جوابدہ ہونے سے جوابدہی کرنے تک

(Faisal Manzoor Anwar, Karachi)
جوابدہی کرنا اور جوابدہ ہونا دو مختلف کیفیات ہیں اورہم آئے رو ز ان میں سے ہی کسی ایک سے نبرد آزما ہوتے نظر آتے ہیں جب ہم نے کسی سے جواب لینا ہوتا ہے تو ہمارا لب و لہجہ قدرے سخت ہوتا ہے لیکن جیسے ہی ہم دوسری کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں یعنی جب خود جوابدہ ہوتے ہیں تو یکسر ہمارا لب لہجہ تبدیل ہوجاتا ہے اور ہم جواب دینے سے کنی کترانے کی کوشش کرتے ہوئے کئی ایک بہانے تراش لیتے ہیں۔آخر ایسا کیوں ہے
جوابدہی کرنا اور جوابدہ ہونا دو مختلف کیفیات ہیں اورہم آئے رو ز ان میں سے ہی کسی ایک سے نبرد آزما ہوتے نظر آتے ہیں جب ہم نے کسی سے جواب لینا ہوتا ہے تو ہمارا لب و لہجہ قدرے سخت ہوتا ہے لیکن جیسے ہی ہم دوسری کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں یعنی جب خود جوابدہ ہوتے ہیں تو یکسر ہمارا لب لہجہ تبدیل ہوجاتا ہے اور ہم جواب دینے سے کنی کترانے کی کوشش کرتے ہوئے کئی ایک بہانے تراش لیتے ہیں۔آخر ایسا کیوں ہے حالانکہ جب بھی کوئی شخص پہلی کیفیت سے گذرتا ہے تو اسکی سوچ بالکل ہی مثبت ہوجاتی ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ جوابدہی کرنا میرا حق ہے اور میں اس حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو سکتا۔اسکی سوچ کے زاویے صرف ایک ہی نقطے پر اٹک جاتے ہیں کہ میں یہ پوچھ کے رہوں گا۔۔۔۔کیونکہ پوچھنا میرا حق ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ شخص دوسری کیفیت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کا دماغ یکسر پلٹا کھاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ کون ہوتے ہیں مجھ سے پوچھنے والے میں کسی کو جوابدہ نہیں ہوں میں ایک ذمہ دار شخص ہوں اور میں جو ٹھیک سمجھتا ہوں کرتا ہوں یا کروں گا۔۔۔ میں کسی کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ

آیئے اب معاشرے میں پائی جانیوالی انہی دو کیفیات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ نہ صرف ان کیفیات کو سمجھا جاسکے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ دونوں کیفیات میں ہونے کے باوجود ہم کس طرح مثبت سوچ سکتے ہیں۔مثبت قدم اٹھاسکتے ہیں یالوگوں کو مطمئن کر سکتے ہیں کیونکہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو جوابدہی کی جاتی ہے یا جوابدہ ہونا پڑتا ہے گھر سے لیکر سکول تک،سکول سے کالج یونیورسٹی تک یا بعدازاں پروفیشنل لائف المختصر زندگی کے ہر شعبہ میں ہر شخص کو ان دو کیفیات سے ہر وقت گذرنا پڑتا ہے کہیں وہ جوابدہ ہوتا ہے تو کہیں جوابدہی کر رہا ہوتا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اگر وہ دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو ایک ہی نقطہ نظر سے پیش کرے تو مسائل جنم نہیں لے سکتے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔

جی ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا اس لیے کہ ہم اپنی غلطی کے باوجود خود کو تو ہر قانون اور ضابطے سے مبرا تصور کرتے ہیں لیکن جیسے ہی وہی غلطی کسی دوسرے سے سرزد ہو جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور اس وقت ہمیں سب قاعدے اور قوانین یاد آجاتے ہیں۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے میں بگاڑ کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم میں ٹھیک ہوں کی رٹ لگا کر دوسروں پر تعن و تشنیع کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔چند چھوٹی چھوٹی مثالوں کے ذریعے اس بات کو مزید بہتر انداز سے سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ کسی بھی سبزی یا فروٹ فروش سے کچھ خرید کر دیکھیں مرضی کے ریٹ کے باوجود آپ کی مرضی کی سبزی کا پھل آپ کو نہیں دیا جاتا۔۔بازار میں کسی دوکاندار سے اسکی مرضی کے ریٹس پراپنی مرضی کا سودا لیکر کر دکھائیں،دیہاڑی دار مزدور کو اسکی مرضی کی مزدوری دیکر اپنی مرضی کا کام کرواکے دکھائیں،کسی مرغی فروش،قصاب،میڈیکل سٹور،جنرل سٹور،کریانہ سٹور خواہ کسی بھی تاجر سے اسکی مرضی کی قیمت ادا کرنے کے باوجود ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ہمیں اپنی مرضی کا سودا مل جائیگا۔۔۔

