خوشی کی تلاش

(jahangir jahejo, Hyderabad)
یہ ایک سوال جس کا جواب میں تو کیا شاید دنیا میں کوئ ہو جو نہیں ڈھونڈ رہا ہو انسان کی خواہش کا سفر ختم نہیں ہوتھا ایک پوری ہو تھی ہے تو دو اور خواہش دل میں جگہ بنا کر انسان کو بےچین کرتیں ہیں اور پھر وھ پوری کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچھی نوکری کی تلاش نوکری مل گئی تو شادی کی خواہش شادی کرنے کے بعد اولاد کی ہر ضرورت پوری کرنے کی خواہش ہر خواہش پر اس طرح جان مارنا کے اخری ہو لیکن خواہش پوری ہونے کے بعد اس چیز کی اتنی ہی اوقات ہوتی ہے جتنی اپ کی گاڑی کی بہت لوگوں کو دیکھا ہے اپ نے بھی دیکھا ہوگا کروڑوں روپے کی گاڑیاں اس حال میں ہوتیں ہیں کے انسان بولنے پر مجبورہو تھا ہے حرام کی کماہی سے لی ہوگی دراصل وھ ایک خواہش ہوتی ہے جب پوری ہو جاتی ہے اس کا ہونا نہ ہونا ایک بات ہے اگر اپ اپنے اردگرد کسی شخص سے سوال کریں آخری بار کب خوش ہوا تھا شاید مطمئن بخش جواب ہو اس کے پاس ایک شکایت کا دفتر بن گئے ہم لوگ حالات اور بہت ساری شکایات کر کے وجہ بنا لے تھے ہیں اس لے خوش نہیں مگر حقیقت میں ہم لوگوں کو اپنی خواہش خوش ہونے نہیں دیں تھی جو پوری ہو جاتیں ہیں ان کی کوئی حثیت نہیں رہے تھی ہم بس کوی نہ کوئی چکر چلا کر ایک کے بعد دوسری اس میں ہی اپنی زندگی کا اچھا خراب زمانہ گزارتے ہیں-

دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں جن کے پاس دنیا کی تمام نعمت موجود ہیں اور وھ سکون کی تلاش میں ہیں کوئ انسان مکمل مطمئن نہیں نظر اتا جب اپ زندگی سے مطمئن نہیں تو خوش ہونے کا سوال پیدا نہیں ہو تھا ایک کہانی پڑی تھی کسی جگہ ایک شخص تھا جس کو کینسر تھا ڈاکٹروں نے اس کو ایک مہنے کا وقت دیا اس بندے نے سوچا مرنے سے پہلے دنیا کا چکر لگایا جائے اور وھ اپنے سفر پر چل پڑا جو دل کیا کہا لیتا مستی مزاق اور اور کوئی خواہش دل میں لے بنا جب وھ واپس ایا تو اسکی بیماری ختم ہوچکی تھی
اگر اپ سے کوئی بولے کے پانچ کروڑ لو اپنے دو ہاتھ دے دو دس کروڑ لے لو اپنے پاوں دے دو اپ نہیں دو گے کوئی نہیں دے گا میں بھی نہیں دو گا سوچوں اپ کتنے کروڑوں کی چیز کے مالک ہو جس کی کوئی قیمت ہی نہیں لگا سکتا خوش ہونے کے لئے چیزوں کی نہیں انسان کی صحت کا اچھا ہونا ضروری ہے ہم ایسی چیزوں کے پہچے اپنی صحت خراب کرتے ہیں جن کو حاصل کرنے کے بعد گھر کی کسی الماری کونے میں پڑی ہوتی ہے-

ان چیزوں کو حاصل کرنے میں زندگی کی بہت ساری نعمت ہیں جن کو دیکھنے سے محروم ہوجاتیں ہیں
ہم اپنے اندر سے خواہش لفؑظ نکال دے اور اپنے پاس جو نعمت ہے اس کا خیال رکھے شاید ہم جیسا کوئی خوش نصیب نہ ہو گھر میں ضروریات زندگی نہ بھی ہو اگر پیار مسکراہٹ ہو تو ہم جیسا کوئ خوش قسمت نہ ہو گاڑی نہ ہو ہم اپنے پیاروں کے ساتھ پیدل سفر کرے ہم جیسا کون خوش قسمت ہوگا اپنی زندگی میں خواہش کو کم کروں خوشیاں اپنا راستہ بنا لے گئی شاید اپ کو اور مجھے اپنے اپ سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گئی ہم آخری بار کب خوش ہوئے تھے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: jahangir jahejo

Read More Articles by jahangir jahejo: 8 Articles with 5590 views »
writer.columnist
.. View More
12 Dec, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے