امام سے محبوب امام تک

(Aslam Lodhi, Lahore)

کہاجاتاہے کہ انسان کہیں چلاجائے یا دنیا سے رخصت ہوجائے ٗ تب اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے ۔ہمارے امام قاری محمداقبال صاحب چودہ دن عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس گئے تو ہمیں لگ پتہ گیا کہ وہ مسجد اور محلے کے لیے کتنے ضروری تھے۔مسجد اﷲ کی رحمت میں نماز پڑھنے کے لیے تو بے شمار لوگ آتے ہیں اور نماز پڑھ کے اپنی راہ بھی لیتے ہیں لیکن کسی نے بھی امام صاحب کی شخصیت کے اندر جھانک کرنہیں دیکھا اور نہ ہی ان کے مسائل میں کسی نے دلچسپی لینے کی ضرورت محسوس کی ۔ اﷲ تعالی نے یہ قوت مجھے حد سے زیادہ عطا کررکھی ہے جس کی وجہ سے میں اپنے امام بلکہ ان کے مسائل اور حالات پر بھی گہری نظر رکھتا ہوں ۔ میں مسجد میں صرف نماز پڑھنے نہیں جاتا بلکہ مسجد اور مسجدکے امام کے بارے میں گہری دلچسپی رکھتاہوں ۔ایک بزرگ ساتھی کرامت اﷲ صاحب جو ہمارے ساتھ کرسی پر بیٹھ کرنماز اداکرتے ہیں وہ جب شادی پر اپنے سسرالی شہر گوجرانوالہ جاتے ہیں تو اس وقت تک واپس نہیں لوٹتے جب تک شادی والے گھر میں آٹا ختم نہیں ہوجاتا۔اس طرح کئی کئی ہفتے ہمیں ان کے بغیر مسجد میں نماز پڑھنی پڑتی ہے اور ان کی جدائی کا احساس چند دن کے بعد ہی ہونے لگتا ہے کیونکہ ہم ان کے بغیر بھی اداس ہوجاتے ہیں ۔ کہاں کرامت اﷲ صاحب اور کہاں امام صاحب کی جدائی کا صدمہ زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے ۔

یہ بات بھی قابل قدر ہے کہ قاری محمد اقبال صرف امام ہی نہیں ہمارے بہت اچھے اور قابل اعتماد دوست بھی ہیں ۔میں نے جب بھی انہیں اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا وہ اپنی مصروفیات بالائے طاق رکھ کر میرے ساتھ نہ صرف اپنی بائیک پر جاتے ہیں بلکہ راستے میں جلیبیاں ضرورکھلاتے ہیں ۔ کوشش کرتا ہوں کہ پیسے میں خرچ کروں لیکن مجھ سے پہلے وہ دکاندار کو آنکھوں ہی آنکھوں میں سب کچھ سمجھا چکے ہوتے ہیں ۔وہ پاکپتن کے نواحی قصبے " چک نمبر63/D " میں 28 دسمبر 1980ء میں ایک درویش صفت انسان محمدعارف کے گھر پیداہوئے۔جن کاپیشہ اس وقت کھیتی باڑی تھا لیکن والدہ کی خواہش تھی کہ ان کا یہ بیٹا نہ صرف ناظرہ قرآن پڑھے بلکہ حافظ قرآن بن کر نماز تراویح بھی پڑھائے اور ایسا عالم بنے جس کی شہرت دور دور تک سنائی اور محسوس بھی کی جائے ۔ والدہ کی یہی خواہش آپ کو بچپن میں ہی دینی مدرسوں کی دہلیز پر لے آئی ۔آپ اپنے والد کے ہمراہ اوکاڑہ کے مدرسہ" حسینہ تعلیم القرآن" پہنچے ۔ جہاں آپ نے قاری عظمت اﷲ صاحب سے صرف تین سال میں1987ء سے 1990ء تک قرآن حفظ کیا ۔اس کے بعد دو سال تک قاری عطا الرحمن صاحب سے صرف نحو اور تجوید کے علوم حاصل کیے ۔ مزید روحانی علوم اور معرفت کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ بصیر پور میں جامعہ صدیقیہ پیر مولانا مسعود احمد کے در پر حاضر ہوئے جنہوں نے آپ کی تشنگی علوم کی پیاس بجھائی اور بطور حافظ اور عالم دین شخصیت میں مزید نکھار پیدا کیا ۔ علاوہ ازیں آپ دیوبند کے مدرسہ جامعہ اشرف المدارس فیصل آباد میں کچھ عرصہ پڑھتے رہے ۔ مذکورہ بالا تمام مدارس کے علمائے کرام نے قاری محمد اقبال صاحب کی شخصیت کو کچھ اس طرح نکھارا کہ آج والٹن کینٹ کے علاقے میں وہ سب سے نمایاں ٗ پسندیدہ اور مقبول نظر آتے ہیں ۔ اﷲ تعالی نے انہیں اچھی سمجھ بوجھ ٗ بہترین لباس زیب تن کرنے اور پسندیدہ گفتگو کرنے کا ملکہ بھی عطا کررکھاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دلوں پر حکمرانی کرنے والے امام بن چکے ہیں ۔ آپ نے قرآن حفظ کرنے کے بعد فیصل آباد کے نواحی چک 63ج ب میں چار سال تک ماہ رمضان میں تراویح پڑھائیں ۔دو سال تک گوجرہ شہر کی جامعہ مسجد عبداﷲ میں موذن کے فرائض انجام دیئے ۔بعدازاں 1996ء میں آپ لاہورمیں چونگی امرسدھو کے دینی مدرسے اقراء روضہ الطفال میں حفظ قرآن کی دھرائی کرکے 2007ء میں بطور امام جامع مسجد اﷲ کی رحمت کو اپنا مسکن بنایا ۔ جہاں شروع سے آج تک وہ امامت ٗ خطیب ٗموذن ٗ عالم دین اور حافظ قرآن کے فرائض بہ احسن و خوبی انجام دے رہے ہیں ۔

