خصوصی افراد اور ہماری زمہ داری

(Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)
خصوصی افراد سرکاری اداروں میں حکومت پاکستان کی طرف سے مختص کردہ دو فیصد کوٹہ کے تحت ملازمت کے لئے درخواست دینے کے اہل ہوں گے‘ قومی و نجی ایئرلائنز اور پاکستان ریلوے میں سفر کے دوران کرایہ پر پچاس فیصد تک چھوٹ حاصل کر سکیں گے۔ مذکورہ کارڈ کے حصول کے بعد خصوصی افراد اور ان کے اہلخانہ علاج معالجہ کی سہولت‘ وہیل چیئر، مصنوعی اعضاء، سفید چھڑی اور آلہ سماعت مفت حاصل کر سکیں گے‘ خصوصی افراد بیت المال سے مالی معاونت کے علاوہ مخصوص گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کر سکیں گے۔
کراچی ووکیشنل ٹریننگ سینٹر نے حکومت سندھ کے تعاون سے کراچی ایکسپو سینٹر میں ایک ایکسپو کا انعقاد کیا جو اپنی نوعیت کی ایک بہترین ایکسپو تھی ایکسپو سینٹر کے تین ہالوں پر محیط یہ ایکسپو خصوصی افرادکو ایک پلیٹ فارم پر تعلیم و تفریحی ، کھیل ، دستکاری اور خصوصی افراد کے زیر استمال اشیاء پر مشتمل سہولیات فراہم کررہی تھی ہال میں جس طرف بھی نظریں جاتی تھی لوگوں کا ہجوم نظر آتا تھا شہریوں کی بہت بڑی تعدادنے اس تقریب میں شرکت کی جن میں چھوٹے بچے، شہر کے اسکول و کالج کے بچے اور خصوصی افراد کی بہت زیادہ تعداد شامل تھی ، خصوصی افراد کو تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت دینے والے سرکاری اور نجی اداروں،معروف سماجھی شخصیات، خصوصی افراد کے خاندانوں سمیت کئی طبی ماہرین نے بھی شرکت کی ۔

ہال میں سینکڑوں اسٹالوں پر خصوصی افراد کے بنائے گئے فن پارے بھی نمائش کے لیے موجود تھے جنہیں دیکھ کر خصوصی افراد کو دی جانے والی پیشہ وارانہ تربیت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ، عام افراد اور خصوصی افراد کے درمیان پائے جانے والے بہت بڑے فاصلے کو کراچی ووکیشنل ٹریننگ سینٹر نے حکومت سندھ کے تعاون سے کم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو بحیثیت مجموعی آپ کو اس معاشرے میں ایک ایسا طبقہ نظر آئے گا جسے حروف عام میں معذور کہا جاتا ہے اس طبقے میں وہ افراد شامل ہوتے ہیں جو پیدائشی یا کسی حادثاتی طور پر زمانہ کی رفتار میں عام انسان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ، ایسےخصوصی افراد کے لیئے بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بدقسمتی سے ہمارے اسلامی ملک میں خصوصی افراد کو وہ حقوق اب بھی حاصل نہیں جو انہیں مغربی ممالک میں حاصل ہیں ، وطن عزیز کو قائم ہوئے 70 برس ہونے کو ہیں لیکن اب تک ہم خصوصی افراد کے لیئے بسوں میں سوار ہونے کا ہی کوئی انتظام نہیں کرسکے ، سرکاری دفاتروں ، بینک اور تعلیمی اداروں میں میں خصوصی افراد کے لیئے کوئی خاطر خواہ سہولیات کا انتظام نہیں ، خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیئے کام کرنے کے ساتھ ساتھ عام افراد میں بھی اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ خصوصی افراد سے کس طرح کا رویہ اختیار کیا جائے ۔

خصوصی افراد کی فلاح بہبود کے لیئے جہاں کئی نجی سماجھی ادارے کوشاں ہیں وہیں حکومت پاکستانی کی جانب سے بھی بہت سے اقدامات کیئے جارہے ہیں جس سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود میں بہت مثبت اثرات مرتب ہونگے اس ضمن میں وفاقی وزارت سماجی بہبود و خصوصی تعلیم نےخصوصی افراد کی رجسٹریشن کا کام شروع کیا ہے اور اپنی جاری اسکیم میں 15 ہزار 167 خصوصی قومی شناختی کارڈ جاری کیئے ہیں جس کے تحت خصوصی افراد سرکاری اداروں میں حکومت پاکستان کی طرف سے مختص کردہ دو فیصد کوٹہ کے تحت ملازمت کے لئے درخواست دینے کے اہل ہوں گے‘ قومی و نجی ایئرلائنز اور پاکستان ریلوے میں سفر کے دوران کرایہ پر پچاس فیصد تک چھوٹ حاصل کر سکیں گے۔ مذکورہ کارڈ کے حصول کے بعد خصوصی افراد اور ان کے اہلخانہ علاج معالجہ کی سہولت‘ وہیل چیئر، مصنوعی اعضاء، سفید چھڑی اور آلہ سماعت مفت حاصل کر سکیں گے‘ خصوصی افراد بیت المال سے مالی معاونت کے علاوہ مخصوص گاڑیوں کی ڈیوٹی فری درآمد کر سکیں گے۔

اسکیم کے تحت مرکز میں 7175، پنجاب میں 71 ہزار 92، سندھ میں 6 ہزار 765 جبکہ سرحد اور بلوچستان میں بالترتیب 950 اور 41 خصوصی شناختی کارڈ تقسیم کئے جا چکے ہیں حکومتی زرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات کیئے جائینگے اور اس سلسلے میں جلد معمر افراد کے لئے اولڈ ہوم کا افتتاح بھی کیاجائے گا جس میں ابتدائی طور پر پچاس سے ساٹھ معمر افراد کو چھت مہیا کی جائے گی۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 130 Articles with 82917 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
26 Feb, 2017 Views: 680

Comments

آپ کی رائے
بحوالہ “ خصوصی افراد سرکاری اداروں میں حکومت پاکستان کی طرف سے مختص کردہ دو فیصد کوٹہ کے تحت ملازمت کے لئے درخواست دینے کے اہل ہوں گے‘ “
یہ کوٹہ پہلے بھی تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے -اس کوٹے کو مقرر کرتے وقت ایک شق یہ بھی رکھی گئی تھی کہ کوئی ادارہ یہ کوٹا نہیں دینا چاہتا ہے تو اسے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے وہ اس طرح کہ وہ ادارہ اس کے بدلے ایک خاص رقم بطور ٹیکس حکومت کو ادا کر گا - اس استثنیٰ کو استعمال کرتے ہوئے کئی ادارے ٹیکس دینا قبول کر لیتے ہیں اور اس کوٹے پر ملازمت دینا پسند نہیں کرتے
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 26 2017
Reply Reply
0 Like