ابن انشاء

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)
ابن انشاء اردو ادب کاایک بڑا نام،شاعر ،ادیب،کالم نگار اور سفرنامہ نگار،جس کی شاعری اور تحریریں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں
آج 11 جنوری ابن انشاء کی انتالیسویں برسی ہے ۔ان کا اصل نام شیر محمد خان تھا اورابن انشاء ان کا تخلص تھا اور اسی نام سے شہرت پائی۔آپ کی پیدائش 15 جون بھارت شہر جلندھر کے ایک نواحی گاؤں تھلہ میں ہوئی۔آپ کا تعلق ایک راجپوت گھرانہ سے تھا ۔آپ کے والد کا نام منشی خان تھا جو کاشت کار تھے آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول سے حاصل کی ۔ضلع لدھیانہ کے گورنمنٹ ہائی سکول سے پہلی پوزیشن میں میٹرک کیا۔آپ نے 1946 میں بی اے پرائیویٹ کیا اور اس کے بعد 1953 میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔

لاہور سے ہی آپ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا اور ایبٹ روڈ پر آپ نے رہائش اختیار کر لی۔آپ 1948 میں مہاجرین کے ساتھ پاکستان آ گئے تھے اور اپنی باقی ماندہ زندگی یہاں ہی گزاری۔لیکن اس سے پہلے بھی زمانہ طالب علمی میں آپ حمید نظامی صاحب کے کہنے پر لاہور آئے کیوں کہ آپ نوائے وقت میں ملازمت کے خواہاں تھے۔۔حمید نظامی کے ساتھ آپ کی خط و کتابت ہوتی رہتی تھی۔ لیکن حمید نظامی صاحب چاہتے تھے کہ آپ ابھی اپنی تعلیم مکمل کریں اور انھی کے کہنے پر آپ نے اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن کچھ ذاتی وجوہات کی وجہ سے آپ واپس لدھیانہ چلے گے ۔لیکن جلد ہی لدھیانہ سے انبالہ چلے گئے اور وہاں جا کر ملٹری اکاؤ نٹس میں ملازمت اختیار کر لی۔لیکن یہ ملازمت بھی جلد ہی چھوڑ دی اور پھر ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کئے ۔بی اے کرنے کے بعد آپ نے اسمبلی ہاؤس میں مترجم کے فرائض انجام دینا شروع کر دئے۔اس ملازمت کو چھوڑنے کے بعد آپ آل انڈیا ریڈیو میں انگریزی نیوز کا اردو میں ترجمہ کرنے پر مامور ہو گئے۔اور پاکستان بننے تک اسی ملازمت پر کام کرتے رہے۔

آپ نے لدھیانہ میں عزیزہ نامی خاتون سے شادی کی جس کے بطن سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے ۔لیکن آپ کی یہ ازدواجی زندگی زیادہ عرصہ نہ چل سکی ۔دونوں کے مزاج یکسر مختلف ہونے کی وجہ سے آپ علیحدہ ہوگئے اور یوں عزیزہ بی بی نے ساری زندگی آپ سے علیحدہ ہوکر آپ کی بیوی بن کر ہی گذار دی۔دوسری شادی شکیلہ بیگم نامی خاتون سے ہوئی جس میں سے آپ کے دو فرزند پیدا ہوئے ایک کا نام سعدی اور دوسرے کا نام رومی ہے۔