اڑھائی سال پہلے گھٹنے کے آپریشن کی وجہ سے میں اکیلابائیک پر سفرنہیں کرسکتا تھا ۔انہی دنوں نوائے وقت میں پاکستان ریلوے کے بارے میں ، میرا ایک کالم نوائے وقت میں شائع ہوا ۔جس میں ریلوے ملازمین کے مسائل پر ریلوے وزیر خواجہ سعد رفیق کی توجہ مبذول کروائی گئی تھی ۔ یہ کالم کہیں سے ہوتا ہوا اس وقت کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جناب حمید رازی صاحب تک جا پہنچا ۔ جناب رازی صاحب نہ صرف پاکستان ریلوے کے ذمہ دار اعلی ترین افسرہیں بلکہ وہ پنجابی کے بہت اچھے شاعر ٗادیب کے ساتھ ساتھ نفیس انسان بھی ہیں ۔ انہوں نے کالم پڑھنے کے بعد اپنے سیکرٹری کو مجھ سے رابطہ کرنے کا ٹاسک سونپا ۔ سیکرٹری نے نوائے وقت سے میرا موبائل نمبر حاصل کیا اور مجھ تک آ پہنچا ۔ سیکرٹری نے پیغام دیا کہ آپ سے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جناب حمید رازی صاحب ملنا چاہتے ہیں آپ کسی بھی وقت نکال کر ڈی ایس آفس لاہور تشریف لائیں اور افسر مجاز کے ساتھ چائے نوش فرمائیں ۔

