حجاب اور ہمارا معاشرہ

(Abid Ali Yousufzai, Sawat)

پنجاب کے تعلیمی اداروں میں حجاب لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے۔ تاہم لبرلز مغرب زدہ مسلمانوں اور سیاست دانوں کے طرف سے اس کی شدید مخالفت سامنے آرہی ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں اکثریت خواتین کی ہے، انہوں نے بھی اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دیسی لبرلز کے مطابق کسی پر زبردستی حجاب مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
قارئین کرام! اس سے پہلے کہ میں اور آپ حکومت پنجاب کے ممکنہ قانون کا تجزیہ کرکے اس کے حق میں یا اس کے خلاف اپنی رائے پیش کریں، آئیں بحیثیت مسلمان ایک نظر اپنی مذہبی تناظر سے اسلامی معاشرہ، مرد و عورت کا تعلق اور حجاب کا جائزہ لیتے ہیں۔

اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور مکمل ضابطہ حیات ہے،جس کے ذریعہ انسان بشریت کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے، تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔ اسلام اور اسلامی نظام ِ حیات اورایک پاک وصاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے۔ اسلام نے جہالت کے رسم ورواج اور اخلاق وعادات کو جو ہرقسم کے فتنہ وفساد سے لبریز تھے ،یکسر بدل کر ایک مہذب معاشرے اور تہذیب کی داغ بیل ڈالی۔جس سے عام انسان کی زندگی میں امن، چین اور سکون ملا۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پرامن معاشرے کے قیام کے لئے جو پہلی تدبیر اختیار کرتا ہے وہ انسانی جذبات کو ہرقسم کے ہیجان سے بچانا، مرد اور عورت کے اندر پائے جانے والے فطری میلانات کو اپنی جگہ باقی رکھتے ہوئے انہیں فطری انداز کے مطابق محفوظ اور تعمیری انداز دیناہے۔

اسلام یہ چاہتا ہے کہ عورت کا تمام ترحسن وجمال، اس کی تمام زیب وزینت اور آرائش وسنگھار میں اس کے ساتھ صرف اس کا شوہر شریک ہو کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔ عورت اپنی آرائش اور جمال صرف اپنے مرد کے لئے کرے۔اگر دیکھا جائے تو عورت درحقیقت تمام تر سنگھار وآرائش مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اس کی خصوصی توجہ کے حصول کے لئے ہی کرتی ہے۔ اسلام ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ایک ایک لمحے کی تہذیب کرتا ہے۔ ان کے لئے پاکیزہ طریقہ وضع کرتا ہے تاکہ کوئی مسلمان اور اہل ایمان کسی طریقے سے کسی برائی میں مبتلا نہ ہو اور ان کے میلانات جائز طریقوں تک محدود رہیں۔ اﷲ ہی ہے جو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جس سے انسانی فطرت کی نفسیاتی تعلیم وتربیت ہوتی ہے۔ عورت کے حسن وجمال کو اس کی زیب وزینت کو اﷲ تعالیٰ نے اس کے شوہر کی دل بستگی اور توجہ کے لئے محدود کردیا ہے تاکہ وہ اپنی ساری توجہ اپنی بیوی کی طرف مرکوز رکھے اور اس کی عورت غیروں کی ہوس ناک نظروں سے محفوظ ومامون رہے۔

اﷲ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ یہ ان کی قربت اور ہم نفسی کی علامت ہے۔ اسلام جب پردے کی تاکید کرتا ہے تو اس سے مراد ایک نہایت پاک وصاف سوسائٹی کا قیام ہے۔ اگر ہم اپنے چاروں اطراف نظر ڈالیں تو بخوبی اندازا کر سکتے ہیں کہ احکام الٰہی سے اعراض اور روگردانی کے کیسے کیسے بھیانک اور عبرت ناک مناظر سامنے آرہے ہیں۔

مغربی دنیا خصوصاً یورپ اور امریکی معاشرے میں جہاں کسی قسم کے پردے اور حجاب کا گزر نہیں، جہاں ہرطرف لطف اندوزی، ہیجان خیزی، شہوت پرستی اور گوشت پوست کی لذت اندوزی کا سامان ہورہا ہے۔ ایسے ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن سے ہر وقت جنسی ہیجان پیدا کیا جارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں جنسی پیاس بڑھتی جارہی ہے جو کسی طرح بجھتی ہی نہیں۔ انسان کی خوابیدہ حیوانیت کو جگادیا گیا ہے اور انسان بے قید شہوت رانی کا شکار ہوگیا ہے۔ اس کے اعصاب اور نفسیات کے اندر ہیجان خیز امراض پیدا ہورہے ہیں۔

