غالب کے کرداروں کا نفسیاتی مطالعہ

(مقصود حسنی, قصور)
ہر کردار کا اپنا ذاتی طور طریقہ، سلیقہ ،چلن اور سبھاؤ ہوتاہے ۔ وہ ان ہی کے حوالہ سے کوئی کام سرانجام دیتاہے یا اس سے کچھ وقوع میں آتا ہے۔ جس طرح کوئی قصہ کہانی ، واقعہ یا معاملہ بلا کردار وجود میں نہیں آتا اس طرح غزل کا ہر شعر کسی کردار کا مرہونِ احسان ہوتاہے ۔ ضروری نہیں کردار کوئی شخص ہی ہو۔ جذبہ، احساس ، اصطلاح ، استعارہ ، علامت یا اس کے سوا کوئی اور چیز غزل کا کردار ہوسکتی ہے ۔ کچھ وقوع میں آنے سے پہلے کردار کا اس میں ،اس معاملہ کی حیثیت ،نوعیت اور اہمیت مادی مفادات اوراخلاقی میلانات و رجحانات کے مطابق ایک نفسیاتی رویہ ترکیب پاتاہے ۔ اس رویے کی پختگی اور توانائی (فورس) کے نتیجہ میں کچھ رونما ہوتاہے ۔ گویا وہ وقوعہ اس کے نفسیاتی عمل یا رد عمل کا عملی اظہار ہوتاہے۔
غزل ، اردو شعر کی مقبول ترین صنف شعر رہی ہے ۔ اردو غزل نے ان گنت کردار تخلیق کئے ہیں ۔ ان کرداروں کے حوالہ سے بہت سے واقعات اور فکری عجوبے سامنے آئے ہیں۔ ان فکری عجوبوں کے اکثر شیڈز ، زندگی کے نہایت حسا س گوشوں سے پیوست ہوتے ہیں ۔ انہیں کہیں نہ کہیں کسی اکائی میں تلاشا جاسکتاہے ۔ یہ بھی کہ ان شیڈز اور زاویوں کے تحت اس عہد کی جزوی یا کلی نفسیات کا کھوج کرنامشکل نہیں رہتا ۔ بات یہاں تک محدود نہیں، ان شیڈز اور زاویوں کی تاثیر حال پر اثر انداز ہوکر مختلف نوع کے رویو ں کی خالق بنتی ہے۔ پہلے سے موجود رویوں میں تغیرات کا سبب ٹھہرتی ہے۔
رویوں کی پیمائش کا کام ۳۰- ۱۹۲۰کے درمیانی عرصہ میں شروع ہوا۔ رویے تین طرح کے ہوسکتے ہیں :
الف۔ وہ رویے جنھیں عرصہ دراز تک استحقام رہتاہے تاوقتکہ کوئی بہت بڑ احادثہ وقوع میں نہیں آجاتا یاکوئی ہنگامی
صورتحال پیدانہیں ہوجاتی ۔
ب۔ وہ رویے جوحالات ، وقت اور ضرورتوں کے تحت تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
ج۔ وہ رویے جو جلد اور فوراً تبدیل ہوجاتے ہیں انہیں سیمابی روّیے بھی کہا جاسکتاہے۔
کسی قوم کے اجتماعی رویے کی پیمائش ناممکن نہیں تو مشکل کام ضرورہے کیونکہ قومیں لاتعداد اکائیوں کا مجموعہ ہوتی ہیں ۔ ہر اکائی تک اپروچ کٹھن گزار کام ہے ۔ سطحی جائزے دریافت کے عمل میں حقیقی کردار ادا نہیں کرتے ۔ اس موڑ پر اکائیوں کے لڑیچر کے کرداروں کامطالعہ کسی حدتک سودمند رہتاہے ۔اس کے توسط سے کرداروں کے کام ، طرز عمل ، مزاج ، چلن ، سلوک خاطر ، سلیقہ ، باہمی سبھاؤ ، اُوروں سے تعلق ، طور، انداز وغیرہ کے حوالہ سے اس اکائی کا کردار متعین کیا جاسکتاہے ۔ اسی حوالہ سے انہیں اچھے یا برے نام دئیے جاتے ہیں ۔ شیطان کا اصل نام عزازئیل ہے۔ اس کی کارگزاری ، سبھاؤ ، چلن وغیرہ کے تحت شیطان یا رکھشش کہاجاتاہے ۔
موثرکردار وہی کہلاتاہے جو ویسا ہی کرے جیسا وہ کرتاہے یا جیسا کرنے کی توقع وابستہ ہوتی ہے ۔ تاہم دریا میں بہتے تختے پر شیر خوار بچے کی ماں کی اور شداد کی ارم میں داخل ہوتے سمے جان قبض کرنے پر عزرائیل کو رحم آسکتاہے ۔ کردار ویساہی کرتاہے جیسا وہ بن گیا ہوتا ہے یا جیسا اس نے خود کو بنایا ہوتاہے۔
غزل کے ہر شعر کو ایک فن پارے کا درجہ حاصل ہوتاہے ۔ اس کی تشریح وتفہیم اس کے اپنے حوالہ سے کرنا ہوتی ہے ۔ اس شعر کا کردار کارگزاری (پرفورمنس ) کے حوالہ سے جتنا جاندار، حقیقی ، متحرک اور سیمابی خصائل کا حامل ہوگا، شعر بھی اتنا اور اسی تناسب سے متاثر کرے گا۔ شعر کے اچھا بُرا ہونے کا انحصار شعر سے جڑے کردار پر ہے۔
اگلے صفحات میں غالبؔ کی اردو غزل کے چند کرداروں کانفسیاتی مطالعہ پیش کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔ اس سے اشعار غالب کو سمجھنے اور تشریح وتعبیر میں مدد مل سکے گی اور مطالعہ اشعارِ غالب کا حظ بڑھ جائے گا۔
آدمی :
لفظ آدمی سننے کے بعد ذہن میں یہ تصور ابھرتا ہے کہ نسل آدم میں سے کسی کی بات ہورہی تاہم اس لفظ کے حوالہ سے کسی قسم کا روّیہ سامنے نہیں آتا۔ آدمی چونکہ خیر وشر کا مجموعہ ہے اس سے دونوں طرح کے افعال کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ کسی اچھے فعل کے سرزد ہونے کی صورت میں آدم کو فرشتوں کے سجدہ کرنے والا واقعہ یا د آجاتاہے۔ (۱) اور اس طر ح آدمی کی عظمت کا تسلسل برقرار رہتاہے کسی برائی کی صورت میں شیطان سے بہکائے جاننے والا کے طور پر سامنے آتاہے۔(۲) گویا کسی فعل کے سرزد ہونے کے بعد ہی اس کے متعلق منفی یا مثبت رویہ ترکیب پاتاہے۔
اردو غزل میں مختلف حوالوں سے اس لفظ کاا ستعمال ہوتاآیا ہے۔ منفی اور مثبت دونوں طرح کے معاملات اور واقعات اس سے منسوب رہے ہیں ۔ کہیں عظمتوں اور رفعتوں کا مینار اور کہیں حیوان ، درندہ ، وحشی ، رکھشش اور شیطان سے بھی بد تر نظر آتا ہے۔ اردوغزل میں اس کی شخصیت کے دونوں پہلونظر آتے ہیں ۔ خواجہ درد ؔ نے آدمی کی شخصیت کے دوپہلو نمایاں کئے ہیں:
ہم نے کہا بہت اسے پرنہ ہوایہ آدمی زاہدِ خشک بھی کوئی سخت ہی خردماغ ہے(۳)
آدمی زُہد اختیار کرنے کے بعد حددرجے کا ضدی ہوجاتاہے۔آدمی ، آدمی نہیں رہتا بلکہ فرشتوں کی صف میں کھڑا ہونے کی سعیِ لا یعنی کرتاہے۔ بشریت کا تقاضا ہے کہ آدمی سے کوتاہی ہو ، کوئی غلطی کرے تاکہ دوسرے آدمی کو اس سے اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ زاہد سے ملاقات کے بعد خوف سا طاری ہوجاتا ہے کہ ملاقاتی کے لباس اور طرز تکلم کو کس زوایہ سے لے ۔ نتیجہ کار مسئلے کے حل کی بجائے کوئی لیکچر نہ سننا پڑے یا مسئلہ مسترد ہی نہ ہوجائے ۔ آدمی کا یہ روپ خوف اور ضدی پنے کو سامنے لاتاہے۔
گھر تودونوں پاس لیکن ملاقاتیں کہاں آمدورفت آدمی کی ہے پہ وہ باتیں کہاں (۴)
خواجہ دردؔ کا یہ شعر آدمی سے متعلق چار چیزوں کی وضاحت کررہاہے:
الف ۔ مل بیٹھنے کو جگہ موجود ہونے کے باوجود آدمی ، آدمی سے دورہے
ب۔ اس کا آناجانا تو رہتاہے لیکن دکھ سکھ کی سانجھ ختم ہوگئی ہے
ج۔
آدمی، آدمی کے قریب تو نظر آتاہے لیکن منافقت ، محبتیں چٹ کرگئی ہے
د۔ ایک دوسرے کے کام آنے کا جذبہ دم توڑ گیاہے
خواجہ دردؔ کے ہاں ’’آدمی ‘‘ کے جوخصائص بیان ہوئے ہیں ان کے حوالہ سے آدمی کے متعلق مثبت رویہ نہیں بنتا ۔ آدمی معاشرتی حیوان ہے تنہا زندگی کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ۔ تنہائی سو طرح کے عوارض کا سبب بنتی ہے۔
غالب نے آدمی کو تین حوالوں سے موضع کلام بنایا ہے:
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں
آدمی گزرے کل میں معزز اورمحترم تھا۔ عزازئیل نے ’’آدمی ‘‘ کی شان میں گستاخی کی ۔ اسے اس کے اس جرم کی پاداش میں قیامت تک کے لئے لعنتی قرار دے دیا گیا اور درگاہ سے نکال باہر کیاگیا ۔ آج وہی ’’آدمی‘‘ ذلت کی پستیوں میں دھکیل دیا گیاہے۔ اس طرح سے آدمی کے لئے دوہرا معیار سامنے آتاہے۔
؂پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق ’’آدمی‘‘ کوئی ہمار ا دم تحریر بھی تھا(؟!)
شعر کو چار زوایوں سے دیکھا جاسکتاہے:
الف ۔ کل تک سجدہ کرنے والے (فرشتے) غیر آدمی ، آدمی کے قول وفعل کو نوٹ کرنے کے لئے مقرر کر دئیے گئے ہیں
ب۔ کسی معاملے میں ’’آدمی‘‘کے حق میں یاخلاف شہادت دینے کا حق ’’آدمی‘‘ہی رکھتا ہے ۔ کسی ’’غیر آدمی‘‘ کی شہادت ،’’آدمی‘‘کے لئے کیونکر معتبر یا اصول شہادت کے مطابق قرار دی جاسکتی ہے
ج۔ ’’غیر آدمی‘‘کی حیثیت کیسی بھی رہی ہو ، کہے یا لکھے پر مواخذہ یکطرفہ ڈگر ی کے مترادف ہوگی
د۔ کیا بعید کہ وہ روزِاول کا بدلہ لینے پر اتر آئے
شہادت کے حوالہ سے ’’آدمی‘‘کی حیثیت معتبر رہتی ہے۔ اس شعر میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کہ آدمی کی خلوت بھی ، خلوت نہیں رہی ۔ اس کی خلوت (پرائیویسی) پر بھی پہرے بیٹھا دئیے گئے ہیں۔ اس کی آزادی محض رسمی اور دکھاوے کی ہے۔ وہ کھل کرخواہش اور استعداد کے مطابق اچھائی یا برائی کرنے پرقادر نہیں کیونکہ اس سے کمتر مخلوق اس پر کیمرے فٹ کئے ہوئے ہے۔ نگرانی ، صحت مند کو بھی نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے۔ آزادی سلب ہونے کا احساس اورمواخذے کاخوف ، ادھورے پن کاشکار رکھے گا۔ غالب ؔ نے ’’آدمی‘‘کی زمین پر حیثیت کایہ حوالہ پیش کرکے آدمی کے معتبر اور خود مختار ہونے کے فلسفے کو ردّ کر دیاہے۔ قیدی /پابند کے قول وفعل پر انگشت رکھنا کسی طرح واجب نہیں ۔ا گر پہر ے اٹھا لئے جائیں تو ہی ’’آدمی‘‘کے قول وفعل کی وسعتوں کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ بصور ت دیگر ثواب وگناہ کے پیمانے اپنی حدود پر شر مندہ رہیں گے۔
ایک تیسر ے شعر میں غالبؔ نے ’’آدمی‘‘کے معتبر ہونے کا پیمانہ بھی پیش کیا ہے:
؂بسکہ دشوار ہے ہرکام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا
انسان ، نسیان یا انس سے مشتق ہے۔ یہ دونوں ماد ے اس میں موجود ہوتے ہیں گویا انسان کا شریف النفس ہونا، مرتبہ ء کمال انسانیت پر فائز ہوناہے اور اسی حوالہ سے وہ انسان کہلانے کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔ اس شعر کے حوالہ سے انسان اور آدمی میں فرق ہے۔ گویا:
۱۔ آدمی سے انسان تک کا سفر بڑا مشکل اور دشوار گزار ہے
۲۔سز ا وجزا کے لئے آدمی کے لئے آدمی کی شہادت امر لازم کا درجہ رکھتی ہے
۳۔گواہی ، اس آدمی کی قبول کی جائے جوآدمی کے درجے پر فائز ہو
۴۔آدمی کے لئے غیر آدمی کی شہادت ، اصولِ شہادت کے منافی ہے بصورت دیگر شہادتی (گواہ) پر انگلی اٹھے گی
۵۔غیر معتبر (غیر آدمی) کی گواہی فسخ ہوجائے گی
۶۔ غیر آدمی کی گواہی پر فیصلہ (معاذاللہ) منصف کے انصاف پر دھبہ ہوگا

آسمان:
یہ لفظ کائنات کی تخلیق کی طرح بہت پرانا ہے یہ لفظ سنتے ہی پانچ طرح کے خیالات ذہن کے پردوں پر تھرانے لگتے ہیں:
اول ۔ اَن حدوسعتیں
دوم۔ ہلکے نیلے رنگ کی چھت
سوم ۔ حیرت انگیز توازن کامظہر
چہارم ۔ بادل
پنجم ۔ کہاجاتاہے ، آسمان پر موجود ستاروں کی گردش کے باعث خوشی یا پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔ سماوی آفتیں بھی
اہل زمین کا مقدر رہی ہے
آسمان کی وسعتوں میں جانے کتنے سورج ، چاند اور ستارے سمائے ہوئے ہیں۔ سورج نہ صرف دن لاتاہے بلکہ دھرتی باسیوں کو حدت بھی فراہم کرتاہے۔ چاند ستارے حسن اور ترتیب کا مظہر ہیں ۔ سورج چاند اور ستاروں سے متعلق بھی اردوغزل میں کافی مواد ملتاہے۔
آسمان بطور چھت، ہر قسم کی تمیز وامتیاز سے بالا رہاہے۔ بادلی جہاں بھی آئے ہیں گرج چمک کے ساتھ آئے ہیں اور بارش لائے ہیں ۔ گرج چمک سے خوف پھیلتا ہے جبکہ بارش فضا کو نکھارنے اورزمین کو سیراب کرکے ہر یالی کا ذریعہ بنی ہے۔ آسمان کے جملہ حوالے (توازن، ترتیب و تنظیم ، وسعتیں ، سیرابی ، حسن ، تمیز و امتیاز ، خوف وغیرہ ) انسانی ذہن پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ آسمان کا کردار انسانی ذہن میں ہلچل مچانے کے ساتھ ساتھ اسے وسیع ، فراخ اور متوازن کرتاہے۔ اردو غزل نے آسمان کے کردار کو ہمیشہ بائیں آنکھ پر رکھاہے۔
قائمؔ چاند پوری کا زیر آسمان جی گھبراتا ہے۔ آسمان کا کیا بھروسہ کب ٹھکانہ ہی چھین لے:
؂کیوں نہ جی گھبرائے زیر آسماں گھر تو ہے مطبوع پر بس مختصر(۵)
خواجہ دردؔ آسمان کو کمینہ اورکینہ پرور قرار دیتے ہیں:
؂نہ ہاتھ اٹھائے فلک گوہمارے کینے سے کسے دماغ کہ ہو دوبدکمینے سے (۶)
مرزاسوداؔ کے نزدیک آسمان ، درد دینے والا اور کنج قفس کو سونپ دینے والا ہے:
؂سو مجہ کو آسمان نے کنج قفس کو سونپا اب چہچے چمن میں کیجے فراغتوں سے (۷)
میاں محمدی مائلؔ آسمان کو دکھ کے موسم کا ساتھی سمجھتے ہیں:
؂ہے جہاں پرخروش اس غم سوں آسمان سبز پوش اس غم سوں(۸)
خواجہ دردؔ آسمان سے متعلق دواور حوالوں کا ذکر کر تے ہیں :
اول۔ آسماں کے زیر سایہ حرص کا بندہ خرم نہیں رہ سکتا کیونکہ آسمان حرص کے حوالہ سے میّسر خوشی کے دنوں کو پھیر
دیتاہے:
؂ہے محالِ عقل، زیرِآسماں حرص ہو جس دلی میں وہ خرم رہے(۹)
دوم ۔ آسمان خود گردش میں ہے جانے کیا تلا ش رہاہے:
؂لیتانہیں کبود کی اپنے عناں ہنوز پھر تا ہے کس تلاش میں یہ آسماں ہنوز(۱۰)
آسماں کا درج بالا کردار انسانی ذہن پر مثبت اثرات مرتب نہیں کرتا ۔ دوسری طرف یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جوخود ’’چکروں‘‘ میں ہے اور وں کو کیونکر پر سکون رہنے دے گا ۔
غالبؔ آسمان کو قابلِ پیمائش و فہمائش سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک آسمان ، انسان سے کہیں کمتر ہے:
؂ کرتے ہومجھ کو منع قد مبوس کس لئے کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں (؟!)