جہاں ملاقا ت کا یہ سبب میرے لیے اعزاز کی بات تھی ٗ وہاں ایک مسئلہ یہ بھی درپیش تھا کہ میرے ساتھ کسی ایک باوقار شخص کو ضرورہونا چاہیئے جو اس اہم ترین میٹنگ میں بیٹھنے اور بات کرنے کا فن بھی جانتا ہوں ۔ قوت سماعت میں کمی اکثر میرے آڑے آتی ہے اگر ساتھ بیٹھا ہوا شخص سوال سن کر جواب دینے کا فن جانتا ہو تو ملاقات کالطف دوبالا ہو جاتاہے ۔ میرے دونوں بیٹوں نے یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ وہ اپنے اپنے دفتر میں مصروف ہیں اس لیے وہ میرے ساتھ نہیں جاسکتے ۔ چنانچہ بہت سوچ سمجھ کر میں نے قاری محمداقبال صاحب سے درخواست کی جو انہوں نے نہایت مہربانی فرماتے ہوئے قبول کرلی ۔ سردیوں کے موسم کی ایک صبح قاری صاحب مجھے اپنی بائیک پر بٹھا کر ڈی ایس آفس واقع گڑھی شاہوجاپہنچے اور چند ہی لمحوں بعد ہم ڈی ایس ریلوے جناب حمید رازی صاحب کے روبرو بیٹھے ان سے گفتگو کررہے تھے ۔ یہ ملاقات تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی ۔اس دوران ہر اس مقام پر قاری صاحب نے معاملات کو الجھنے سے سنبھالے رکھا۔ جہا ں سماعت کی کمی آڑے آئی وہاں قاری صاحب کام آئے ۔ اس طرح انتہائی خوشگوار ماحول میں ہم چند یاد گار تصویریں بنوا کر ہم ڈی ایس آفس سے گھر کی جانب روانہ ہوگئے تو ایک اچھی ملاقات کا تاثر ہم پر بہت دنوں تک طاری رہا بلکہ اڑھائی سال گزرنے کے باوجود جناب حمید رازی صاحب اور ہم ایک اچھے دوست کی شکل اختیار کرچکے ہیں ۔اس اہم ترین ملاقات کی کامیابی کا سہرا بلاشبہ قاری صاحب کے سر بندھتا ہے ۔ جو مجھے گھر سے اپنی بائیک پر سردی کے موسم میں لے کر بھی گئے اور واپس بھی گھر کی دہلیز پر اتارا ۔راستے میں مجھے کسی دقت کااحساس نہیں ہونے دیا۔

قاری صاحب ایک پروقار شخصیت کے مالک اور معاشرے کی برائیوں سے بچے ہوئے انسان ہیں ۔ فی زمانہ ہر شخص اپنے مفادات کو ہی ملحوظ رکھتا ہے اور اس کام میں کبھی ہاتھ نہیں ڈالتا جس میں اس کو براہ راست کوئی فائدہ نہ ہو لیکن قاری صاحب کے پہلو میں نہ صرف انسانیت سے محبت کرنے والا دل دھڑکتا ہے بلکہ دوسروں کی مدد کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں نیا نیا قادری کالونی میں رہائش پذیر ہوا تھا اور چند دنوں بعد ہی مجھے گھٹنے کے آپریشن کے لیے نیشنل ہسپتال ڈیفنس میں داخل ہونا پڑا ۔ آپریشن کے دس دن بعد جب میں گھر واپس آیا تو دل میں مسجدمیں پہنچ کر نماز پڑھنے کی خواہش نے بے قرار کردیا ۔ اسی دوران ایک دن چلنے پھرنے سے میرے پاؤں میں اچانک سوجھن نے آلیا ۔ میں انہونی تکلیف کو دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ میں نے فرشتہ صفت انسان ڈاکٹر علی رضا ہاشمی کو موبائل پر مسیج کیا جنہوں نے اسی وقت مجھے سوجھن ختم کرنے والی میڈیسن لکھوا دی ۔ دونوں بیٹے اپنے اپنے دفاتر میں تھے ٗ میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو مجھے میڈیکل سٹور تک لے جائے یا وہاں سے میڈیسن خریدکر لا دے ۔ میں لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا مسجد تک پہنچا اور وہاں قاری صاحب سے مدد کی درخواست کی ۔ قاری صاحب نے یہ دیکھے بغیر کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں ۔اس وقت قاری صاحب مجھے نہیں جانتے تھے لیکن انہوں نے فوری طور پرایک نوجوان کو حکم دیا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ بائیک پر لے جائے اور مطلوبہ میڈیسن ٗ میڈیکل سٹور سے خریدکر گھر بھی چھوڑ کرجائے ۔ اب یادنہیں کہ وہ نوجوان کون تھا اور اس کانام کیا تھا لیکن اس نے قاری صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ بائیک پر بٹھایا اور مدنی میڈیکل سٹور پیر کالونی گلی نمبر 1 میں لے گیا ۔ وہاں سے دوائی خریدی اور مجھے بحفاظت گھر چھوڑ گیا ۔ اگر یہ خدا ترسی اورنیکی نہیں تو اور نیکی کیا ہوتی ہے ۔ اسی دن سے قاری صاحب کے بارے میں میرے دل میں عقیدت اور محبت کے جذبات پیدا ہوئے جو دن بدن ان کی خوش اخلاقی اور مثبت رویے کو دیکھ کر بڑھتے ہی چلے گئے ۔

یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میں قاری صاحب کا عقیدت مند ضرور ہوں لیکن میری صحافیانہ تنقیدی نظرہمیشہ قار ی صاحب کے تعاقب میں رہتی ہے ۔ مجھے اس مسجدمیں نماز پڑھتے ہوئے اس وقت تک پونے تین سال ہوچکے ہیں ۔آج تک قاری صاحب کے لباس ٗ کردار ٗ گفتگو ٗ میل جول ٗ دوران نماز قرآت میں کوئی نقص اور جھول محسوس نہیں ہوا ۔ ہماری مسجد میں ایک ٹیچرٗ ماسٹر عبدالعزیز صاحب بھی نماز پڑھتے ہیں ۔اس کے باوجود کہ وہ اپنی ہی ذات میں گم رہنے والے ایک معزز شخص ہیں لیکن وہ اکثر بیشتر مجھ سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔ چونکہ وہ استاد ہیں اوراستاد کسی ایک شخص کانہیں پورے معاشرے کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے اس لیے میرے دل میں ان کا بے حد احترام ہے ۔ایک دن انہوں نے نہایت شفقت کااظہارکرتے ہوئے دھیمے لہجے میں مجھے اپنے گریبان اور کف کے بٹن لگانے کی تلقین کی ۔ جو میں اکثر گرمیوں کے موسم میں کھول لیتا ہوں اور کف کو نصف آستین تک لپیٹ لیتاہوں۔ چند دن پہلے جب میں قاری صاحب سے نماز کی ادائیگی کے بعد مصافحہ کررہا تھا تو ماسٹر صاحب نے ایک بار پھر ٹوکتے ہوئے مجھے کف نیچے کرنے کے لیے کہا ۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اگراستادمکرم اگر میرے گریبان اور کف کے بٹن بھی لگ گئے تو پھر میں قاری صاحب کی جگہ امامت نہ شروع کردوں ۔امام اور مقتدی میں شاید یہی فرق ہے جو میرے اور قاری صاحب کے درمیان ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قاری صاحب کو اﷲ تعالی نے صبر کی بے انتہاء قوت عطا کی ہے اڑھائی سال پہلے جب مسجد میں ہر گھنٹے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع ہوجاتی تھی نماز جمعہ کے وقت لوڈشیڈنگ کے دوران دو تین پنکھے تو چل سکتے تھے لیکن امام کو ہوا فراہم کرنے والا پنکھا بند ہوجایاکرتا تھا۔ وہ منبر پر بیٹھ کر وعظ کریں یا نماز کی امامت کریں ان پر شدید ترین گرمی کا اثر بھی نہیں پڑتا تھامیں نے کتنی بار انہیں امام کے مصلے پر پسینے میں نہائے ہوتے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا۔گزشتہ گرمیوں میں جب ماہ رمضان کامہینہ شروع ہواتو کسی نیک بخت نے تین ائیر کنڈیشنڈ بھی مسجدمیں لگادیئے لیکن یہ ائیر کنڈیشنڈ مسجد کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے دوران رمضان آگ ہی برساتے رہے ۔ اس حالت میں بھی جبکہ ہم میں سے ہر شخص مسجد سے بھاگنے کی تیاری میں تھا وہ قمیض اور کف کے بٹن مکمل طور پر بند کیے گرمی کی شدت سے بے نیاز اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میں نے کبھی انہیں میلا اور غیر پسندیدہ لباس پہنے ہوئے نہیں دیکھا۔ سردیاں ہوں یا گرمیاں ان کا لباس میرا پسندیدہ ہوتاہے ۔ بلکہ کئی مرتبہ میں ان کی تقلید کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں ۔

