معراج النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

(Rizwan Ullah Peshawari, Peshawar)
27 رجب کے حوالے سے خصوصی مضمون…………برائے خصوصی ایڈیشن

کمالات نبویہ کے عظیم الشان واقعات میں سے ایک واقعہ معراج کا بھی ہے جو امام زہری کے قول کے مطابق مکہ میں سن ۵ نبوی میں ہوا۔ جس کے راوی حضرت عمر رضی اﷲ عنہ ، حضرت علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت انس رضی اﷲ عنہ ، حضرت جابر رضی اﷲ عنہ ، حضرت بریدہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت سمرۃ بن جندب رضی اﷲ عنہ ، حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ عنہ ، حضرت شداد بن اوس رضی اﷲ عنہ ، حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ، حضرت مالک بن صعصعہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو امامہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو ایوب رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو حبر رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اﷲ عنہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ، حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ عنہما، حضرت ام ہانی رضی اﷲ عنہا ، حضرت ام سلمۃ رضی اﷲ عنہا وغیرہ بہت سے صحابہ کرام ہیں۔

حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ شب معراج میں رحمت ِ عالم صلی اﷲ علیہ و سلم کی سواری کے لیے براق لایا گیا جس پر لگام چڑھی ہوئی اور زین کسی ہوئی تھی (جب آپ صلی اﷲ علیہ و سلم اس پر سوار ہونے لگے )تو وہ شوخیاں کرنے لگا، (جس کی وجہ سے اس پر سوار ہونا دشوار ہوگیا)اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے براق کو مخاطب کر کے کہا کہ’’حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کے ساتھ تو یہ شوخیاں کرتا ہے ؟یہ وہ ذاتِ پاک ہے کہ اﷲ کی نظرمیں ان سے زیادہ مکرم اور کوئی نہیں جو تجھ پر سوار ہوا ہو‘‘ حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی یہ بات سن کر براق پسینہ پسینہ ہو گیا ۔

معراج کے لغوی معنیٰ:
اﷲ جل شانہ نے اپنی تمام مخلوق میں جو عروج ،عظمت اور کرامت انسانوں کو عطا فرمائی وہ کسی اورکے حصہ میں نہیں آئی، پھر تمام انسانوں میں جو عروج،عظمت وکرامت اپنے نبیوں کو عطافرمائی وہ طبقاتِ انسانی میں کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی، پھر تمام انبیاء ورسل علیہم السلام میں جو عروج ،عظمت اورکرامت اپنے آخری رسول، محبوبِ کل، ہادی ٔ سبل، ختم الرسل صلی اﷲ علیہ وسلم کو عطا فرمائی وہ کل ملا کر بھی حضرات انبیاء و رسل علیہم السلام کے حصہ میں نہیں آئی ۔

حق تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی عظمت شان اور علوّمکان کے بیان و اعلان کے لیے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بہت سی نمایاں صفات ،خصوصیات،اعزازات و معجزات سے نوازا، اور ہر ایک سے آپ کی رفعت ،فوقیت وفضیلت ظاہر ہوتی ہے ،لیکن ان میں سے معراج النبی آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی ایسی انوکھی اور انفرادی خصوصیت ہے جس سے چار دانگ عالم میں آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی عظمت و افضلیت کا ڈنکا بج گیا، اس لیے کہ ایسی عظیم الشان معرا جِ جسمانی کا اعزاز آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے علاوہ کسی اور پیغمبر کو نصیب نہیں ہوا۔

ویسے لفظ ’’معراج‘‘ عروج سے ہے ، جس کے لغوی معنیٰ سیڑھی اور بلندی کے ہیں اورچوں کہ حق تعالیٰ نے شب معراج میں رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کو کمالِ عروج پر پہنچانے ، شانِ عظمت وکرامت کو ظا ہر کرنے ، انتہائی بلند مقامات سے نواز نے اور اپنا قربِ خاص عطا کرنے کے لیے جنتی سیڑھی کے ذریعہ فرشِ زمیں سے بلند کرکے عرشِ بریں پر پہنچایا، تاکہ خلقِ خدا کو معلوم ہو جا ئے کہ محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم کا مرتبہ و مقام ساری مخلوق میں اتناہی اونچا ہے جتنا فرشِ زمیں سے عرشِ بریں اونچا ہے ، اس عروج کی مناسبت سے بھی اِس واقعہ کو معراج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے نام سے یاد کیا جاتاہے ۔