آخر کیوں۔۔؟
جی ہاں اس لیے کہ میں اپنا کام ٹھیک نہیں کرتا میں اپنی ذمہ داریوں میں ڈنڈی مارتا ہوں میں اپنے فرائض سے کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہوں میں اپنے ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے انجام نہیں دیتا اگر میں کلرک ہوں تو دفتر صرف حاضری لگانے کی غرض سے جاتا ہوں اور باقی سارا دن اپنے ذاتی کاموں میں مصروف رہتا ہوں اگر میں افسر ہوں تو دفتر دیر سے جانا اپنی شان سمجھتا ہوں اور پھردفتری اوقات میں کام ختم نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے دفتر میں دیر تک بیٹھنے کی شکایتیں کرتا ہوں،اگر میں استاد ہوں تو پوری ذمہ داری اور ایمانداری کیساتھ ڈیوٹی سرانجام نہیں دیتا لیکن اگر میرا اپنا پرائیویٹ سکول ہو تو میں اپنے سٹاف سے 100فیصد نتائج کی توقع رکھتا ہوں۔سرکاری سکول میں ٹیچر ہونے کے باجود اپنے بچوں کو اس سکول میں داخل نہیں کرواتا لیکن شہریوں کو اپنے سکول کے بہترین نتائج بتاکر بچوں کو اس سکول میں داخل کرنے پر راغب کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔میں اگر ریڑھی چھابڑی لگاکر گاہکوں کو انکی مرضی کا سودا فروخت نہیں کرتا لیکن سبزی و فرو ٹ منڈی کے آڑھتی سے معیاری سوداخریدنے کی کوشش کرتا ہوں۔اگر میں ٹرانسپورٹر ہوں تو پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر من مانے کرایے وصول کرنا اپنے اولین فریضہ سمجھتا ہوں لیکن پٹرول کی قیمتیں کم ہونے پر کرایے کبھی کم نہیں کرتا۔اگر میں مزدور ہوں تب بھی مرضی کی دیہاڑی طے کرنے کے باوجود کام اپنی مرضی کاکرتا ہوں۔ میں سرکاری ڈاکٹر ہوں یا انجینئر میرا سرکاری ڈیوٹی کے دوران کام کرنے کا انداز اور ہوگا لیکن جیسے ہی ریٹائرمنٹ کے بعد میں اپنے پرائیویٹ کلینک یا دفتر میں بیٹھوں گا تو میری طبیعت میں فرض شناسی گھس جائیگی اور میں اپنے سٹاف سے پوری تندہی سے ڈیوٹی دینے کی امید رکھتا ہوں۔کیونکہ وجہ یہ ہے کہ میں جوابدہی تو کرنا چاہتا ہوں لیکن خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا۔اور من حیث القوم ہمارا عمومی رویہ اسی طرح کا ہے۔

ہم بحیثیت پاکستانی شہری بھی اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر رہے ہم سرکاری املاک کو اپنا نہیں سمجھتے،ہم دوران تعمیر ترقیاتی منصوبوں پر نظر نہیں رکھتے،ہم سرکاری وسائل کے ضیائع کو فرض اولین سمجھتے ہیں،اپنے گھر کی تعمیر پر لاکھوں روپے تو خرچ کر لیتے ہیں لیکن گھر کے سامنے والی سڑک یا گلی کو بچانے کیلئے ہزار روپے تک خرچ نہیں کرتے،ہر سال نئے ماڈل کی مہنگی ترین گاڑیاں تبدیل کرنیوالے بھی کاروبار میں نقصان کا رونا روتے رہتے ہیں۔ہم ٹیکس دینے کی بجائے ٹیکس چوری کلچر کا حصہ بن کر ملکی معیشت کو کمزور کرتے ہیں،ہم چند ہزار سالانہ ٹیکس تو نہیں دیتے لیکن مہنگے ہوٹلوں میں ہزاروں روپوں روزانہ کھابوں میں اڑا دیتے ہیں۔

اس صورتحال میں جب تک خود احتسابی کا کلچر پروان نہیں چڑھے گا تب تک ہم جتنے بھی معلومات تک رسائی کے قانون بنا لیں اس پر عملدرآمد نہ ہونے کا رونا روتے رہیں گے کیونکہ ہم بحیثیت معاشرہ خود احتسابی سے ڈرتے ہیں لیکن احتساب کے فروغ کیلئے جوابدہی بہت ضروری ہے اگر ہم آج سے اپنی ذمہ دا ریوں کے حوالہ سے جوابدہ بن جائیں تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم دوسروں کی جوابدہی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Manzoor Anwar

Read More Articles by Faisal Manzoor Anwar: 19 Articles with 6475 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jan, 2017 Views: 278

Comments

آپ کی رائے