حضرت جنید بغدادی ؒ سے کسی نے پوچھا اگر آپ واقعی بزرگ اور اﷲ والے ہیں تو اپنی کوئی کرامت بتائیں ۔ حضرت جنیدبغدادی ؒ نے فرمایا آپ کو مجھ میں کوئی خلاف شریعت بات نظر آئی ہےٗ کیا آپ کو میرے کردار میں کوئی نقص ملا ۔ شخص نے جواب دیا نہیں۔ آپ ؒ نے فرمایا اس سے بڑی کرامت اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک شخص مکمل طور پر شریعت کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اگر تم ہوا میں اڑنے کو کرامت سمجھتے ہو تو ہوامیں تو پرندے بھی اڑتے ہیں ٗ اگر تمہارے دل میں یہ گمان ہے کہ اﷲ والے پانی پر چلتے ہوں تو یہ کام مچھلیاں بھی کرتی ہیں۔ پھر تو کس کرامت کی بات کرتے ہو ۔ یہ مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ قاری محمداقبال صاحب کو میں پونے تین سال سے دن میں پانچ مرتبہ دیکھتا چلا آرہا ہوں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ٗ ان سے مصافحہ کرکے ان کی گفتگو سنتا ہوںٗ ان کاطرز زندگی دیکھتا ہوں لیکن مجھے اس عرصے کے دوران کوئی ایک بات بھی اگر خلاف شریعت نظر نہیں آئی تو اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ جو لوگ شعبدے بازی کے ذریعے ذہنوں کو مفلوج اور آنکھوں کو اندھا کردیتے ہیں وہ ولی اﷲ نہیں جادوگر ہوتے ہیں ۔ میں اکثر اوقات سوچتا ہوں کہ جس استاد اور مدرسے نے انہیں بہترین تربیت دی اور ان کی شخصیت کو پالش کرکے ہمارے پاس بھیجا ہے ٗوہ کس قدر عظیم ہوگا ۔اگر ٹی وی یا فلم کوئی بہت مقبول ہوتو لوگ اس کے پروڈیوسر کانام پوچھتے ہیں ۔اگر کوئی عالم خلق خدا کی نظروں کو اپنے کردار اور علم سے مسحور کرتا ہے تو لوگ یقینا ان کے اساتذہ کے بارے میں جاننے کااشتیاق رکھتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے بے شمار خامیاں ہر شخص میں نظر آتی ہیں ۔ مالی پریشانیاں انسان کو بہت کچھ کرنے پر مجبور کردیتی ہیں لیکن انتہائی کم ترین مالی وسائل رکھنے کے باوجود قاری محمداقبال صاحب اپنے کردار اور بہترین معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ میں نے انہیں کبھی فضول گفتگو کرتے ٗ قہقہہ لگاکر ٗ ہاتھوں میں ہاتھ مارتے نہیں دیکھا ۔ان کی مسکراہٹ صرف تبسم پر ہی محدود رہتی ہے جو ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن چکی ہے ۔

اس کے باوجودکہ میری دلی تمنا ہے کہ میں ان کے اساتذہ کرام کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں اور ان سے ملوں جہاں سے قاری صاحب نے قرآن پاک کے تیس سپارے اپنے سینے میں محفوظ کیے۔ جس مدرسے کے روزمرہ معمولات نے ایک عام اور دیہاتی بچے کو عالم دین بنا دیاٗ جس مدرسے نے انہیں بہترین مقررکی شکل دیٗ جس مدرسے نے لباس ٗکردار اور زندگی کے معاملات کو کچھ اس طرح نکھار دیا کہ اب کوشش کے باوجود ان میں کوئی خامی تلاش نہیں کرسکتا ۔(جو اب ایک عالم کی شکل میں ہمارے درمیان امام مسجدکی حیثیت سے موجود ہے )۔ اس میں جہاں قاری محمد اقبال صاحب کی اپنی محنت ٗ جفاکشی کا دخل ہے وہاں مدرسے کے وہ تمام اساتذہ کرام تحسین کے قابل ہیں جنہوں نے قاری صاحب کے شخصیت کی نوک پلک درست کی ان کی شخصیت میں خامیوں کونکال کر خوبیوں سے بھر دیا ۔

شاید انہی خوبیوں کی بدولت وہ خطیب اور بہترین عالم دین کے روپ میں مسجد اﷲ کی رحمت کے امام ہیں اور ان کی انہی خوبیوں کی بدولت میں دل کی گہرائیوں سے انہیں محبت اور عقیدت بھی کرتاہوں ۔ میری یہ عقیدت محبت کے لافانی رشتوں سے بھی بلندتر ہے ۔ مجھے قادری کالونی میں آئے ہوئے پونے تین سال ہوچلے ہیں اس دوران غیر محسوس طریقے سے میرے دل میں امام کی حیثیت سے قاری محمداقبال کی جو محبت پیدا ہوئی -اس کو بھی ماں کی محبت اور باپ کی شفقت سے بھی تشبیہ دے سکتا ہوں ۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں کئی مرتبہ قاری صاحب کو اپنے ساتھ لے کر والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے وائس چیرمین اور ایک اچھے انسان جناب چوہدری سجاد احمد کے دفتر بھی جا چکاہوں ۔ ان سے پے درپے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کااسلوب اس قدر پاکیزگی اور احترام کے دائرہ میں رہاکہ چوہدری سجاد احمد ٗ قاری محمداقبال اور میں ایک بہترین دوست کی شکل اختیار کرتے چلے گئے ۔آج چوہدری سجاد احمد کو اگر میں یاد ہوں تو مجھ سے پہلے قاری اقبال صاحب کا نام ان کے ذہن میں ابھرتا ہے ۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگاکہ قاری محمداقبال کانام ہی ہمارے لیے ایک بہترین حوالہ اور تعارف ہے ۔

