نیویارک اسٹاک ایکسچینج کی کہانی وال سٹریٹ سے ۔حصہ اول ۔

(Arif Jameel, Lahore)
وال سٹریٹ مین ہیٹن نیویارک شہر امریکہ میں ایک کاروباری گڑھ ہے۔ جہاں نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور اس سے منسلک مشہور کاروباری اداروں کے دفاتر ہیں۔یہ گلی 0.7میل (1.1کلومیٹر) ہے جو برڈ وے سے ساؤتھ سٹریٹ تک جاتی ہے۔ اسکی تاریخی اہمیت 17ویں صدی کے وسط میں اُجاگر ہوتی ہے جب ہالینڈ کے باشندوں کا اس علاقے پر قبضہ تھا۔۔۔۔ ادارے کا ایک نیا رُوپ اراکین کے سر پر ہیٹ اور مخروطی کوٹ پہننے کی شکل میں نظر آیا۔آج 11وال سٹریٹ نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی پہچان ہے۔یہ ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر کے ا سٹاک ایکس چینجز پر اسکے مثبت منفی اثرات بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ یہ مختلف اوقات میں کریش بھی ہو تو نام وال سٹریٹ کا ہی آتا ہے اور عروج میں بھی یہی نام پہچان بنتا ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ ہالی وُڈ کی فلموں میں بھی نیویارک اسٹاک ایکسچینج کو زیا دہ تر وال سٹریٹ کے نام سے ہی متعارف کروایا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ مختصر ذکر سے لگایا جا کتا ہے۔ ۔۔۔

وال سٹریٹ نیویارک اسٹاک ایکسچینج

وال سٹریٹ مین ہیٹن نیویارک شہر امریکہ میں ایک کاروباری گڑھ ہے۔ جہاں نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور اس سے منسلک مشہور کاروباری اداروں کے دفاتر ہیں۔یہ گلی 0.7میل (1.1کلومیٹر) ہے جو برڈ وے سے ساؤتھ سٹریٹ تک جاتی ہے۔ اسکی تاریخی اہمیت 17ویں صدی کے وسط میں اُجاگر ہوتی ہے جب ہالینڈ کے باشندوں کا اس علاقے پر قبضہ تھا اور اُنھوں نے انگلستان کے حملہ آوروں سے بچنے کیلئے یہاں دیوار تعمیر کی تھی۔ اُ س کا تو کچھ خاص فائدہ نہ ہوا اور 1699ء میں اس کو گرادیا گیا۔ لیکن مارچ 1792ء میں اس نا م اور دیوار کی یاد اُس وقت تازہ ہوئی جب کوریز ہوٹل نیویارک میں 24معروف تاجروں نے ایک خفیہ ملاقات کے تحت فیصلہ کر کے17ِ مئی 1792ء کو 68وال سٹریٹ کے قریب بیٹن وُڈ درخت کے سائے میں" بیٹن وُڈ معاہدہ "کر لیا کہ آئندہ اُن سب نے آپس میں مل کر سیکیورٹیز کی خرید و فروخت کا کاروبار اس معیار پر کرنا ہے جس سے مدِمقابل کاروباری افراد کو جھٹکا لگ جائے۔

24تاجروں کا یہ معاہدہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے قیا م کا باعث بن گیااور اسکے لیئے 40وال سٹریٹ پر 200ڈالر کا ایک کمرہ کرائے پر لے لیا گیا۔ مارچ 1817ء میں ادارے کو منظم کرتے ہوئے نیا نام نیو یارک اسٹاک اینڈ ایکسچینج بورڈ رکھا گیا اور انتھونی سٹاکہوم پہلے صدر منتخب ہوئے ۔اُس وقت اُسکی نشست 25ڈالرمیں رکھی گئی۔1827ء میں100ڈالر اور وقت کیساتھ کامیاب انداز میں کاروباری سرگرمیاں بڑھنے کی وجہ سے1848ء میں نشست کی قیمت 400 ڈالرتک پہنچ گئی۔ساتھ میں ادارے کا ایک نیا رُوپ اراکین کے سر پر ہیٹ اور مخروطی کوٹ پہننے کی شکل میں نظر آیا۔آج 11وال سٹریٹ نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کی پہچان ہے۔یہ ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر کے ا سٹاک ایکس چینجز پر اسکے مثبت منفی اثرات بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ یہ مختلف اوقات میں کریش بھی ہو تو نام وال سٹریٹ کا ہی آتا ہے اور عروج میں بھی یہی نام پہچان بنتا ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ ہالی وُڈ کی فلموں میں بھی نیویارک اسٹاک ایکسچینج کو زیا دہ تر وال سٹریٹ کے نام سے ہی متعارف کروایا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ مختصر ذکر سے لگایا جا سکتا ہے۔