معراج کا پس منظر :
اس حقیقت کا انکشاف ایک نظر معراج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پس منظر پر ڈالنے سے بھی ہوتا ہے ، سب کو معلوم ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کا مرتبہ ومقام اتنا اونچا ہو نے کے با وجود دعوت وتبلیغ کے سفر میں لوگوں کی طرف سے جن سخت حالات اور شدائدومصائب سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو گزرنا پڑا، کسی اور نبی ورسول کو اتنے شدید حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا،اعلانِ نبوت کے بعد تکا لیف و آزمائش کا سلسلہ شروع ہو کر دن بدن بڑھتا ہی گیا ، اسی دوران باپ کی طرح شفقت ومحبت کا معاملہ کرنے والے اور آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے پشت پناہ، شفیق چچا خواجہ ابو طالب وفات پاگئے ،پھر چند ہی دنوں میں قدم قدم پرآپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہر طرح دلداری کرنے والی، ہر موقع پر دلاسہ دینے والی،اور ہر موڑ پر فراخدلی سے مالی مدد کرنے والی بیوی، سکونِ زندگی سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہابھی داغ مفارقت دے گئیں۔پھرجب اِن ظاہری اور قوی سہارے ٹوٹ جانے کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مخالفین،معاندین وحاسدین کے حوصلے اور بڑھ گئے تب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے مایوس ہوکر بڑی امیدیں قائم کرکے طائف کا ارادہ فرمایا، لیکن اہل طائف نے ظلم وزیادتی اور وحشت وبربریت کا ایسا ثبوت پیش کیاجس سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی آزردگی وشکستگی اور بھی بڑھ گئی۔

چو ں کہ حق اور دعوتِ حق کی ابتداء ہمیشہ ناکا می و نا گوا ری سے ہو تی ہے ، لیکن انتہاء ہمیشہ کا میابی پر ہو تی ہے ،اس لیے عین اس وقت جب کہ محبت ورحمت کے پیکر اعظم صلی اﷲ علیہ و سلم کے ساتھ انسانیت سوز اور درندگی سے بھر پو ر حرکتوں کی انتہا ء ہو چکی اورکعبہ وعرشِ الٰہی سے زیادہ مقدس آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کا قلب غموں اور زخموں سے چور چور ہو گیا، تو آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے قلبِ اطہر پر رحمت کا مرہم رکھنے اور آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے مقام و مرتبہ سے دنیا والو ں کو آگاہ کر نے کے لیے معراج کا سفر کرایا گیا، تاکہ فرشِ زمیں والوں کو پتہ چل جا ئے کہ میرا محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم بے سہارا نہیں ،اﷲ تعالیٰ عرشِ بریں پر اس کا سب سے بڑاسہا را ہے۔

