سرکار غوث اعظم کی اخلاقی تعلیمات کی عصری معنویت

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
فکر و نظر کی جولان گاہ پر شب خوں مارنے کے لیے ہر دور میں باطل و طاغوتی قوتیں متحرک رہی ہیں۔ عہد رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں بھی نئے نئے فتنوں اور سازشوں نے سر ابھارے، کہیں یہود و عیسائیت کی سازشیں تھیں، کہیں کفار مکہ کی عشوہ طرازیاں اور کہیں گمراہوں کی گمراہیاں اور منافقین کے نفاق۔ پیغمبر اعظم ﷺ نے عزم و استقامت کا درسِ زریں دے کر فتنوں کی سرکوبی کا اسلامی ضابطہ مہیا فرمایا۔ اسی کی جھلک تھی کہ عہد صدیقی و عہد فاروقی اور عہد عثمانی و عہد علوی میں سر اٹھانے والوں فتنوں کی بیخ کنی عزیمت و حکمت کے ساتھ کی گئی۔ اور پھر ایک دور وہ آیا جب کربلا کی زمیں پر تاریخ کا وہ لرزہ خیز واقعہ ظہور پذیر ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ جور وستم اور ظلم و جبر کے ساتھ نبی کونین رحمت عالم ﷺ کے نواسوں کی شہادت کا دل دوز سانحہ بھی اسلامی دعوت و عزیمت کی ایک مثال بن کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔

اسی تسلسل میں بعد کے ادوار کے ان اعاظم علما و محدثین اور صوفیا و مبلغین کی کاوشات کو شمار کیا جا سکتا ہے جنھوں نے اپنے اپنے عہد میں وقوع پذیر فتنوں کی سرکوبی کر کے اسلام کی فصیل کی حفاظت کا مقدس فریضہ انجام دیا۔ ایک دور وہ بھی آیا جب اسلام کے قصرِ رفیع میں شگاف ڈالنے کے لیے یہود و عیسائیت کی مسلسل سازشوں اور داخلی یورشوں کے نتیجے میں فتنوں کی ایک بھیڑ یک جا ہو گئی۔ بغداد جو علم کا مرکز کہلاتاتھا اسی کے قلب میں بیٹھ کر اسلامی تعلیمات کی دھجیاں بکھیرنے کی تیاریاں کی جا چکی تھیں۔ فلسفۂ یونان جس کی موت کو صدیاں گزر گئی تھیں۔ عباسی سلاطین نے اسے پھر سے زندہ کیا، حکما کو وظایف دے کراس فکر کو نئی زندگی دی گئی۔ اسلامی سائنس دانوں نے فلسفۂ یونان کو حیاتِ تازہ تو ضرور دی لیکن خود اس کے اوہام کا ایسا شکار ہو گئے کہ ع
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
کے مصداق لایعنی افکار کا شکار ہو کر اپنے رب کی بندگی بھول بیٹھے۔ دہریت کا فتنہ شباب کو آیا۔ ادھر جاہل صوفیا اور شریعت کی راہ سے رو گرداں ہو کر طبیعت کی پیروی کرنے والوں نے جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیااس کی بیخ کنی بھی حضور غوث اعظم کا عظیم کارنامہ ہے۔ ان سطور میں ہم اخلاقی اقدار اور تزکیۂ قلب کی رو سے افکار غوث اعظم کامختصراً تجزیاتی مطالعہ کریں گے۔

صوفی کی اسلامی توضیح: غوث اعظم ارشاد فرماتے ہیں: صوفی وہ ہے جو اپنی مراد کو مرادِ حق کے تابع کر دے اور ترکِ دنیا کر کے مقدرات کی موافقت کرنے لگے۔ اس وقت اس کو مراد کے مطابق آخرت سے قبل ہی دنیا حاصل ہو جائے گی۔ اور اس پر خدا کی جانب سے سلام آنے لگے گا۔(سیرت غوث اعظم،ص۲۱۹)

اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ وہی صوفی ہے جو دنیا کی طلب نہ کرے اس سے وہ حضرات سبق حاصل کریں جو خود کو صوفی کہہ کر رب کی نافرمانی میں لگے رہتے ہیں، طمع اور لالچ میں دن گزارتے ہیں، مرادِ حق کے تابع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگی کو رب کی مرضی کے مطابق گزارا جائے، لیکن آج الٹا معاملہ ہے پیسے والے/ارباب اقتدار کی مرضی حاصل کرنے کے لیے کیسے کیسے مکر کیے جاتے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں، ایسے ہی لوگوں نے تصوف کو بدنام کر دیا ہے۔ تصوف در اصل اسلام کا وہ نظام ہے جس نے اسلامی تعلیمات کی عملی تعبیر پیش کی، جس نے حدود عرب سے لے کر روس کے علاقوں تک، براعظم افریقہ اور انڈونیشیا تک اسلام کی اشاعت کی۔ اسی تصوف نے بت کدۂ ہند میں اسلام کی شمع روشن کی۔
صدق و سچائی: اخلاقی تنزل میں اہم سبب سچائی کا فقدان ہے، ہم نے تو بہت سے ایسے مفتیوں کو بھی دیکھا جو برملا جھوٹ بولتے ہیں، افسوس کہ اس مرض میں عام تو عام بڑے بڑے مبتلا ہیں، سچ اپنا لیا جائے تو تمام فتنوں کا خاتمہ خود بہ خود ہو جائے گا۔ غوث اعظم نے سچ کی تعلیم دی اور سچائی و صدق کے ذریعے ہے کہ رب کریم کی معرفت حاصل کی جائے، غوث اعظم دستگیر فرماتے ہیں: اقوال و اعمال میں صدق یہ ہے کہ اس کے ذریعے رویتِ خداوندی حاصل رہے، اور احوال میں صدق یہ ہے کہ بندے کے قلب میں اﷲ تعالیٰ کے لیے ایسے تصورات قائم ہو جائیں کہ خدا کی توجہ کے خیال کے علاوہ اس میں اور کوئی شے باقی نہ رہے۔(نفس مصدر،ص۲۲۱)

ایک مقام پر فرماتے ہیں: سچائی کو اپنے اوپر لازم قرار دے لو کیوں کہ اس کے بغیر انسان قرب الٰہی حاصل نہیں کر سکتا۔(نفس مصدر،ص۲۳۱)

شریعت اور صبر: غوث اعظم فرماتے ہیں: مصائب و ابتلا میں ثابت قدمی اور شریعت کے دامن کو پکڑے رہنے کا نام صبر ہے۔(نفس مصدر،ص۲۲۳)……غور کریں!مصیبت اور آزمائش میں ثابت قدمی کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسے ابتلا خیز موڑ پر لوگ بری راہ جا پڑتے ہیں، مثلاً مصائب میں بعض حلال کی تمیز نہیں کرتے، حرام کو بھی لوگ گلے لگا لیتے ہیں،یہاں غوث اعظم نے انھیں بھی تنبیہ فرمائی جو شریعت اور طریقت کو الگ الگ رکھتے ہیں، اس طرح شریعت کی گرفت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، شریعت پر استقامت ہی صبر ہے، مثال کے طور پر ایک ملک میں بسنے والوں کو اس ملک کے قوانین کی پاس داری ضروری ہے اسی طرح ہم مسلمان ہیں اور اسلام کا قانون شریعت ہے تو شریعت سے فرار در اصل اسلامی قوانین سے بغاوت ہے جس کی امید کسی صحیح الذہن مسلمان سے نہیں کی جا سکتی، چہ جاے کہ کوئی دینی فیلڈ کا آدمی شریعت سے منھ موڑے!!

علم: غوث اعظم فرماتے ہیں: جو شخص علم کے بغیر عبادت کرتا ہے وہ اصلاح سے زیادہ فسادمیں مبتلا ہو جاتا ہے، تمھیں چاہیے کہ شمع شریعت اپنے ہم راہ لے کر علم کی روشنی میں عمل کرو۔(نفس مصدر،ص۲۳۰) کس قدر واقعی بات ہے کہ علم عبادت کے لیے بھی درکار ہے۔ اسلام نے علم کی زلفِ برہم کو سنوارا۔ علم دین کے حصول کو اسلام نے فرض قرار دیا، علم نہ ہو تو گم راہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا لیکن اسی کے ساتھ عمل ہو تو بندہ تکبر سے بھی بچ جاتا ہے۔ شمع شریعت ساتھ لے کر چلنے کا مطلب واضح ہے کہ قانون شریعت ساتھ رہے تو بندہ شیطانی مکر و فریب کا شکار نہیں ہوتا۔

غوث اعظم نے اپنے ارشادات کے ذریعے وہ انقلاب پیدا کیا کہ دل کی دنیا بدل گئی، محبت رسول کریم ﷺ سے فکر و نظر روشن ہو گئے، آپ نے شریعت پر استقامت کا درس دیا اور اسی درس کی تجدید عالم اسلام کی عظیم شخصیت امام احمد رضا محدث بریلوی نے گزری صدی میں کی، آپ کی ایک ہزار کے لگ بھگ تصانیف اسلامی علوم کا عظیم اثاثہ اور قابل فخر سرمایہ ہیں جن سے تعلیمات غوث اعظم کا نور چھنتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ غوث اعظم کے اصلاحی افکار کی ترویج و اشاعت کر کے زندگیوں میں صالح انقلاب برپا کیے جائیں تا کہ اخلاق و کردار کی خوش گوار طریقے سے آبیاری کی جا سکے۔
٭٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 146416 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2017 Views: 483

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