اسی طرح ایک مرتبہ معاملات کی جستجو ہمیں لے کر والٹن ٹریننگ سکول جا پہنچی ۔ قاری صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔ جہاں ہماری ملاقات ڈائریکٹر جنرل جاوید اقبا ل سے ہوئی۔ اس دورے کے دوران ہمیں ٹریننگ سکول کے تمام حصے دکھائے گئے ۔ہم نے وہاں یادگار تصویریں بھی بنوائیں اور اچھی یادیں لے کر واپس لوٹ آئے۔ ایک مرتبہ باب پاکستان کے مرکزی دفتر جاپہنچے ۔جہاں پہنچتے ہی احساس ہوا کہ یہاں کے کتنے ہی لوگ قاری صاحب کے پہلے سے مرید ہیں۔ انہوں نے قاری صاحب کو اپنے درمیان دیکھ کر والہانہ خوشی کااظہار کیا ۔ہم اس دفتر میں تقریبا ایک گھنٹہ موجود رہے اور باب پاکستان کے حوالے سے معلومات اور تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لے کر اس پر نوائے وقت کالم لکھا ۔ان کامیاب دوروں کے پیچھے بلاشبہ قاری صاحب کا کردار بہت نمایاں ہے ۔ جو ایک اچھے دوست کی شکل میں مجھے اپنی محبت اور چاہت سے ہمیشہ نوازتے ہیں ۔

پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب قاری محمداقبال صاحب اپنی والد ہ اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 5 مارچ 2017ء کی شام عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جدہ روانہ ہوگئے ۔قاری صاحب کا جہاز جیسے ہی فضامیں بلند ہوا اسی طرح دل کی دھڑکنوں نے بالکل الٹ سمت دھڑکنا شروع کردیا ۔ اگلی صبح جب ہم نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچے تو امام کے مصلے پر کوئی اور صاحب موجودتھے ۔ انہیں دیکھ کر قاری صاحب کی یاد نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی اور میں نے دل ہی دل میں سوچنے لگا اگر حالت یہی رہی تو چودہ دن کیسے گزریں گے ۔ان چودہ دنوں میں مجھ پر کیا کیفیت طاری رہی اس کا میں الفاظ میں ذکر نہیں کرسکتا ہر لمحے اور ہر نماز میں مجھے قاری صاحب شدت سے یاد آئے بطور خاص جب میں متبادل امام کی قرات سنتا تو جو ردھم اور تلفظ کی روانی قاری صاحب کی آواز میں مجھے سنائی دیتی ہے وہ یکسر ناپید ہوچکی تھی ۔

اس کے باوجود کہ قاری صاحب کی ارض مقدس میں سرگرمیوں کے بارے میں برادرم نذیر صاحب( جو لیسکو میں اعلی عہدے پر فائز ہیں بلکہ وہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے بارے میں وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر بھی گن لیتے ہیں) مجھے مسلسل قاری صاحب کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہے اور باقاعدہ فیس بک پر اپ لوڈ ہونیوالی تصویریں دکھاکر جدائی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ لیکن محبت بہت ظالم ہے یہ کہاں چین لینے دیتی ہے ۔ جس سے بھی ہوجاتی ہے پھر سکون نہیں لینے دیتی ۔ ایک دن ملک ریاض سے ملاقات میں قاری صاحب کی شخصیت اور علمیت کا ذکر آگیا تو ملک ریاض نے کہا قاری صاحب جب نماز جمعہ سے پہلے وعظ کرتے ہیں اس وعظ کو سن کر ایمان تازہ اور پختہ ہوجاتاہے اور بے ساختہ زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ قاری صاحب واقعی بہت جید عالم دین ہیں ۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ ہمارے امام ہیں۔