19ویں صدی کے مختلف سالوں میں شدید مندی (کریش):
1819ء میں امریکہ کاپہلا مالی بحران ایک ایسی خوفناک صورت اختیار کر گیا کہ 1812ء کی جنگ کے بعد جو وہاں معاشی عروج دیکھنے کو مل رہا تھا وہ مختصر عرصہ میں ہی دھڑام تختہ ہو گیا۔اُس وقت امریکہ کے پانچویں صدر جیمز مونروکا دورِ حکومت تھا اور 1816ء میں قائم کیا گیاسیکنڈ بنک آف یونائٹیڈاسٹیٹ نے قرض دینے کیلئے اعتدال پسندانہ حکمتِ عملی اپنائی تھی۔ اس دوران باقی بنکوں کی بڑی رقوم زمین اور کاٹن کی خریداری پر لگائی جا چکی تھیں اور سٹہ بازی عروج پر تھی۔ لہذا ان حالات میں قیمتیں گرنی شروع ہو گئیں۔ بنک اُس کا بوجھ نہ اُٹھا سکے اور قیاس کا بُلبلا پھٹ گیا۔ ایک دم معاشی پہیہ رُک گیا اور سب سے زیادہ متاثر صنعتی کارکن ہوئے۔تمام امریکن بنکوں کو ناکامی کا اور امریکہ اور وال سٹریٹ کو ابتدائی عمر کا یہ جھٹکا برداشت کرنا پڑاجس کااثر1821ء تک رہا۔

1837ئسے پہلے معاشی بحالی کے دور میں ایک دفعہ پھر مالیاتی پالسیوں کے مطابق سرمایہ کاری زمین اور کاٹن میں متوقع آمدن کی صورت میں کرنا شروع کر دی گئی۔لیکن امریکہ کے 7ویں صدر انڈریو جیکسن کے بنک آف یو ایس کے ساتھ معاملات اُنھیں اس کنارے پر لے آئے کہ اُنھوں نے افراطِ زر کو روکنے کیلئے سونے چاندی کو زمینیں خریدنے کا متبادل قرار دے دیا۔اسطرح ایک طرف کرنسی نوٹ کی اہمیت کم ہوگئی اور دوسری طرف گندم کی فصل خراب،کاٹن اور زمینوں کی قیمتوں میں سکڑاؤاور انگلستان کا اپنے قرضہ جات واپس لینے کیلئے دباؤ1837ء کا ایسا بحران ثابت ہو اکہ 850میں سے343بنک بند ہوگئے۔وال سٹریٹ میں حصص کا کاروبار کرنے والی کئی فرموں کے دفتر بند ہوگئے بلکہ نیویارک سٹی بنک کے صدر نے تو خود کشی ہی کر لی۔یہ ایسا بحران تھا جو 5سال تک جاری رہا اور بے روزگاری کا ایک ایسا دور ثابت ہوا کہ اگلی کئی دہائیوں تک وہاں کے لوگ اپنے بچوں کو اسکی کہانیا ں سُناتے رہے اور مستقبل کے بحرانوں میں بھی اُسکا ذکر رہا۔

1857ء میں دُنیا بھر میں بڑی تیزی سے شروع ہونے والے اس مالی بحران کے امریکہ میں اثرات اُس وقت واضح ہوگئے جب ریلوے کے ادارے کی ترقی کیلئے جو خصوصی سرمایہ کاری کیلئے حصص کی خرید وفروخت ہو رہی تھی اور ساتھ میں زمینوں کی خریداری بھی اُس کا غبارہ پھٹ گیا ۔وجہ اوہائیو لائف انشورنس اینڈ ٹرسٹ کا خصوصی طور پر نیویارک میں ناکام ہو ناتھا۔ اُس وقت انتہائی کرب کے حالات دیکھنے کو ملے جب و ال سٹریٹ کے ارد گرد بڑے سرمایہ کاروں کا غمزدہ ہجوم پاگلوں کی طرح اکٹھا ہو کر مظاہرہ کر رہا تھا ۔لیکن سب بے کار۔حصص گر چکے تھے اور900کے قریب تجارتی فرموں نے اپنے کام روک دیئے تھے۔مستقبل کے امریکن صدر یولیسز ایس گرانٹ بھی دیوالیہ ہوگئے اور اپنی سونے کی گھڑی دے کر کرسمس کے تحائف خریدے۔یہ بحران دو سال رہا۔

1873ء کا مالی بحران امریکن ریلوے سے متوقع آمدن پرسرمایہ کاری کرنے والی فرم جے کک اینڈ کمپنی کے دیوالیہ ہونے سے شروع ہوا ۔پھر اُس کے حد سے زیادہ فروخت ہونے والے حصص کی قیمتیں بھی گر گئیں۔ اس پر امریکن اسٹاک ایکسچینج کو 10روز تک حصص کی فروخت کو بند کرنا پڑا۔ یہ بحران بھی 5سال جاری رہا جسکے دوران کم و بیش تین ہزار امریکن بیروزگار ہوئے ،زرعی اجناس کی قیمتیں گر گئیں اور دیہائی علاقوں میں غربت کی انتہا ء دیکھنے کو ملی۔