؂ فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا یا ں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
غالبؔ کو پڑھ کر تسکین ہوتی ہے کہ آسماں لامحدود نہیں۔ دوسرا وہ انسان کے بالمقابل کمتر ، ادنی اور حقیرہے ۔ غالبؔ کا یہ مصرع آسمان کی عظمتوں ، وسعتوں ، بلندیوں اور رفعتوں کا بھانڈ اپھوڑ دیتاہے
کیاآسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں ؟!
غالبؔ نے ایک نظر یہ یہ بھی دیا ہے کہ آسمان دن ر ات گردش میں ہے۔ اس کی گردش زمین باسیوں کومتاثرکرتی ہے ۔ اس کی گردش کے حوالہ سے ’’کچھ نہ کچھ‘‘ وقوع پذیر ہوتا ہی رہے گااور یہ مسلسل جبر کا عمل ہے۔ اس پر انسان کی دسترس ہی نہیں۔ جب کچھ نہ کچھ ہونا طے ہے تو گھبرانا محض نادانی ہے:
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
’’ہو رہے گا‘‘ جبر مشیت کو واضح کر رہاہے ۔ جب کسی کام میں انسانی مرضی کا عمل دخل ہی نہیں تواس پر اپنی صلاحیتوں کا استعمال، نادانی نہیں ؟ حوادث کاڈٹ کر کیوں مقابلہ کیا جائے۔ اس حوالہ سے ، حساب کتاب اور جوابدہی کا عمل لا یعنی ٹھہرتاہے۔ میرؔ صاحب تو مختاری کی خبر کو ’’ناحق تہمت ‘‘ کا نام دیتے ہیں:
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختار ی کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ، ہم کو عبث بدنام کیا(۱۱)
آنکھیں :
آدمی اشیا ء کو آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔ دیکھنے کے حوالہ سے اس کی رائے اور رویہ بنتاہے۔ ہر قسم کا عمل اور ردعمل دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔ آنکھوں کو بہت بڑی نعمت کا درجہ دیا جاتاہے۔ دیکھنا ، روشنی کے تابع ہے ۔ روشنی ، اشیاء کو واضح اور نمایا ں کرتی ہے ۔ انسان کے دماغ میں اعصابی سلسلے آنکھوں کے لئے زیادہ کام کرتے ہیں اور دماغ کے اعلیٰ ترین دماغی رابطے اسے زیادہ ذہین بناتے ہیں۔ (۱۲)آنکھ کی معمولی کجی دماغ کے اعلیٰ ترین رابطوں کی راہ کا پتھر بن جاتی ہے۔ جو عضو بدن اتنا اہم اورحساس ہو اس کی اہمیت وضرورت سے کیونکر انکار کیا جاسکتاہے۔
انسان اشیاء کو مکمل صاف اور واضح دیکھنے کا ہمیشہ سے متمنی رہا ہے اور یہ سب اس کے دماغ کی بنیادی ضرورت ہے۔ بصری کار گزاری کی بہتری کے لئے اس نے خوردبین اور دوربین ایجادکیں۔ فیصلوں میں چشم دید شہادت کو لازمہ اورلوازمہ کی حیثیت حاصل رہی ہے جسم کے کسی عضو کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ وہ آسودگی اور حظ کے تمنائی رہتے ہیں لیکن ہر عضو دوسرے عضو پر انحصار کرتاہے۔ آسودگی اور حظ کے ضمن میں جسم کے تمام عضو’’آنکھوں ‘‘پر انحصار کرتے ہیں ۔ ان کے بغیر وہ اپنی کارگزاری میں (بڑی حدتک ) معذور رہتے ہیں۔ آنکھوں کی سیرابی ، آسودگی ، حظ اور استفادہ کسی دوسرے عضو پر منحصر نہیں ہوتا ۔ دوسرے اعضاء مفلوج ہوجائیں تو بھی حسِ تمنا زوال کا شکار نہیں ہوتی ؂
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تودم ہے رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے (غالبؔ )
غالبؔ کے اس شعر سے انداز ہ ہوتاہے کہ اشیاء کاتصرف ہی حظ فراہم نہیں کرتا بلکہ انہیں دیکھنے سے بھی تسکین اور آسودگی میسر آتی ہے۔
اردو غزل میں آنکھوں کا کردار نظر انداز نہیں ہوا کیونکہ یہ ہرہونے کا بنیادی محرک ہوتی ہیں ۔ ولیؔ وکنی نے آنکھ کے لئے ’’نین ‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ اس کاکہنا ہے آنکھ کا حسن ، کائنات کے حسن کو متاثر کر تاہے :
؂ تیری نین کوں دیکھ کے گلشن میں گل بدن نرگس ہو اہے شو ق سوں بیمار الغیاث (۱۳)
ہاتف ؔ کے نزدیک آنکھوں کا حسن ، بناوٹ کے حوالہ سے گرویدہ بنالیتاہے:
؂ انکھیاں تری اور زلف سے کافر ہوا ساراجہاں اسلام اور تقویٰ کہاں ، زہد اور مسلمانی کدھر(۱۴)
آفتاب ؔ کے نزدیک آنکھیں ، غصے یا پھر مہر نظر کے حوالہ سے تن من جلا کر رکھ دیتی ہیں :
اس شمع روصنم سے ہے میری لگن لگائی تن من مرا جلایا ، ان آنکھوں کا بر ا ہو(۱۵)
میرؔ صاحب کے نزد یک آنکھوں کی پسند پر جسم کا کوئی عضواعتراض نہیں کرتا بلکہ آنکھوں کی پسند ، سرآنکھوں پر بیٹھاتاہے:
؂ تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہوگیا(۱۶)
آنکھوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ محبوب کی راہ دیکھتی ہیں ۔ محبوب کی آمد سے ، جسم کے ہر اعضا سے پہلے آگاہی پاتی ہیں ۔ہجر کی صور ت میں پورے جسم کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ میر محمود صابر ؔ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
رہیں کل رات کی اب تک جو تجھ رہ میں کھلی اکھیاں انجھوں کے جوش سوں گنگا ہو جمنا بہہ چلی اکھیاں(۱۷)
جہاں یہ فرارکی راہ اختیار کرتی ہیں وہاں غلط اور گنہگار ہونے کا ثبوت بھی بن جاتی ہیں ۔حمیدہ بائی نقاب ؔ کہتی ہیں :
؂ وہ کیا منہ دکھائیں گے محشر میں مجھ کو جو آنکھیں ابھی سے چرائے ہوئے ہیں(۱۸)
کسی معاملے یا واقع کا اثر سب سے پہلے آنکھوں پر ہوتاہے۔ اس ضمن میں غالبؔ کا کہناہے:
؂ بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا بات کرتے کہ میں لب تشنہء تقریر بھی تھا
زندگی کے خاتمے کا اعلان ، آنکھیں کرتی ہیں۔ کہتے ہیں:
؂ مندگئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
یار لائے مری بالیں پہ اسے، پر کسی وقت؟!
جوبھی سہی ’’آنکھیں ‘‘ اپنی ضرورت اور اہمیت کے حوالہ سے مختلف انداز میں توجہ کا باعث بنتی ہیں۔
اسیر :
لفظ اسیر گھٹن ، پابندی ، بے چینی اور بے بسی کے دروازے کھولتا ہے ۔ اس کے ہر استعمال میں پابندی اور گھٹن کے عناصر یکساں طور پرملتے ہیں ۔ اردو غزل میں بھی یہی حوالے سامنے آئے ہیں ۔ میرؔ صاحب ’’جہان‘‘ کو تنگ قیدخانہ اور انسان کواس قید خانے کا اسیر قرار دیتے ہیں ۔ اس حوالہ سے انہوں نے زندگی کی گھٹن ، بے چینی ، پابندی اور لاچاری کو واضح کیاہے اور انسان جیتے جی ایک ہیجان میں مبتلاہے:
؂ مرگیا جو اسیرِ قیدِحیات تنگ نائے جہان سے نکلا(۱۹)
قائم چاندپوری کے نزدیک عشرت کا نتیجہ اس ماحول کی اسیری کے سوا کچھ نہیں:
؂ یہ رنگِ طائربو، ہم اسیر ، اے صیاد وہ ہیں کہ جن کاگلوں بیچ آشیانا تھا(۲۰)
اسیری زلف گرہ گیری ہی کی کیوں نہ ہو آدمی دوسرے مشاغل سے کٹ جاتاہے ۔ زلف کی اسیری کچھ اور سوچنے نہیں دیتی ۔اس ضمن میں غلام علی حیدر یؔ کا کہناہے:
؂ یہ دلی اسیر زلف گرہ گیرہی رہا مجنوں ہمارا بستہ زنجیر ہی رہا(۲۱)
مرز الطیف علی بیگ سپندؔ غم کی گرفت میں آنے والے کو بھی ’’اسیر ‘‘ ہی کا نام دیتے ہیں۔ اسیری سے چار عناصر وابستہ ہیں ۔
۱۔ پابندی
۲۔ دیگر فیلڈز کے دروازے بندہوجاتے ہیں
۳۔ ایک معاملے کے سوا کچھ نہیں سوجھتا
۴۔ بے چینی اور اضطرار کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے
غم پر یہ چار وں عناصر پورے اترتے ہیں۔ گویاغم بھی اسیری کے مترادف چیز ہے۔ سپندؔ کاشعر ملاحظہ ہو:
؂ ہے اسیر غم کہاں اور کوچہ ء قاتل کہاں یہ معلوم نہیں دلی جاکر ہوا گھائل کہاں (۲۲)
اسیری بلاشبہ بڑی خوفناک بلا ہے۔ یہ نہ صرف محدود کرتی ہے بلکہ غلامی مسلط کر دیتی ہے۔ شخصیت کے لئے گھن بن جاتی ہے۔ شخصیت کاتنزل یا جمود ، فکری حوالوں کو کمزور کر دیتاہے۔ فکری معذوری ترقی اور انسانی اقدار کی موت بن جاتی ہے۔ اسیری ،راہزن کے ’’ پانوء دابنے ‘‘ پر مجبور کر دیتی ہے۔ غالب ؔ کا کہنا ہے:
بھاگے تھے ہم بہت سواسی کی سزا ہے یہ ہوکر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پانوء
انسان:
آدم کی نسل سے متعلق ہر آدمی کوانسان کہاجاتاہے ۔انسان اور آدمی میں بنیادی فرق یہ کہ آدمی کا شریف النفس ہونا، مرتبہء کمالِ انسانیت پر پہنچاتاہے اور اِسی حوالہ سے وہ ’’انسان ‘‘کہلانے کا مستحق ٹھہرتاہے ۔ انسان ، نسیان یا انس سے مشتق ہے جبکہ یہ دونوں مادے اس کے خمیر میں پائے جاتے ہیں۔ جب وہ انس کانمونہ بن کرسامنے آتاہے توا سے انسان کے نام سے پکار اجاتاہے۔ بصور ت دیگر اسے آدمی کہنا ہی مناسب ہوتاہے۔ انسا ن کے مرتبے پر فائز ہونا بلا شبہ بڑاکٹھن گزار ہوتاہے۔ اُردو غزل کے شعرا کے ہاں لفظ ’’انسان ‘‘ بکثرت اور بہت سے حوالوں کے ساتھ استعمال میں آیاہے:
میاں محمدی مائل ؔ نے ’’انسان‘‘ کے فانی ہونے کے حوالہ سے کہاہے کہ انسان کی زندگی کی معیادہی کہاہے ۔ دم آیا آیا نہ آیا نہ آیا:
کچھ تعجب نہیں گر مرگیا مائلؔ تیر ا بار کیالگتا ہے انسان کے مرجانے کو (۲۳)
امجد ؔ کے نزدیک خدا کی ذات انسان میں ملتی ہے:
سنتاتھا جسے کعبہ وبت خانہ میں آخر امجدؔ میں اُسے حضرتِ انسان میں دیکھا(۲۴)
خواجہ دردؔ کا موقف ہے کہ خدا کے سب جلوے حضرت انسان میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں:
جلوہ توہر اک طرح کاہرشان میں دیکھا جوکچھ کہ سنا تجھ میں سو انسان میں دیکھا(۲۵)
ایک دوسری جگہ پر انسان کے خلق کرنے کا مقصددردمندی بتاتے ہیں:
دردِدلی کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں (۲۶)
میر جگنو ارزاں ؔ کے مطابق انسان کے وجود خاکی میں ایک کائنات پنہاں ہے تام غوروفکر کی ضرورت ہے:
زمین وآسماں اور مہر ومہ سب تجھ میں ہیں انساں
نظر بھر دیکھ مشتِ خاک میں کیاکیا جھمکتا ہے (۲۷)
مصطفے علی خان یکرنگؔ کا کہنا ہے کہ اس حسین پیکر والے کو محض انسان ہی نہ سمجھ ، یہ اپنی ذات میں کیا ہے ، کھوج کرنے کی ضرورت ہے:
اس پری پیکر کو مت انسان بوجھ شک میں کیوں پڑتا ہے اے دلی جان بوجھ (۲۸)
حافظ عبدالواہاب سچلؔ کے نزدیک انسان کائنات کا دلداد بننے کے لئے وجود میں آیا ہے۔ انسان حضرت باری کا گویا تمثالی اظہار ہے:
برائے خواہشِ الفت ہوا اظہار وہ بے چوں اسی دنیا میں وہ دلدار بن انسان آیاہے(۲۹)
غالبؔ انسان کو کوئی فوق الفطرت وجود نہیں سمجھتے ۔ ان کے نزدیک یہ مختلف حالتوں اور کیفیتوں سے دوچار ہوتاہے۔اس پر گھبراہٹ بھی طاری ہوتی ہے:
؂ کیوں گردشِ مدام سے گھبرانہ جائے دلی انسان ہوں پیالہ وساغر نہیں ہوں میں
انسان کوئی شے نہیں بلکہ محسوس کرنے والی مخلوق ہے۔ حالات کی گرمی سردی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم پہم ایک سے حالات سے خوگر (Adjuest) بھی ہوجاتاہے اور پھر حالات کے طلاطم کو معمول سمجھ کر زندگی گزار دیتاہے۔ غالبؔ کے نزدیک آدمی سے انسان بننے تک، آدمی کو نہایت کھٹن گزار مراحل سے گزرنا پڑتاہے:
