رشک اور اشک

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

 اپنے بچوں کے غم میں موم کی طرح پگھلنا ماں کی فطرت اورممتاکی علامت ہے مگربھارتی بربریت نے کشمیری ماؤں کونڈربنادیا ہے ۔ماؤں کاحوصلہ چٹان کی طرح ہوتا ہے لیکن فطری طورپر ان کے دل بہت نرم و نازک ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے یقینا کشمیری ماؤں کوکسی نادرو نایاب مٹی سے خلق کیاہے جواپنے جوان بیٹوں کی شہادتوں پرماتم کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے مبارکبادیں وصول کرتی ہیں اوران کی روشن آنکھوں میں افتخار جھلکتا ہے۔جموں وکشمیر میں کفن پوش شہیدوں کے جنازوں میں ہزاروں سرفروش شریک ہوتے ہیں۔جنت نذیروادی کے مکین آزادی کی تڑپ میں جام شہادت نوش کرکے سچ میں جنت کے مکین بن جاتے ہیں۔سنا ہے ستم زدوں کی آہوں سے عرشِ الٰہی ہل جاتا ہے توپھرزمینی فرعونوں کا تخت کیوں نہیں ہلتا،ان کاضمیرانہیں کیوں نہیں جھنجوڑتا۔انصاف کی دیویاں اوردیوتا کہاں ہیں،انصاف کی دیوی کی آنکھوں پربندھی پٹی کیوں نہیں کھلتی،بھارت نے دہشت کابازارگرم کرتے ہوئے معصوم بچوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کی آنکھیں پھوڑدی مگردنیا کے طاقتورحکمران تونابینا نہیں ہیں ۔عالمی ضمیر کشمیریوں کے نعشیں اورزخم کیوں نہیں دیکھتا ۔ایک کشمیری جام شہادت نوش کرتا ہے تواگلے پل وہاں شوق شہادت سے سرشار ہزاروں غازی پورے قد سے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔شہیدوں کی ماؤں کاکہنا ہے ،کاش ہمارے مزید جوان بیٹے ہوتے تو وہ بھی راہ حق میں قربان ہوجاتے۔سیّدہ آسیہ اندرابی اورمشعال حسین ملک سمیت ان کشمیری ماؤں کاصبروتحمل ،ان کی عظمت اوراستقامت قابل قدراورقابل فخر ہے۔ اپنے بچوں کی زندگی اوراسیرشوہروں کی رہائی کیلئے دشمن سے بھیک مانگنا ان کی انا،عزت نفس اورخودداری کیخلاف ہے۔کشمیری ماں ایک طرف اپنے بچوں کے زخم پرمرہم رکھتی ہے تودوسری طرف بیوہ شہیدہونیوالے اپنے شوہر کوبڑی آن بان اورشان سے سپردخاک کرتی ہے۔شہیدوں کے جنازوں اوراس میں شریک کشمیریوں کے صادق جذبوں کو دیکھ کرآنکھوں میں اشک نہیں بلکہ رشک آتا ہے،انتھک کشمیری ناقابل شکست ہیں۔جوں جوں کشمیری شہیدوں کی تعدادبڑھ رہی ہے توں توں ان کے ورثا کاپاکستانیت اورآزادی پرایقان پختہ ہورہا ہے۔مسلح بھارتی درندے نہتے کشمیریوں سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں،اب تک جوبھی کشمیری شہید ہوئے ان میں سے ہرایک کواس کے سینے پرگولی ماری گئی جبکہ جہنم واصل ہونیوالے بھارتی درندوں میں سے نناوے فیصد میدان سے فرارہوتے ہوئے پیٹھ پرزخم لگنے سے مار ے گئے ۔کشمیری جوان آزادی کاخواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے شجاعت اور شہادت کی داستانیں رقم کرتے ہیں اوران کے ورثااپنے پیاروں کے بچھڑجانے کاغم نہیں کرتے بلکہ ان کی یادیں تازہ کرنے کیلئے دن مناتے ہیں۔پاکستان کی ہرجماعت کیلئے تحریک آزادی کشمیر کے مختلف ادوارجبکہ غیورکشمیریوں کی شجاعت اورشہادت کے واقعات کو نصاب تعلیم کاحصہ بنایا جائے ۔دنیا بھرمیں بچوں کوماں باپ کی کمزوری سمجھا جاتا ہے مگرکشمیر میں بچے ماں باپ کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہیں جبکہ نڈرکشمیری اپنے بچوں کی شہادت میں راحت اورنجات کاسامان تلاش کرتے ہیں ۔

