ہندوستان ایک گندی سوچ کا نام

(Mumtaz Amir Ranjha, )

٭ جعلی پیر نے اپنے 20مریدین قتل کر دیئے۔ خبر
لوگ جاہل ہوتے ہیں لیکن اتنے بھی نہیں؟۔۔کہ جعلی پیر کے ہاتھوں قتل ہو جائیں۔احقر نے اپنا پورا بچپن سرگودھا کے ایک پسماندہ علاقہ میں گزارا، وہاں کے لوگوں کی جہالت اور کم علمی پر پی ایچ ڈی کیا،میٹرک کی تعلیم کے بعد مزید حصول علم کے لئے راولپنڈی آیا کہ پھر یہیں کا ہو کے رہ گیا۔سرگودھامیں جہالت ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ پچھلے ہفتہ ایک جعلی پیر عبدالوحید کے ہاتھوں بیس مریدین قتل ہو گئے۔ اس واقعہ کا سن کر ہر پاکستانی کو بہت دکھ ہوا۔کئی جعلی پیر دیکھے کہ اپنے جادو ٹونے سے گھر وں کے گھر تباہ کرکے بھی پیر صاحب ہی کہلاتے ہیں۔ایسے نام نہاد پیر مریدین سے پیر اینٹھنے کے لئے کیا سے کیا پاپڑ نہیں بیلتے۔خود ہی مریدین کے چولہوں،بستروں اور گھروں میں تعویز کی ڈھیریریاں چھوڑ دیتے ہیں اور خود ہی تعویزات برآمدگی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔کئی جعلی پیرمریدین کی عزتوں سے کھیلنے سے باز نہیں آتے۔بیٹے یا بچے کی پیدائش کے چکر میں بے وقوف عورتوں سے زنا تک کرنے سے باز نہیں آتے ہیں اور ایسی جاہل عورتیں اپنا گھر بسانے کے لئے پیر صاحب کی تمام غیر اخلاقی حدود کو تہہ دل سے قبول کر کے معاشرے میں بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔اس جد ید دور میں حکومت اور عوام کو مل کر نام نہاد پیروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہوگا۔ہمارے دین نے ہر انسان کے احترام کا سبق دیا ہے ۔ہم سب کا اخلاقی فرض ہے کہ ہم سارے ملکر ایسے پیروں کی جیل میں دیگیں چڑھائیں۔

٭ مردان میں مشعال خان نوجوان مردان یونیورسٹی میں قتل کر دیا گیا۔ خبر
بلاشبہ ہم سارے مسلمان الحمد ﷲ اپنے مذہب کے احترام اور اس کی عمل داری کا مکمل ایمان رکھتے ہیں لیکن کسی بھی انسان کی براہ راست جان لینے کا ہمیں اختیار حاصل نہیں۔دین کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے۔کسی بھی انسان کو مذہبی ،لسانی یا سیاسی بنیادوں پر اس طرح قتل کر دینا انسانیت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔خدانخواستہ اگر کوئی مذہبی گستاخی کرتا ہے یہ ایک غلط بات ہے لیکن پھر بھی اسے سزا دینے کے لئے قانون اور حکومت قائم ہے،اس سلسلے میں ہمیں حکومت اور قانون سے رابطہ کرنا ہوگا اور تمام ثبوت پیش کرنا ہونگے ورنہ تو ہر گلی محلے میں جذباتی لوگ نجانے سے کیا سے کیا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔مشتعل ہجوم کااس طرح کسی بھی شخص کو گھسیٹ کر قتل کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔

٭ کلبھوشن کو سزائے موت ملنے پر ہندوستان سیخ پا۔ خبر
ہندوستان نے ہمیشہ ہی ہمارے ملک کے خلاف اپنے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک ہندو ایجنٹ پاکستان کو خدانخواستہ گرانے کے حربوں سے باز نہیں آتے،کلبھوشن جو کہ ایک حاضر سروس نیوی افسر ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے ہمارے ملک میں دہشت گردی کرانے اور عوام میں فساد پھیلانے کا ذمے دار ہے۔ اس نے پاکستان میں عزیر بلوچ جیسے اجارہ دار لوگوں کو ساتھ ملا کر اس ملک میں بڑی کاروائیاں کیں۔کلبھوشن جیسے دہشت گرد ایجنٹ کے لئے موت کی سزا بھی کم ہے۔بہت افسوس ہوتا ہے کہ پی پی پی نے اپنے دور میں عزیر بلوچ جیسے ایک ہندوستانی ایجنٹ کو اپنی جھولی میں بٹھائے رکھاجو کہ اب زرداری کے قبضہ نواز اور بندے مروانے کا ٹھیکہ دار ہونے کا بتا رہا ہے،اس کا مطلب یہی ہے کہ زرداری صاحب کا سخت احتساب ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ آجکل پی پی پی حکومت کے خلاف پینترے بدل کر بلیک میلنگ کر رہی ہے ۔کبھی ڈاکٹر عاصم کو بچانے کے لئے اور کبھی عزیر بلوچ سے لا تعلق ہونے کے لئے پی پی پی سینٹ سے عدم دلچسپی کا اظہار کر تی ہے ۔دوسری طرف بھارت نے ہمارے ایک ریٹائرڈ کرنل حبیب ظاہر کو اپنے جال میں پھانس کر پاکستان کو بلیک میل کرنے کا نیا ڈھونگ رچایا ہے۔جب بنگلہ دیش الگ ہوا تھا تب بھی نیپال اور بھوٹان کے ساتھ ملکر پاکستان کے خلاف ہندوستان نے بڑی سازشیں کی تھیں۔حکومت ،رینجرزپاکستان پولیس اور فوج ملکر دہشتگردوں کا ٹھکانے لگا رہی ہے ۔ملک کے لئے یہی بہتر ہے کہ ہندو ایجنٹوں کو بھی دھر لیا جائے۔

٭ بد عنوان شخص سے بو آتی ہے۔زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا۔ صدر ممنون
ہمیں صدر ممنون صاحب کا مزید ممنون ہونا ہو گا،کوئی تو ہے جسے بدعنوان شخص سے بو آتی ہے۔اس کا مطلب صدر صاحب زیادہ تنہا اسی لئے رہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر بد عنوان لوگ ہی تو ہیں۔ہمارا مطلب کرپٹ لوگ بہت زیادہ ہیں۔صدر صاحب بد عنوان لوگوں میں زیادہ تر بیٹھ نہیں سکتے،وہ اکثر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہو سکتا ہے صدر صاحب حب الوطنی اور ایمانداری کا کوئی پر فیوم استعمال کرتے ہوں۔انہیں چاہیئے کہ وہ ایسا ہی کچھ عوام کو گفٹ کریں تاکہ سارے بد عنوان ایماندار ہو جائیں۔یہ پرفیوم اگر زرداری صاحب پر چھڑکا جائے تو شاید انہیں بھی افاقہ ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mumtaz Amir Ranjha

Read More Articles by Mumtaz Amir Ranjha: 90 Articles with 39367 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2017 Views: 419

Comments

آپ کی رائے