؂ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
انسان بننا دشوار سہی ، امکان سے باہر نہیں ۔ اردو غزل کے شعر ا نے انسان سے متعلق جو نقشہ پیش کیا ہے وہ بڑا دلکش اور پرکشش ہے۔ آدمی کے اندر انسان بننے کی خواہش ابھرتی ہے لیکن جب یہ شدت اختیار کرتی ہے تو اعتبار میں اضافہ ہوتاچلا جاتاہے۔ اعتبار جب معتبر ہوجاتاہے تو انسان اپنے خالق سے جاملتاہے ۔ گویا اعتبار، انسان کو آدمیوں میں محترم ٹھہراتاہے۔
اک شخص:
لفظ ’’شخص‘‘ کے حوالہ سے کوئی رویہ سامنے نہیں آتا ۔’’ اک‘‘ کا سابقہ اسے عمومی سے خصوصی کا درجہ عطا کرتاہے۔ وہ شخص کو ن ہے ، ظاہر نہیں ہوتا لیکن اس کی کارگزاری اسے محترم اور منفر د کر دیتی ہے۔’’ اک ‘‘ سے متعلق سیا ق وسباق اس کے کر دار کو واضح کرتے ہیں ۔غالبؔ کا ’’اک شخص ‘‘ کردار ی حوالہ سے بڑا اہم ہے۔ اس کے نہ ہونے سے زندگی غیر متحرک ہوجاتی ہے۔ وہ تھاتو خیالات میں جولانی تھی رعنائی تھی:
؂ تھی وہ ’’ اک شخص ‘‘ کے تصور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
اردو شاعری میں شخص کی تخصیص کے لئے مختلف نوح کے سابقے لاحقے استعمال میں آئے ہیں۔ ان سابقوں اور لاحقوں کے حوالہ سے ان کے کردار کی نوعیت سامنے آتی ہے:
؂ ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
دریاسے ’’کوئی شخص‘‘ تو پیاسا پلٹ گیا(۳۰) شکیب ؔ
یہ ’’کوئی شخص ‘‘ دریا پر آکر بھی پیاسا رہا ۔ دریا سے کچھ میسر نہ آنا یقیناًدریاکی توہین ہے۔ دریا دوہرے کر ب کا شکار ہے:
الف ۔ کوئی اس کے پاس آکر مایوس رہا
ب ۔ پیاسا ہی رہے گا؟!
اس طرح دریا کے ہونے کا جواز ہی باقی نہیں رہا۔ اس کا ہونا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔دونوں حوالوں سے دریا کے وجود پر گہری چوٹ پڑتی ہے۔؂
آخر کو’’وہی شخص‘‘ بنادشمنِ جاں
وہ شخص جو سرمایہ ء جان تھا پہلے(۳۱) قمر ؔ ساحری
’’وہ شخص ‘‘اس امر کو واضح کر تاہے کہ حالات ایک سے نہیں رہتے ۔ دوستی دشمنی میں اور دشمنی دوستی میں تبدیل ہوسکتی ہے اور یہ کسی وقت بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے لئے کسی بڑی اور معقول وجہ کا ہونا ضروری نہیں۔ گہری دوستی کسی فریق کے حوالہ سے استوار ہوئی۔ یہ دوستی پھلی ، پھولی ، مفاد پور ا ہونے کے بعد دم توڑ گئی ۔ ایسے میں فریقِ ثانی کا غصہ ، ملال یا پھر شدید رد عمل لایعنی اور غیر فطری نہ ہوگا۔ بامعنی ، بے معنی ہو کر رہ گیا:
جو حال ہے بستی کا تمہارے ہاتھوں
ہر شخص کے چہرے پہ نظر آوے ہے(۳۲) قمر ؔ ساحری
ہر شخص ، کسی کی درندگی اور ظلم و استبداد کا گواہ ہے کیونکہ وہ خودظلم و درندگی کا شکار ہے ۔ اسے اپنے بارے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے چہرے پر کسی فرعون کی فرعونیت جلی حروف میں رقم ہے۔
باغبان:
ارد وغزل میں ’’باغبان‘‘ کا کردار ،علامتی اور غیر علامتی حوالوں سے معروف چلا آتاہے ۔ تزئین وآرائش ، حفاظت و نگہانی اور آباد کاری کے حوالہ سے ، اس کردار پر توجہ رہتی ہے۔ اس کردار کی دانستہ یا نادانستہ غفلت شعاری سے ناقابلِ تلافی نقصان کا احتمال ہوتاہے ۔ اس کردار کی محتاط روی ، توجہ ، محنت و کاوش اور اپنے منصب سے لگن کے سبب بانح پھل پھول سکتاہے۔ اس لفظ کے حوالہ سے ایک بڑاہی ذمہ دار کر دار ذہن کے کینوس پر ابھر تاہے ۔ اس کی ہر حرکت توجہ کا مرکز رہتی ہے کیونکہ ا س کی کارگزاری کے ساتھ فناوبقا کا معاملہ جڑا ہوتاہے ۔ اردو غزل سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں ارے بلبل کسے پر باندھتی ہے آشیاں اپنا
نہ گل اپنا، نہ باغ اپنا، نہ لطفِ باغباں اپنا (۳۳)
میاں محمد سرفراز عباسی
میاں محمد سرفراز عباسی(متوفی ۱۱۹۱ھ) کا یہ شعر عجب مخمصے کا سبب بنتاہے ۔باغبان کی عنایت ہر جانبداری سے بالا ہوتی ہے لیکن شعر میں کہا گیا ہے کہ باغبان کا لطف میسر ہی نہیں ۔ اس میں متعلق سے انحراف آگیا ہے ۔ جب باغبان توجہ کھینچ لے توخیر کی توقع حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔ دوسری طر ف یہ معاملہ بھی سامنے آتاہے کہ دنیا کے نمبر دار غیر ہوگئے ہیں اور اپنوں ہی سے منہ پھیر ے بیٹھے ہیں ۔ اس لئے اپنے ہی دیس میں غربت سے دوچار ہوں توٹھکانہ بنانے کا سوال لایعنی ٹھہرتاہے۔باغبان تواپنے باغ کی پتی پتی ، بوٹے بوٹے سے پیار کرتاہے۔ باغبان سراپا لطف وعنایت ہو کر بھی بانٹ میں ڈنڈی مارتاہے ۔بعض کو یکسر نظر انداز کرتاہے اور کچھ کو جو باغ کے لئے با معنی ہیں جڑسے نکال باہرکرتاہے۔
مرزا مظہر جانِ جاناں ؔ کے ہاں بھی کچھ اسی قسم کا مضمون ملتاہے:
یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے سے زندگی کرتے اگر ہوتا چمن اپنا، گل اپنا باغ باں اپنا(۳۴)مظہر
اپنا
کوکلی جانبداری کے معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے ۔ کلی جانبداری کے سبب غیر مستحق جانبداری (Demeirt) کی توقع ہوتی ہے تاہم اس کے یہ معنی بھی نہیں بنتے کہ وہ جانتا ہی نہیں ۔ انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ بانٹ بلاشراکت غیر ے اسی کے حصہ میں آئے ۔ وہ چاہتا ہے آقا کا لطف اسی سے مخصوص رہے ۔ آتش ؔ کو بھی شکوہ ہے کہ باغبان کی نوازشیں متوازن نہیں ہیں۔ وہ انصاف پرور نہیں ۔ ؂
باغبان انصاف پر بلبل سے آیا چاہیے پہنچی اس کو زرگل کی پہنچایا چاہیے (۳۵)آتش
غالبؔ کے ہاں باغبان بطور تشبیہ استعمال میں آیا ہے ۔ باغبان کے دامن میں کیا کچھ نہیں ہوتا لیکن وہ مخصوص موقعوں پر دامن کھولتاہے ۔ موقع گزر جانے کے بعد اس کا دامنِ عنایت بند ہوجاتاہے ۔ گویا باغبان ہمہ وقت کا دیا لو نہیں ہے ۔ ان حقائق کی روشنی میں باغبان سے وابستہ توقعات باطل ٹھہرتی ہیں ۔ لہذا اس سے توقعات وابستہ کرنا فعلِ لاحاصل سے زیادہ نہیں ۔ وہ نہ صر ف بخیل سے بلکہ جانبد ار اور گرہ کا پکا ہے۔ ؂
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشہء بساط دامانِ باغبان وکفِ گل فروش ہے
باغبان اپنے پھولوں کی بولی چڑھا رہاہے اس سے زیادہ اندھیر کیا ہوگا۔
بت:
انسانی معاشرتوں میں بت پرستی عام اور عروج پر رہی ہے ۔ بتوں سے بہت ساری شکتیاں منسوب رہی ہیں ۔انسان دوستوں کی انسان دوستی سے متاثر ہو کر ان کے بت بنا کر پوجا کی جاتی رہی ہے۔ انہیں طاقت کا سرچشمہ سمجھا گیا ہے ۔ کھدائیوں میں مختلف اقوام کے بنائے گئے بت ملے ہیں ۔جس سے بتوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ شکتی کے باعث ’’بت‘‘ معاشروں کے حقیقی اقتدار اعلیٰ سمجھے گئے ہیں۔ بت، موحد کے لئے کراہت جبکہ بت پرستوں کے دلوں میں احترام کے احساس پیدا کرتے ہیں۔
اردوغزل میں لفظ’’بت‘‘ کا زیادہ تر محبوب کے معنوں میں استعمال ہواہے۔ انشاؔ نے بت کو ایسا خوبصور ت محبوب جو دلی میں دوئی بن کر براجمان ہوجائے ، کے حوالہ سے نظم کیا ہے:
جادو ہے نگہ چھب ہے غضب قہر ہے مکھڑا اور قدہے قیامت
غارت گردیں ہے وہ بت کافر ہے سراپا اللہ کی قدرت (۳۶)انشاؔ
بت کے ساتھ ’’کافر‘‘ پیوند کرکے اس کی کارگزاری (غارتگردیں) واضح کر دی گئی ہے۔
محمد شاکر ناجی ؔ کے ہاں ، وہ جو اپنے وصف کے سبب اچھا لگے ، اس کے متعلق باتیں سننا خوش آتا ہوگویا دلی ودماغ میں گھر کرے اور یاد مسلسل بن جائے ، کے معنوں میں استعمال کیا گیاہے۔
اے صبا کہہ بہار کی باتیں اس بت گلعذار کی باتیں (۳۷)ناجیؔ
جراتؔ نے بت کو فلرٹ کرنے والا’’چالو‘‘ اورعیار کے طور پر استعمال کیاہے:
کیا بات کوئی اس بت عیار کی سمجھے بولے ہے جو ہم سے تو اشارت کہیں اور(۳۸) جراتؔ
غالبؔ نے ایسا محبوب جس سے پوجا کی حدتک محبت کی جائے ، کے معنوں میں لیاہے:
چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
ایک دوسری جگہ ، اس کی محبت کو ، ایمان کا درجہ دے رہے ہیں:
کیونکر اس بات سے رکھوں جان عزیز کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
ایک شعر میں طنزکا نشانہ بناتے ہیں:
تم بت ہو پھر تمہیں پندارِ خدائی کیوں ہے تم خداوند ہی کہلاؤ خدااور سہی
درج بالا مثالوں میں بت کے ساتھ لفظِ تخصیص بھی نظم ہواہے:
بتِ کافر انشاؔ ، غالبؔ
بتِ گلعذار ناجیؔ
بتِ عیار جراتؔ
اُس بت غالبؔ
تم بت غالب ؔ
ان سابقوں اور لاحقوں کی مدد سے بت پہچان سے باہر نہیں رہتا۔ایسے ہی جیسے لات و منات، شیو، وشنویا برہما، شتی کی مورتیاں ۔ یہ بت سونے چاندی اور پھولوں سے لدھے رہتے ہیں ۔ محبوب بھی بناؤ سنگار سے غافل نہیں ہوتے۔
برہمن :
برہمن کو بتکدے (مندر) کی حرمت اور احترام کا امین سمجھا جاتارہاہے ۔ اس کی وجہ سے ہندودانش کے تمام حوالے ہندوسماج میں پھلے پھولے ہیں۔ اسے ہند ودھرم کا رکھوالا اور پرچا رک سمجھا جاتا رہاہے۔ ہندوگیان دھیان سے متعلق اس نے دوسروں سے زیادہ علم اور ویدان حاصل کیا ہوتاہے۔ دوسراوہ اونچی ذات سے متعلق ہوتاہے اس لئے ہند و سماج میں محترم رہاہے ۔ اسے ’’برہمن دیوتا‘‘ بھی کہا جاتارہاہے ۔ برہمن اپنے موقف میں ضدی، اڑیل اور ہٹھیل سمجھا جاتاہے ۔ لفظ برہمن جب ذہن کے پردوں سے ٹکراتاہے تو ہندو دھرم سے متعلق لوگوں کے روم روم میں پرنام کے چشمے ابلنے لگتے ہیں ۔ لفظ برہمن اُردو شاعری میں مختلف حوالوں سے نمودار ہوا ہے:
مومنؔ نے فدا ہوجانے والا، اَڑ جانے والا ، تل جانے والا ، دیوانہ وغیرہ کے معنوں میں استعمال کیاہے۔ ؂
بن ترے اے شعلہ روآتشکدہ تن ہوگیا
شمع قدپر میرے پروانہ برہمن ہوگیا(۳۹)مومنؔ
یقین ؔ ناکامی پر سٹپٹانے والا کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ؂
برہمن سر کو پیٹتا تھا دیر کے آگے
خداجانے تری صورت سے بتخانے پر کیا گزرا (۴۰)یقین ؔ
محمد عظیم الدین عظیمؔ فنا ہوکر وصل کا طالب ، جس کا جذب و خلوص اور استقلال متاثرکرے، وہ جسے ہرکوئی دلی دے بیٹھے ، ایسا محبوب جو بہت سوؤں کا عشق اپنے سینے میں مخفی رکھنے والاوغیرہ معنوں میں استعمال کیاہے ؂
برہمن جس کے دلی میں آرزو ہے مرکے درسن کی
مجھے ہے آرزو ہر وقت درسن اس برہمن کی (۴۱)
عظیمؔ اس حسنِ عشق آمیز نے مجھ دلی کوں گھیراہے
