کل کی بہو آنگن دیوی،آج کی بہو ناگن سپیری

(Waqar Ahmad, )
کیا جی حالات اتنے بھی بگڑچکے ہیں کہ ہم اپنی روایات کی پاسداری میں نالائقوں کے ذمرے میں شمار ہونے لگے،حالانکہ جدید دور کے ساتھ ہمیں اتنا تو سیکھ لینا چاہیے تھا کہ جسے ہم یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے کہ ہمارا آج ہمارے آنے والے کل سے بہتر ہے یا پھر بہتر ہونے جارہاہے۔اب اپنے گھر ہی کی مثال لے لیں جہاں ایک وقت ایسا بھی تھا جب سا س بہو ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتی تھیں اور ایک وقت آج کا ہے کہ بہوگھر میں قدم رکھتے ہی آنگن کے بٹوارے کی منصوبہ بندی کرتی نظرآتی ہے یاپھر دوسرے الفاظ میں بہورانی’’ ساک شاک ‘‘کا روپ دھارنے کی بجائے ’’کالی ماتا‘‘بن کر گھر کا چین وسکون برباد کرنے پر تل جاتی ہے۔جناب یہ الفاظ ہمارے ہرگز نہیں بلکہ یہ الزام تو ان ساسوں کی جانب سے لگایاجاتاہے جن کی ’’سلطان راہی‘‘بہوویں ان کے ’’سورگ ‘‘جیسے گھر کو ’’نرکھ‘‘بنانے میں مصروف ہیں۔حالانکہ ساس بے چاری ، سید ھی سادھی ،بھولی بھالی یہ یکسربھول جاتی ہے کہ وہ بھی کبھی بہوتھی۔ہوسکتاہے قدرت نے اپنا کھیل دِکھادیاہو۔جیسے آج کی سا س کو اس کی بہو زہر لگتی ہے ویسے ہی یہ ساس ماضی میں اپنی سا س کو ’’زقوم ‘‘کے جیسے لگتی ہوگی۔یا پھر سیدھا سیدھا’’جیسا کروگے ویسا بھروگے‘‘۔لیکن جناب مزے کی بات تو یہ ہے کہ ان دونوں کے چکر میں بے چارہ مرد آدھا رہ جاتاہے۔مگر پھربھی مرد کو ظالم ،جابر اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جاتاہے۔حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ ساس بہو کے جھگڑے میں نقصان مرد کا زیادہ ہوتاہے کیونکہ ایک طرف اس کی ماں(عورت ) تو دوسری طرف بیوی(عورت) ہوتی ہے۔بیوی سے یاد آیا بڑے بزرگ کہہ گزرے ہیں کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم ؑ اور حضرت بی بی حواؑ میاں بیوی تھے یعنی انسان کے خمیر میں میاں بیوی کا رشتہ لکھ دیا گیا تھا یوں میاں بیوی کارشتہ دنیاکاپہلا رشتہ ٹھہرا ،لیکن اس بات کو ہرگز جواز نہیں بنایا جاسکتا۔کیونکہ جن والدین نے ساری عمر اپنا پیٹ کا ٹ کر اپنے بیٹے کو جوان کیاہو بھلاوہ کہاں یہ برداشت کریں گے کہ ان کا لخت جگر ،ان کے بڑھاپے کا سہاراان کی آنکھوں سے دور چلا جائے۔وہ بے چارے توبڑھاپے میں اس بیٹے سے آسائشوں کے طلب گار نہیں ہوتے بلکہ ان کی تو بس یہی ایک خواہش وتمنا وآرزو ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا ان کی نظروں کے سامنے رہے۔یہاں کچھ باتیں قابل ذکر ہیں جیسے ساس بہوکے آتے ہی اسے اپنی مٹھی میں کرنے کی کوشش کرتی ہے بسا اوقات وہ تادم مرگ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے مگر ہرجگہ ایسانہیں ہوتا کیونکہ بعض تیز طرار بہوویں پہلے سے ہی باقاعدہ تربیت یافتہ ہوتی ہیں کہ جنہیں لگا م ڈالنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتاہے البتہ ساری بہوویں ایسی نہیں ہوتیں کہ یوں مفت میں بے چاری عورت ذات بہو کو بدنام کیاجائے۔لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ عورت گھربرباد کرنے کی زیادہ ذمہ دار ٹھہرتی ہے،یہاں آپ جناب سوچ رہے ہونگے کہ ہم چونکہ مرد ہیں اس لئے سارا ملبہ بے چاری عورت پر ڈال رہے ہیں لیکن جناب ہم تو وہی کچھ رقم طراز ہیں جو آج کل ہورہاہے۔ہم جانتے ہیں کہ معاشرہ مرد وعورت کی ذات سے مل کر بنتاہے ،جہاں ایک مرد اپنے گھر کو بسانے کی حتی الوسعٰی کوشش کرتاہے وہاں عورت دوسری عورت کو برداشت کرنے سے قاصر نظرآتی ہے۔اور شاہدیہی کچھ وجہ ہو کہ آج گھر بس کم جبکہ اُجڑ زیادہ رہے ہیں۔خیر ہر گھر کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے ہمیں بھلا کیا پڑی ہے کہ ہم کسی کے معاملات میں بے جا ٹانگ اَڑا کر کسی کے بھی گھریلو مسائل کو بیچ چوراہے پر لاکر تماشہ بناتے پھریں۔البتہ ایک اسلامی معاشرہ کے باسی ہونے کے ناطے ہمارا صرف اتنا فرض ضرور بنتاہے کہ ہم ان تمام مسائل جوکہ خاص طورسے گھریلو ہیں کے حل کے لئے حتی الوسعٰی کوشش کریں۔باقی اﷲ خوب جانتاہے دلوں کے بھید۔ہماری تو بس یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے کانوں کو کان ہی رہنے دیں دیوارنہ بننے دیں،کیونکہ جناب بڑے بزرگوں کے مطابق آج کل کے مسائل کی جڑ دیواریں ہیں۔دیواریں جہاں جنت جیسے گھر کو تقسیم کردیتی ہیں وہاں دلوں میں بھی نفرت کے کچھ ایسے بیج بونے میں ذرا برابر دیر نہیں کرتیں ،کہ جن کاٹنا ناممکن کی صورت اختیار کرجاتاہے۔اس پر رہی سہی کسر ہم جیسے لوگ پوری کرلیتے ہیں اور پھر ماضی کی آنگن دیوی بہو کو ناگن سپیری بننے میں دیر نہیں لگتی۔ہم جیسوں کاچونکہ کام دھندہ نہیں ہوتا اس لئے ہم دوسروں کے گھروں میں تانک جھانک کرتے نظرآتے ہیں۔کہ جس کا نتیجہ ہنستے بستے گھر کی بربادی کی صورت میں دیکھنے کوملتاہے اس لئے جناب اور وں کے مسائل میں ٹانگ اَڑانے سے گریز کریں تاکہ آپ کی طرح آپ کا بھائی ،رشتہ دار ،پڑوسی بھی چین وسکون کی زندگی بسر کرسکے۔اس کے علاوہ بہو رانیوں سے بھی دستہ بدستہ التجا ہے کہ وہ بھی اپنے گھر کو جنت بنانے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کریں تاکہ آئندہ نسلیں نفرت کی بجائے محبت کے ماحو ل میں پروان چڑھ سکیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waqar Ahmad

Read More Articles by Waqar Ahmad: 65 Articles with 25552 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Feb, 2017 Views: 430

Comments

آپ کی رائے