔ساری نوازشات پولیس اور ارکان پارلیمنٹ کے لیے ہی رہ گئی ہیں ۔رکشہ ڈرائیور بم دھماکے میں فوت ہوجائے تو تعزیتی کرنے والا بھی کوئی نہیں آتا۔ ہم سواری سے کچھ زیادہ پیسے مانگ کر کون سا گناہ کرتے ہیں ۔جب اس ملک کے حکمران اور سیاست دان چاروں ہاتھ سے ملک کو لوٹ رہے ہیں تو ہم پیچھے کیوں رہیں ۔اس ملک میں چھوٹے چوروں کو تو فور ی گرفت میں لے لیا جاتا ہے لیکن اربوں روپے ہڑپ کرنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا۔ یہ حالات کے ستائے ہوئے رکشہ ڈرائیور کی باتیں تھیں۔ میں سمجھتاہوں رکشہ ڈرائیور صحیح کہتا ہے اس کی سچی باتوں سے انکار ممکن نہیں ہے ۔ ہر شخص نے لوٹ مارکے اپنے طریقے وضع کررکھے ہیں لیکن لٹنے والے ہر جگہ عوام ہی ہوتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280061 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2016 Views: 555

Comments

آپ کی رائے