کشمیریوں کوآزادی دستیاب نہیں مگر انہوں نے بھارتی غلامی کی بیڑیاں توڑدی ہیں، بظاہر ان کاوجود بھارت کی قیدمیں ہے مگروہ رومانوی اورروحانی طورپرپاکستان سے والہانہ محبت کے اسیر ہیں ،ان کاہرقدم آزادی کیلئے اٹھتا اوران کاقلم بھارتی ظلم کیخلاف سچ اگلتاہے۔ کشمیر کے غیورمسلمان پاکستان کوارض پاک کے نام سے یاد کرتے اوراس کے ہجر میں آہیں بھرتے ہیں ۔جموں وکشمیر کی ہرگلی میں اورہرشاہراہ پربھارتی فوجی دندناتے ہیں مگراس کے باوجودکشمیری دیوانہ وار پاکستان کاسبزہلالی پرچم لہراتے اوراس پاداش میں موت کوگلے لگاتے ہیں۔ دشمن کے ایک ملین فوجی اہلکاروں سے مرعوب ہوئے بغیرکشمیری مسلمان اپناسرتان کرچلتا ہے۔کشمیر کی مسلمان عورت ماں ،بیوی ،بہن اوربیٹی یعنی ہرروپ میں چمکتی دھوپ کی مانند ہے،وہ مردحضرات سے زیادہ بہادراورنڈر ہیں،وہ مرعوب ،مایوسی ،ناامیدی اورپسپائی کے مفہوم سے آشنا نہیں۔سیّدہ آسیہ اندرابی اورمشعال حسین ملک سمیت کشمیرکی پرعزم خواتین کاجوش وجذبہ ان کیلئے آزادی کی امیداورنوید ہے۔جولوگ موت سے کھیلتے ہوں انہیں شکست نہیں دی جاسکتی ۔مودی کازعم خاک میں مل گیا،وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب کی طرح جموں وکشمیر میں زبردستی بستیاں بنارہا ہے ۔اس قسم کی شعبدہ بازی اورجعلسازی سے عالمی ضمیر کوگمراہ نہیں کیا جاسکتا۔جموں وکشمیر کے مستقبل کافیصلہ وہاں حالیہ برسوں میں آبادہونیوالے ہندوپنڈت نہیں بلکہ مقامی مسلمان کریں گے۔

