نفاذِ اردو، نیا سنگِ میل!

(Anwar Graywal, Bahawalpur)
 یہ خبر جہاں بے شمار لوگوں کے لئے خوشی کا باعث بنی ہوگی، وہاں ایک مخصوص طبقے کے لوگوں پر سخت ناگوار بھی گزری ہوگی۔ وجہ اس تضاد کی یہ ہے کہ اپنا معاشرہ طبقاتی تفریق کا شکار ہے، اس تفریق اور تضاد میں معاشرے اور حکومتوں کا کردار نمایاں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اگلے برس سی ایس ایس کے امتحانات اردو میں کرانے کا بندوبست کیا جائے۔ ایک برس کی رعایت اس لئے مل گئی کہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر انتظامات کرنا مشکل تھا۔ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی اردو کے نفاذ کا حکم دے چکی ہے اور اردو کو پاکستان کا آئین قومی اور سرکاری زبان قرار دیتا ہے۔ اب بات ہے عدالت کے حکم پر عمل کرنے کی۔ اپنی حکومتیں اور ادارے بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، عدالتوں کے احکامات بھی اُن کی جِلد پر جلد اثر نہیں کرتے۔اپنے ہاں روایت یہ ہے کہ عدالت کا وہ حکم تو فوری طور پر نافذ العمل ہو جاتا ہے، جس میں حکومتی مفاد پایا جاتا ہے، جس میں عوامی مفاد کی بات آجاتی ہے، وہاں حکومت عمل نہ کرنے کے لئے مختلف حیلے بہانے تراشنے لگتی ہے۔ بلدیاتی الیکشن کو ہی لے لیجئے، جمہوری حکومت کا رویہ یہ تھا کہ بلدیاتی الیکشن کو پایہ تکمیل تک پہنچتے پہنچتے تین برس لگ گئے۔ جبکہ سپریم کورٹ نے بارہا اور آخر کار سختی سے حکم دیا، بالآخرمجبوراً ایک سال الیکشن کروائے، اگلا سال بے مقصد انتظار میں گزار دیا اور تیسرے سال کے پہلے مہینے میں کامیاب قرار پانے والوں کا حلف وغیرہ ہوا۔

اردو کے نفاذ کے بارے میں بھی اختلافات موجود ہیں، اس سلسلے میں سب سے پہلی اور بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اردو کے حامیوں کو انگریزی کے مخالف جانا جاتا ہے۔ گویا اردو کی حمایت کا مطلب انگریزی کی مخالفت ہے۔ اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انگریزی کی مخالفت کر کے ہم ترقی کے راستے کے مسافر نہیں بن سکتے، منزل کا تو تصور بھی محال ہے۔ حقیقت میں نہ تو انگریزی کی اہمیت پر کسی کو شک ہے، اور نہ ہی اس کے سیکھنے پر کسی کو اعتراض۔ انگریزی بلاشبہ ایک بین الاقوامی زبان ہے، اس کو سیکھے بنا کوئی بھی عالمی معاملات میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر یہاں یہ بھی حقیقت ہی ہے کہ ہر قوم کی اپنی زبان ہوتی ہے، اپنے دائرے میں رہتے ہوئے دوسری زبانیں سیکھنا اور ان پر عبور حاصل کرنا ایک بڑی خوبی تصور کی جاتی ہے۔ مگر جس ملک میں شرح خواندگی بھی افسوسناک سرحدوں کو چھو رہی ہو، جہاں کروڑوں بچے اس ترقی یافتہ دور میں بھی سکولوں سے باہر ہوں، جہاں ایک بڑی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو، وہاں سکولوں کے نصاب میں بھی انگریزی کو لازمی قرار دے دینا، وہاں سرکاری زبان کا بھی انگریزی ہونا کسی کربناک لطیفے سے کم نہیں۔ ہمارے معاشرے میں انگریزی بول اور لکھ لینے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، ہماری اسمبلیوں میں بھی انگریزی بولنے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ دفاتر میں بھی روایتی خط وکتابت کی حد تک تو گزارہ کیا جاتا ہے، مگر انگریزی بولنا اکثر سرکاری اہلکاروں کے بس کا روگ بھی نہیں۔

اپنے نصاب میں چونکہ انگریزی کا دائرہ دیگر مضامین تک پھیلا دیا گیا ہے، جس کو صحیح معانوں میں پڑھنا اور سیکھنا اپنی کم علمی اور ناخواندگی کی وجہ سے نہایت مشکل ہے۔ دوسری طرف بہت سے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھا جائے تو یہ بات آئینہ ہو جاتی ہے کہ اُن ممالک کی سرکاری زبان ان کی اپنی ہے، نہ کہ انگریزی۔ انگریزی کو وہ ایک زبان کے طور پر سیکھتے اور دنیا سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اپنے ہاں بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے، کہ اردو سرکاری زبان ہو، (کیونکہ ملک بھر میں بچہ بچہ اس کو سمجھتا اور بول سکتا ہے) زبان کے طور پر انگریزی کو جتنا مرضی پڑھا اور سیکھا جائے، بس قوم پر مسلط نہ کیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سی ایس ایس کے امتحان کے لئے عدالتِ عالیہ کے حکم کی کس طرح تعمیل کی جاتی ہے، خدشہ ہے کہ اس راہ میں روڑے اٹکائے جائیں گے، دنیا سے کٹ جانے کی باتیں ہونگی، اور اپنا معیار خراب کرنے کے افسانے سنائے جائیں گے، یوں اس عدالتی حکم کو ٹال مٹول کے ذریعے گول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انگریزی کے حامی دل چھوٹا نہ کریں، اردو قومی اور سرکاری زبان کے طور پر آگے لانے کی کوشش ہور ہی ہے، انگریزی کو دیس نکالا نہیں دیا جارہا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 251501 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Feb, 2017 Views: 475

Comments

آپ کی رائے