کیونکہ آپ بچپن سے ہی شعر و شاعری کرتے تھے اور اب آپ میں یہ پوری طرح سما چکی تھی لہذا آپ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز بھی شعر و شاعری اور مضامین لکھنے سے کیا اور جلد ہی لوگوں کے دلوں پر راج کرنے لگے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ مشہور و معروف ہونے لگے۔ابن انشا ایک شاعر،مزاح نگار ،کالم نگار،سفر نامہ نگار ،اور مترجم بھی تھے ۔آپ نے بہت ساری نظمیں ،غزلیں اور گیت لکھے۔آپ کی شاعری میں انسان دوستی ،محبت ،بھائی چارہ اور یگانت کا سبق ملتا ہے۔آپ نے نثر میں طنز نگاری کو اپنی تحریروں میں ہلکا مزاح کا رنگ دے کر پر اثر بنا دیا۔آپ نے اخبارات میں کالم نویسی کے جوھر بھی دکھائے اور کئی سفر نامے بھی تحریر کئے۔آپ کی تحریروں میں شگفتگی،حسن و لطافت و ظروفت نمایاں نظر آتی ہیں۔آپ کی غزلوں میں نغمگی اور موسیقی جھلکتی ا ہے اسی لئے ہر سننے والے کے دل میں گر کر جاتی ہیں۔یوں تو آپ کی تمام غزلیں پر سوز تھیں لیکن آخری ایام میں لکھا گیا ایک گیت "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو ، اس شہر میں جی کو لگانا کیا " عوام میں بہت مقبول ہوا اور آج بھی سب کے دلوں اور لبوں پر رنگ بکھیرتا ہے۔ آپ کی شاعری میں ہمیں ہندی رنگ بھی نظر آتا ہے ۔یہ انشاء جی ہی کا خاصا تھا کہ وہ ہندی اور اردو کو ملا کرایک خاص رنگ میں پیش کرتے تھے۔جسے ہر سننے والا پسند کرنے پر مجبور ہو جاتا۔آپ نے شاعری کے علاوہ کالم نگاری میں بھی بہت نام کمایا ۔آپ کے کالموں کو عوام بڑے شوق و ذوق سے پڑھتے تھے۔ ٓٓپ نے دو شادیاں کیں ایک لدھیانہ میں عزیزہ بی بی نامی خاتون سے جس کے بطن سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے لیکن آپ دونوں کے مزاج میں اختلاف تھا اس لئے آپ نے علیحدگی اختیار کر لی طلاق تو نہ دی لیکن علیحدہ ہو گے اور1969 میں آپ نے شکیلہ نامی خاتون سے شادی کی جس سے آپ کے دو بیٹے رومی اور سعدی ہیٓپ روزنامہ جنگ کراچی ،روزنامہ امروز لاہور اور اخبار جہاں کے لئے فکائیہ کالم لکھتے تھے۔1962 میں آپ نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔اس کے علاوہ آپ ٹوکیو بک ڈیلویلپمنٹ پروگرام کے وائس چیئرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگریم ٹوکیو کے مرکزی مجلس ادارت کے رکن مقرر ہوئے۔

آپ کے شعری مجموعہ کلام میں چاند نگر،دل و حشی اور اک بستی کے کوچے میں شامل ہیں۔نثری تصانیف میں اردو کی آخری کتاب،آپ سے کیا پردہ،خمار گندم،چلتے ہو تو چین کو چلئے،آوارہ گرد کی ڈائری،دنیا گول ہے،نگری نگری پھرا مسافر، اور ابن بطوطہ کے تعاقب میں،بچوں کے لئے بلو کا بستہ شامل ہیں۔ان کا کلام انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا کافی مشہور ہوا یہ انہوں نے اپنے آخری ایام میں لکھی تھی۔آپ کی مکتوبات میں ـخط انشا جی کے اور تراجم میں اندھا کنواں شامل ہیں۔

آپ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئے لہذا علاج کے لئے آپ لندن روانہ ہو گئے لیکن آپ لندن میں ہی11 جنوری 1978 کواپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔یوں ہمارے ہر دل عزیز شاعر ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: H/Dr Ch Tanweer Sarwar

Read More Articles by H/Dr Ch Tanweer Sarwar: 287 Articles with 1325564 views »
I am homeo physician,writer,author,graphic designer and poet.I have written five computer books.I like also read islamic books.I love recite Quran dai.. View More
12 Jan, 2017 Views: 622

Comments

آپ کی رائے