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی ابتداء :
معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا یہ واقعہ مکی زندگی کے اخیری دور میں ہجرت سے پہلے اور مشہور قول کے مطابق ۷۲/ رجب پیر کی رات اس وقت پیش آیا جب آپ صلی اﷲ علیہ و سلم شعب ابی طالب کے قریب واقع اپنی چچا زاد بہن اُمّ ہا نی ؓبنت ابی طالب کے مکان میں نیم خوابی کی حالت میں تھے ،اچانک گھر کی چھت کھلی اور حضرت جبرئیل علیہ السلام ربِ جلیل کی طرف سے اپنے خلیل کو بلا نے کے لیے نازل ہوئے ،یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ معراج النبی کا واقعہ شروع سے اخیر تک تما م کا تمام اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا مظا ہرہ اور محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم کا عظیم معجزہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ ربِ کریم نے معراج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے واقعہ کو لفظ ’’سبحان‘‘ سے شروع فرمایا، تاکہ جو لوگ اسرارِ الٰہی سے دور اور عظمت خدا وندی سے بے نور ہیں وہ جان لیں کہ معجزہ صرف انسانی عقل وفہم کے لیے ایک انوکھا اور عجوبہ ہے ، ورنہ خداوند قدوس کی قدرت کے سامنے کو ئی چیز نا ممکن قطعاً نہیں ہے ۔ وہ مالکِ کن فیکون ہے اورساری قدرت کا کارخانہ اسی کے اشارہ پر چلتاہے ،سبحان اس کی شان ہے ، وہ ہر عجز سے منزہ ہے ، لہٰذا معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے واقعہ کو عقل وخرد کی روشنی میں دیکھنے کے بجا ئے خدا وند قدوس کی قدرت اور طاقت کے آئینہ میں دیکھئے گا!تا کہ کوئی اشکال باقی نہ رہے ۔ اس لیے فرمایا ’’سبحان‘‘ اشکال ہو گیا آسان،کامل ہو گیا ایمان اور راضی ہوگیا رحمن۔

الغرض حضرت جبرئیل علیہ السلام میکائیل علیہ السلام کے ساتھ چھت کھول کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے اور نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ خوابِ راحت سے بیدار کرنے کے لیے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے پائے مبارک پراپنے پر بچھادیے ،جس سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی آنکھ کھل گئی ،تو آنے کا انداز بھی نرالا اور جگانے کا انداز بھی انوکھا تھا ، آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو جگا کر مسجد حرام لائے اور حطیم اور حجرِ اسود کے درمیان بیر زمزم کے قریب لٹا کر سینۂ اقدس کو کھولا اور قلب مبارک کو نکال کر زمزم سے دھویا، پھر علم و حکمت سے بھر کر دوبارہ اپنی جگہ رکھ کر سینۂ مبارک بندکر دیا گیا،اور دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگادی گئی،جو آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے خاتم النبیین ہونے کی حسی اور ظاہری علامت ہے ۔

آج کل میڈیکل سائنس کی اصطلاح میں بائی پاس سرجری (دل کا آپریشن ) جو مخصوص بیماری کے پیش نظر کیا جاتا ہے ، میڈیکل سائنس کی ترقی کا یہ عمل تو آج کل کامیاب ہوا، ربِ کریم نے آج سے پندرہ سو سال پہلے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ کر دکھایا، فرق اتنا تھاکہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا یہ خدائی بائی پاس سرجری روحانی تھا ،کسی بیماری کے پیش نظر نہیں تھا، اس لیے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی حیاتِ طیبہ کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے کے ساتھ شقِ صدر (الٰہی بائی پاس آپریشن) چار مرتبہ ہوتا رہا ،تا کہ قلب نبوت معصیت و غفلت کی آلودگی سے پاک اور نورِالٰہی سے منور و مزین ہو جائے ۔

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی سواری :
اس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ و سلم جنت کی سواری براق پر سوار کیے گئے ،بعض حضرات نے معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی سواری براق کو ’’برق‘‘ یعنی بجلی سے تشبیہ دی ہے ،جس کی رفتارایک لاکھ چھیاسی(۶۸)ہزار فی سیکنڈ ہے ،اسی لیے کہا گیا کہ دنیا میں سب سے تیز رفتار بجلی ہے ،پھر براق تو جنتی سواری تھی اور جنت کی ہر چیز حیرت انگیز ہے ،اس لیے معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی سواری کی تیز رفتاری بھی نہایت ہی حیرت انگیز تھی ،اس کا ہر قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا ۔
جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم براق پر سوار ہوئے تو وہ کچھ شوخی کرنے لگا، جیسا کہ حدیث مذکور میں بیان کیا گیا ۔محدثین اور حضرات شارحین نے فرمایا کہ براق کا شوخی کرنا فخر اور ناز کی بنا پر تھا، وہ اس خوشی میں اچھل رہاتھا کہ حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کی سواری کا شرف مجھے حاصل ہو رہاہے ، لیکن حضرت جبرئیل علیہ السلام نے یہ گمان کیا کہ اس کی اچھل کود آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے مقام سے ناواقفی و نادانی کے طور پر ہے ، لہٰذا براق کو متنبہ کیا،اب جب براق کو جبرئیل علیہ السلام کے گمان کا احساس ہوا تو مارے شرم کے پسینہ پسینہ ہو گیا۔ (مظاہر حق جدید )