برہمن ہر کاعشق ہے ،میں عاشق ہوں برہمن کا (۴۲)
غالبؔ نے ستاروں کا حساب کرکے مستقبل کی پیش گوئی کرنے ولا اور دھرم سے وفادار ی کرنے والا کے معنوں میں نظم کیاہے:
؂ دیکھئیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض اک برہمن نے کہا یہ سال اچھا ہے
؂ وفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے مرے بت خانے میں توکعبے میں گاڑو برہمن کو
بسمل:
بسمل جان قربان کرنے کے حوالہ سے اپنا جواب نہیں رکھتا ۔ وفاداری او ر استواری اس کردار کاخصوصی وصف سمجھا جاتاہے۔ میدان میں اترنے والے کے ہاں زندہ رہنے کی امید ہوتی ہے لیکن بسمل کو تڑپ تڑپ کر کشتہ ہونے کا یقین ہوتاہے۔ وہ اس کو ہی اپنی کامیاب او رمنزل سمجھتا ہے۔ اِسی حوالہ سے وہ ’’بسمل‘‘ کے لقب سے ملقوب ہوتاہے۔ جلتے ہوئے تڑپنا معشوق کو تسکین دیتاہے ۔ اسے اس کے عاشقِ صادق ہونے کا یقین ہوجاتاہے تاہم دوسری طرف اذیت پسندی کے الزام سے بھی بری نہیں ہو پاتا ۔ اذیت پسندی پیمانے متوازن نہیں رہنے دیتی ۔ بسمل کے حوالہ سے تین طرح کے رویے ابھرتے ہیں:
الف ۔ حیرت انگیز وفاداری اور استواری
ب۔ وفاداری کے یقین کے لئے اتنی کھٹن آزمائش کہ عاشق جان سے جائے
ج۔ عشق کی یقین دہانی کے لئے جان پر کھیل جانا سراسر حماقت اور نادانی ہے
جوبھی سہی ’’بسمل ‘‘ کو جان دینے اورمعشوق کو آزمانے میں آسودگی حاصل ہوتی ہے
اردو شاعری میں یہ کردار پوری آب وتاب سے زندہ نظر آتاہے ۔کرم دادخاں دردؔ کاکہنا ہے ۔ محبوب کے آستانے کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بسمل کے لئے لازم ہے کہ وہ تڑپے لیکن محبوب کے آستانے کی خا ک پر با ل وپر نہ لگنے پائیں۔محبوب ، عاشق صادق کی تڑپت کانظارہ کرے۔ ساتھ میں اس کے آستانے کی خاک کسی کے خون سے آلودہ نہ ہو یعنی اس خاک پر خون ہونے کا الزام بھی نہ آنے پائے ۔ ؂
ادب ضرورہے اس خاک آستانے کا تڑپھ تو اس طرح بسمل کہ بال وپر نہ لگے(۴۳)دردؔ
خواجہ دردؔ کا موقف ہے کشتے کا کچارہ جانا اور کشتہ کا ر کااس سے غافل ہوجانا درست نہیں کشتہ۔ میں خامی نہ رہناہی کشتہ کارکاکمال ہے۔ ؂
نیم بسمل کوئی کسوکو چھوڑ اس طرح بیٹھتا ہے غافل ہو(۴۴)دردؔ
مہ لقابائی چنداؔ نے نکتہ نکالا ہے۔ ؂
قدموں پہ سر تھا کوئی روبروئے تیغ ابھی تڑپ سے رہا بسملوں کا جی (۴۵) چنداؔ
غالبؔ کے نزدیک بسمل کو اذیت لطف دیتی ہے لہذا جس قدر ممکن ہے اذیت (مشق ناز) دو ۔ متقولین کاخون میں اپنی گردن پر لیتاہوں:
اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتاہے کہ مشقِ ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر
یہ کردار وفا شعاری ، استقامت ، استواری اور معاملے سے کمٹ منٹ کا لاجواب نمونہ پیش کرتاہے۔
بشر:
’’بندہ بشر‘‘ عام بولا جانے والامحاورہ ہے۔ اس محاورے میں لغزش آدم کا واضح طور پر اشارہ موجود ہے۔ گویا بشر سے غلطی کوتاہی ناممکنات میں نہیں۔ وہ انسانیت کے کسی بھی درجے پر فائز ہوجائے اس سے چوک ہوہی جاتی ہے ۔ لفظ بشر ایسے کردار کو سامنے لاتاہے جو ضدین کا مجموعہ ہے۔ اس کی کسی لغزش یاکسی کارنامے پرحیرت نہیں ہونی چاہیے ۔ اچھائی ، برائی دونوں عناصر اس کی فطرت کاحصہ ہیں۔
محتاط اور بڑے لوگوں کی ’’بشری کوتاہیوں ‘‘ کا ریکارڈ تاریخ اور آسمانی کتابوں میں موجودہے ۔ اردو غزل میں لفظ ’’بشر‘‘مختلف حوالوں سے پینٹ ہواہے۔
حافظ عبدالوہاب سچلؔ کاکہناہے بشر کے ظاہر کو دیکھ کر کوئی اندازہ لگا لینا مناسب نہیں ۔ بشر کے باطن میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے باطن میں کیا کمال کے خزینے چھپائے بیٹھا ہے ؂
صور ت بشر کی ہے مری، ظاہر گد اگر ہوں بنا
باطن کی پہچانے مرے ،
سلطان ہوں، سلطان ہوں (۴۶)
علامہ حالی کے نزدیک بشر اگر کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیتا تو اس کی حیثیت صفر زیادہ نہیں ۔ ؂
بشر سے کچھ ہوسکے نہ ایسے جینے سے کیا فائدہ ہمیشہ بیکار تجھ کو پایا ، کبھی نہ سرگرم کاردیکھا (۴۷)حالیؔ
غالبؔ بشر سے ’’بندہ بشر‘‘ ہی مراد لے رہے ہیں ۔ ؂
دیا ہے دلی اگر اس کو، بشر ہے،کیا کہیے
ہو ا رقیب توہو، نامہ برہے، کیاکہیے
بشر کوئی فوق الفطر ت مخلوق نہیں جواس سے صرف خیر کی توقع رکھی جائے ۔ اس سے خیانت اور بددیانتی ، کوئی حیرت کی بات نہیں۔
بلبل ایران کا خوش گلو پرندہ ہے ۔فارسی اور اردو شعرا نے
بلبل:
اس لفظ کو مختلف مفاہیم میں استعمال کیا ہے ۔ علامتی اور استعاراتی استعمال بھی پڑھنے کو ملتا ہے ۔ اس لفظ کے استعمالات کی نوعیت کے مطابق، مختلف قسم کے سماجی ، معاشرتی اور سیاسی حوالے ذہن میں ابھرآتے ہیں۔تاہم خوش الحانی اس کردار کا بنیادی وصف رہاہے ۔ درد سوز وگداز اور نوحہ گری کی مختلف صورتیں بھی سامنے آتی ہیں ۔ ارد وغزل میںیہ کردار مختلف حوالوں سے بڑا متحرک رہاہے۔مثلاً
مظہر جان جاناںؔ کے ہاں عشق میں محبوب کے ہاتھوں سب کچھ لٹا دینے والا کے طور پر نمودار ہواہے ؂
گئی آخر جلا کر گل کے ہاتھوں آشیاں اپنا
نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا(۴۸)مظہرؔ
بہادر مرزاخردؔ کے مطابق محبوب جب آزادی چھین لینے کی تمنا کرتاہے تویہ اس کی تمناکی تکمیل کے لئے از خود پابہ زنجیر ہوجاتاہے ؂
دلی اڑا کے پہنچا ، جب ہو ااس گل کوشوقِ صید بلبل کو پر لگادئیے شوقِ شکارنے (۴۹)خردؔ
خواجہ برہان الدین آثمی ؔ نے بلبل کے ذریعے اپنے عہدے کے پرگھٹن حالات اور شخص کی بے اختیاری کو واضح کیاہے۔ بے اختیار اور آزادی سے محروم چہرے پر مسکراہٹ حرام ہوجاتی ہے لیکن وہ روبھی نہیں سکتا ۔ اس کی حیثیت کسی کل پرزے سے زیادہ نہیں ہوتی ؂
میں وہ بلبل ہوں کہ صیاد کے گھر بیچ پیدا ہوا جہاں میں آنکھ جو کھولی قفس میں آشیاں دیکھا(۵۰)آثمی
میر باقر حزیں ؔ کے مطابق خوبصور ت حالات میسر ہوں تو نقل مکانی کی کو ن سوچتا ہے تاہم غاصب کے جبر کے زیر اثر سب کچھ چھوڑنا پڑتاہے ۔ حزیں ؔ نے ’’بلبل ‘‘ کے حوالہ سے حالات کی ناخوشگواری واضح کی ہے۔ ؂
یہ کہہ کے باغ سے رخصت ہوئی بلبل کہ یاقسمت
لکھا تھا یوں کہ فصلِ گل میں چھوڑیں آشیاں اپنا(۵۱)حردیںؔ
غالبؔ کے ہاں یہ کردار بطور نوحہ گر استعمال ہواہے ۔ انسانی فطرت ، مختلف حالات میں مختلف رویے اختیار کرتی ہے۔ دکھ یا ڈپریشن کی صور ت میں حالات اور ماحول کی تبدیلی اسے ریلیف مہیا کرتی ہے۔جب نوحہ گر ساتھ میں ہوگا تووہ ناخوشگواری کوکیونکر بھولنے دے گا ۔ہمہ وقت کا رونا دھونا نہ صر ف زندگی کا لطف چھین لیتاہے بلکہ کچھ کر گزرنے کی حس کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتاہے۔ دیکھئیے غالبؔ اس باب میں کیا کہتے ہیں ؂
مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو نالہ ء بلبل کا درد اور خندہ گل کا نمک
بلبل گویا ایسا کردار ہے جو مسلسل مایوسی اور پریشانی پھیلاتا ہے ۔ اس کے نالے شخص کے درد کو تازہ رکھتے ہیں۔
بلبل کا متراد ف عندلیب اردو غزل میں استعما ل ہوتاآیاہے ۔ یکر نگ ؔ اس کردار کے حوالہ سے نکتہ نکالتے ہیں کہ عندلیب کی شایستہ اور کومل آواز اور اس کی آہ وفغاں چار سو پھیل کر توجہ حاصل کر لیتی ہے۔ توجہ پھر جانے کے سبب افسردگی کا عالم طاری ہوجاتاہے ؂
کم نہیں کچھ بوئے گل سیتی فغان عندلیب
برگِ گل سے ھیگی نازک ترزبانِ عندلیب (۵۲)یکرنگ ؔ
غالبؔ کے ہاں اس کردار کی کار فرمائی اور ہی رنگ کی حامل ہے ۔ شادی میں نوحہ گری کی موجودگی بھلا کس کو خوش آتی ہے ؂
اے عندلیب یک کف خس بہر آشیاں طوفان آمدآمد فصل بہارہے
آمدِ فصل بہار میں نوحہ گر کو ’’آشیاں ‘‘ چھوڑنے کا مشورہ دینا ہی صائب لگتاہے کہ خواہ مخواہ رنگ میں بھنگ ڈالے گا۔
بیمار:
یہ تے (طے) سی بات ہے کہ بیمار کے شب و روز ناگواری ، پریشانی اور وسوسوں کا شکاررہتے ہیں ۔یہی نہیں بیماری اس کے اعصاب چٹ کر جاتی ہے اور اس کے سوچ کو منفی حوالوں کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ بیمار، تکلیف ، کمزوری اور سوچ کے منفی زوایوں کے سبب زندگی کے کسی میدان میں کوئی کردار اداکرنے سے قاصر رہتاہے۔ ’’لفظ بیمار‘‘ سنتے ہی ایک ایسے شخص کا تصور سامنے آجاتاہے۔ جوہمدردی کا مستحق ہوتاہے لیکن اس کی ہر وقت کی مایوسی اور ہائے وائے دماغ پر بوجھ سابن جاتی ہے۔ اردو غزل میں یہ کردار نظر انداز نہیں ہوا۔ بیمارِ عشق کے علاوہ بیماروں کا ذکر بھی ملتاہے۔
مرزاسوداؔ کا کہنا ہے عارضے میں مبتلا شخص کا عجب حال ہو جاتاہے ۔ ہجر کا عارضہ سوچ کو جامد کرکے رکھ دیتاہے۔ ہجر کی بیماری انسان کو اندر سے کھائے چلی جاتی ہے ؂
تیری دوری سے عجب حال ہے اب سوداؔ کا میں تو دیکھا نہیں ایسا کوئی بیمار ہنور (۵۳)سوداؔ
میاں محمدی مائلؔ کا خیال ہے کہ بیماری کی ’’ہوس‘‘ بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ ہوس بھی ذہنی عارضہ ہے ۔ ؂
کیا کہوں میں تجھ سے دلی زار کی ہوس مشہور ہے جہاں میں بیمارکی ہوس (۵۴) مائلؔ
لالہ نول رائے وفاؔ کے نزدیک بیمار کی بیماری سے اندازہ ہوجاتاہے کہ وہ زیادہ دیر کا نہیں ؂
کہنے لگا وہ من کے مرا نالہ وفغاں یا ر ب جیا کرئے گا یہ بیمار کب تلک (۵۵) وفاؔ
میر محمدی قربانؔ کے نزدیک ’’نگہ کا بیمار‘‘ مسیحا کی دسترس سے باہر ہوتاہے۔ کوئی معالجہ (سمجھانابجھانا) اس پر کارگر ثابت نہیں ہوتا بلکہ نیتجہ الٹ ہی نکلتاہے ۔ نگاہِ الفت کہ نگاہِ قہر کا ڈسالاعلاج ہوتاہے ؂
کسی کی برگشتہ کا ہوں میں بیمار یاں مسیحا کی ہوئی جاتی ہے تدیبر الٹی (۵۶)قربانؔ
جہاں دارؔ کا بھی یہی نظریہ ہے ؂
تیرے بیمار اب کے تےءں جو دیکھا مسیحا کی نہیں کرتی دوا خوب (۵۷) جہاں دارؔ
محبت خاں محبتؔ کے خیال میں بیمارِ عشق کا جینا مرنا برابر ہوتاہے ۔وہ عمرانی حوالہ سے بیکارِ محض ہوتاہے۔ ؂
جس کو تیری آنکھوں سے سر وکار رہے گا بالفرض جیا بھی تو وہ بیمار رہے گا (۵۸)محبتؔ
غالبؔ نے عاشق کے ساتھ ’’بیمار‘‘کا پیوند کرکے عشق کو بیماری قرار دیا ہے۔ان کے نزدیک یہ بیماری جان لے کر دم لیتی ہے ؂
مندگئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے خو ب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
