تعلیم کو تجارت بنانے والا مافیا

(Ghulam Ullah Kiyani, )

تعلیمی اداروں میں نئے داخلہ شروع ہو چکے ہیں۔مگرخبر دار ! یہ سکول آپ کا مستقبل روشن بنانے کے لئے نہیں کھولا گیا ہے ، اس کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ کمائی ہے۔ یہ دکاندار ہیں۔ آپ گاہک ہیں۔ اس لئے سکول کے انتخاب میں احتیاط لازمی ہے۔ نیا تعلیمی سال شروع ہو تے ہی والدین بچوں کے لئے کتابیں، سٹیشنری، یونیفارم خریدنے میں مصروف ہیں۔ کتب خانوں اور سٹیشنری کی دکانوں پر بھاری رش ہے۔ بازاروں میں ان دنوں یہی اشیاء ’’ ہاٹ کیک‘‘ ہیں۔اس شعبہ میں کاروبار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجارت میں اضافہ اچھی بات ہے۔ ہر شعبہ کا ایک سیزن ہوتا ہے۔ اسی طرح شعبہ تعلیم کا بھی ایک سیزن ہے جو آج اپنے جوبن پر ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں انتہائی بنیادی اور اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچے ہی قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت اسی مقصد کے تحت کی جاتی ہے۔ اس پر قومیں توجہ بھی دیتی ہیں۔ لیکن آج کی تعلیم اور تعلیمی نظا م کی بدحالی اور تباہی پر افسوس ہوتا ہے۔ ہم پڑھے لکھے ان پڑھ پیدا کر رہے ہیں۔ ہم انسان کو ایک اچھا شہری بنانے کے بجائے اسے کمائی کی مشین بنا رہے ہیں۔ ہم تعلیم کو صرف تجارتی مقصد کے تحت ہی دیکھتے ہیں۔ زیادہ تر یہی دیکھا جاتا ہے کہ کمائی کس شعبہ میں زیادہ ہے۔ لاتعداد لوگ ایسے ہیں کہ جو پڑھے لکھے بے روزگارون کو دیکھ کر بچوں کو سکول جانے سے روک دیتے ہیں۔ یہ جواز بیان کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں بی اے ،ایم اے ہے ۔ ڈگریاں ہاتھ میں اٹھائے سڑکیں ماپ رہا ہے۔ نوکری نہیں ملی۔ اس لئے پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ بچے کوحوش سنبھالنے پر کسی کام پر لگا دیا جائے۔ یا خاندانی کام میں ہی مصروف کر دیا جائے۔یہ اس طبقہ کا تعلیم سے اظہار ناراضی ہے۔ غم و غصہ کا اظہار ہے۔ یہ لوگ برہم ہیں۔ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں۔

ہمارا تعلیمی نصاب یکساں نہیں۔ ہر ایک کاا پنا نصاب ہے۔ من مانی ہے۔ چیک اینڈ بیلنس رکھنے والا ادارہ موجود ہی نہیں یا خاموش ہے۔ ہر گلی محلہ میں سکول کھلے ہیں۔ کوئی بھی ایک کمرا لے کر سکول شروع کر دیتا ہے۔ ان سکولوں کی رجسٹریشن کیسے ہوتی ہے، اور کیوں ہوتی ہے، کوئی نہیں جانتا۔ قوم کا مستقبل تباہ کرنے والوں کو من مانی کی اجازت ملی ہوئی ہے۔ یا اس میں متعلقہ حکام بھی شریک ہوتے ہیں۔ بار بار کی یقین دہانیوں ، وعدوں اور اعلانات کے باوجود ایک نصاب تعلیم نہ بن سکا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے حکومتیں تعلیم کو سنجیدہ ہی نہیں لیتیں۔ یہی وجہ ہی کہ نئی نسل کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے آزاد چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ سرکاری سکولوں کی بہتات ہے۔ لیکن پھر بھی نجی تعلیمی ادارے پھل پھول رہے ہیں۔

آزاد کشمیر ملک بھر میں شرح خواندگی میں سب سے آگے ہے۔ لیکن یہاں بھی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔یہاں تقریباً7ہزار تعلیمی اداروں میں 35ہزار اساتذہ چھ لاکھ طلباء و طالبات کو پڑھا رہے ہیں۔ لیکن ان کا معیار بہت کم ہے۔ معیار تعلیم کا مطلب ہم صرف زیادہ یا کم نمبرات یا نتائج کے حساب سے لیتے ہیں۔ لیکن ہمیں کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی تکنیکی فراڈ اور دھوکہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اتنے ماہر ہیں کہ دن میں بھی تارے دکھا کر اپنی نااہلیت چھپا لیتے ہیں۔ اس لئے انہیں پکڑنے کا کوئی جواز ہی موجود نہیں ہوتا۔ ان کا کوئی احتساب نہیں کر سکتا۔