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی اس سواری پر آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے دائیں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور بائیں حضرت میکائیل علیہ السلام تھے ،ساتھ ہی ملائکہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، حضرت جبرئیل علیہ السلام کی رہنمائی میں بڑی شان سے سفر معراج النبی شروع ہوا ،دورانِ سفر سب سے پہلے مدینہ طیبہ،بعد ازاں وادی سینا جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے کلام کیا، اس کے بعد مدین جہاں حضرت شعیب علیہ السلام کا مسکن اور مکان تھا اور پھر بیت اللحم حضرت عیسٰی علیہ السلام کی جائے پیدائش۔ ان مقامات مقدسہ پر نمازِنفل ادا فرمائی۔ حضرت تھانوی ؒ نے فرمایا کہ ’’اس سے معلوم ہوا کہ مقاماتِ مقدسہ میں نماز پڑھنا موجبِ برکت ہے ،بشرطیکہ اس مقام سے کسی مخلوق کی تعظیم مقصود نہ ہو‘‘ اور پھر عجائباتِ سفر کا مشاہدہ کرتے ہوئے مسجد اقصٰی پہنچے ۔

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی پہلی منزل :
یہ معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی پہلی منزل ہے ،بعض روایتوں میں ہے کہ مسجد اقصی ٰمیں حق تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے استقبال اور اکرام کے لیے حضراتِ انبیاء و رسل علیہم السلام کی مقدس روحوں کو مثالی جسم میں جمع فرمادیا، کچھ دیر کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اذان دی،حضرت میکائیلعلیہ السلام نے اقامت کہی،اور نماز کے لیے صفیں بن گئیں، تو انتظار ہونے لگا کہ آج انبیاء و ملائکہ علیہم السلام کے مجمع کی امامت کون کرا ئے گا ؟ لیکن ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُامامت انبیاء و ملائکہ علیہم السلام جس کا حق اور حصہ تھا اسی کو ملا، یعنی آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو، اور بھلا حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کی موجود گی میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حاضر ناظر ہوتے ہوئے کوئی کیسے امامت کرا سکتا ہے ؟

بہر حال جب صفیں درست ہوئیں تو حضرت روح الامین علیہ السلام نے سید الاولین والآخرین ،قائد المرسلین، خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر آگے کیا اور بزبانِ حال کہا :
آفاقہا گردیدہ ام
مہر بتاں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام
لیکن تو چیزے دیگری

حضور! میں پوری دنیا میں گھوما ، مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک گیا، زمین و آسمان کا چکر کاٹا، لیکن آپ جیسی شان والا کسی کو نہ پایا، لہٰذا تشریف لائیے ،نماز پڑھایئے ! تب آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت کرائی اور انبیاء علیہم السلام نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی اقتداء میں دو رکعات نمازِ نفل ادا فرمائی ۔(ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ احادیث کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے معراج میں جاتے وقت بھی بیت المقدس میں دو رکعات نماز تحیۃ المسجدپڑھی او رلوٹتے وقت بھی دو رکعات نمازفجر پڑھی تھی۔ (الکوثری شرح ترمذی)

اس کے بعد حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارواحِ انبیاء علیہم السلام سے ملاقات فرمائی اور سب نے اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ یہاں معراج کا پہلا حصہ اور یہ عظیم الشان روحانی کا نفرنس ختم ہو کر آگے کی کاروائی شروع ہوئی ۔