پاکستان میں ہمارے نوجوان کرکٹ اوراس آڑ میں جواکھیلتے ہیں جبکہ ہمارے کشمیری بھائی بھارتی بربریت کیخلاف سربکف ہیں۔موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا،موت کوللکارنااورپچھاڑنا ان نڈرنوجوانوں کی تربیت اورفطرت میں شامل ہے ۔یہ اپنے عہدشباب میں موت سے کھیلتے ہیں اوران کی شہادت درحقیقت ان کی جیت پرمہرثبت کرتی ہے۔تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ اوران کاانقلابی کردارانہیں اپنی منزل مقصود کے بہت نزدیک لے آیا ہے ۔تحریک قیام پاکستان کی طرح تحریک آزادی کشمیر میں بھی مقامی مسلمان خواتین بھرپوراندازسے شریک ہیں۔ دختران ملت کی انقلابی سربراہ سیّدہ آسیہ اندرابی کانام اوران کے کام بارے سن کراحترام سے آنکھیں جھک جاتی ہیں اورآنکھوں سے قرطاس پرگرنیوالے آنسو ان کیلئے دُعابن جاتے ہیں۔باحیاء ،باوفااورباصفا سیّدہ آسیہ اندرابی ایک انقلابی خاتون بلکہ سراپاانقلاب ہیں۔ا ن کے اسیرشوہر اورتحریک آزادی کے روحِ رواں ڈاکٹرقاسم فکتوجومسلسل چھبیس برسوں سے جرم بیگناہی کی پاداش میں قیدکاٹ رہے ہیں،بھارتی زندانوں میں قیدہونے کے باوجود مردحرڈاکٹرقاسم فکتو کی آنکھوں میں آزادی کے ہزاروں جگنو ٹمٹماتے ہیں اوران کاسینہ پاکستان کی جدائی میں سلگتا ہے ۔اب ڈاکٹرقاسم فکتوکاعلم ان کی اہلیہ آسیہ اندرابی کے ہاتھوں میں ہے ۔کشمیریوں نے کتابوں میں بنیادی انسانی حقوق کا نصاب توپڑھا ہے مگر وہ ان کی تاثیرسے ناآشنا ہیں ۔نہتے کشمیری نوجوان باوردی پتھروں کوپتھر مارتے ہیں مگرعنقریب بھارتی سومنات اوراس میں پڑے بت پاش پاش ہوں گے اورکشمیریوں کی آزادی کاسورج طلوع ہوگا۔

