آؤ مل کر کام کریں

(Muhammad Riaz Prince, Depalpur)
ہمارے اردگرد بڑھتے ہوئے مسائل ہماری ہی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں ۔ وہ اس لئے کہ ہم کسی چیز کو سیرس لیتے ہی نہیں ۔ اس لئے ہمارا اردگرد کا ماحول خراب ہوتا جا رہا ہے۔ جب بھی ہم کسی برے کام کو ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ہماری آنکھیں ،اور زبان بند ہو جاتی ہے ۔ہم برائی کو دیکھتے ہوئے بھی منہ پر تالا لگا لیتے ہیں۔ ہم میں ہمت نہیں ہوتی کہ ہم برے کام کرنے والے کے خلاف آوازبلندکر سکیں۔یا پھر ہم کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر میں اس کے خلاف بولوں گا تو اس کا مجھے نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی ڈر اور خوف نے ہم کو تباہ کردیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم کسی کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ ظلم وزیادتی ہمار ا مقدر بنتی جا رہی ہے۔اگر ہم بر ے کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تو برائی ہمارے ہر طرف جنم لے گئی۔ اور ہمارا اردگرد کا ماحول خراب سے خراب ہوتا جائے گا۔ جب ہم کسی ظلم کو دیکھتے ہیں تو اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے ۔اسی چیز کو دیکھتے ہوئے ظلم کرنے والا ظالم اور بڑا ہو جاتا ہے ۔ اور اس کا ظلم بھی۔ اگر ہم ظلم کرنے والے کے خلاف آواز بلند کریں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ انسان نہ بن سکے ۔

اسی طرح جب ہم کسی کو رشوت لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس کے خلاف بھی آواز بلند نہیں کرتے ۔بلکہ چھوٹے چھوٹے کام کروانے کے لئے خود رشوت دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔درخواست پر سائن کروانے ہوں تب رشوت،بل درست کروانا ہو تب رشوت،نوکری لگوانی ہوتب بھی بھاری رشوت ۔بس ہر طرف رشوت ہی رشوت ۔ اس کے بغیر تو کام ہوتا ہی نہیں بس ہم نے یہ سوچ رکھا ہے۔ مگر رشوت لینے والے کو سزا نہیں دلوا سکتے ۔ یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کہ برے کو ہم برا نہیں کہتے رشوت لینے والے کو ہم رشوت خور نہیں کہتے ۔ ظلم کرنے والے کو ظالم نہیں کہتے ۔ آخر کب تک یہ سب چلتا رہے گا۔ اور کب تک ہم یہ سب کچھ کرنے اور کروانے پر مجبور ہوتے رہیں گے ۔ دین اسلام میں رشوت دینے اور لینے والے دونوں جہنمی ہیں ۔ مگر ہم کو اپنی آخرت کی کوئی فکر نہیں ۔

اب دنیا بدل چکی ہے اور ہم ابھی بھی ظلم و زیادتی سہنے کے لئے مجبور ہیں ۔ میں پوچھتا ہوں آخر ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔ کیا آپ کے اندر برائی کو ختم کرنے کا جذبہ نہیں کیا آپ کے اندر ظلم کو مٹانے کی طاقت نہیں ۔ کیا آپ کے اندر انسانیت کو بچانے کے لئے دلیری نہیں ۔یا پھر آپ انسان نہیں جو کسی کا درد نہیں رکھتے ۔ ہمارا دین اسلام ہم کو اجازت دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرو، اور اس کے خلاف جہاد کروتب تک جب تک ظلم ختم نہ ہوجائے۔ مگر ہم کیا کر تے ہیں ۔ہم تو خود اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں ۔اسی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ اور ہمارا اردگرد کا ماحول ،ظلم وزیادتی،چوری ،ڈاکیتی ،کرپشن جیسی بیماریوں سے بھرا پڑا ہے۔

ہماری اسی بے بسی اور کمزوری کو دیکھتے ہوئے تمام ادارے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ واپڈا ہمارے ملک بہت وسیع ادارہ اور یہ اپنے تمام ملازمین کو بہت سی سہولتوں میسر کر رہا ہے ۔ اور اگر دیکھا جائے سب سے زیادہ اس ادارے میں کرپشن ہو رہی ہے۔ ایک بل ڈسٹی بیوٹر سے لے کر لائن مین ،میڑ ریڈز ،ایس ڈی اوزتک سب عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔اور اپنی مرضی سے صارفین کو یونٹس ڈال کر عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں ۔ مگر ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہم ان کے خلاف آواز بلند نہیں کرپاتے ۔ آخر ہم کو کس نے روک رکھا ہے ۔ جو ہم کو ان کے خلاف بولنے نہیں دیتا۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ عوام کو ہر طرف سے لوٹ لوٹ کر خزانے نہیں بھرے جا رہے بلکہ یہ ملازمین اپنی ہی جبیں بھر رہے ہیں ۔ یہاں میں کس کس ادارے کے بارے میں لکھوں ۔ میرے الفاظ کم پڑ جائیں گے مگر ان کی لوٹ مار کے قصے ختم نہیں ہوں گے ۔

یہی وجہ ہے کہ معاشرتی برائیاں ہمارے اندر بستی جارہی ہیں اور اچھائیاں ہمارے اندر سے کم ہوتی جارہی ہیں ۔اگر ایسا ہوتا رہا تو ہم ایک دن ناکارہ جسم کو لیے پھر رہے ہوں گے اور ہم کو کوئی سہارا دینے والا نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس وقت جو ہم پر بیت رہی ہو گی وہ کسی کو نظر نہیں آرہی آئے گی جس طرح ہم کو کچھ نظر نہیں آتا تھا۔

اسی بے حسی اور لاقانونیت کی وجہ سے ہمارا کوئی ادارہ رشوت خوری سے بچا نہیں ۔ ایک رہڑی والے سے لے کر بڑے بڑے آفسیر ز تک سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ کوئی حلال اور حرام کی تمیز نہیں رہی ۔ کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ ہم جو لقمہ کھا رہے ہیں وہ ہماری حلال کمائی سے ہے یا حرام کمائی سے ۔اگر ہم نے ان افراد کے خلاف اب بھی آواز بلند نہ کی تو یہ ہمارے پیارے پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے۔ اور ہم مظلوم بن کر ریکھتے رہ جائیں گے۔اس لئے آگے بڑھواور پاکستان کو بچاؤ۔

اورمل کر یہ کام کریں کہ ہم کرپشن ،چوری ،ڈاکیتی ،غنڈاگردی،راہزنی ،ظلم وزیادتی کے خلاف آواز بلند کریں گے اوران افراد کو راہ راست پر لائیں گے ۔تاکہ پاکستان کو ان بے شمارانسانی لذت بیماریوں سے پاک کیا جا سکے ۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔پاکستان پائندہ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz Prince

Read More Articles by Muhammad Riaz Prince: 106 Articles with 53388 views »
God Bless You. Stay blessed. .. View More
14 Feb, 2017 Views: 360

Comments

آپ کی رائے