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی دوسری منزل :
اور مسجد اقصیٰ سے آسمانوں پر یعنی معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی دوسری منزل تک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو پہنچانے کے لیے ایک آسمانی ،خدائی اورجنتی سیڑھی کا انتظام کیا گیا ۔

صاحبو!دورِ حاضر میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے آج جو تیز رفتار لفٹیں اورخود کار زینے ایجاد کیے ہیں ،جن کے ذریعہ ہم اور آپ آسانی سے اوپر نیچے آجا سکتے ہیں ،خدا وند کریم نے اب سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے اس کاانتظام کیا تھا، رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ و سلم نے جبرئیل امین علیہ السلام اور ملائکہ المقربین کی معیت میں بڑی شان سے براق پر سوار ہونے کی حالت میں اس سیڑھی کے ذریعہ آسمانوں پر عروج وصعود فرمایا۔ تشریف لے گئے آسمانِ اول کے دروازے پر پہنچ کر جبرئیل علیہ السلام نے آسمانی قوانین و ضوابط کے مطابق اجازت طلب کی، اجازت ملنے کے بعد جیسے ہی آپ صلی اﷲ علیہ و سلم آسمانِ اول پر پہنچے تو وہاں کے تمام فرشتوں میں ایک خوشی کا سماں بندھ گیا،ہر ایک نے مرحبا مرحبا کہا اور نہایت تعظیم و تکریم کا معاملہ کیا، پھر ساتوں آسمان پر ایسا ہی ہوا ۔ پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک چند مخصوص انبیاء علیہم السلام سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی ملاقاتیں کروائی گئیں، جن میں علماءِ سیر کے بقول ان انبیاء علیہم السلام کو پیش آنے والے حالات کی طرف اشارہ تھا کہ آپ کو بھی ان جیسے حالات بعد میں پیش آئیں گے ۔ چناں چہ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات کروائی، تو اس میں ہجرت کی طرف اشارہ تھا ،کہ جس طرح سیدنا آدم علیہ السلام نے شیطان کی وجہ سے آسمان اور جنت سے زمین کی طرف ہجرت فرمائی اسی طرح آپ بھی شیطان کی مادی اولاد کی وجہ سے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائیں گے ۔ دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ و یحیٰ علیہما السلام سے ملاقات کروائی،اس کا راز یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمانے کے اعتبار سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب تشریف لائے ، ان کے اور حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کے درمیان کوئی نبی نہیں تھا، تو ان کے اور حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کے بعد بھی کوئی نبی نہ ہوگا ،خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت سے قبل جب دجال کے قتل کے لیے آسمان سے نازل ہوں گے تو امتی بن کر نازل ہوں گے ، اور اخیری زمانے میں اس امت کے ایک مجدد ہونے کی حیثیت سے شریعت محمدیہ کے احکام کو جاری فرمائیں گے ،نیز قیامت کے دن حضرت عیسٰیعلیہ السلام ہی تمام اولین و آخرین کو لے کر شفیع ا لمذنبین رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کبریٰ کی درخواست کریں گے ،ان وجوہ کی بناپر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کروائی ۔اور حضرت یحیٰ علیہ السلام سے ملاقات میں یہودیوں سے تکالیف پہنچائے جانے کی طرف اشارہ تھا کہ جس طرح یہودِ بے بہبود نے حضرت یحیٰعلیہ السلام کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں، مدینہ منورہ کے یہود بھی آپ کے در پئے آزار ہوں گے ، آپ کے قتل کے لیے طرح طرح کے مکر اور حیلے کریں گے ، مگر جس طرح اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو یہودِ بے بہبود کے شر سے محفوظ رکھااسی طرح آپ کو بھی محفوظ رکھے گا :وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ)اور اﷲ تمہیں لوگوں کی سازشوں سے بچائے گا۔

