غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ - نبوی علاج

(Mubassir Ur Rahman Quasmi, Kuwait)
جس طرح آج دنیا غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے، اسی طرح ماضی میں بھی دنیا اس مسئلے سے دوچار ہوتی رہی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات واحکامات پر مبنی عملی اور تدریجی حل بتایا ہے ذیل کے مضمون میں اس موضوع پر تفصیلی پڑھیے

غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے زیادہ تر بچے متاثر رہتے ہیں

دین اسلام نے فقر وفاقہ ، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے پر خاص توجہ دی ہے، بلکہ معاشرے میں ان مسائل کے پنپنے سے پہلے متعدد ذرائع کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کی ہدایت بھی دی ہے، غربت اور بے روزگاری ایسے مسائل ہیں جو معاشرے کو نہ صرف اخلاقی اعتبار سے نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عقائد پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، سائنسی سروے سے بھی یہ انکشاف ہوا ہے کہ غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کےانسانی صحت پر نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں، اس سے خصوصا وہ لوگ بہت جلد متاثر ہوتے ہیں جو دینی دھارے سے کٹے ہوئے ہیں، غربت اور بے روزگاری کے شکار یہ افراد یا تو شراب کے عادی ہوجاتے ہیں یا بسا اوقات بے روزگاری کے باعث قتل وغارت گری جیسے جرائم میں بھی ملوث ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے دعاء کرتے تھے کہ اللہ تعالی فقروفاقہ سے محفوظ رکھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فقر ومحتاجی اور کفر سے حفاظت کے لیے ایک ساتھ یہ دعاء کرتے تھے ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ( اے اﷲ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں) ۔( أبو داود (5090)، والنسائي (1347)، وأحمد (20397) وقال شعيب الأرناءوط:)

جس طرح آج دنیا غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے، اسی طرح ماضی میں بھی دنیا اس مسئلے سے دوچار ہوتی رہی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات واحکامات پر مبنی عملی اور تدریجی حل اپنایا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو مختلف کام کرنے، مختلف پیشوں کو اختیار کرنے اور سابقہ انبیاء کی طرح بعض صنعتی کاموں کو شروع کرنے کی ترغیب دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ سلم اس سلسلے میں حضرت داود کی مثال دیا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی کھایا کرتے تھے۔(البخاري (1966)، وابن حبان :6333)

اس میدان میں ہمارے لیےسب سے بہترین نمونہ خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زندگی ہے، آپ نے نبوت ملنے سے پہلے تک بکریاں چرائی اور حضرت خدیجہ کے مال سے تجارت کی،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا: کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا کہ ہاں ! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی تنخواہ پر چرایا کرتا تھا۔( البخاري (2143)، وابن ماجه (2149)

