پاکستان کا مستقبل؟

(Javed Iqbal Anjum, Chakwal)

اسلامی جمہوریہ پاکستان اُمت مسلمہ کا انڈونیشیا کے بعد دُوسرا بڑا اسلامی اور واحد نیوکلیئر ٹیکنالوجی رکھنے والا ملک ہے۔ اسلامی ممالک میں پاکستان کے علاوہ ابھی تک کسی کے پاس نیوکلیئر ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ دُنیا کبھی بھی پاکستان کی اہمیت کو یکسر نظر انداز نہیں کر پائے گی۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے اس کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش رہے۔ ایک وقت تھا کہ جب ہم سابق سوویت یونین بلاک کا حصہ تھے مگر روس نے پھر افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد پاکستان کو اس سرد جنگ میں دھکیل دیا اور پاکستان کو اس جنگ میں اہم کردار ادا کرنا پڑا اور بالآخر روسی افواج کو وہاں سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ پھر 9/11 کے بعد پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ مسلط کر دی گئی جو تاحال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس جنگ کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ افواج پاکستان نے اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس جنگ کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈرون حملے بھی کئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر اس جنگ کا ساتھ نہ دیتے تو ہمیں پتھر کے دور میں دھکیل دیا جاتا۔

قیام پاکستان سے اب تک پاکستان میں آمریت کا دورانیہ زیادہ رہا ہے لیکن اب کچھ عرصے سے پاکستان میں جمہوریت کو درست سمت پر دیکھا جا رہا ہے اور پاکستان میں جمہوریت پنپتی جا رہی ہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور اپنا جمہوری دورانیہ بھی پورا کیا۔ پھر 2013ء کے انتخابات ہوئے تو پی ایم ایل (ن) کی حکومت بنی اور 2018ء میں پھر عام انتخابات ہوں گے۔ عوام جس کو مینڈیٹ دیں گے اُس کی حکومت بن جائے گی۔ اس طرح پاکستان کا مستقبل یقینا روشن ہو گا۔ اگر غور کریں تو 2008ء کل کی بات ہے۔ عوام کو یاد ہو گا جب یہاں لوڈشیڈنگ 18 گھنٹے ہوا کرتی تھی۔ بجلی چند گھنٹوں کے لئے عوام کو میسر تھی۔ سی این جی فلنگ اسٹیشن پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوتی تھیں۔ عوام گھنٹوں لائنوں میں لگ کر سی این جی اپنی گاڑیوں کے لئے حاصل کرتے تھے۔ جب ہر روز بم دھماکے ہوتے تھے اور بے گناہ شہری مارے جاتے تھے۔ جب ہر کسی کے پاس اصلی یا پھر نقلی شناختی کارڈ ہوتا تھا، مگر اب ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ہر ادارے نے اپنا قومی فریضہ سر انجام دینا شروع کر دیا ہے۔ اب تو پٹرول کی قیمت ہی ایسی مقرر ہے کہ کسی بھی شہری کو لائنوں میں لگنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ لوڈشیڈنگ اب نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اس بات کا قومی امکان ہے کہ 2018ء تک لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ مہنگائی میں بھی ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ 2008ء میں گیس سلنڈر 1600 روپے تک بیچا گیا، اب تو اس کی قیمت 800 روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ ٹماٹر 150 روپے کلو ملا کرتے تھے مگر اب تو 40 سے 50 روپے کلو فروخت ہوتے ہیں۔ چکن کا گوشت 350 روپے کلو تک چلا گیا تھا مگر اب اس کا ریٹ 200 روپے کلو سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بھی بہت بہتری آئی ہے خصوصاً نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ’’رد الفساد‘‘ آپریشن شروع کر کے انتہائی احسن اقدام کیا ہے اس سے نہ صرف دہشت گردی میں کمی واقع ہو گی بلکہ ’’فسادیوں‘‘ سے بھی جان چھوٹے گی اور سب سے بڑھ کر گھروں میں موجود غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے بھی قانون کی گرفت میں ہوں گے اور ہمارا پیارا وطن پاکستان اسلحے سے پاک پاکستان بنے گا۔

بلاشبہ پاکستان کا مستقبل نہ صرف روشن ہے بلکہ تابناک بھی ہے۔ پاکستان میں اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی تمام نعمتیں موجود ہیں۔ یہاں پر باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے جو کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے ساری دُنیا میں پاکستان کا نام روشن کئے ہوئے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی دیار غیر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سربلند کر رہے ہیں۔ دُنیا کی بہترین افواج، پہاڑ، نباتات، دریا، سمندر، صحرا، کارآمد وسیع و عریض زمین، سال میں 4 خوبصورت موسم غرض یہاں پر سب کچھ موجود ہے۔ پاکستان کو ساری دُنیا میں اپنا لوہا منوانا ہے۔ اگر گوادر پورٹ اور سی پیک مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان میں خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ جب دوبئی اور سنگاپور جیسے چھوٹے چھوٹے ملک صرف ایک پورٹ سے اتنی ترقی کر سکتے ہیں تو پھر پاکستان گوادر پورٹ سے کیوں کر نہیں۔ یقینا آنے والا وقت پاکستانیوں کے لئے کسی حسین خواب سے کم نہ ہو گا۔ پاکستان نے ساری دُنیا میں ستاروں کی طرح جگمگانا ہے اور جس حسین خواب کے تحت پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جس انتھک محنت کے بعد پاکستان کو تخلیق کیا تھا یقینا اُن خواب کی تکمیل ہو گی۔ سبز ہلالی پرچم نے 20 کروڑ پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دینا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب غیر ملکی پاکستان کا ویزہ لائنوں میں لگ کر لیں گے۔ جب پاکستان کے اندر اتنی کشش ہو گی کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا اپنا اعزاز سمجھیں گے۔ جب سبز پاسپورٹ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکے گا۔ یقینا پاکستان کا مستقبل بہت روشن اور تابناک ہو گا۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 34557 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2017 Views: 410

Comments

آپ کی رائے