﴿لوگ کیا سوچیں گے﴾

(Abdul Kabeer, Okara)
بچپن سے لے کر موت تک ہمیں صرف ایک بات کا ڈر ہوتا ہے۔وہ یہ کہ “لوگ کیا سوچیں گے“۔کاش کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہو تا کہ ہمارا مالک حقیقی کیا سوچتا ہوگا جب ہم لوگوں کے ڈر سے کوئی نیکی کے کام سے رک جاتے ہیں۔کاش ہم یہ سوچتے کہ اللہ تعالی جس نے ہمیں زندگی جیسی بیش قیمت نعمت عطا کی،اس کی عطاعت کی بجائے ہم ساری زندگی لوگوں کے باتوں کے ڈر میں گزار دی۔
بیٹا اٹھو ،صبح ہو گئی ہے۔جلدی اٹھو اور سکول جانے کی تیاری کرو۔دیکھو اگر جلدی نہیں اٹھے تو سکول دیر سے پہنچو گے۔آپ کی آنٹی کیا سوچے گی ۔دیکھو ان کا بیٹا تو تیاری کرکے سکول چلا بھی گیا ہے۔آنٹی سوچے گی کہ ایان تو سست بچہ ہے۔سکول جانے کے لیے جلدی نہیں اٹھتا تو بڑا ہو کر کیا کرے گا۔

جب تھوڑے سے بڑے ہو گئے تو بیٹا کس سے باتیں کر رہے ہوں۔ہم ان سے بہتر ہیں ۔یہ تو گھٹیا لوگ ہوتے ہیں۔دیکھو اس طرح غریبوں سے باتیں کرو گے تو ہماری فیملی والے کیا کہیں گے ؟

جب نوجوانی میں پہنچے تو اس طرح کی باتیں سننے کو ملے گی کہ بھئی کیا ہر وقت نماز،روزہ کی بات کرتے رہتے ہو،ہماری فیملی کیا سوچے گی کہ ہمارا فرزند مولوی بنتا جا رہا ہے۔

یار اتنے بڑے ہو گئے ہو پھر بھی تم کو سمجھ نہیں آتی کہ آج کے دور میں انصاف کی بات کرنا پاگل پن ہے۔کھاؤ پیو عیش کرو،اس طرح کی بات کرو گے تو لوگ کیا سوچے گے کہ تم اتنی ہائی کلاس کی فیملی سے تعلق رکھتے ہوئے بھی کتنی کنزریٹو (conservative)باتیں کرتے ہوں۔

بالکل اسی طرح کی باتیں سنتے سنتے ،لوگوں کا خیال کرتے کرتے ہماری زندگی گزر جاتی ہے۔بس زندگی میں اسی بات کاڈر ہو تا ہے کہ سادہ لباس پہن لیا تو لوگ کیا کہیں گے؟اگر کسی بے سہارا کی مدد کر دی تو تب لوگ کیا سوچیں گے؟ہاں یار وہ آج کل اس کے آگے پیچھے پھرتا ہے۔بات اس کی ہوتی ہے ،بولتا یہ ہے ۔خیر نہیں ہے ضرور یہ کچھ نہ کچھ کرے گا۔ہمارا معاشرہ ہمیشہ اسی طرح کی سوچ کا حامل ہے۔چاہے کوئی غلط کام کرے تب بھی تنقید ،اگر کوئی صحیح کام کرنا چاہتا ہے تو اسے اس طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں کہ یا ر تم بڑے آئے ملک و قوم کے خیر خواہ۔باقی ساری دنیا مر گئی ہے جو تم نے دنیا کی اصلاح کا ٹھیکا لے لیا ہے۔اپنی اوقات دیکھو اور اپنے کام دیکھو ۔

معاشرے میں جب ایک شخص کو اس طرح کی باتیں سننے کو ملیں جبکہ وہ اپنے بھائیوں کی فلاح کے لیے،کسی غریب کی مدد کے لیے،کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کا سوچتا ہے تو معاشرہ کی پھول نچھاور کرتی باتیں اس کی سوچ کو جڑ سے ہی ختم کر ڈٖالتی ہیں۔وہ بھی سوچتا ہے یار میرے سے اچھے کھاتے پیتے لوگ نہیں سوچتے تو میں کیوں سوچوں؟بالفرض اگر میں ایسا کرتا ہوں تو لوگ کیا سوچے گے کہ اپنی تو اس کی پوری ہوتی نہیں بڑا آیا حاتم تائی۔

اس طرح معاشرے میں موجود ایسی شخصیت جو اپنے دل میں انسانیت کا درد رکھتی ہے اور انسانیت کی فلاح کے لیے سوچتی ہے تو اسی معاشرے کی تنقید کی بدولت ایسی شخصیت کی سوچ اپنی موت خود مر جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بس ایک فیصلہ کر لو،ازم کرو کہ ہم نے اگر معاشرے کی فلاح کے لیے کام کرنا ہے تو کہنے دو لوگوں کو، سوچنے دو لوگوں ،جو سوچنا ہے۔یہ زندگی ہمیں اللہ تعالی نے دی ہے اور قیامت کے دن ہم نے اپنی زندگی کے حوالے سے اللہ رب العزت کو جواب دینا ہے۔قیامت کے دن اگر اللہ تعالی نے یہ سوال کر لیا کہ زندگی تو میں نے تجھے عطا کی تھی لیکن تو صرف اسی وجہ سے نیکی کرنے سے رک گیا کہ لوگ کیا کہے گے؟تو ہم اپنے مالک ِ حقیقی کو کیا جواب دیں گے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Kabeer

Read More Articles by Abdul Kabeer: 25 Articles with 24866 views »
I'm Abdul Kabir. I'm like to write my personal life moments as well social issues... View More
21 Dec, 2016 Views: 1396

Comments

آپ کی رائے
ameen symameen excellent
By: abrish anmol, Sargodha on Dec, 27 2016
Reply Reply
0 Like
Thanks
By: Abdul Kabeer, Okara on Jan, 08 2017
0 Like
ameen out standing article
By: umama khan, kohat on Dec, 24 2016
Reply Reply
1 Like
Thanks a lot 'umama khan'
By: Abdul Kabeer, Okara on Dec, 24 2016
2 Like
Aameen
By: Abdul Kabeer, Okara on Dec, 23 2016
Reply Reply
1 Like
Ameen
By: mini, mandi bhauddin on Dec, 23 2016
Reply Reply
1 Like
حقیقت پر مبنی تحریر
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے
By: abdul muqaddam, sahiwal on Dec, 22 2016
Reply Reply
1 Like