پنجاب میں یونین کونسل کی سطح پر کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کا قیام

(Muhammad Ashfaq, )
حکومت پنجاب حادثات کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے اور حادثات کا موثر مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بہترین طریقے سے بروئے کار لانے کی خاطر معاشرے کی بہتری کے لیے کئی طرح کے منصوبے بھی ترتیب دے رہی ہے پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے جہاں شعور آگاہی کے فقدان کی وجہ سے حادثات اور سانحات کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے حادثات سے نمٹنے کے لیے ملک میں بہت سے ادارے کام کررہے ہیں ان میں ریسکیو 1122کا کردار نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے حکومت پنجاب نے ایمرجنسی مینجمنٹ کا دائرہ کار تحصیل کی سطح پر بڑھا کر عوام کے لیے بروقت ایمر جنسی سروس ریسکیو 1122کی ایسی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے جس نے بلا تفریق امیر غریب پنجاب میں لا تعداد ایمرجنسی مثاترین کو بروقت ریسکیو کر کے عوام کو احساس تحفظ فراہم کیا ہے جہاں حکومت بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے وہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان حادثات و سانحات میں مقامی سطح پر تربیت یافتہ افراد نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ مدد سے قیمتی انسانی جانوں کو بچا کر شرح اموات میں خاطر خواہ کمی لاسکتے ہیں بلکہ وہ اپنی ذمہ دارانہ اور رضاکارانہ خدمات سے معاشرے کے لے محافظ بن کر صحت مند اور محفوظ معاشرے کے قیام میں مو ثر کردار ادا کر سکتے ہیں ریسکیو 1122حکومت پنجاب کے صحت مند اور محفوظ پنجاب کے عزم کے پیش نطر ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006کے مطابق مقامی سطح پر کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز تشکیل دے رہا ہے جس کا ہر رکن ریسکیو محافظ ہوگا ریسکیو محافظ ایسے رضا کار کو کہتے ہیں جو ریسکیو 1122کی زیر نگرانی اپنی رضاکارانہ خدمات خلوص نیت پوری لگن اور دیانتداری سے فراہم کرنے کا عہد کرلے اور اس عہد کے تحت وہ اپنے اردگرد ہونے والے حادثات میں فوری پہنچ کر قیمتی انسانی جانوں کو بچانے حادثات کی روک تھام ملک کو صاف و شفاف اور سر سبز و شاداب بنانے جیسے اقدامات میں حصہ لیکر ترقی کو یقینی بنا سکے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے پنجاب میں والینٹیئر کی آگاہی اور تربیت کے ذریعے محفوظ پنجاب کے لیے ریسکیو محافظ کا آغاز کیا ہے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کوا یک محفوظ اور مثالی معاشرہ دے سکیں ریسکیو محافظ میں مقامی افراد کو زیادہ ترجیح دی جائے گی اس عمل سے ایسے افراد جو کسی نہ کسی طرح ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں اور وہ کوئی مناسب پلیٹ فارم دسیتاب نہ ہونے کی وجہ سے محبور ہیں کو بھی ایک بہترین پلیٹ فارم حاصل ہوجائے گا اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے سکیں گے وزیر اعلی پنجاب نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ آپ سب آگے آئیں آگے بڑھیں اور کمیونٹی ریسپانس ٹیموں میں شامل ہو کر اس منصوبے کاحصہ بنیں تاکہ پاکستان اور پنجاب کو محفوظ ترین بنا سکیں ہم مصیبتوں سے اس کی جان چھڑائیں او اسکو ایک صحت مند معاشرے میں تبدیل کر دیں اپنے گلی محلوں کے محافظ بنیں اور ہم ملکر اپنی بہنوں بھائیوں اور بزرگوں کی صحت کے لیے وہ اقدامات اٹھائیں جس کی ہمیں اور ان کو اشد ضرورت ہے ریسکیو محافظ بننے کے لیے طریقہ کار واضع کیے گئے ہیں ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے سمارٹ فون پر پلے سٹور ایپ سٹور باکس اوپن کریں فون پر محافظ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اپنے نام اور فون نمبر کا اندراج کر کے خود کو بطور ریسکیو محافظ رجسٹرڈ کرائیں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قریبی ریسکیو 1122اسٹیشن سے مفت رجسٹریشن فارم حاصل کریں اور حاصل کردہ فارم مکمل طور پر پر کریں اور دوبارہ قریبی اسٹیشن پر جمع کرادیں تو اس طرح آپ ریسکیو محافظ بن سکتے ہیں ریسکیو محافظ بننے کے بعد آپ کے علاقہ میں جہاں کہیں بھی کوئی حادثہ پیش آئے گا تو آپ اپنے موبائل فون پر اطلاع مل جائے گی اور آپ بطورریسکیو محافظ حادثہ پر پہنچ کر سرکاری اداروں کی مدد کے ساتھ ساتھ اپنے ملک اور قوم کی خاطر اپنے فرائض انجام دے سکیں گے اور معاشرے کی فلاح وبہبود اور تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں گے ریسکیو محافظ کی بنیادی ذمہ داریوں میں حادثات سے بچاؤ کی تیاری او ربروقت ریسپانس حادثات کی روک تھام صاف پانی اور صفائی کے لیے انتظامات صفائی اور ری سائکلنگ مہم شامل ہے ضرورت اس امر کی ہے حکومت پنجاب جہاں پر ریسکیو محافظ مہم چلا رہی ہے وہاں پر ان کی تربیت کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھائے اور ہر تحصیل کی سطح پر ایسے اداروں کے قیام کو بھی یقینی بنائے جہاں پر ریسکیو محافظ کے لیے تربیتی پروگرام ترتیب دیئے جائیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 144 Articles with 45929 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2017 Views: 381

Comments

آپ کی رائے