حجاب اور طالبات

(Momina Sheraz, )

پنجاب میں طالبات پر حجاب لازمی قرار کی سفارشات کی گئی ہے۔ جو کہ کو ئی بری بات نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ دی گئی لالچ سمجھ سے باہر ہے۔حجاب کرنے والی طالبات کی اگر حاضری 65فیصدہو گئی تو اسے انعام کے طور پر 5 فیصداضافی حاضری کی سہولت ملے گئی۔

اتفاق سے ایک ٹاک شو نظر سے گزرا جس میں حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے میان عبدالمنان چیخ چیخ کر بول رہے تھے کہ ہمارے اسلام میں ہے کہ عورت کو پردہ کرنا چاہے۔ اب ان صاحب سے کو ئی پو چھا کہ اسلام میں یہ کہا لکھا ہے۔ اسلامی تعلما ت کا درس دینے کے بجائے لالچ دی جائے۔ اﷲ کے حکم کی تکمل کی بجائے حا ضری پوری کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔

اس بات پر سب سے مناسب جواب آصفہ نے دیا ہے کہ لڑکوں کے لئے کیا سوچا ہے۔

سوال تو یہ ہے پنجاب ہاہر ایجوکیشن کا کام ایجوکیشن سسٹم پر کام کرنا ہے یا طالبات پر اسلامی اقدامات نافذ کرنا۔اگر یہ کا م ہاہر ایجوکیشن کا ہے تو یہ محکمہ کیوں ابھی تک پورے ملک میں ایک تعلیمی نظام لانے میں نا کام ہے؟کیوں ہمارے تعلیمی پلان ابھی تک فیل ہے؟ ہماری گزارش ہے کہ آپ طالبات کو حاضری کی لالچ دینے کے بجائے اس تعلیمی سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Momina Sheraz

Read More Articles by Momina Sheraz: 5 Articles with 1665 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2017 Views: 499

Comments

آپ کی رائے
محض چند افراد کے نظریہ کو پھیلاکر پورے معاشرے پر تھوپنے سے مسائل کا حل نہیں نکلے گا، یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اسکو جبرا کسی پر نافذ کرنا مناسب نہیں ہے، اسلام میانہ روی کا درس دیتا ہے اس حوالے سے باریک بینی سے مطالعہ کے بعد کوئی حکمت عملی طے پانی چاہیے
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017
Reply Reply
0 Like