ہر گلی محلے میں آئے روز سکولوں کا کھلنا کوئی ترقی نہیں۔ کوئی معیار نہیں۔ کیوں کہ یہاں مقابلے کا فقدان ہے۔ مقابلہتب ہوتا ہے جب معیار کی پرکھ ہو۔ یہاں جہالت پھیلانے اور قوم کا مستقبل تاریک بنانے کا مقابلہ اور دوڑ لگی ہوئی ہے۔ عوام کو صرف لوٹا جا رہا ہے۔ سکولوں نے من پسند نصاب مقرر کر رکھے ہیں۔ان کا مقصد صرف کمائی بن گیا ہے۔ معصوم بچوں پر کتابیں لادھ دی جاتی ہیں۔ انہیں کتابوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔ اس کے کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ یہ نقصان قوم کا نقصان ہے۔ لیکن ہم سمجھتے نہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ بچے کی نشو و نما رک جاتی ہے۔ بوجھ سے اس کے پٹھے بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کی ہڈیاں دب جاتی ہیں۔ اس کا قد نہیں بڑھتا۔ اس کی رگوں پر دباؤ سے خون کی گردش کم ہو جاتی ہے۔ زیادہ بوجھ خون کی گردش روکنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ یہ تو جسمانی نقسان ہے۔ لیکن سب سے بڑا اور تباہ کن نقصان زہنی ہے۔ کلاس ورک اور ہوم ورک کی پریشانی۔ یہ بچے کی نفسیات پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ وہ ہر وقت دباؤ اور ٹینشن کا شکار رہتا ہے۔ اب تو کئی بچے اپنے ساتھ گھریلو ملازم لاتے ہیں۔ یا ان کے والدین ان کا کتابوں بھرا بستہ لے کر چلتے ہیں۔ جو بچہ بچپن سے نوکر چاکر کا عادی ہویا اپنا بوجھ والدین پر لادھ کر چلنے پر مجبور کر دیا گیا ہو تو بڑا ہو کر اس کی کیفیت کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے جس پر ریسرچ کی ضرورت ہے۔سکولوں کا کتب خانوں اور سٹیشنرز کے ساتھ ساز باز ہو رہا ہے۔ یہ کمیشن لیتے ہیں۔ ایک کتاب کی بازار میں قیمت پچاس روپے ہے تو اس پر 20تا 60فی صد ڈسکاؤنٹ ملتا ہے۔ زیادہ خریداری پر اس سے بھی زیادہ دیا جاتا ہے۔ پبلشرز کا یہی طریقہ واردات ہے۔ وہ بھی من پسند قیمت لکھ دیتے ہیں۔ پھر جو وصول ہو ، غنیمت ہے۔ یہ ساز باز اور بڑا گٹھ جوڑ ہے۔ کرپشن ہے۔ جو والدین نرسری کلاس کے بچوں کی کتابیں پانچ پانچ ہزار میں خریدیں گے ۔ ان کی یونیفارم، لنچ، ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیسے کریں گے۔ فیسیں بھی بھاری ہیں۔ کتابیں، سٹیشنری کی آسمان کو چھوتی قیمتیں۔ یونیفارم کے منہ مانگے دام۔ یہ سب کاروبار ایک مافیا کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ لیکن کوئی پکڑ دھکڑ، پوچھنے ولا نہیں۔ اس پر مضحکہ خیز بات یہ کہ سکول کسی مخصوص کتب خانے یا یونیفارم دکان کے ساتھ سمجھوتہ کر کے والدین کو وہاں من مانی قیمت دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ سب ڈرامہ، مذاق ہے۔ یہ تعلیم کی توہین ہے۔

نصاب تعلیم ایک ہو تو معاشرے کے افراد ایک سمت و منزل کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ والدین بھی جہاں سے چاہیں کتاب، کاپی، یونیفارم خرید سکتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔ جو بچے مہنگے سکولوں میں پڑھتے ہیں وہ اپنے کو سپیرئر سمجھتے ہیں۔ سرکاری سکولوں اور چھوٹے سکولوں والے کم تر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ معاشرے کو تقسیم کرنے والی بات ہے۔ امتیازی سلوک ہے۔ یہ بڑا جرم اور بد دیانتی ہے۔ جس استاد کا رزلٹ سرکاری سکول میں صفر ہے وہی استاد اپنا نجی سکول کھول کر سو فیصد رزلٹ دیتا ہے۔ سرکاری سکول کا استاد اپنا بچہ پرائیویٹ سکول میں داخل کرتا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین پر ان کے بچے سرکاری سکولوں میں داخل کرنے اور علاج سرکاری ہسپتالوں سے کرانے پابندی ہوتی تو سرکاری سکولوں ، ہسپتالوں کا معیار بلند ہو سکتا ہے۔ حکمران کچھ تو خیال کریں۔ تعلیم کی توہین اور اسے منافع بخش کاروبار بنانے کی نقصانات پر غور کریں تو کچھ بہتری کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ہماری کوئی تعلیمی پالیسی نہیں۔ تعلیم کو وفاق کے پاس رہنا چاہیئے تا کہ ملک بھر میں ایک قومی تعلیمی پالیسی تشکیل پائے۔ سکولوں کی رینکنگ کا بھی کوئی حال نہیں۔ سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذہ اگر اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں داخل کریں گے تو سرکاری سکولوں کا خدا حافظ ہے۔ ابھی تک سرکاری پالیسی سازوں ، بیوروکریٹس ، اعلیٰ عہدیدار اپنے بچے اپنے علاقے کے سرکاری سکول میں داخل نہیں کریں گے تب تک سرکاری سکولوں کا کوئی سدھار مشکل ہے اور جب تک تعلیمی نصاب ایک نہیں ہوتا، تعلیم کاروبار بنتی رہے گی اور مافیا قوم کا مستقبل تباہ کرنے سے باز نہیں آئے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 220036 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
04 Apr, 2017 Views: 431

Comments

آپ کی رائے