بیمار کا مترادف لفظ’’ مریض‘‘ بھی اردو غزل میں اپنی الگ سے پہچان رکھتاہے۔ یہاں بھی عاشق ہی مریض سے ملقوب نظر آتاہے میرؔ صاحب کے نزدیک مرضِ عشق جان لے کر چھوڑتا ہے۔ عشق گویا ایک نفسیاتی عارضہ ہے جس کی شدت سے جان بھی جاسکتی ہے۔ ؂
مت کر عجب جو میرؔ ترے غم میں مرگیا جینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا؟ (۵۹) میر ؔ
قائمؔ کے خیال میں مریضِ عشق کا مرجاناہی اچھا ہے ۔ اس کا ہردم وبال ہوتاہے۔ وبال(اذیت) کا جینا بھی کیا جینا ہے۔ اس سے مرجان ہی بہتر ہوتاہے ؂
چھوٹا ترا مریض اگر مرگیا کہ شوخ جو دم تھا زندگی کا سو اس پر وبال تھا(۶۰) قائم ؔ
میاں جگنوؔ کے نزدیک ، مریض عشق، عارضہ عشق میں رہے تو اچھا ہے ۔ اس کا بہتر ہونا دوسروں کو بیمار کر دیتاہے۔ وہ قصہء عشق سنا سنا کر اوروں کو ہلکان کردے گا۔ ؂
ایسے مریض عشق کو آزار ہی بھلا اچھا کبھی نہ ہووے یہ بیمار ہی بھلا (۶۱)
غالبؔ کہتے ہیں مریضِ عشق کی حالت دیکھنے والا ، مریض کی مرض سے زیادہ واقف ہوتاہے۔ اگر کوئی معالج، تیمادار کے Coments کو نظر انداز کرکے دعویٰ باندھے کہ یہ اچھا ہوجائے گا اور اگر وہ اچھا نہ ہوتو مسیحا کو سزا(جرمانہ) دی جائے ۔ ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جب تک مرضِ عشق کو ہوا دینے والے باقی رہیں گے کسی کی مسیحائی کا م نہ آسکے گی ؂
لوہم مریضِ عشق کے تیمادار ہیں اچھااگرنہ ہوتو مسیحا کاکیا علاج
پروانہ: اس لفظ کا علامتی اور استعارتی استعمال ہوتاآیا ہے ۔ پروانہ ، ایثار، قربانی اور متا کی علامت ہے۔ اسے ہر حال میں قربان ہونا ہوتاہے۔ اردو غزل میں یہ کردار بڑا معتبر ، متحرک اور جاندار چلا آتاہے۔ یہ عاشق ، دھرتی اور مذہب پر قربان ہونے والا کے طور پر پڑھنے کو ملتاہے۔ استاد ذوقؔ کے نزدیک وہ جو منزل مقصود سے دور اور منزل تک رسائی کے وسائل نہ رکھتاہو ؂
بلبل ہوں صحن باغ سے دور اور شکستہ پر پروانہ ہوں چراغ سے دور اور شکستہ پر (۶۲) ذوقؔ
پروانہ کے لئے لفظ پتنگا بھی استعمال ہواہے ۔ خسروؔ نے اس سے مراد عشق کی آگ میں جل مرنے والا لیاہے۔ ؂
میرا جو بن تم نے لیا تم نے اٹھا غم کو دیا تم نے مجھے ایسا کیا جیسا پنتگا آگ پر (۶۳)
غالبؔ کے ہاں بطور حسن شناس ، محبوب کے متعلق کسی قسم کی شکایت پر وکالت کرنے والا کے معنوں میں لیاگیا ہے۔
؂ جاں در ہوائے یک نگہِ گرم ہے اسدؔ پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
جلاد:
لفظ ’’جلاد‘‘ خوف اور نفرت پیداکرتاہے۔ ظالم ، جابرا ور اذیت پسند کے لئے بولاجاتاہے۔ یہ سرکاری ملازم ہوتاہے۔ اپنی مرضی سے کسی کو کوڑے نہیں لگاتا اور نہ ہی کسی کی جان لیتا ہے۔ حاکم کے حکم سے جیلر یاکسی دوسرے عہدیدار کی موجودگی میں، حاکم کے حکم کی تعمیل کرتاہے اوراِس ضمن میں کسی رورعایت سے کام نہیں لیتا۔ ترس یارحم کی صورت میں حاکم کے حکم کی تعمیل نہیں ہو پاتی ۔سنگدلی اور بے حسی کے حوالہ سے کنایتہ جلاد کا لفظ استعمال میں آتاہے۔
انعام اللہ یقین ؔ نے زندگی کی کھٹورتاکو سامنے رکھتے ہوئے جلاد کے کردار کوواضح کیاہے کہ وہ زندگی کے مصائب وآلام سے نجات دلاتاہے۔ اس لئے خون بہااسی کو پہنچنا چاہیے ؂
چھٹے ہم زندگی کی قید سے اور داد کو پہنچے وصیت ہے ہمارا خوں بہا جلاد کو پہنچے (۶۴)یقین ؔ
ولیؔ دکنی فلک کو جلاد کا نام دے رہے ہیں ۔ تاہم انسان کا ’’غمزہ ء خون ریز‘‘ کی تاب وہ بھی نہیں لا سکتا ؂
زخمی ہے جلادِ فلک تجھ غمزہء خوں ریز کا ہے شور دریا میں سدا تجھ زلف عنبربیزر کا (۶۵)ولیؔ
سید عبدالولی عزلتؔ کا کہناہے جب زندگی سے نجات کی خواہش ہوتی ہے جلاد زندگی سے نجات نہیں دلاتا بلکہ اذیت میں مبتلا کودیکھتا رہتاے۔ ؂
نیم بسمل ہوا میں تیغ نگہ تب رکھ لی کس بھلے وقت بر ا ہوگیا جلاد کہ بس (۶۶) عزلتؔ
شہیدؔ کے نزدیک جلا دبے اعتبار ا ہے۔ آرزو کا قتل کرتاہے۔ مارنے سے زیادہ دیکھ میں دکھ کر آسودگی محسوس کرتاہے ؂
شہیدؔ آخر مقدر تھا ہمیں حسرت میں جی دیتا ہمارے سر پر آکر پھر گیا جلاد یاقسمت (۶۷)شہیدؔ
غالبؔ جلاد کے حوالہ سے محبوب کی اذیت پسندی اجاگر کرتے ہیں۔ جلاد بڑی بے دردی سے ماررہاہے۔ وہ توسنگدل ہے ہی، محبوب کہے جارہاہے ’’اور مارو، اور مارو‘‘۔ محبوب کو اذیت نواز سے واسطہ ہے ۔ کہتے ہیں جلاد کی بے رحمی کے سبب جان ہی کیوں نہ چلی جائے لیکن محبوب کی آواز ’’اور مارو‘‘ کا ن میں پڑتی رہنی چاہیے۔محبوب رحم سے کوسوں دور ہے جبکہ مضروب کو محبوب کی عدم تسکین لطف دے رہی ہے ؂
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سراڑ جائے جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
حسن :
اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں ذوقِ جمال رکھ دیا ہے ۔ اس لئے حسن شناسی کی تاریخ انسان کے ساتھ چلتی ہے ۔ جس کا ثبوت ہابیل کا قتل ہے۔ ’’حسن‘‘ اپنا الگ سے وجود نہ رکھتے ہوئے انسانی زندگی میں بڑے معتبر اور متحرک کردار کا حامل ہے۔ حسن نے بلا امتحان کسی کو اپنا نہیں بنایا ۔ اردو غزل میں حسن کے کردار کو مختلف حوالوں اور زوایوں سے اجاگر کیاگیا ہے۔
شاہ ولی ا للہ ولیؔ کا کہنا ہے حسن ایک معجزہ ہے ۔ شکتی دیتا ہے ، روشنی پھیلاتا ؂
خوبی اعجاز حسنِ یار گر انشاکروں بے تکلف صفحہء کاغذید بیضاکروں (۶۸) ولی ؔ
محمد عظیم الدین عظیم ؔ کے مطابق حسن آگ ہے جواس کے قریب ہوتاہے جل کر کباب ہوجاتاہے۔ ؂
گلشن میں جب وہ گل رومستِ شراب ہوئے اس حسنِ آتشیں پر بلبل کباب ہوئے (۶۹) عظیمؔ
انسان نیکی ، خوبصورتی اورہم آہنگی کی جانب فطری میلان رکھتاہے(۷۰)اس لئے لفظ ’’حسن ‘‘ اس کے تمام حواس بیدا ر کردیتا ہے اور اپنے ارد گرد اس کو تلاشنے لگتاہے۔ اشیاء کے مثبت پہلوؤں پر غور کرتاہے۔ اشیاء میں خوبیاں تلاش کر تاہے پھر اسے بدبو دار کوڑا بھی برا نہیں لگتا اور کراہت کی حیثیت لایعنی ہوکر رہ جاتی ہے ۔ حسن درحقیقت تحریک کا دوسرانام ہے۔ ’’حسن‘‘ ظاہر میں کچھ ہے اور بعض اوقات اپنی کریہہ ہےئت کے سبب وجہ ء امتحان ٹھہرتاہے ۔جونہی ظاہری لبادہ چاک ہوتاہے افادے کا دروازہ کھل جاتاہے ۔یہ بھی ممکن ہے ظاہر جاذبِ نظر ہو جبکہ باطن کریہہ اور قابل نفرت بھی نہ ہو۔ حسن اپنی سرشت میں مقناطیست رکھتاہے اس لئے وہ متاثرہ کرتاہے تاہم ہرکسی پر اس کے فیوض کے خزانے نہیں کھلتے ۔ بقول غلام رسول مہر:
’’ خود کوسادہ اور بے خبر ظاہرکرتاہے لیکن اپنی اصل میں بڑا ہوشیار اور پر کار ہوتاہے۔ لوگوں کے حوصلے ہمت اور صبر واستقلا ل کا امتحان لیتاہے‘‘۔(۷۱)
غالب ؔ کی زبانی سنےئے ۔ ؂
سادگی و پرکاری وبے خودی وہشیاری حسن کو تغافل میں جرات آزماپایا
دشمن :
نفرت اور محبت انسانی زندگی کا حصہ رہے ہیں ۔ جہاں انسان ، انسان کے دکھوں کامداوا کرتاچلاآرہاہے وہاں انسان دشمنی بھی عروج پر رہی ہے۔ چونکہ تضاد انسان کی فطرت کاجزو ہے اس لئے دوستی کے ساتھ دشمنی ایسی کوئی نئی اور انوکھی چیزنہیں ہے۔ یہ لفظ برصغیر کی مختلف زبانوں میں ا سی طرح یاتھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ رائج چلا آتاہے۔ یہ لفظ ڈر خوف اور نفرت کے ساتھ ساتھ تحفظ ذات کااحسا س بھی پیداکرتاہے۔
شاہ نصیر کے نزدیک کسی سبب کے باعث دشمنی جنم لیتی ہے ؂
مجنوں سے ہے جو ناقہ ء لیلیٰ کو دوستی دشمن ہے اس لئے وہ بیاباں میں خار کا (۷۲) شاہ نصیرؔ
مرزا مظہر جانِ جاناںؔ ایسے دوست جس کا کردار بدترین دشمن کا ساہو ، کے لئے دشمن کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ؂
جو تونے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتاہے غلط تھا تجھ کو جوہم جانتے تھے مہر باں اپنا(۷۳)جاناںؔ
رقیب کے لئے بھی ’’دشمن ‘‘ ہی لفظ استعمال میں لاتے ہیں۔ ؂
وہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجراکیاہے ہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں(۷۴)
غالبؔ ’’دشمن ‘‘ کے ایک دوسرے کردار پر روشنی ڈالتے ہیں ؂
عشق میں بیدادرشکِ غیر نے مارا مجھے کشتہ ء دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
بلاشبہ رقیب سے بڑ ادشمن کون ہوگا۔ رقابت قطرہ قطرہ نچوڑتی ہے۔
دوست :
لفظ دوست تہذیبی اور ثقافتی تاریخ میں بڑا مضبوط اور توانا حوالہ رکھتاہے ۔ انسانوں نے انسانوں کو اور قوموں نے قوموں کو معاملاتِ حیات کے ضمن میں ، وقت پڑنے پر یا پھر من کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے دوست بنایاہے۔ ان پر اعتماد کیا ہے ان سے معاشی لین دین رکھاہے۔ ان سے خونی رشتے استوار کئے ہیں۔ان کے لئے خون بہایا ہے۔ تاہم اعتماد جیت کر برباد کرنے والے بھی دوست ہی رہے ہیں ۔ اس منفی حقیقت کے باوجود لفظ ’’دوست ‘‘ اپنے دامن میں وسعت، توانائی ، خلوص و محبت اور پاکیزگی رکھتا ہے ۔ انسان کا اعتمادبحال کرتاہے۔ حوصلے اور تسلی کا سبب بنتاہے۔ یہ لفظ یقیناًبڑاخوبصور ت اور اعصاب پر مثبت اثرات مرتب کرنے اور نفسیاتی تسکین فراہم کرنے والا ہے۔دوست کا کردار ہمیشہ سے متحرک رہاہے۔ خدااور معشوق کے لئے بھی یہ استعمال میں آتا رہاہے۔ اردو غزل سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
میر حیدر الدین کامل ؔ کا کہنا ہے کہ دوست ، دوست کی خطاؤں سے درگذرکرتاہے اور اسے معاف کردیتاہے۔ دوست کایہ کردار سچی اور سُچی دوستی کی نشاندہی کرتاہے۔ ؂
دوست بخشے گا دوست سب کے سب گرچہ عاصی ہوں اس کا آسی ہوں (۷۵)کامل ؔ
دوستی کایہ پیمانہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ گرامی پر فٹ آتاہے ۔تاہم دوستی ایسے حوالوں کی متقاضی ہے ۔
داغؔ دہلوی کہتے ہیں دوست ،دوست کے لئے مخبری کافریضہ بھی سرانجام دیتاہے ؂
قسم دے کر انہی پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ ان کے
تمہاری بزم میں کچھ دوست بھی دشمن کے بیٹھے ہیں(۷۶)داغؔ
مرزامظہر جانِ جاناں کے مطابق دوست اپنابناکر لو ٹ لیتے ہیں ؂
ہمارے ساتھ سے یہ دلی بھی بھاگالے کے جاں اپنا
ہم اس کو جانتے تھے دوست مہرباں اپنا(۷۷) جاناںؔ
خواجہ دردؔ کے نزدیک دوستوں کی دوستی بھی مقدرسے میسر آتی ہے۔ نصیب یاوری نہ کرے تو دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ ؂
یاوری دیکھیے نصیبوں کی دوست بھی ہوگئے مرے دشمن (۷۸) دردؔ
غالبؔ کا انداز بیاں اور بقول شاداں بلگرامی:
’’دوست ہمیشہ ہمدردی اور غمخواری کرتے ہیں تاہم دوست کانوں کے کچے اور چغلی سن کر بدگمان بھی ہوجاتے ہیں۔(۷۹)
؂ دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرآنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
ایک دوسری جگہ کہتے ہیں:
؂ تاکرے نہ غمازی کر لیاہے دشمن کو دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
رقیب:
کسی معاملے کی پوشیدگی کے ساتھ ساتھ من کا بوجھ ہلکا کرنے ، صلاح ومشورہ ، واسطوں اور رابطوں کے لئے کسی ’’اپنے ‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر و بیشتر ’’یہ اپنے ‘‘ نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ جوپہلے سے رقابت رکھتا ہو اس سے نبر دآزما ہونا، مشکل کا م نہیں ہوتا تاہم خفیہ رقابت نقصان کا موجب بنتی ہے۔ جب بھی اس قسم کے کردار کاحوالہ سامنے آتاہے ۔ نفرت اور کراہت کے جذبات ابھرتے ہیں اس لئے ایسے کردار سے خوف کھانافطری سی بات ہے ۔ ایک ہی محبوب کے دوعاشق آپس میں رقیب ہوتے ہیں ۔اردو غزل میں سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :
شاہ ولی اللہ اشتیاقؔ نے دعویٰ باندھنے اورر ائے دہندہ کے معنوں میں یہ لفظ استعمال کیاہے ؂
نہ چھوڑا ماربھی کھاکر گزر گلی کاتری رقیب کو مرے دعویٰ ہے بے حیائی کا (۸۰) اشتیاقؔ
محمد عظیم الدین عظیم ؔ نے گھات میں رہنے ولا ، نشانہ ہدف بنانے والا ، جس سے خوف آتاہو کے معنوں میں استعمال کیاہے ؂
چھپ دیکھتا ہوں تجھ کو رقیباں کے خوف سے
مکھ میں نین ،نین میں نظر، میں نظر میں ہوں (۸۱) عظیم ؔ
خواجہ دردؔ نے رقیب کو حاسد کے معنی پہنائے ہیں۔ ؂
آنسومرے جوانہوں نے پونچھے کل دیکھ رقیب جل گیا(۸۲)در دؔ
چنداؔ نے رکاوٹ ڈالنے والا ، حائل ہونے والا کے معنوں میں نظم کیاہے ؂
دیکھا چمن میں واسطے بلبل کے جابجا ہر گز نہیں رقیب سواکوئی خار گل(۸۳) چنداؔ
میر سعادت علی سعادتؔ کے نزدیک رقیب وہ نادان کردار ہے جس کی نادانی کے سبب کسی دوسرے کا کام سنور جاتاہے۔(۸۴) غالبؔ انتہائی قرابت دار اورہم راز کو رقیب کا نام دیتے ہیں ۔ قرابت کے سبب رقابت میں مبتلا ہوکر دشمنی پر اترآتاہے ۔ خیانت کا مرتکب ہوتاہے ۔ بھروسہ اور یقین سے فائدہ اٹھاکر نقصان پہنچاتاہے ؂
ذکر اس پری وش کا پھر بیاں اپنا غالبؔ بن گیا رقیب آخر تھا جوراز داں اپنا
ساقی:
لفظ ’’ساقی ‘‘ شراب پلانے والے کے لئے بولا جاتاہے ۔ اس سے ہادی، پیرو مرشد ، حضور، محبوب ، معشوق وغیرہ معنی بھی مراد لئے جاتے ہیں ۔یہ لفظ عوامی نہیں لیکن اردو اور برصغیر کی کئی دوسر ی زبانوں کی شاعری میں نظم ہوتا آرہا ہے ۔ یہ لفظ اہل ذوق پہ رنشہ کی کیفیت طاری کر دیتاہے۔ کسی سابقے یالاحقے کے جڑنے سے کسی مخصوص کردار کی طرف توجہ مبذول کرواد یتا ہے۔ مرکب کی صور ت میں دماغ پر مختلف نوعیت کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اردو شاعری میں لفظ ساقی کے استعمال کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
بھگونت رائے راحتؔ اس سے مہر ومحبت سے فیض یاب کرنے والا مراد لیتے ہیں ؂
پلا مجھ کو ساقی محبت کا جام رہوں یاد میں اوس کی سرخوش خرام (۸۵) راحت ؔ
پیرمرادشاہ کا کہتے ہیں وہ جس کی شراب حلال اور اس کے عنایت کئے گئے جام میں نبی ؐ کا جمال نظر آتاہو۔ ساقی بمعنی تقیسم کنندہ ، اس کی مے شرعی جواز رکھتی ہو ؂
پلامجھ کو ساقی شرابِ حلال نبی کا نظر آوے جس میں جمال ( ۸۶)پیر مراد شاہ ؔ
محمد صابر محمود ؔ ساقی سے عنایت کرنے والا، فیض یاب کرنے والا ،پر جوش عنایت والا مراد لیتے ہیں ؂
دیتا ہے بادہ ساقی مینائے آتشی سوں رکھتاہے مست دلی کوں گلرنگ بے غشی سوں(۸۷) صابر ؔ
ذوق ؔ کے نزدیک وہ جوکسی اور کے اشارے سے بانٹ کر تاہو ؂
کرتاہے ہلال ابروئے پُرخم ہے اشارہ ساقی کو کہ بھردے بادے سے کشتی طلائی (۸۸)ذوقؔ
عبدالحی تاباںؔ اس کو ساقی مانتے ہیں جو تقاضوں سے بالا تر ہوکر پلائے ؂
ایمان ودیں سے تاباں ؔ مطلب نہیں ہے ہم کو
ساقی ہو اور مے ہومینا ہو اور ہم ہوں (۸۹) تاباںؔ
غالب ؔ کا اپنا ہی رنگ ہے ۔ ایسا کردار جواپنی فیاضی پر اِتراتاہولیکن میخوار کی بلانوشی اس کا غرور خاک میں ملاکر رکھ دے ؂
لے گئی ساقی کی نخوت، قلزم آشامی مری موج مے کی آج رگِ مینا کی گرد ن میں نہیں
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ساقی وہ ہے جوہر آنے والے کو پلائے۔ خواہ اس کی مرضی ہو یانہ ہو۔گویاہر حالت میں پلائے ؂
میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں گرمیں نے کی تھی توبہ،ساقی کوکیاہوا
ایک تیسری جگہ ’’کوثر‘‘ کا لاحقہ بڑھاکر جناب امیر(ع) کی ذاتِ عالیہ مراد لیتے ہیں کہ ان کی ذات ایسی نہیں جوبخل سے کام لے ؂
کل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں یہ سوء ظن ہے ساقیِ کوثر کے باب میں
ستمگر : اردو غزل میں یہ لفظ زیادہ تر محبوب کے لئے مستعمل رہاہے ۔یہ لفظ سنتے ہی بڑا ظالم ، بات نہ سننے والا، ضدی ، خود پسندمحض نازنخرے والا محبوب، آنکھوں کے سامنے گھوم جاتاہے۔ امیر شہر کے لئے بھی یہ لفظ نامناسب نہیں سمجھا گیا ۔ رائے ٹیک چند بہارؔ نے اس کردار سے کچھ ایسی ہی خوبیاں منسوب کی ہیں:
۱۔ مکمل گرفت میں لینے والا
۲۔ متاثر کرنے کی طاقت رکھنے والا
۳۔ جوبلاوجہ قتل (گرویدہ ) کر تاہے
؂ کرئے ہے یہ ستمگر قتل بے تقصیر کیا کہیجے
جواُن کے ہاں یوں مرنا ہے تقدیر کیاکہیجے (۹۰) بہار ؔ
عبدالحی تاباںؔ نے اس سے ایساکردار مراد لیا ہے جوظالم تو ہے لیکن آہ وزاری سے متاثر بھی ہوتاہے ؂
اب مہرباں ہو اہے تاباںؔ تراستمگر آہیں تیری کسی نے شاید جاکر سنائیاں ہیں (۹۱) تاباںؔ
غالبؔ کے نزدیک یہ ایسا کردار ہے جس کے ظلم وستم کی کوئی حدنہیں ہوتی ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ستم کے شکار کی موت پر بھی اکتفا نہیں کرتا۔ وہ اس سے بڑھ کر ستم کاخواہش مند ہوتاہے۔ نہ مرنے دیتاہے اور نہ جینے ؂
؂ میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چُھوٹوں وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
غالبؔ اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ ستمگر سے اچھائی اور بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ؂
وہ دن بھی ہوکہ اس ستمگر سے ناز کھینچوں بجائے حسرت ناز
ان کے نزدیک یہ کردار طعنہ زنی کرتارہتاہے کہ کچھ کھا کر مرکیوں نہیں جاتے ؂
زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستمگر ورنہ کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
شمع:
روشنی کی ضرورت واہمیت سے کبھی بھی انکار نہیں کیاگیا ۔ شمع ہمیشہ سے بہتر کارگزار ی کا وسیلہ رہی ہے۔ روشنی کے کئی معنی لئے جاتے ہیں ۔ مثلاً
الف۔ چراغ ب ۔ ہدایت ، ہدایت دینے والا ج۔ رہنمائی (رہنما)
د۔ جومحفل ،معاشرہ یا تہذیب کو اپنی دانش اور حکمت سے چار چاند لگا دے
ہ ۔ خوبصورت محبوب ، جس پر ایک زمانہ مرتاہو
و۔ عادل حاکمِ وقت
’’شمع ‘‘ روشنی کا ذریعہ ہے روشنی براہ راست بصارت سے تعلق رکھتی ہے۔روشنی جتنی بہتر، سازگار،شفاف اور ضرورت کے مطابق ہوگی بصارت کی کارگزاری اتنی ہی بہتر اور واضح ہوگی۔ مشاہدے کا واضح اور شفاف ہونا ادراک کے ابہام دورکرنے کا سبب بنتاہے۔لفظ شمع اردو غزل میں بطور کردار ، علامت ، استعارہ ، مشبہ بہ بکثرت استعمال ہواہے ۔ میر عبدالحی تاباںؔ نے نرم دلی کو موضوع گفتگو بنایاہے ؂
محفل کے بیچ سن کر مرے سوز دلی کاحال بے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑے (۹۲) تاباںؔ
گویا شمع وہ کردار ہے جوکسی دوسرے کا درد اپنے سینے میں محسوس کرکے دکھی ہوتاہے۔ بطور استعارہ ہمدرد اور نرم دلی شخص معنی لئے جاسکتے ہیں۔
حافظ عبدالوہاب سچلؔ کے مطابق شمع وہ کردار ہے جس پر بلا کہے یعنی آپ ہی سے اس کے چاہنے والے جان تک وار دیتے ہیں۔ شمع کے ہاتھوں قتل ہوکر فخر اور خوشی محسوس کر تے ہیں۔ انہیں اپنی موت پر افسوس نہیں ہوتا۔ حسین ؑ پر قربان ہونے والے خوش تھے اور اسے اپنی سعادت سمجھتے تھے ؂
اس شمع پر پتنگے، آئے ہیں کیا اچھل کر ترسیں گے وہ نہ ہرگز جن کو ملی مماتی(۹۳) سچل ؔ
غلام مصطفےٰ خاں یکرنگ ؔ شمع کا تعلق کر بلا سے جوڑتے ہیں۔؂
اندھیر ے جہاں میں کہ اب شامیوں کے ہاتھ ہے سربریدہ شمعِ شبستانِ کربلا (۹۴)یکرنگ ؔ
سوداؔ نے بطور مشبہ بہ استعمال کرکے شمع کے ہررنگ میں جلنے کو واضح کیا ہے ؂
نہیں معلوم اس سینے میں کیاجوں شمع جلتاہے
دھواں نو ک زبان سے بات کرنے میں نکلتاہے(۹۵) سوداؔ
غالب ؔ کے ہاں شمع بطور استعارہ استعمال ہوئی ہے ؂
کیا شمع کے نہیں ہیں ہو اخواہ اہلِ بزم ہو غم ہی جان گداز تو غمخوار کیا کریں
شوق:
شوق ایک احساس اور جذبے کا نام ہے ۔ اس کا کوئی مادی وجود نہیں چونکہ اس کا تعلق انسان او راس کی کارگزاری سے ہے اس لئے اس کا وجود انسانی معاشرت میں بڑا مستحکم ہے ۔ یہی نہیں اس کے حوالہ سے انسان میں تحریک پیدا ہوتی ہے اوروہ ، وہ کچھ کر جاتاجس کے متعلق سوچا بھی نہیں جاسکتا۔’’شوق ‘‘ قوموں کو آسمان کی بلندیوں سے ہمکنار کرتا۔ منفی شوق پتال میں بھی ٹکنے نہیں دیتا ۔ اس لئے شوق کے کرداری حوالوں کوکسی بھی صور ت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اردو غزل میں ’’شوق ‘‘بڑا توانا کردار ہے ۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں :
میر حیدر الدین ابو تراب کاملؔ شوق کو بے کلی ، بے چینی اور ناگزیر یت کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ؂
خط ترے کا شوق اکھیاں کا لکھا ہرن کو ں سبزے بنا چارا نہیں (۹۶) کامل ؔ
میر محمود صابرؔ کا کہنا ہے کہ یہ آنکھ کو تجس اور جستجو فراہم کرنے کا ذریعہ وسیلہ ہے ؂
زحیرت دیدہء حیراں نہ کھولوں غیر کے مکھ پر چو آئینہ بچشمِ شوق دیکھوں گر نگار اپنا(۹۷)صابرؔ
لعل بہا گوہر ؔ کے نزدیک ’’شوق‘‘ شخص کوہمہ وقت مصروف رکھتاہے۔ ؂
مژدہ اے شوق ہم آغوش کہ جاگے ہیں نصیب لے کے انگڑا وہ کہتے ہیں کہ نیند آئی ہے(۹۸) گوہرؔ
علامہ حالیؔ کے خیال میں ’’شوق‘‘ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتاہے ؂
شوق بڑھتا گیا جوں جوں کے اس شوخ سے ہم
یہ سبق وہ ہے کہ بھولے سے سوا یاد رہے(۹۹)حالی ؔ