حجاب عورت کا وہ پردہ ہے جسے گھر سے باہر کسی ضرورت کے لئے نکلتے وقت اختیار کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں شریعت کے وہ احکامات ہیں جو اجنبی مردوں سے عورت کے پردے سے متعلق ہیں۔ حجاب کے یہ احکامات سورۃ الا حزاب میں بیان ہوئے ہیں۔ان کا مفہوم یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت جلباب یعنی بڑی چادر ( یا برقع ) اوڑھے گی تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے اور چہرے پر بھی نقاب ڈ الے گی تاکہ سوائے آنکھ کے چہرہ بھی چھپ جائے۔ گویا حجاب یہ ہے کہ عورت سوائے آنکھ کے باقی پورا جسم چھپائے گی۔مردوں اور عورتوں کی جسمانی اور ذہنی ساخت اور صلاحیتوں میں اختلاف بالکل واضح اور ظاہر ہے۔ مرد کو مضبوط جسمانی اور دماغی اعصاب جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینے کی صلاحیت اور شدائد کا مقابلہ کرنے والی فطرت عطا کی گئی ہے جبکہ عورت کو نرم مزاج لطیف جذبات شیرینی اور نزاکت دی گئی ہے۔ مرد کی فطرت میں شدت سخت گیری سرد مزاجی اور مزاحمت ہے جبکہ عورت کی ساخت میں قدرتی طور پر جمنے اور ٹھہرنے کے بجائے جھکنے اور ڈھل جانے کی خاصیت ہے۔ مرد کی فطرت میں اقدام اور جسارت ہے جبکہ عورت کی فطرت گریز اور فرار سے عبارت ہے۔ اسلام نے مردوں اور عورتوں کے فرائض بالکل جدا اور علاحدہ طے کیے ہیں۔

سورۃ الاحزاب کی آیت ۳۵ میں مردوں کو ہد ا یت کی گئی ہے ’’ اور جب تمہیں نبی اکرم کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو‘‘۔

گویا ایک مرد کے لئے جائز ہی نہیں کہ بلا ضرورت کسی اجنبی عورت سے بات کرے۔ البتہ اگر اجنبی عورت سے کوئی کام ہو تو بھی روبرو ہو کر بات کرنے کی اجازت نہیں۔ تصور کیجئے کہ یہ حکم امت کی ماؤں کے لئے ہے جن کے ساتھ ایک مسلمان کا رشتہ اپنی حقیقی ماں کی طرح پاکیزہ اور متبرک ہے تو عام مسلم خواتین کے ساتھ بغیر پردے کے بات چیت یا لین دین کرنے کی اجازت کس طرح ہوسکتی ہے ؟ اسی لئے شریعتِ اسلامی میں اجنبی عورت کے ساتھ بلا ضرورت گفتگو کے تدارک کے لئے اس کے ساتھ خلوت میں موجودگی ہی کی ممانعت کر دی گئی ہے۔

معزز قارئین! میں فیصلہ آپ پر چھوڑ تا ہوں۔ امہات المؤمنین کے بارے میں اﷲ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب مسلمان مرد کچھ مانگنے جائے تو پردے کے پیچھے سے مانگا کریں۔ اسی طرح اگر ہم اسلامی معاشرے اور مغربی معاشرے کا جائزہ لیں تو یقینا یہ بات روز روشن کے طرح عیاں ہے کہ مغربی عورت ایک انسان کم اور مرد کے حوس کا کھلونا زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو جہاں پردے کا رواج ہے اور مرد و زن میں اختلاط کم ہے وہاں سماجی برائیاں اور عورتوں کی عزتوں سے کھیلنا نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعض لبرلز یہ کہتے ہیں کہ پردہ چہرے کا نہیں دل کا ہونا چاہئیں اور ہمارا دل صاف ہے۔ ان کو صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ کا دل امہات المؤمنین اور صحابیات سے زیادہ صاف ہے؟ جب ان کے بارے اﷲ رب العزت نے پردے کا حکم دیا ہے تو آپ کو اس سے استثنی کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ اب فیصلہ آپ کریں۔ کیا پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ معصوم بچیوں پر زبردستی حجاب کو مسلط کرنا ہے یا ان کو اﷲ رب العزت کے حکم پر عمل کرواکر ان کی عفت اور پاکدامنی کو محفوظ کرنا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Ali Yousufzai

Read More Articles by Abid Ali Yousufzai: 97 Articles with 49229 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2017 Views: 385

Comments

آپ کی رائے