زندگی بوجھ نہیں ہے، شاید سمجھنے کی ضرورت ہے

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر: اقصیٰ مبین، گوجرانوالا
ہم زندگی کو مختلف زاویوں سے جیتے ہیں کبھی خوش ہو کر تو کبھی دکھوں میں مبتلا ہو کر چھوٹی چھوٹی باتیں آنکھیں اشک بار کر جاتی ہیں تو کبھی بڑی بڑی باتیں دلوں کو پتھر بنا جاتی ہیں اور کبھی کبھی ہم دوسروں کی نظروں میں اتنا بے عتبار ہو جاتے ہیں کہ چاہنے کے با وجود بھی اعتبار کہ مقام حاصل نہیں کر پاتے۔ اس زندگی میں بہت دکھ ہیں اور بہت ہی رولاتی ہے۔ کوئی سکون نہیں ہے، دلوں میں قرار نہیں۔ کبھی تو دکھوں سے دل برداشت ہو کر ہم مایوس ہو جاتے ہیں امید کا دامن چھوڑ جاتے ہیں۔ کبھی اتنے دکھ ہوتے ہیں اس زندگی میں کہ وہ اپنوں کو ہم سے بہت دور لے جاتی ہے اور ہم بیٹھ کر یہ سوچتے ہیں کہ کیا یہی زندگی ہے۔شاید اسی کا نام زندگی ہے کبھی خوشی کبھی غم۔ رونا اور روتے رہنا ہنسنا اور ہنستے جانا خوشیوں کو دیکھنا اور ان کے پیچھے بھاگتے رہنا۔ کبھی سوچا کہ اس زندگی کا ایک مقصد ہے۔ جسے ہم اتنا قصور وار ٹھہراتے ہیں کیا یہ اتنا بے کار اور بے فائدہ ہے۔ بالکل نہیں زندگی تو خدا کی نعمت ہے۔ اس زندگی کو بے فائدہ اور بوجھ سمجھنے کے بجائے کیوں نہ ہم اسے کسی مقصد کے لیے گزاریں۔ ایک مقصد بنائیں کے چاہے جتنے بھی دکھ ہوں خدا کی رضا میں خوش رہنا ہے۔ یاد رکھیں جب ہم اس زندگی کو ایک مقصد کے تحت گزاریں گے تو یقینا ہمیں اس سے راحت نصیب ہوگی۔ وہ خوشی ملے گی جو ہم نے کبھی محسوس نہیں کی ہوگی۔ مقصد تو ایک تھا اس زندگی کا اﷲ کی عبادت کرنا۔ اس کی مخلوق کی خدمت گزاری کرنا۔ یہ دو مقصد آج سے اپنانے شروع کردیں پھر آپ کو خود سے کبھی شکایت نہیں رہے گی۔ ہاں مشکلات بہت آئیں گی زندگی میں مگر کچھ مت سوچیں کیوں کہ دکھ سکھ تو آنے جانے والے ہوتے ہیں ۔ ہمیشہ یہ سوچیں کہ ہر وقت بیت جاتا ہے اور پیچھے چھوڑ جاتا ہے تو آپ کی نیکیاں، اچھائیاں اور کچھ اچھی یادیں۔ اپنے رب کی عبادت کر کے اس کی مخلوق کی خدمت کر کے اپنے دلوں میں سکون پیدا کیا جاسکتا ہے۔ خدا کی ذات ہی وہ ذات ہے جو دکھوں سے بچا تی ہے اور زندگی کامقصد اﷲ کی رضا میں راضی رہنا خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا ہو تو یقینا وہ ذات کبھی آپ کو مایوسی اور دکھوں کی طرف نہیں جانے دی گئی۔ ایک قدم شرط ہے آپ کوشش تو کیجیے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501259 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Feb, 2017 Views: 356

Comments

آپ کی رائے