تلاش اور جستجو کا مادہ روزِ اول سے انسانی فطر ت میں رکھ دیاگیا ہے ۔ پالینے اور کھوج نکالنے کی دھن اسے بڑے سے بڑے خطرے کی آگ میں جھونک دیتی ہے۔ شوق منہ زور علتِ وقوع اور حرکت کاسبب ہے۔حواس مشاہدے میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ مشاہد ہ ، حواس کی خوبیداہ توانائیاں بیدار کرتاہے۔یہ دونوں ترقی پذیر ہیں۔ ناکامی کی صور ت میں کامیابی کے لئے جبکہ کامیابی کی صور ت میں مزید کامیابیوں کے لئے شوق شخص کو دوڑائے رکھتاہے۔ انسان کی جتنی عمر ہے ’’شوق‘‘کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ حرف ش کے ساتھ ’’ارتعاش‘‘ وابستہ ہے اس لئے انسانی سماج خوب سے خوب تراور ہر خوب کی نئی اشکال اور نئے روپ کامتمنی رہتاہے۔اس طرح اس فیلڈ میں نکھار،جدت اور بہتری پیداہوتی چلی جاتی ہے۔ دریافت کی رہیں وا ہوتی رہتی ہیں۔
غالبؔ کے ہاں یہ لفظ نظر انداز نہیں ہوا۔ ان کے نزدیک شوق رکاوٹیں دور کر دیتاہے۔ بقول شاداں بلگرامی غالبؔ کے نزدیک :
’’شوق نے بند نقابِ (۱۰۰) حسن کھول دئیے ہیں او ردید کی راہ میں کوئی رکاوٹ رہنے نہیں دی ‘‘ (۱۰۱)
گویا شوق بلاواسطہ کھوجنے کا موجب بنتا ہے ۔ انکشات کے دروازے کھولتاہے ؂
واکر دےئے ہیں شوق نے بند نقابِ حسن غیر از نگا ہ اب کوئی حائل نہیں رہا
صاحب : عمومی بول چال کا لفظ ہے جوکسی شخص کے احترام یا پھر اپنے سے بالا افسر کے لئے بولا جاتاہے۔ اردو شاعری میں یہ لفظ مختلف حوالوں سے مستعمل چلا آتاہے۔ پیر مراد شاہ لاہور ی نے ’’جناب ‘‘ کے معنوں میں استعمال ہے ؂
جو پونچھا تو بولا وہ خواجہ سرا کہ صاحب یہ کل ہے بڑامسخرہ (۱۰۲)
روحل فقیر’’صاحب ‘‘ سے ذات باری تعالیٰ مراد لیتے ہیں ؂
تیر اصاحب تجھ ہی مانہیں ، تم تجو اور آس سر دئے صاحب ملے ،اچرج اچنبا ہاس(۱۰۳)
دیوان صورت سنگھ صورتؔ نے متحرک کے ’’حامی گیر ‘‘ کے لئے لفظ صاحب استعمال کیاہے:
آپ صاحب کام کے لئے کام کی کیسی خبر کام سیں تھاکام اب یارب کدھر جاؤں ہمیں (۱۰۴)
غالبؔ نے یہ لفظ محبو ب کے لئے بولاہے ؂
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے صاحب کو دلی نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
صیاد:
صیادعمومی بول چال کالفظ نہیں تاہم اردو غزل میں اس کا استعمال بکثرت پڑھنے کوملتاہے۔ شاعری کا ذوق رکھنے والوں کے ذہنوں میں صیاد کے حوالہ سے ظالم اور بے رحم کردار ابھرتاہے۔ یہ کردار محبوب کے علاوہ علامتی بھی استعمال ہوتا چلاآتاہے۔ رائے ٹیک چند بہار ؔ کے نزدیک یہ ایسا بے رحم کردار ہے جو اپنے شکار کی دلی کیفیت سے لاپرواہ رہتاہے ؂
تڑپتا ہے پڑا نیم بسمل خاک وخوں میں دلی عقوبت ہے جو کچھ اس صید پر ، صیاد کیا جانے (۱۰۵)
نواب امیر خاں عمدۃ الملک انجامؔ کاکہنا ہے ایسا شکاری جو بھا گ جانے کا موقع ہی نہ دے یعنی چاک وجوبند شکاری
ٹک تو فرصت دے کہ ہولیں رخصت اے صیاد ہم
مدتوں اس باغ کے سائے میں تھے آباد ہم (۱۰۶)
بھگونت رائے راحتؔ کے نزدیک جو شکار صیاد کی گرفت سے نکل جاتاہے وہ دوبارہ قابو میں نہیں آتاگویا ایسا لا پرواہ شکاری جس کی گرفت سے شکار نکل بھی جاتاہے۔ ؂
کہ جودام سے مرغ آزاد ہو کہاں پھر وہ تسخیر صیادہو(۱۰۷)
غالبؔ کے ہاں اس کردار کی کارفرمائی ملاحظہ ہو۔ ؂
ہوں گرفتارِ الفتِ صیاد اور نہ باقی ہے طاقتِ پرواز
صیاد بمعنی وہ جو اپنی محبت میں گرفتا ر کرلے۔آغاز باقر، نظم طبا طبائی او ربے خودموہانی کے حوالہ کہتے ہیں:
’’ تعلقاتِ دنیا ، جو اسیر کر لیتے ہیں‘‘ ۔(۱۰۸)
ظالم:
اردو غزل میں بڑا عام استعمال ہونے والا لفظ ہے۔یہ لفظ دل و دماغ پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرتاہے ۔ اس لفظ کے ہر نوعیت کے مفاہیم اعصابی تناؤ اور نفرت کاباعث بنتے ہیں۔ مثلاً
۱۔ معاش کا قاتل
۲۔ جھوٹااورجھوٹ کا ساتھ دینے والا
۳۔ دھوکہ اور دغا سے کام نکالنے والا
۴۔ ضرورت پڑنے پر ساتھ چھوڑ دینے والا
۵۔ مفادات کو اپنی ذات تک محدود کرنے والا
۶۔ انسانی احساس کو مجروح کرنے والا
۷۔ وہ جو قتل وغارت کا بازار گرم کرتارہتاہو
۸۔ لوگوں کی رگوں میں نشہ اتارنے والا
۹۔ غنڈہ گردی اور چھینا جھپٹی کرنے والا
۱۰۔ پرواہ نہ کرنے والا محبو ب
۱۱۔ معشوق
۱۲۔ بے انصاف
غرض ایسے بہت سے افعال سے وابستہ افراد کے لئے لفظ ’’ظالم‘‘ بولاجاتاہے۔
جعفر زٹلی نے خلقِ خدا پر آفت توڑنے والے کے لئے لفظ ظالم نظم کیاہے ؂
گیا اخلا ص عالم سے عجب یہ دور آیاہے
ڈرے سب خلق ظالم سے عجب یہ دور آیا(۱۰۹) جعفر زٹلی
مرادشاہ مرادؔ لاہوری کے ہاں وفاداری کا ڈھونگ رچاکر بالآخربے وفائی کرنے والے کے لئے یہ لفظ استعمال ہواہے ؂
وہ ظالم یہ طوفان کیا کر گئی وفاکرتے کرتے جفاکر گئی (۱۱۰) مراد شا ہ لاہوری
شاہ مبارک آبروؔ نے جس کی محبت فراموش نہ ہوسکے ، کے لئے یہ لفظ باندھا ہے ؂
جدائی کے زمانے کی میاں کیا زیادتی کہیے
کہ اس ظالم کی جوہم پر گھڑی گزری سو جگ بیتا(۱۱۱) آبروؔ
محمد احسن اللہ احسنؔ نے ہمیشہ رلاتارہنے والے کے لئے یہ لفظ نظم کیاہے ؂
تیرے تل سے مجھے نت مینہ کا سودا ہے اے ظالم
عجب نہیں ہے اگر تو تیل نکساوے مرے سرسوں (۱۱۲) احسن ؔ
سوداؔ نے جذبات مجروح کرنے والے، دلی چرانے اورزیادتی کرنے والے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے ؂
تونے سودا ؔ کے تئیں قتل کیا ، کہتے ہیں یہ اگر سچ ہے تو ظالم اسے کیاکہتے ہیں (۱۱۳) سوداؔ
حافظ عبدالوہاب سچلؔ نے گرفت کرنے والے کے لئے اس لفظ کا انتخاب کیاہے ؂
آیانظر میں اژدر مجھ کو وہ زلف پیچاں رخ پہ لٹک رہی ہے ظالم ، یہ زلف کالی (۱۱۴) سچل ؔ
غالب ؔ کے ہاں اس لفظ کا استعمال ظاہر کررہاہے کہ اس کر دار سے خیر اور بھلائی کی توقع وابستہ نہیں کی جاسکتی ۔ ایک جگہ ایسا محبوب جس کی وفا کا معاملہ تذبذب کا شکار ہو،کے لئے استعمال کرتے ہیں ؂
ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہ ہے ہے خدانہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
غالبؔ اس لفظ کو اس شخص پر بھی فٹ کرتے ہیں جس کی مہر بانی پر بھی اعتماد کر نا حماقت سے کم نہ ہو ؂
ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرنا تراآنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

عشق:
عشق درحقیقت سچی لگن اور مقصد سے اٹوٹ کمنٹ منٹ کا نام ہے۔ بعض لوگ اس لفظ کو نفسیاتی حوالوں تک محدود رکھتے ہیں جبکہ اس کے حدود کاتعین ایساآسان کام نہیں۔ سقراط ہوکہ حسینؑ ، فرہاد ہوکہ ٹیپو ، ہر کسی نے اپنے مخصوص کاز سے وفا کی ۔اگر ان کا استقلا ل لغزش کا شکار ہوتا تو کاز سے کمٹ منٹ خام ٹھہرتی ۔ عشق انسانی سماج کا حصہ رہاہے۔ اسے مختلف زاویوں اور حوالوں سے دیکھا اور پرکھا جاتارہاہے۔ اشخاص اور اقوام کو اس کر دار نے زندہ رکھا ہے۔ عشق انسان کونفسیاتی طور پر یاس کی دلد ل سے نکال کر ایثار اور قربانی کی دہلیز پر لاکھڑ ا کرتاہے۔عشق کوئی دیکھی جانے والی شے نہیں لیکن بطور جذبہ انسانی لہو میں شامل ہوکر اپنے حصہ کا کردار ادا کرتاہے۔یہ انسان کو تنہانہیں چھوڑتا اس کی تنہائی آباد رکھتاہے۔ اردو غزل میں عشق کا کردار مختلف حوالوں سے واضح ہواہے۔ مثلاً
لطف علی لطفیؔ کے نزدیک عشق زخمی کرتاہے ؂
میں عشق کی گلی میں گھایل پڑا تھا ، تس پر حوبن کا ماتا آکر مجھ کو کھنڈل کرگیاہے (۱۱۵) لطفی ؔ
شاہ ولی اللہ ولیؔ کے مطابق عشق جوش وخروش پیداکرکے دلی کی دھرکنوں کو تیز کر دیتاہے ؂
نہ پوچھو عشق میں جو ش وخروشِ دل کی ماہیت برنگِ ابر دریابار ہے رومال عاشق کا (۱۱۶) ولی ؔ
بھگونت رائے راحت ؔ کا کہنا ہے عشق سرمہ بنا دیتاہے۔ فناکر دیتاہے ؂
کیا عشق نے توتیا طور کو ملی عشق سے دار منصور کو (۱۱۷)راحت ؔ
غالبؔ کے نزدیک عشق ، افراطِ حُب کا نام جسے لاحق ہوتاہے اسے نخیف ونزار کر دیتاہے جبکہ زندگی عشق کے بغیر ایک درد ہے ۔ عشق زندگی میں لطف اور مز اپیدا کرتاہے۔ بقول شاداں بلگرامی:
’’اس کے بغیر زندگی بے کیف ہوتی ہے لیکن یہ خود مرض لاعلا ج ہے‘‘۔ (۱۱۸)
اب عشق کی حقیقت غالب ؔ کی زبانی سنئے ؂
عشق سے طبعیت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی دردِبے دوا پایا
غافل:
یہ کردار انسانی معاشرت میں ہمیشہ سے رہاہے ۔ اس کر دار سے نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچتاہے بلکہ یہ خود اپنے لئے بھی باعثِ نقصان رہاہے۔ اس کی دو صورتیں رہی ہیں:
الف ۔ اس سے دانستہ معاملہ پوشیدہ رکھا گیاہو
ب۔ اپنی عدم دلچسپی کے باعث معاملہ جاننے کی کوشش ہی نہ کرتاہو
پہلی صورت میں اس کی غفلت شعاری گوارہ کی جا سکتی ہے جبکہ دوسری صورت کسی بھی حوالہ سے نظر انداز نہیں کی
جاسکتی ۔ اس کردار سے مل کر خوشی نہیں ہوتی بلکہ اعصابی تناؤ بڑھ جاتاہے۔
اردو غزل میں یہ کردار مختلف حوالوں سے وارد ہواہے۔خواجہ دردؔ نے اس کردار کے دو پہلو واضح کئے ہیں:
الف ۔ غافل اپنا معاملہ خوب یاد رکھتاہے۔
ب۔ دوسروں کو، یہاں تک کہ خدا کو بھی بھو ل جاتاہے۔
گویاغافل اپنے معاملے کا پکاہوتاہے۔ اپنے مفادات کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرتا جبکہ دوسروں کے معاملات بھول جاتاہے یا ان کی انجام دہی میں کوتاہی اور تساہل سے کام لیتاہے ؂
غافل خداکی یاد پہ مت بھول زینہار اپنے تئیں بھلاد ے اگر تو بھلا سکے(۱۱۹) دردؔ
شاکرناجیؔ کاکہنا ہے کہ ’’غافل‘‘ ایک ہی ڈگر پر چلاجانے والا ہوتاہے۔ وہ وقت اور حالات کی ضرورت نہیں دیکھتا ۔ لمحے اسے اس کی غفلت شعاری کا احساس دلا کر گزر جاتے ہیں لیکن وہ اپنی روش نہیں بدلتا۔ تبدیلی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا ؂
بلند آواز سے گھڑیال کہتاہے کہ اے غافل گئی ہے یہ بھی گھڑی تجھ عمرسے اور تو نہیں چیتا(۱۲۰) ناجیؔ
قائمؔ چاند پوری کے نزدیک غافل سوچ سمجھ کر قدم نہیں اٹھاتا۔ اس کا ہر فعل بے خبری کی چادر میں ملفوف ہوتاہے ؂
غافل قدم کو اپنے رکھیو سنبھال کریاں ہر سنگِ رہ گزرکا دوکانِ شیشہ گرہے(۱۲۱)قائم ؔ
غالبؔ نے غافل سے وہ کردار مراد لیا ہے جوغلط فہمی کا شکا ر ہویاجو معلومات کی کمی کے باعث معاملے کی اصل تک نہ پہنچ پائے۔ یہ بھی کہ جومعاملے کو سمجھنے کے لئے غلط یا غیر متعلق پیمانے اختیار کرتاہو۔ غافل کچھ کو کچھ سمجھنے والا کر دار ہے ۔ اس طرح یہ نتیجہ نکالنا پڑے گاکہ ایسا شخص جس کی کہی ہوئی بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا ؂
حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگ غافل کو میرے شیشے پر مے کا گمان ہے
غمحوار:
دکھ دینے والوں کے ساتھ دکھ کا مداوا کرنے یاتشفی دینے والوں کی بھی کمی نہیں رہی ۔ ایسے افراد کو ہمیشہ عزت واحترام کی نگا ہ سے دیکھا جاتارہاہے۔ یہ لفظ ایک ہمدرد اور تعاون کرنے والا کر دار سامنے لاتاہے ۔ اس سے ملاقات کرتے وقت اچھا لگتاہے۔بسااوقات یہ کردار در پردہ یا پھراپنی کسی نادانی کے سبب معاملہ بگاؤ بھی دیتاہے اور اس سے دشمن سے زیادہ نقصان پہنچ جاتاہے ۔ غمخوار کے حوالہ سے معاملے کی تشہیر بھی ہوجاتی ہے ۔ غمخوا ر خودہی ، غمخواری کی آڑ میں گھائل کر دیتاہے اور گھائل کو معلوم بھی نہیں ہوپاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگیاہے۔
اردو غزل میں یہ کردار مختلف حوالوں سے پینٹ ہواہے۔ اس سے ملتے وقت کسی قسم کی اجنبیت کااحساس نہیں ہوتا۔ غمخوار کا متبادل / مترادف غمگسار بھی اردو غزل میں پڑھنے کوملتاہے ۔ غمگسار کا کردار بھی ہمدرد اور مونس و شفیق کے طور پر نمودار ہوتاہے۔
صاحب رام فریادؔ غمگسار کو غم بانٹنے والا کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں ؂
غم جسے ہواہے یا ردل کا کوئی نہیں غمگسار دل کا(۱۲۲) فریادؔ
آخوند قاسم ساؤئی ہالائی نے غم غلط کرنے والے کو غمگسار کا نام دیاہے ؂
مدام پل پل دو بھر بھر دلاارے ساقی کہ ہے عجیب مرایا رِغمگسار قدح(۱۲۳) ہالائی ؔ
شیخ عثمان بے کسوں اور بے بسوں کے کام آنے والے کو غمخوار کے لقب سے نواز تے ہیں ؂
اے تو کسِ بیکساں مونسِ بے چارگاں غمخوارِ آوارگاں آؤ پیار سے حبیب (۱۲۴) شیخ عثمان
غالبؔ نے’’ غمخوار ‘‘کو بڑے الگ سے معنی دے دئیے ہیں ۔وہ جو دوست کا غم برداشت نہ کرسکے اور سارا معاملہ بازار میں لے آئے ؂
کیا غمخوار نے رسوا ، لگے آگ اس محبت کو نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میر اراز داں کیوں ہو
غیر :
لفظ غیر کو اہل لغت صفت قراردیتے ہیں تاہم یہ لفظ بطور سابقہ، مفرد لفظ سے مرکب ہوکر بطور کردار بھی استعمال ہوتاہے۔ لفظ اجنبیت کی فضا پیدا کرتاہے اور کسی غیر متعلق ، نامحرم اور ناواقف شخص کا تصور سامنے لاتاہے۔ نفسیاتی سطح پر ’’غیر‘‘ معاملہ کی پوشیدگی پر راغب کرتاہے۔ اس کا تعلق محدود یا عدم تعاون سے وابستہ رہتاہے ۔ اس لئے اس سے کوئی خاص گفتگو کرناممکن نہیں ہوتا۔ اردوغزل میں ’’غیر‘‘ بطور کردار مختلف حوالوں سے استعمال ہوتاآیاہے جو انسیت اور الفت سے کوسوں دور نظر آتاہے۔ بعض اوقات رقیب ، حاسد اور حریف کے طور پر سامنے آتاہے۔ عاشق ،کسی دوسرے عاشق کو ایک ہی محبوب کے لئے غیر خیال کرتاہے۔
شاہ قلی خاں شاہی ؔ نے دوسرے عاشق کے معنوں میں اس لفظ کا استعمال کیاہے ؂
ملنا تمہن کا غیر سے کوئی جھوٹ کوئی سچ مچ کہے
کس کس کا منہ موندوں سجن کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے(۱۲۵)شاہیؔ
میر محمود صابرؔ کے ہاں بھی دوسرے عاشق کے معنوں میں ہواہے ؂
مجلس میں دیکھ غیر کے گلروکوں صابرؔ ہے چشم ودل میں ہر مژہ خارآرسی کے تئیں (۱۲۶) صابرؔ
اشر ف علی فغاں ؔ نامحرم کے لئے ’’غیر ‘‘ کالفظ استعمال میں لاتے ہیں ؂
ملے ہے غیر سے ، ہر گز اسے حجاب نہیں کہوں تو کہہ نہیں سکتا ہوں تو تاب نہیں (۱۲۷) فغاں ؔ
چنداؔ نے بھی رقیب کے معنوں میں نظم کیاہے ؂
گر چھوڑ بزمِ غیر کو آجائے یاں تلک دکھلاؤں تجھ کو ایساہی جس کاہے نام رقص (۱۲۸) چنداؔ
خواجہ دردؔ غیر سے مراد حاسد لیتے ہیں ؂
غیر بکتے ہیں عبث ،میرے پیار ے تیری بے وفائی نہیں محتاج بدآموزی کی (۱۲۹) درد ؔ
ہر عاشق دوسرے عاشق کو اپنے محبوب کے لئے ’’غیر ‘‘ سمجھتا ہے اوریہ فطری سی بات ہے ۔یہ صور ت دونوں عاشقوں کی طر ف سے ہوتی ہے۔ غالبؔ قدما سے مختلف نہیں ہیں ۔ ہاں خفیف سافرق اور کھلی شوخی اسے دوسروں سے ممتاز بنادیتی ہے۔ غیر ، جو عاشق ہے محبوب کے لئے آہ وزاری کرتاہے اور اپنی آہ وزاری کے ثمر بار ہونے کی توقع بھی رکھتاہے۔ دوسرا عاشق جو خو دکو حقیقی اورکسی دوسرے کو جھوٹا سمجھتا ہے اس کی حالت زار دیکھ کر خوش ہوتاہے۔ یہ صورتحال خطرناک بھی سکتی ہے۔ اس کی آہ وزاری پر محبوب کو رحم بھی آسکتاہے۔ بہرحال غالبؔ کے نزدیک وہ غیر ہے۔ اس کی آہ وزاری کو دیکھ کر عاشق نمبر ایک کا کلیجہ ٹھنڈا ہونا کہ وہ اذیت میں ، فطری سی بات ہے ؂
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا تالہ کرتا تھا ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
غیر (دوسرے عاشق کے لئے ) کی زبان میں مٹھاس ہوتی ہے۔اوروہ اس مٹھاس کے حوالہ سے کامیابی کا خواہاں ہوتاہے ؂
ہوگئی ہے غیر کی شیریں زبانی کا رگر عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
فرشتہ: یہ لفظ منفی اورمثبت مفاہیم میں رائج چلا آتاہے۔ تاہم زیادہ تر منفی مفہوم کے لئے کسی سابقے یالاحقے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسے مخبر (نکرین) کے معنوں میں بھی لیا جاتاہے۔ منفی صورتوں کی موجودگی کے باوجود یہ لفظ مثبت معنوں میں لیا جاتاہے۔ یہ لفظ سنتے ہی ڈھارس سی بند ھ جاتی ہے ۔ مشکل کشائی کی امید جاگ اٹھتی ہے۔
اردو شاعر ی میں بطور کردار فرشتہ مختلف حوالوں سے وارد ہواہے۔ مثلاً
شیخ محبو ب عالم عرف شیخ جیو ن نے اسے منفی معنوں میں استعمال کیاہے ؂
تکبر سے شیطان داتا گیا فرشتے سے وہ دیوداتا گیا
چلابہشت کو ں وہ بنا کر براں غضب کے فر شتے نہیں کھینچے پراں ( ۱۳۰) شیخ جیون
بھگوانت رائے راحت ؔ نے روپ بھیس بدلی لینے والا کے معنوں میں استعمال کیا ہے ؂
کیا کس نے یہ جاودئی سامری فرشتہ ہوا کس طرح سے پری (۱۳۱) راحت ؔ
رائے ٹیک چند بہارؔ نے حسن وجمال سے متاثر ہونے والی مخلوق کے طور پر نظم کیاہے ؂
اس گل بدن کا جو دوانا ہوتو کیا اچرج فرشتے کا بھی دلی ایسی پر ی اوپر لبھاتاہے(۱۳۲) بہار ؔ
علامہ الطاف حسین حالیؔ آدمی کے روپ گنواتے ہوئے فرشتے کو بطور پیمانہ استعمال کرتے ہیں کہ آدمی بعض اوقات اچھائی کی مورتی بن جاتاہے ؂
جانور، آدمی ، فرشتہ خدا آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں (۱۳۳) حالی ؔ
غالبؔ کے ہاں بڑا خوبصور ت اور اچھوتااستعمال ملتاہے۔ وہ اسے بطور منشی اور گواہ کے نظم کرتے ہیں ؂
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا،دمِ تحریر بھی تھا(؟!)
قاتل :
قتل بڑاخطرناک اور گھناؤنا فعل ہے۔ اس کے باوجود انسانی معاشروں میں روزاول سے سیاسی ،معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی اور انسانی قتل ہوتے آئے ہیں اور قاتل اسی معاشرے میں بلا خوف وترودگھومتے پھرتے ہیں ۔ ان پر کبھی گرفت نہیں ہوتی ۔لفظ قاتل سنتے ہی بے رحم اور سنگدلی شخص کی تصویر ، آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ غصہ، نفرت ، خوف اور تحفظِ ذات کا احساس جاگ اٹھتاہے۔ تل تل قتل ہوتے اورقتل کرتے لوگوں کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔اردو شاعری میں یہ لفظ زیادہ تر محبوب کے لئے استعمال ہوتا آیاہے۔
مرزا مظہر جانِ جاناں نے متاثرکرنے ، دلی بہلانے او رسوچیں جامد کرنے والے کو قاتل کا نام دیاہے ؂
خدا کے واسطے اس کو نہ ٹھوکو یہی اک شہر میں قاتل رہاہے(۱۳۴)جاناں
؂ مرزا دبیرکے نزدیک قاتل موڈ میں رہتاہے اور اس کی بدمزاجی ہمیشہ برقرار رہتی ہے ؂
منہ بنائے کیوں ہے قاتل پاس ہے تیغ نگاہ باغ میں ہنستے ہیں گل تو منہ بگاڑ اچاہیے(۱۳۵)
غالبؔ اس کردار کو اس کی دیدہ دلیری اور اس کی اذیت پسندی کے حوالہ سے پیش کر تے ہیں ۔ قاتل بڑا بے خوف ہوتاہے۔ اگر اس پر خوف طاری ہوجائے تو وہ قتل ایساخوفناک فعل ہی کیوں سرانجام دے۔ مقتول کا تڑپنا ، پھڑکنا اور لوٹنا اسے خوش آتاہے ۔ جان جانے کا منظر اسے تسکین دیتاہے ؂
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم ترسے عمر بھی یوں دمبدم نکلے
؂ ہوائے سیر گل ،آئینہء بے مہری قاتل کہ اندازِ بخوں غلطیدن بسمل پسند آیا
یہ بھی واضح کر تے ہیں کہ قاتل کا دبدبہ اور سطوت ، ستائے ہوئے لوگوں کی آہ وزاری کو روک نہیں سکتی ؂
نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کو لیا دانتوں میں جوتنکا ہوا ریشہ نیستاں کا

کافر:
یہ لفظ قدیم سے اردو میں مختلف مفاہیم میں رائج چلاآتاہے ۔ شاعری میں اس سے محبوب مراد لیاجاتارہا ہے تاہم اس شخص کے لئے زیادہ معروف ہے جو دین اسلام کاانکاری ہو۔ یہ لفظ سنتے ہی ایک ضدی قسم کے شخص کا خاکہ ذہن کے کینوس پر ترکیب پانے لگتاہے۔
حافظ عبدالوہاب سچلؔ نے اسلام کو نہ ماننے والے کے لئے اس لفظ کا استعمال کیاہے ؂
کبھی مومن کبھی مسلم ، کبھی کافر کہا ہے کبھی ملا، کبھی قاضی ، کبھی بامن بلایا ہے(۱۳۶) سچل ؔ
فقیر اللہ نے تسلیم نہ کرنے والا ، نہ ماننے والا ، انکار کرنے والے کے لئے لفظ کافر نظم کیاہے ؂
؂ گورایسے بوجھ منزہ ذات ناہو کافر ناکم ذات (۱۳۷) فقیر اللہ ؔ
میر صادق علی صادقؔ بے مثل حسینہ ، جوگرفت میں نہ آتی ہو کے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں ؂
ادا میں وہ کافر توآفات تھی جو صورت کی پوچھو تو کیابات تھی (۱۳۸) صادق ؔ
پیرمراد شاہ مرادؔ لاہور ی کے ہاں کم بخت زخمی کرنے والا ، زخم دینے والا ، وہ جو مجروح کر دیتاہے کہ معنوں میں باند ھا گیاہے ؂
کیا زخمی کس کافر نے آہ یہ حالت تر ی کس نے یوں کی تباہ (۱۳۹) مراد شاہ
میر سجاد نے ستم ڈھانے والے ، بید اد ، بے حس کے معنوں میں اس لفظ کا استعمال کیاہے۔ ؂
کا فر بتوں سے دادنہ چاہو کہ یاں کوئی مر جائے ستم سے ان کے، توکہتے ہیں حق ہوا(۱۴۰) میر سجاد
میر سوزؔ نے معاشرت کے اصولوں کے منکر، مبتلائے محبت ،کسی غیر اللہ کو دلی میں جگہ دینے والے کے لئے ا س لفظ کا انتخاب کیاہے ؂
اہل ایماں سوز ؔ کوکہتے ہیں کافر ہوگیا آہ یار ب رازِ دل ان پر بھی ظاہر ہوگیا(۴۱ا) میر سوزؔ
اب غالبؔ کے ہاں اس کردار کی کارگزاری ملاحظہ ہو ؂
لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر ایس