بالکل یہی محبت اس وقت مجھ پر اس وقت طاری ہوئی جب قاری صاحب نے جہاز میں سوار ہوکر جدہ کی جانب پرواز کی۔ دل تھاکہ وہ جسم سے نکلتا ہی جارہا تھا۔ ذہن میں ہر لمحے ایک ہی بات سواررہتی کہ قاری صاحب یہاں موجود نہیں جو روزانہ نماز فجر کے بعد ہمیں ماں کی طرح دعائیں اور پھونکیں مارا کرتے ۔وہ کب واپس آئیں گے اور اتنا عرصہ ان کے بغیر کیسے گزرے گا ۔ اگر میں بھولنے میں کامیاب ہوبھی جاتاتو اگلی نماز میں امام کے مصلے پر کسی اور کو دیکھ زخم پھر تازہ ہوجاتے اور میں ایک بار پھر گہری سوچ میں ڈوب جاتا۔ اس لمحے میں تو اپنے جذبات کرنے کے کی کسی کندھے کی تلاش میں تھا لیکن برادرم نذیر صاحب مجھ سے دو ہاتھ آگے نکلے انہوں نے قاری صاحب کی غیر حاضری میں مقتدی اور خلیفہ ہونے کا حق ادا کردیا۔ وہ روزانہ اپنے موبائل سے قاری صاحب کو کال کرکے حال احوال پوچھتے ٗ اور وہاں کے معمولات جان کر ہم سب نمازیوں کو اکٹھا کرکے بتاتے اور موبائل پر تصویر یں دکھا کر ہمیں اپ ٹو ڈیٹ کر تے ۔ ایک صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میں گھر کی جانب آرہا تھاتو نذیر صاحب کے گھر کے باہر میجر (ر) محمد شفیق اور محمد ایوب بھی کھڑا تھا ۔یہ دونوں احباب مسجد میں تو دکھائی دیتے ہیں لیکن میری گلی میں ان کی صورتیں کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ ابھی میں ان کے قریب پہنچا ہی تھا اور یہاں ٹھہرنے کی وجہ پوچھنا چاہتا تھاکہ نذیر صاحب گھر کے اندر باہر تشریف لائے اور اپنے موبائل سے ان دونوں کو قاری صاحب کی تصویر جو مسجد نبوی اور خانہ کعبہ کے مختلف گوشوں میں کھینچی گئی تھیں ٗ دکھانے لگے ۔ یہ دیکھ کر میں خوش ہوا کہ میں جدائی کی جس آگ میں جل رہاہوں۔ نذیر صاحب بھی پیچھے نہیں ہیں ان کی توجہ کا تمام ترمرکز قاری صاحب اور ان کی ارض مقدس میں سرگرمیاں ہیں ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایک ایک دن اور ہر نماز میں قاری صاحب کی یاد نے ہمیں اداس کیا۔

خدا خدا کرے18 مارچ ٗ ہفتے کادن بھی آ ہی گیا ۔نماز عصر کے بعد نذیر صاحب چند مزیدنمازیوں (جن میں تاثیر اسلم ٗ ایم اسلم ٗ ابوالحسن ٗ حاجی لیاقت ٗ میجر(ر)محمد شفیق ٗ ذوالفقار بھی شامل تھے )اکٹھے کرکے بتا رہے تھے کہ کل قاری صاحب کی فلائٹ سرزمین لاہور پر اترنے والی ہے ہمیں ان کا شایان شان استقبال کرنا چاہیئے ۔قاری صاحب جب ہمیں ائیرپورٹ پر دیکھیں گے تو یقینا خوش ہوں گے ۔یہ چار پانچ افراد پر مشتمل قافلہ اگلی صبح ائیرپورٹ پر جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوگیا ۔ جس گاڑی پر نذیر صاحب اپنے محبوب شہر "فیصل آباد " جایا اور واپس آیا کرتے ہیں اس مقصد کے لیے اسی گاڑی کا انتخاب کیاگیا ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ نذیر صاحب کا جسم لاہور میں ہوتاہے اور روح فیصل آباد کے درمیان سے گزرنے والی نہر کے کنارے کسی نامعلوم بستی میں اپنے محبوب کی تلاش میں بھٹکتی پھرتی ہے ۔ یہ تو مذاق کی بات تھی حقیقت میں وہ بہت اچھے اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ بطور خاص میرے لیے ان کے دل میں محبت بے شمار ہے جس کا اظہار وہ ہر صبح کرتے ہیں ۔ حالانکہ نذیر صاحب سے میری پرانی یاد اﷲ نہیں لیکن ان کی محبت اور والہا نہ چاہت نے مجھے اپناگرویدہ بنا رکھاہے ۔اگر کبھی وہ نماز میں غیر حاضر ہوتے ہیں تو میں مذاق سے کہتا ہوں کہ وہ فیصل آباد ہی گئے ہوں گے ۔وہ شہر ان کی محبتوں اور چاہتوں کا مرکز ہے جس کے بغیر وہ اپنی زندگی کو ادھورا محسوس کرتے ہیں ۔ یہ بات یقینی ہے اگر ان کی واپڈ ا میں ملازمت نہ ہوتی تو وہ اپنے محبوب شہر فیصل آباد سے ایک قدم بھی باہر نہ نکالتے ۔