محنت ، مزدوری اور کام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے،محنت کا کام چاہےجو بھی ہولوگوں سے مانگنے اور ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے سےبہتر ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی شخص رسی سے لکڑیوں کا بوجھ باندھ کر اپنی پیٹھ پر جنگل سے اٹھا لائے (پھر انہیں بازار میں بیچ کر اپنا رزق حاصل کرے ) تو وہ اس شخص سے بہتر ہے جو کسی کے پاس آکر سوال کرے۔ پھر جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اسے دے یا نہ دے۔(البخاري :1402، وابن ماجه :1836، وأحمد :1429)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے معاشی منصوبوں کی ہمت افزائی فرماتے تھے اور انھیں کھیتی باڑی کرنے پر آمادہ کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار صحابہ کو مالی حالت سے کمزور مہاجرین صحابہ کے ساتھ بھائی بھائی بنایا تاکہ انصار صحابہ مہاجرین صحابہ کی مدد کرسکے،کیونکہ مہاجرین صحابہ نے اپنا سب کچھ مکہ میں چھوڑ کر مدینہ آگئے تھے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے باغات آپ ہم میں اور ہمارے ( مہاجر ) بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔ آپ نے انکار کیا تو انصار نے ( مہاجرین سے ) کہا کہ آپ لوگ درختوں میں محنت کرو۔ ہم تم میوے میں شریک رہیں گے۔ انہوں نے کہا اچھا ہم نے سنا اور قبول کیا۔( البخاري: 2200، وأبو يعلى (6310)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے حرام ہونے کا اعلان فرمایا تاکہ اس کے نقصانات سے سماج کے غریب لوگ محفوظ رہ سکیں، سود ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ، سود غریب کو غریب تر بناتا ہے اور اس کا نتیجہ ہلاکت ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات گناہوں سے جو تباہ کر دینے والے ہیں‘ بچتے رہو۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سے گناہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا‘ اور سود کھانا۔( البخاري (2615)، ومسلم 89.)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اقدار ، اخلاق اور اصولوں کی عملی مثال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں محتاجی، فقر وغربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کے حل کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا وہ کچھ مانگ رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے ؟ کہنے لگا کیوں نہیں ، ایک کملی سی ہے ، اس کا ایک حصہ اوڑھ لیتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالہ ہے جس سے پانی پیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا “ یہ دونوں میرے پاس لے آؤ ۔ ” چنانچہ وہ لے آیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا “ کون یہ چیزیں خریدتا ہے ؟” ایک شخص نے کہا : میں انہیں ایک درہم میں لیتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا “ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے ؟ ” آپ نے دو یا تین بار فرمایا ۔ ایک ( اور ) شخص نے کہا : میں ان کے دو درہم دیتا ہوں ۔ چنانچہ آپ نے دونوں چیزیں اسے دے دیں اور دو درہم لے لیے اور وہ دونوں اس انصاری کو دے دیے اور اس سے فرمایا “ ایک درہم کاغلہ خریدو اور اپنے گھر والوں کو دے آؤ اور دوسرے سے کلہاڑا خرید کر میرے پاس لے آؤ ۔” چنانچہ وہ لے آیا تو آپ نے اس میں اپنے دست مبارک سے دستہ ٹھونک دیا اور فرمایا “جاؤ ! لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں ۔” چنانچہ وہ شخص چلا گیا ، لکڑیاں کاٹتا اور فروخت کرتا رہا ۔ پھر آیا اور اسے دس درہم ملے تھے ۔ کچھ کا اس نے کپڑا خریدا اور کچھ سے کھانے پینے کی چیزیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “یہ اس سے بہتر ہے کہ مانگنے سے تیرے چہرے پر قیامت کے دن داغ ہوں ۔ بلاشبہ مانگنا روا نہیں ہے سوائے تین آدمیوں کے ازحد فقیر محتاج خاک نشین کے ، یا بے چینی میں مبتلا قرض دار کے ، یا دیت میں پڑے خون والے کے ( جس پر خون کی دیت لازم ہو ) ۔ “(أبو داود (1641)، والترمذي (653)، وابن ماجه (2198)، وأحمد (12155.)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے روزگاری کا عملی حل تلاش کیا اور اس کے لیے اس فقیر شخص کے پاس موجود تمام امکانات اور طاقت کا استعمال کیا اگرچہ کہ اس کے پاس بہت معمولی چیزیں تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کا بھی سہارا لے کر اپنی ذاتی محنت کی ترغیب دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ تعلیم دی کہ شریفانہ کام کے ذریعے کس طرح رزق حلال حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اگر انسان اس حد تک تنگ دست ہوجائے کہ اسے کوئی کام نہ مل سکےاور وہ سخت ضرورت مند اور محتاج وفقیر بن کر رہ جائے تو اس صورت میں اسلامی حل یہ ہے کہ خوشحال مالدار رشتہ دار اپنے غریب رشتہ داروں کی کفالت کریں،اللہ تعالی نےرشتہ داروں کے درمیان حقوق کی ادائیگی کو فرض قرار دیا ہے ارشاد ہے : فَأتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ ۔ تو اہلِ قرابت اور محتاجوں کو ان کا حق دیتے رہو۔( الروم 38)

سیرت نبوی میں بھی غربت اور بے روزگاری جیسےمسئلے کے حل کی بہترین مثالیں موجود ہیں ، حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ انھوں نے کہا: بنو عذرہ کے ایک آدمی نے ایک غلام کو اپنے بعد آزادی دی (کہ میرے مرنے کے بعد وہ آزاد ہو گا )یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے پو چھا:کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی کو ئی مال ہے ؟اس نے کہا :نہیں اس پر آپ نے فرمایا :"اس (غلام ) کو مجھ سے کو ن خریدے گا ؟ تو اسے نعیم بن عبد اللہ عدوی نے آٹھ سو (۸۰۰)درہم میں خرید لیا اور درہم لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیے ۔اس کے بعد آپ نے فر ما یا :"اپنے آپ سے ابتدا کرو خود پر صدقہ کرو اگر کچھ بچ جا ئے تو تمہارے گھروالوں کے لیے ہے اگر تمہارے گھروالوں سے کچھ بچ جا ئے تو تمہارےقرابت داروں کے لیے ہے اور اگر ت تمہارے قرابت داروں سے کچھ بچ جا ئے تو اس طرف اور اس طرف خرچ کرو ۔(راوی نے کہا: ) آپ اشارے سے کہہ رہے تھے کہ اپنے سامنے اپنے دائیں اور اپنے بائیں (خرچ کرو۔) (مسلم: 997، والنسائي :2546)