تیسرے آسمان پرحضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات کروائی، اس میں اشارہ اس طرف تھا کہ برادرانِ یوسف علیہ السلام نے جس طرح انہیں تکلیفیں پہنچائیں اسی طرح برادرانِ وطن بھی آپ کو تکلیفیں پہنچائیں گے ،اور بالآخر یوسف علیہ السلام کی طرح آپ بھی غالب آئیں گے اور ان سے در گذر فرمائیں گے ،اور فتح مکہ کے دن ایسا ہی ہوا ،حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے اپنے برادرانِ وطن کو اسی خطاب سے مخاطب کیا جس سے سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کومخاطب کیاتھا: لاَتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ(یوسف )آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اﷲ تمہیں معاف کرے ، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والاہے ۔

چوتھے آسمان پرحضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات میں اس طرف اشارہ تھا کہ آپ کو بھی حضرت ادریس کی طرح رفعت اور علومرتبت سے نوازا جائے گا۔

پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات میں یہ راز تھا کہ کہ جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام کے روکنے اور منع کرنے کے باوجود سامری اور اس کے ہمنوا لوگ گو سالہ پرستی سے باز نہ آئے اور بالآخر ہلاک ہوئے ،اسی طرح مشرکینِ مکہ اور بت پرست بھی بالآخر ہلاک ہوں گے ،چناں چہ جنگ بدر میں یہی ہوا کہ قریش کے ستر سردار مارے گئے اور ستر قید کیے گئے ۔

چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح وہ ملک شام کی طرف جہاد کے لیے نکلے اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرما ئی اسی طرح آپ بھی ملک شام کی طرف جہاد کے لیے نکلیں گے اور حق تعالیٰ آپ کو فتح عطا فرما ئیں گے ، پھر ایسا ہی ہوا ، جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ملک شام میں غزوۂ تبوک کے لیے نکلے تو اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو فتح دی ۔اس کے بعد ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کا نکتہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی ،پھر بحکم الٰہی حج کا اعلان کیا، تو قیامت تک جس کے مقدر میں جتنی مرتبہ حج کرنا لکھا ہے اس نے اتنی مرتبہ اس کے جواب میں لبیک کہا ۔اس آخری ملاقات میں اس طرف اشارہ تھا کہ آپ بھی آخری عمر میں حجۃ الوداع فرمائیں گے ۔( سیرۃ مصطفی)

سدرۃالمنتہیٰ اور بار گاہِ خدا :
اس کے بعد جبرئیل امین علیہ السلام رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم کو لے کرسدرۃ المنتہیٰ پر گئے ، یہاں آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے جبرئیل علیہ السلام کو دوبارہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا :وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی(النجم) تحقیق کہ آپ نے جبرئیل کو دوسری دفعہ نیچے اترتے ہوئے دیکھا۔مفسرین نے فرمایا کہ حضورصلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک تو غارِ حراء میں آغازِ نبوت کے وقت جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، او ردوسری مرتبہ معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہیٰ میں جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔(تحفۃ القاری)

یہ سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے ؟یہ ایک بیری کا درخت ہے ، جس کے قریب ہی جنت ہے ۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عِنْدَھاَ جَنَّہُ الْمَاْوٰی(النجم )اس بیر کے درخت کے پاس جس کانام سدرہ ہے ، اس کے پاس جنت المأویٰ ہے ۔

یہی وہ مقام ہے کہ فرشِ زمین سے جو چیز اوپر جاتی ہے یہاں پہنچ کرمنتہی ہو جاتی ہے ، یعنی روک لی جاتی ہے ، پھریہاں سے اوپر اٹھائی جاتی ہے ، اسی طرح عرشِ بریں (ملاء اعلیٰ) سے جوچیز نیچے اترتی ہے وہ بھی یہاں آکر منتہی ہو جاتی ہے ، پھر نیچے اتاری جاتی ہے ، اس لیے اسکا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے ،گویایوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ عالم خلق اور عالم امر کے درمیان ایک سنگم یابارڈرہے ۔حضرت جبرئیل علیہ السلام کی پہنچ بھی یہیں تک ہے ،اس لیے وہ سفرِ معراج میں اِس بارگاہِ ا لٰہی کے بارڈر پر رک گئے ، آگے رفیق سفر بننے سے عذر پیش کیا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بصدادب یہ عرض کیا حضور !سدرۃ المنتہیٰ آپ کے عروج کی ابتداء اور میرے عروج کی انتہاء ہے ،اس سے آگے بڑھنے کی مجھے اجازت نہیں، اگرمیں بال برابر بھی آگے بڑھا تو تجلیاتِ ربانی میرے پروں کو جلا کر خاکستر کر دے گی۔