بہرحال مجھے بھی انہوں نے اپنے ساتھ ائیرپورٹ چلنے کے لیے کہالیکن میں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیاکہ محبوب امام کے انتظار میں بیتنے والی گھڑیوں کا کرب میں برداشت نہیں کرسکتا ۔جہاز عموما دو تین گھنٹے لیٹ آتے ہیں اتنا وقت ائیر پورٹ پر گزارنا میرے لیے ممکن نہیں ہے ۔ جیسے ہی قاری صاحب کا جہاز سرزمین پر لینڈ کرے تو مجھے اطلاع دے دینا۔ یہ بات کہنے میں ذرا بھی عار محسوس نہیں ہوتی کہ قاری صاحب جو عمرہ پر جانے سے پہلے ہمارے امام تھےٗ اب وہ ہمارے محبوب امام کا درجہ حاصل کرچکے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے جانے کے بعد بار بار یہ احسا س غالب آتا رہا کہ جیسے آسمان ہمارے سروں سے ہٹ گیا ہوٗ اور سورج کی تپش نے ہمیں بے حال کردیا ہو ۔ پھر وہ لمحہ بھی آپہنچا جب قاری صاحب نماز ظہر کی امامت کرنے مسجد آپہنچے ۔ انہیں دیکھ کر بے قرار دل کو قرار آگیا اس لمحے میری آنکھوں میں ان کی محبت کے آنسو تھے جو آنکھوں سے نہیں میرے دل سے نکلے تھے ۔ محبت کس قدر ظالم چیزہے یہ انسان کو کس قدر بے حال کردیتی ہے ٗیہ کس طرح دلوں کو بے چین کردیتی ہے ٗ اس کا احساس مجھے قاری محمداقبال صاحب کی غیرحاضری میں بخوبی ہوچکا ہے ۔یہ محبت اﷲ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی خاطر ہے جس کی تبلیغ اور رہنمائی قاری صاحب ہمیں روزانہ کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود کہ قوت سماعت کی کمی کی بنا پر مجھے وعظ بھی سمجھ نہیں آتی لیکن جب وہ دوران نماز قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں تو تلاوت کا ایک ایک لفظ نہ صرف سنائی دیتا ہے بلکہ سمجھ بھی آتا ہے ۔ اﷲ تعالی انہیں زندگی کی ہر خوشی عطا فرمائے اور ان کی ہر تمنا پوری کرے۔

برادرم نذیر صاحب نے ان کی بخیر و عافیت واپسی کی خوشی میں اپنے گھر ایک شایان شان ضیافت کا اہتمام کیا جس میں قاری صاحب اور میں نے شرکت کی ۔کھانا اس قدر مزے دار اور پر تکلف تھا کہ ہم کھاتے ہی چلے گئے اور پیٹ کا کوئی کونہ خالی نہ چھوڑا۔اس پرتکلف ضیافت پر میں اور قاری صاحب برادرم نذیر صاحب ٗ ان کے صاحبزادے عبید الرحمان اور نیک سیرت نوجوان سلیما ن کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں اپنے گھر آنے اور وہاں کھابے کھانے کا موقعہ فراہم کیا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 282786 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Mar, 2017 Views: 245

Comments

آپ کی رائے