اگر قریبی مالدار رشتہ دار فقیر رشتہ داروں کی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہوں تو اس صورت میں پورے معاشرے اور سماج پرزکوۃ اور صدقات کے ذریعے اس فقیر کی محتاجی اور ضرورت کو پورا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، زکوۃ کو اللہ تعالی نے مالداروں پر فرض کیا ہے تاکہ زکوۃ کے مال سے غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد ہوسکے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےزکوۃ کا زیادہ حقدار اس شخص کو بتایا ہے جو کام، محنت اور کسب معاش کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ۔ صدقہ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں ہے اور نہ کسی طاقتور صحیح سالم کے لیے ۔ (أبو داود: (1634)، والترمذي (652)، والنسائي (2597)، وقال الألباني: صحيح.) اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہل، سست اور بے کا طاقتور اور صحیح سالم انسان کا صدقات میں کوئی حق نہیں رکھا ہے، اس لیے کہ وہ محنت، کام ، مزدوری اور کسب معاش کی طاقت رکھتا ہے۔

اگر معاشرے اور سماج میں ایک بھی ایسا فقیر اور محتاج انسان ہو جو کام کی طاقت نہیں رکھتا ہو تو پورے سماج اور معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالی کی خوشنودی اور ثواب کی نیت سے صدقات جمع کرے اور اس کی ضروریات کی تکمیل کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنےصحابہ کووقتا فوقتااس بات کی ترغیب دیتے تھے اور انھیں غریبوں پر خرچ کرنے کے عملی انداز سکھاتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دیہاتی حاضر ہوئے، انہوں نے اون کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ آپ نے ان کی بدحالی دیکھی کہ وہ ضرورت مند اور محتاج ہو گئے تھے تو آپ نے لوگوں کو (ان کے لیے) صدقہ کرنے کی ترغیب دی لیکن لوگوں نے اس میں سستی سے کام لیا، حتی کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہونے لگی۔ کہا: پھر انصار میں سے ایک شخص چاندی (کے سکوں، درہموں) کی ایک تھیلی لے کر آ گیا، پھر دوسرا آیا، پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے (صدقات لے کر) آنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ کے چہرہ انور پر مسرت جھلکنے لگی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے اسلام میں کسی اچھے کام کی ابتدا کی اور اس کے بعد اس پر عمل ہوتا رہا، اس کے لیے (ہر) عمل کرنے والے (کے اجر) جتنا اجر لکھا جاتا رہے گا۔ اور ان کے گناہوں میں کسی چیز کی کمی نہ ہو گی۔( مسلم: 1017، والنسائي :2554، وأحمد : 19225)

یہ وہ نبوی اقدار ،اخلاق اور اصولو ل ہیں جن کے سائے میں پورا معاشرہ اور سماج باہم جڑا ہوا ہوتا ہے، اس کے تمام ستون برابر رہتے ہیں، اسے حقد وحسد جیسے امراض نقصان نہیں پہنچاتے، اس طرح فقر وفاقہ اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے دین اسلام نے کامیاب عملی او ر حقیقی حل پیش کیے ہیں، اس اہم مسئلے کے حل کے لیے شاید ہی نبوی حل کے علاوہ دنیا میں کوئی کامیاب علاج ہوگا، یقینا بے روزگار ی اور غربت کا یہ نبوی حل اور طریقہ کار دنیا کا سب سے کامیاب تجربہ ہے، کیونکہ اسے اللہ تعالی نے اپنے نبی کو وحی کے ذریعے سکھایا ہے ۔ وما ینطق عن الہوی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mubassir Ur Rahman Quasmi

Read More Articles by Mubassir Ur Rahman Quasmi: 6 Articles with 6872 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2017 Views: 763

Comments

آپ کی رائے