گذشتہ دنوں دختران ملت مقبوضہ کشمیر کی سربراہ سیّدہ آسیہ اندرابی نے سری نگر سے لاہورمیں ورلڈکالمسٹ کلب کے زیراہتمام کالم نگاروں اوردانشوروں کی ایک پروقارتقریب سے ٹیلیفونک خطاب کیا اورمختلف سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے ۔ورلڈکالمسٹ کلب کے چیئرمین ایثاررانا،سیکرٹری جنرل ذبیح اﷲ بلگن ،سینئر نائب صدرسردارمرادعلی خان ،یحییٰ مجاہد،جاویداقبال ،رابعہ رحمن ،ڈاکٹرعمرانہ مشتاق ،رقیہ غزل،ممتازحیدراعوان ، محمدشاہدمحمود،حبیب اﷲ قمر ،ناصرچوہان ،میاں اشرف عاصمی،نسیم الحق زاہدی ،حبیب اﷲ قمر،ارشاد احمد ارشدسمیت بیسیوں سینئر کالم نگارشریک تھے جبکہ قلم قبیلے کافخر سمیع اﷲ ملک بھی لندن میں بیٹھے فون پر براہ راست کاروائی سن رہے تھے۔راقم کے سوال پرسیّد ہ آسیہ اندرابی نے اپنے مخصوص انقلابی اندازمیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی منتخب قیادت کی نسبت فوجی حکمرانوں نے کشمیرکازکیلئے زیادہ منظم اورموثراندازمیں کام کیا۔کارگل ایڈونچر سے یقینا کایا پلٹ جاتی مگر اس وقت کی منتخب حکومت نے سٹینڈ نہیں لیا ۔پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پرتبصرہ کرتے ہوئے ا ن کاکہناتھاکہ حکومت پاکستان کے اس اقدام سے ہمارے دل چھلنی ہیں ،خداراہمارے زخموں پرنمک پاشی نہ کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات کشمیرکا ز کیلئے مہلک ہیں ، بھارت کا ہماری زمینوں پر قبضہ ہے لیکن ہمارے قلوب پاکستان کے اسیر ہیں۔ بھارت گذشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں پربدترین ظلم کر رہا ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ ہوا تو کشمیر کا ہرجوان اپنے حق کیلئے بندوق اٹھا لے گا۔تحریک آزادی کشمیرکے حق میں آواز اٹھانے والے حافظ سعید کو نظر بند کر ناانتظامی نہیں انتقامی فیصلہ ہے۔ حافظ سعید کی نظر بندی بیرونی دباؤ پر ہوئی ، کشمیر کی آزادی سے پاکستان کی تکمیل ہوگی ۔بھارت سے کشمیر آزاد کروانا پاکستان کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی نے مزیدکہا کہ جموں کشمیر کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے جہاں بھارت کے 10لاکھ فوجی دندناتے پھررہے ہیں یہ ایک قید خانہ بلکہ عقوبت خانہ ہے جس میں کشمیر یوں کادم گھٹ جائے گا۔ قائد اعظمؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا مگراس شہ رگ پر بھارت کا فوجی قبضہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔کشمیری دو قومی نظریہ کی بنیادپر آزادی کیلئے برسرپیکار ہیں۔ مودی کوالیکشن میں پاکستان دشمنی کی بنیادپرکامیابی ملی اور اس نے دورہ بنگلہ دیش کے دوران پاکستان کابٹوارہ کرنے کا گناہ قبول کیا۔بھارت کشمیر یوں کوزندہ درگورکرنے کے درپے ہے۔بھارتی فوج کے مقابلے میں ہمارے کمسن بچے پتھر اٹھا کر مقابلہ کر تے ہیں۔برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد تحریک توانااور تیزتر ہوئی ہے۔کشمیریوں کی امیدوں کا محور و مرکز پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اڑھائی لاکھ شہداء کی قربانیاں پیش کی ہیں ہمیں اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا پاکستان کی طرف سے حافظ محمد سعید کو نظر بند کرنے پر ہوا۔حافظ محمد سعید تحریک کشمیر کو عوامی سطح پر منظم کر رہے تھے ۔بیرونی دباؤپران کی نظربندی سے ہماری تحریک کو نقصان پہنچا ہے۔کشمیر میں اب ہمیں طعنہ د یا جاتاہے کہ تم حافظ محمد سعید اور پاکستان کی بات کرتے ہو حکومت نے تو تمہارے حامی کو نظر بند کردیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے جب اقوام متحدہ میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا تو اس وقت ہمارے دل خوشی سے جھو م اٹھے تھے ۔ہماراایمان ہے پاکستان کو مزیدتوڑنے کا خواب دیکھنے والے خود ٹوٹ جائیں گے۔ بھارتی سیاستدان اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ ر ہے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج اور 1971ء کے پاکستان میں بہت فرق ہے۔ اس ملک کا ہر فردسچا سپاہی ہے اورضرورت پڑنے پر اپنے ملک بھرپورکا دفاع کر ے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی کالونیاں بنارہا ہے۔ ایک سازش کے تحت ہندو پنڈتوں اوران کے خاندانوں کو یہاں بسایا جارہا ہے ۔ہندوستان کا ناپاک مقصد یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کی تعداد میں کمی ظاہرکی جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہاں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہے اسلئے یہ ہندوستان کا حصہ ہے ۔صحافتی سطح پر بھی ہمارے خلاف جنگ کا محاذگرم ہے۔ہندو سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ پر ہمارے خلاف شرانگیز زبان استعمال کررہے ہیں۔اس کے باوجود کشمیرمیں شہید ہو نیوالے پاکستان کے پرچم میں دفن ہورہے ہیں۔ سیّدہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کی آبیاری میں درحقیقت پاکستان کی بقاء کارازپوشیدہ ہے اور نظریہ پاکستان کی بنیادپرہم ارض پاک کے ساتھ ہیں۔تقریب کے اختتام پریحییٰ مجاہدنے کشمیریوں اورفلسطینیوں کی آزادی وسرفرازی کیلئے خصوصی دعا کااہتمام کیا جبکہ شرکاء بوجھل دل مگراس تجدید عہد کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوئے کہ وہ اپنے قلم سے دشمنانان پاکستان اوردشمنانان کشمیر کی پراگندہ سوچ کا سرقلم جبکہ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کاعلم بلند کرتے رہیں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 82219 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2017 Views: 420

Comments

آپ کی رائے