امیرالمومنین حضرت عمررضیﷲتعالی عنہ کےدورخلافت میں ایفائےعہدکاایمان افروزواقعہ

(Hafiz kareem ullah Chishti, Mianwali)

دو نوجوان سیدناعمررضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتےہی محفل میں بیٹھےایک شخص کےسامنےجاکر کھڑےہوجاتے ہیں اوراسکی طرف انگلی کرکےکہتےہیں یاعمر ؓ رضی اللہ عنہ یہ ہےوہ شخص!

سیدناعمر ؓرضی اللہ عنہ ان سےپوچھتےہیں،کیاکیاہےاس شخص نے؟

یاامیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ،اس نےہمارے باپ کوقتل کیا ہے۔

کیاکہہ رہے ہو،اس نےتمہارے باپ کوقتل کیاہے؟سیدناعمرؓ رضی اللہ عنہ پوچھتےہیں۔

سیدناعمر ؓرضی اللہ عنہ اس شخص سےمخاطب ہوکر پوچھتےہیں، کیاتونےان کےباپ کوقتل کیاہے؟

وہ شخص کہتاہے:ہاں امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ،مجھ سے قتل ہوگیاہےانکاباپ۔

کس طرح قتل کیاہے؟سیدناعمرؓرضی اللہ عنہ پوچھتےہیں۔

یاعمرؓرضی اللہ عنہ ، انکاباپ اپنےاونٹ سمیت میرےکھیت میں داخل ہوگیاتھا،میں نےمنع کیا،بازنہیں آیاتومیں نےایک پتھردےمارا۔جوسیدھااس کےسرمیں لگااوروہ موقع پرمرگیا۔

پھرتوقصاص دیناپڑےگا، موت ہےاسکی سزا۔سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ کہتےہیں۔

نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت،اورفیصلہ بھی ایسااٹل کہ جس پرکسی بحث ومباحثےکی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سےاسکےکنبےکےبارےمیں کوئی سوال کیاگیاہے، نہ ہی یہ پوچھاگیاہےکہ تعلق کسقدرشریف خاندان سےہے، نہ ہی یہ پوچھنےکی ضرورت محسوس کی گئی ہےکہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں،معاشرےمیں کیارتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓرضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کےدین کاہوتو عمر ؓ رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتااورنہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ رضی اللہ عنہ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سےآ کھڑاہو، قصاص تو اس سے بھی لیاجائےگا۔

وہ شخص کہتا ہےاے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کردیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اورمیرےسواکوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔

سیدناعمر ؓ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کون تیری ضمانت دےگا کہ توصحراء میں جاکر واپس بھی آ جائے گا؟

مجمع پر ایک خاموشی چھاجاتی ہے۔ کوئی بھی توایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا گھر وغیرہ کےبارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھاریا زمین کےٹکڑےیا کسی اونٹ کے سودےکی ضمانت کامعاملہ ہے؟ ادھرتو ایک گردن کی ضمانت دینےکی بات ہےجسےتلوارسے اڑا دیاجاناہے۔

اورکوئی ایسابھی تونہیں ہےجواللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملےپرعمرؓ رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے، یاپھراس شخص کی سفارش کیلئےہی کھڑا ہوجائے۔اورکوئی ہوبھی نہیں سکتاجوسفارشی بننےکی سوچ سکے۔

محفل میں موجودصحابہ کرام پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے،اس صورتحال سےخود عمر ؓ رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانت کے واپس جانے دیاجائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کاخون رائیگاں جائے گا!

خودسیدناعمرؓرضی اللہ عنہ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کردو اس شخص کو۔

نہیں امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ،جو ہمارے باپ کوقتل کرے اسکوچھوڑدیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا،نوجوان اپناآخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کےسنادیتےہیں۔

عمرؓرضی اللہ عنہ ایک بار پھرمجمع کیطرف دیکھ کر بلند آوازسےپوچھتے ہیں،اےلوگو ،ہےکوئی تم میں سےجواسکی ضمانت دے؟

حضرت ابوذرغفاری ؓرضی اللہ عنہ اپنےزہدوصدق سےبھرپور بڑھاپےکےساتھ کھڑےہوکرکہتےہیں میں ضمانت دیتاہوں اس شخص کی!

سیدناعمرؓرضی اللہ عنہ کہتےہیں ابوذر ،اس نےقتل کیاہے۔

چاہےقتل ہی کیوں نہ کیاہو،ابوذر ؓاپنااٹل فیصلہ سناتےہیں۔

عمرؓرضی اللہ عنہ :جانتےہواسے؟

ابوذرؓرضی اللہ عنہ :نہیں جانتااسے۔

عمرؓرضی اللہ عنہ :توپھرکسطرح ضمانت دےرہےہو؟

ابوذرؓرضی اللہ عنہ:میں نےاسکےچہرےپرمومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اورمجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

عمرؓ رضی اللہ عنہ : ابوذرؓ رضی اللہ عنہ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔

سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہوجاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سےلوٹ کر واپس آنے کیلئے۔

اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓرضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امرکو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصرکے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

ابو ذرؓرضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اورآکر عمرؓرضی اللہ عنہ کےسامنےبیٹھ جاتےہیں۔

کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں۔

مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، ابوذرؓ رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذرؓ رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہوکا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمرؓ رضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذرؓ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

عمرؓ رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتاتوہم نےتیرا کیاکر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کرکے پوچھا ابوذرؓ رضی اللہ عنہ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

ابوذرؓ رضی اللہ عنہ نے کہا، اے عمرؓ رضی اللہ عنہ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔

سید عمرؓ رضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟

نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔

سیدناؓ عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

اےنوجوانو!تمہاری عفوودرگزرپراللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

اے ابو ذرؓ رضی اللہ عنہ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

اوراےشخص،ﷲتجھےاس وفائےعہدوصداقت پرجزائےخیردے۔

اور اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ ، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ رضی اللہ عنہ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz kareem ullah Chishti

Read More Articles by Hafiz kareem ullah Chishti: 179 Articles with 181117 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2017 Views: 591

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