ہمسایوں کے حقوق

(Shuaiburrahman Aziz, India)

ہمسایہ فارسی لفط ہے عام طور پر اس کا تر جمہ پڑوسی کا کیا جا تاہے ۔ عربی میں اس کے لئے جار کا لفظ استعمال ہوتا ہے ہمسائگی اور پڑوسی کا تعلق محض لوگوں کے احاطہ تک محدود نہیں بلکہ بہت زیادہ وسیع ہے ۔ گھر کے ساتھ رہنے والے لوگوں کے علاوہ کالج میں ایک ساتھ رہنے والے ایک کارخانے میں دو مزدور، ایک سفر میں دو ساتھی ہمسایہ ہیں ۔ لیکن اس سب میں اس کی زیادہ اہمیت ہے جو زیادہ قریب کا رشتہ دار ہو ۔ اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ محض مسلمان ہمسایہ سے نیک سلوک کرو، بلکہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہمسایہ خواہ کسی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو اس کے ساتھ نیکی کی جائے اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے ۔ ہمسایہ کے حقوق مندرجہ ذیل ہیں ۔

ہمسایہ کے عزت واکرام : ہمسایہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کی عزت کی جائے اگر وہ بڑے ہیں تو انکواپنا بزرگ خیا ل کیا جائے ، اور کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے ظاہر ہو کہ تم ان کی عزت نہیں کرتے ۔

حسن سلوک : ہمسایہ کا دوسرا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے کسی قسم کی زیادتی نہ کیا جائے ، اگر ہمسایہ کوئی غلطی ہوجائے رو عفو درگزر سے کام لیا جائے ، اس طرح کرنے سے خلوص ومحبت ، ایثار وقربانی کے جذبات پیداہوتے ہیں اﷲ تعالی سورۃ نساء میں احسان کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے اگر نیک سلوک کروگے تو پورے ایماندار بن جاؤ گے ۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا ، جو شخص خدا اور رسول اﷲ ﷺ سے محبت کرتا ہے اسے سچ بولنا چاہئے امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہئے ہمسایوں سے حسن سلوک کرنا چاہئے ۔

ایذارسانی سے پرہیز : ہمسایوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے ، جو شخص اپنے پڑوسی کو تکلیف دیتا ہے وہ کسی صورت میں مومن نہیں ۔ ہمسایوں کو تکلیف دینا ایمان کے منافی ہے ۔

مالی خدمت : حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص سیر ہو کر کھانا کھائے اور اسکا ہمسایہ بھوکا رہے وہ مومن نہیں ہو سکتا ہے ، ہمسایہ کا حق یہ ہ کہ اگر و تمہاری اعانت کا طالب ہو تو اس کا ہاتھ بٹاؤ۔ اگر وہ بیمار ہے تو اس کی تیمار داری کرو۔ اگر وہ محتاج ہے رو اسکا خیال رکھو ۔ اگر وہ مصیبت میں ہے تو اس کے ساتھ ہمدردی کرو۔

تحائف: ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ایک دو سرے کو تحفہ دیاکرو تحفہ دینا محبت کا باعث ہے ۔ حدیث پاک ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجا کرو اس سے محبت بڑھتی ہے ۔ ہمسایہ کیونکہ بہت قریب ہوتا ہے اس لئے اس کو ہدیہ دینے کی تائید کی گئی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shuaiburrahman Aziz

Read More Articles by Shuaiburrahman Aziz: 14 Articles with 10792 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Apr, 2017 Views: 499

Comments

آپ کی رائے