1893ء تک امریکن معیشت کو جس طرح گھسیٹا جارہا تھا اُسکی وجہ سے یورپین سرمایہ کاروں نے اپنے سونے کے ذخائر کو مالیاتی اداروں سے نکالنا شروع کر دیا ۔بس بندوق کا گھوڑا دبا اور نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں ایسے گرنا شروع ہوئیں کہ ادارے کو تباہی کے دہانے پر لے آئیں۔4سالہ اس بحران میں ایک بے روزگاروں کی تنظیم "کوکسائی اَرمی" کے نام سے لیڈر" جیکب کوکسائی" کی سرکردگی میں واشنگٹن احتجاج کرتے ہوئے گئی۔

20ویں صدی کے مختلف سالوں میں شدید مندی (کریش):
1907ء کا بحران ماضیِ قریب کے اُس بحران کا تسلسل تھا جسکی بحالی کے دوران امریکہ میں کارپوریشن اور ٹرسٹ اہم ہو گئے ۔1906ء تک 5ہزار آزاد تجارتی اداروں نے تقریباً 300ٹرسٹ بنا لیئے تھے۔ بس اُس ہی میں سے ایک "نیکر بوکر ٹرسٹ" نے کوپر (تانبے) پر سٹہ بازی کے تحت اتنی بڑی رقم سرمایہ کاری میں جھونک دی کہ بنکوں نے ٹرسٹ سے ہاتھ کھینچ لیاجس سے وال سٹریٹ کی دوسری فرمیں بھی متاثر ہو گئیں اور نیویارک سٹاک ایکسچینج منفی اعداد میں آگیا۔"جے ۔پی مورگن" جیسی بڑی مالی ہستی نے ذاتی طور پر اسکی بحالی کیلئے کردار ادا تو کیا لیکن اسکے باوجود امریکن معیشت کو جھٹکا لگ چکا تھا۔

1929ء تک امریکہ جنگ عظیم اول میں صنعتی ترقی کا عروج دیکھنے کے بعد کساد بازاری کا شکار ہو چکا تھا۔لہذا اس دوران جو چند صنعتی ادارے ترقی کی راہ پر گامزن تھے اُنکے حصص اسٹاک مارکیٹ میں اہمیت کے حامل تھے۔مثلاًجنرل موٹرز اورجنرل الیکٹرک وغیرہ۔لہذااس دفعہ امیروں کے ساتھ عام عوام نے بھی راتوں رات امیر ہونے کیلئے بانڈز اور حصص میں اپنی رقوم فرموں کی خالص مالیت سے زیادہ لگا دیں اور اُس وقت کے اہم معیشت دان ،اخبارات و رسائل نے سٹہ بازوں کی اہمیت اُجا گر کر دی۔1924ء کے مقابلے میں 400فیصد مارکیٹ اوپر چلی گئی اور پھر اوپر سے ہی چھلانگیں لگا اُس وقت وال سٹریٹ کی فرموں کے عہدیداروں نے جان دے دی جب 24ِ اور 28ِاکتوبر 1929ء کے 2 دن جنکو" بلیک تھرسڈے" اور" بلیک منڈے" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے امریکہ کی اسٹاک ایکسچینج نے وہاں کی عوام کا سٹہ بازی میں بھٹہ ہی بیٹھا دیا۔"جے۔پی مورگن" تو وفات پا چکے تھے پر اُنکی کمپنی نے ماضی کے طرح حالات پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن 29ِ اکتوبر امریکہ کی معاشی بحران کی ایسی بنیاد بن گئی جسکے اثرات جنگِ عظیم دوم کے آغاز تک رہے۔

1987ئمیں ہانگ کانگ پھر یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ میں وال سٹریٹ کریش 19اکتوبر کو اُس وقت وقوع پذیر ہوا جب" ڈاؤ جونز" حیرت انگیز طور پر 508 پوائنٹ گر گئی یا 500 بلین ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ایک دن میں اتنا بڑا نقصان تھا۔اصل میں ادارے کے بھیدی ملی بھگت سے اپنا کام دکھا چکے تھے اور عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ڈیزائن پروگرام کمپیوٹر کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔حالانکہ بڑے اداروں کے حصص متواتر فروخت ہونے کے دوران یہ مندی آئی اور سودوں میں انفرادی سرمایہ کا ر کو بھی اہمیت نہ دیتے ہوئے پھنسا دیا۔ مندی کی جو چند وجوہات سامنے آئیں اُن میں صرف کمپوٹر پر الزام نہیں دیا جا سکتا کیونکہ آئی بی ایم کے ایک نمائندے نے کہا تھا کہ کمپیوٹر اسٹاک مارکیٹ کیلئے نقصان دہ نہیں جتنے لوگ خود ہیں۔اصل میں ایک تو اُس دن امریکہ اور ایران میں سمندری چھڑپ ہو ئی تھی اور دوسرا قیاس کیا جاتا ہے کہ ادارے کے ہی ماہر گروپ نے معاملے کے ہر پہلو پر نظر رکھتے ہوئے اپنی لنکا پر ہی غضب ڈھا دیا۔وغیرہ۔بہرحال اسکے اثرات آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک دیکھے گئے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 173386 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
19 Feb, 2017 Views: 468

Comments

آپ کی رائے