دلی اور ذہنی سکون کی تلاش

(Ghulam Ullah Kiyani, )

پاکستان اور کشمیر میں باراں رحمت اور برفباری سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔ طویل خشک سالی کا بھی خاتمہ ہوا ہے۔ اس بار پہاڑوں پر بھاری برفباری ہوئی۔ جس سے کئی علاقوں میں جانی اور مالی نقصان بھی ہوا۔ 24جنوری سے 27جنوری تک بارشوں اور برف کی پیشنگوئی درست ثابت ہوئی۔بارش جم کر ہوئی۔ بالائی علاقوں میں موسم کی بھاری برفباری سے سفید چادر بچھ گئی۔ سیاحوں نے مری اور کشمیر کا رخ کیا۔ مری میں گھنٹوں دو طرفہ ٹریفک بند رہا۔ یہ سلسلہ وقفے وقفہ سے کئی دن چلتا رہا۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کے دوست برف دیکھنے اور اسے محظوظ ہونے کے لئے مرے کی سیاحت پر نکلتے ہیں۔ تا ہم اپنی سیر و تفریح کو یاد گار بنانے کے لئے ہم میں سے بعض دوست اپنی تفریح کی مستی میں دوسروں کی مشکلات کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ یہی حال ہفتہ، اتوار یا عید وغیرہ کی تعطیلات میں مری اور دیگر صحت افزا مقامات کا ہوتا ہے۔ لوگ ہجوم کی شکل میں ان مقامات کی طرف جاتے ہیں۔ یہاں سیر و تفریح کے مواقع انتہائی محدود نہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد والوں کے لئے مارگلہ کے پہاڑ اور دامن کوہ کچھ کام آ جاتے ہیں۔ تا ہم سندھ،پنجاب کے دوست اس سے نسبتاً محروم ہیں۔ قدرت کے نظارے، آبشار، جھرنے، جنگل، چشمے اور قدرت کا حسن جا بجا ہے۔ تا ہم مری ، کشمیر، ناراں کاغاں کا حسن غیر معمولی ہے۔ برف کو دیکھنے ، اس پر پھسلنے کا شوق بچوں اور نوجوانوں کو ہی نہیں بلکہ بزرگ لوگ بھی اس کے گرویدہ ہیں۔ جب طویل خشک سالی کے بعد اس بارش اور برفباری کے مزے لینے کا وقت ہو تو کوئی پیچھے رہنے کا سوچ نہیں سکتا۔ اﷲ تعالیٰ نے برف میں بھی انسان اور ہر جاندار کے لئے نعمتیں رکھی ہیں۔ یہی برف جم کر گلیشیئر بنتی ہے۔ پہاڑوں کے سلسلے پیدا کرتی ہے۔ پہاڑوں مٰیں اﷲ کی قدر ت سے ہیرے موتی جواہرات اور دیگر بیش قیمت اور انمول معدنیات پیدا ہوتی ہیں۔

زمین اور آسمانوں کے یہ سب خزانے اﷲ نے انسان کے لئے پیدا کئے ہیں۔ برف بھی ان میں سے ایک ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور یورپ میں برف کا موسم آئے تو سرمائی سیاحت جوبن پر آتی ہے۔ وادی کشمیر میں گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ میں خصوصی طور پر برف پر کھیلیں ہوتی ہیں۔ سکیٹنگ کی جاتی ہے۔ کھیل مقابلے ہوتے ہیں۔ بھارت کے ناجائز قبضہ میں اس خطے میں بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں اور برفانی کھیلوں اور سیاحت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تا ہم مری میں اس قدر برف نہیں گرتی کہ اس پر سپورٹس مقابلے کرائے جا سکیں۔ البتہ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں اور گلگت بلتستان میں یہ مقابلے کرائے جا سکتے ہیں۔

مری صرف برف دیکھنے والوں اور برف کے گولے بنا کر یا اس پر پھسلنے والوں کے لئے ہی غنیمت ہے۔ تا ہم اس دوران ہمارے من چلے نوجوان ٹریفک کو بند کر دیتے ہیں۔ سرک کے بیچ ناچ نغمے شروع کر دیتے ہیں۔ جن سے بیماروں، طلباء، ملازمین اور دیگر لوگوں کا وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ ٹریفک جام سے لوگ ٹرین اور فلائٹ کے وقت پر بھی نہیں پہنچ سکتے۔ لا تعداد افراد کو پریشانی ہوتی ہے۔ ٹریفک پولیس بھی ٹریفک بحال کرنے میں دقت محسوس کرتے ہے۔ حکومت نے بھی برف دیکھنے والوں کے لئے کوئی مخصوص سپاٹ قائم نہیں کئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی ہمارے مزاگ گرم ہو رہے ہیں۔ یوں ہی عام راہوں پر بھی ہم دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص کو جلدی ہوتی ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے پہلے منزل پر پہنچنا چاہتا ہے۔ اس لئے دوسرے کا خیال نہیں رہتا۔ اپنی فکر میں دوسرے کو بھول جانا ہماری عادت بن رہی ہے۔ ہم اپنے لئے دوسرے کے مفاد کو قربان کر لیتے ہیں۔ ہر ایک شعبہ میں ایسا ہو رہا ہے۔ کام دوسرا کرتا ہے اور کریڈٹ ہم لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ راستے چلتے ہوئے اچانک گاڑی کو بیث سڑک بریک لگا کر دوسرے کے لئے مشکل پیدا کرتے ہیں۔ پھر لڑائی جھگڑا میں بھی پہل کرتے ہیں۔ اپنے اثر و رسوخ اور عہدے کا بھی ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ اس دوران ایک عام آدمی ، جس کا کوئی والی وارث نہ ہو، وہی قربانی کا بکرا بنتا ہے، وہی مارا جاتا ہے۔ یہ سماجی نا انصافی ہر سو پنپ رہی ہے۔ میرٹ کی پامالی، بندوں کے حقوق کی پاسداری نہ کرنا اگر چہ بدترین اور قبیح فعل ہے۔ تا ہم ہماری نئی تعلیم یافتہ نسل بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ جب کے اس پر بھاری ذمہ داریاں عا ید ہوتی ہیں۔ نئی نسل سے امیدیں بھی بہت وابستہ کی جاتی ہیں۔ وہی ہمارا مستقبل ہے۔ اس کی تربیت اور ان کی اصلاح سب کا فریضہ ہے۔ ان کی اخلاقیات ، سماجی روئیے، اقدار، سوچ، روز مرہ کے کام ، مصروفیات سے سارا معاشرہ اثر لیتا ہے۔ بچے سیکھتے ہیں۔ اس لئے ہمارے اوالدین، اساتذہ کرام، علماء، با شعور لوگ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ کالم میں نے مری میں ایک طرف ہماری سیر و تفریح ، برف سے لطف اندوز ہونے والوں کی بے پرواہی، ان کے زاتی لطف، ماحول سے بے خبری، ان کی لا پرواہ ڈرائیونگ، دوسری طرف اس سب کے متاثرین، مریضوں ، عام انسان کے بری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے لکھنے کا ذہن بنا کر لکھا ہے۔ پہلے میں اپنی اصلاح کروں۔ میری وجہ سے کسی دوسرے کو معمولی تکلیف نہ پہنچے۔ یہی میری سب سے بڑی تفریح ہو گی۔ اگر میری وجہ سے کوئی مریض یا مسافر وقت پر منزل نہ پہنچ سکے تو میری تفریح اور سیر یا خوشی کس کام کی۔ بارش اور برف ہمارے لئے رزق ہے۔ فضا میں دھول اور گرد و غبار صاف ہو گئی ہے۔ انشاء اﷲ امراض ختم ہوں گے۔ لوگ شفا یاب ہوں گے۔ موسوم ابر آلود ہے۔ شاید مزید برفباری ہو گی۔ مری میں لوگ جوق در جوق جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مری جائیں، کشمیر بھی جائیں۔ سرمائی کھیلوں کے لئے حکومت انتظامات کرے۔ سکیٹنگ کے بارے میں بھی سوچیں۔ تا ہم ہماری سیر و تفریح سے بیمار ، مسافر پریشان نہ ہوں تو سب کا فائدہ ہو گا۔ ہم دوسروں کی خوشی اور بہتری کا خیال رکھیں گے تو ہمیں اس سے زیادہ دلی اور ذہنی سکون ملے گا۔ ہماری وجہ سے کسی کو زرا بھر بھی تکلیف ہو گی تو ہماری خوشی اور تفریح کسی کام کی نہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 585 Articles with 229023 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
30 Jan, 2017 Views: 455

Comments

آپ کی رائے