اﷲ اکبر کبیرا ! خطیب برصغیر حضرت شاہ سید عطاء اﷲ بخاریؒ نے اس موقع پر عشق رسول صلی اﷲ علیہ و سلم میں مست ہو کر عجیب بات ارشاد فرمائی کہ سفر معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم میں نانا جان کے ساتھ میں ہوتا تو جبرئیل علیہ السلام سے بھی کہہ دیتاکہ محمد کا ساتھ کیوں چھوڑتا ہے ؟کہ ان کا ساتھ دینے والے جلانہیں کرتے ،جِلا(روشنی )پاتے ہیں !

بہر کیف ! حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کے پاس سفر معراج میں جو آسمانی پاسپورٹ تھا اس کا ویزا تو منزلِ مقصود تک تھا ،اس لیے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم آگے بڑھ گئے اور بارگاہِ الٰہی میں پہنچ گئے ،اور دیدارِ الٰہی و کلامِ ربانی سے مشرف ہو گئے ،دنیا والے چاند تک پہنچے ، تو ہمارے آقا صلی اﷲ علیہ و سلم چاند کے خالق و مالک کے دربار تک پہنچے ، جس کی شہادت خود قرآن نے دی : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکاَنَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنٰی(النجم )پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک۔

دربارِ الٰہی میں محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم اپنے جسم اور روح کے ساتھ مولیٰ سے اتنے قریب ہو گئے جتنے دو کمانوں کے سرے ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں اور پھر اﷲ تعالیٰ محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم کے درمیان کوئی پردہ نہ رہا ۔

جمہور صحابہ ؓ و تابعین، فقہاء اور علماءِ محققین کے بقول بارگاہِ الٰہی میں حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے اپنے پرور دگار کو سر کی آنکھوں سے دیکھا، ہمارے نزدیک یہی راجح اور حق ہے ۔ واﷲ اعلم۔
بارگاہِ الوہیت میں اظہارِ عجز اور نذرانۂ عقیدت :
رحمت ِ عالم صلی اﷲ علیہ و سلم نے اس موقع پر اظہارِ عجز کے ساتھ نذرانۂ عقیدت اس طرح پیش کیا اور گویا اس طرح سلامی دی: ’’اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰۃُ وَالطَّیِّباَتُ‘‘ تمام قولی عبادتیں خواہ وہ ذکر ہو یا تلاوت ، وعظ ہو یا نصیحت اور تمام جسمانی عبادتیں خواہ وہ نماز ہو یا روزہ اور تمام مالی عبادتیں خواہ وہ زکوٰۃ ہو یا صدقہ، میرے مولیٰ ! میری اور میری امت کی ساری عبادتیں تیرے ہی لیے ہیں کہ عبادت کے لائق تو ہی ہے ۔اﷲ تعالیٰ کے سامنے اس کی عظمت بیان کرنا ،اس کی الوہیت کے گیت گانا ایک ایسا عمل ہے کہ دربارِ صمدیت میں اس سے بڑھ کر کوئی تحفہ اور نذرانہ نہیں، خداوند کریم کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کے یہ تین تحفے اس قدر پسند آئے کہ جواباً پروردگارِ عالم کی جانب سے بھی تین چیزیں عنایت ہوئیں،ارشاد ہوا: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرْکاَتُہ‘‘میرے پیارے !تجھ پر سلام،رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور اتنا ہی نہیں، جو تیری نورانی صورت ،پاکیزہ سیرت اور کامل شریعت سے وابستہ ہوگااس پر بھی سلام، رحمتیں اور برکتیں نازل کی جائیں گی۔

سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ و سلم نے پروردگارِ عالم کی رحمت کو جب اس قدر پرجوش پایاتو اپنی امت عاصی کو یاد فرمایا اور عرض کیا’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ‘‘ الٰہ العالمین ! آپ کا سلام ہم سب پر اور جنابِ باری کے نیک بندوں پر ہو، سبحان اﷲ !حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کی امت عاصی سے شفقت تو دیکھئے کہ سلام پہلے اپنے اوپر صیغۂ جمع سے کیا ،پھر نیک بندوں کو الگ ذکر کیا ،اس طرح حضور صلی اﷲ علیہ و سلم نے صیغۂ جمع میں ہم گنہگار امتیوں کو شامل کر کے ہمیں بھی اﷲ تعالیٰ کے سلام کا مستحق بنا لیا ،ورنہ کہاں ہم اور کہاں اﷲ پاک کا سلام ! اس شفیق وخلیق اور خدا کے خلیل سے امید یہی ہے کہ جس طرح معراج میں ہم گنہگاروں کو یاد رکھا ،محشر میں بھی یاد رکھیں گے اور حق تعالیٰ آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کے طفیل ہمیں حیاتِ طیبہ نصیب فرمائیں گے ۔

اس کے بعد عہد ایمان کی تجدید کے طور پر علامہ شامیؒ کی تحقیق کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مزید عرض کیا :’’أَشْھَدُ أَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ‘‘محقق اسلام حضرت مولانا منظور نعمانی ؒ فرماتے ہیں کہ’’نماز میں اس مکالمہ کو شب معراج کی یاد گار کے طور پر جوں کا توں لے لیا گیا ہے ،اور اسی وجہ سے ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ‘‘ میں خطاب کی ضمیر کو بر قرار رکھا گیا ہے ‘‘ (معارف الحدیث )

الحاصل! بارگاہِ الٰہی میں تحائف و عطیات کے تبادلہ کے بعد احد اور احمد کے درمیان بہت سی راز و نیاز کی باتیں ہوئیں، قرآن نے صرف اتنا کہہ دیا:پھر پروردگار نے اپنے بندے پر جو چاہی وہ وحی نازل فرمائی۔ یہ محبوب او رمحب کے درمیان راز ہے ، کوئی محبوب اپنے محب کی ملاقات کی باتیں دوسرے کونہیں بتایاکرتا، قرآن نے بھی اسی طرح اجمال کے ساتھ اس کا تذکرہ کردیا۔

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے عطیات :
علماء نے فرمایاہے کہ اس موقع پر حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کواﷲ تعالیٰ کی جانب سے علم و حکمت، معارف وحقائق ،اور انوار و برکات کے جو عطایا اور عظیم ترین خزانے ملے وہ تو بے شمار ہیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی تو مرکز عنایات ربانی تھی،لیکن خاص امت کے تعلق سے جو عطیا ت اور انعامات دیے گئے وہ تین ہیں :
٭ ’’ أُعْطِیَ الصَلٰوَاتِ الْخَمْسَ‘‘ پانچ نمازیں۔
٭ ’’ وَأُعْطِیَ خَواَتِیْمَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ‘‘ سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں ۔
٭ ’’وَغُفِرَ لِمَنْ لاَّیُشْرِکُ بِاللّٰہِ مِنْ أُمَّتِہ شَیْئًا‘‘ شرک نہ کرنے والے کی مغفرت (مسلم، مشکوٰۃ)

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے موقع پر حق تعالیٰ نے جہاں حضورصلی اﷲ علیہ وسلم کو بے شمار نعمتوں ،عنایتوں اور خزانوں سے مالامال فرمایا وہیں آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی امت کو بھی اپنی رحمتوں، عنایتوں اور خزانوں سے نوازنے کے لیے یہ تین عظیم الشان عطیات دیے ،ان میں سے نماز ایک ایسا عطیہ ہے کہ فرشتوں کی عبادتوں کا خلاصہ اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے ،اسی لیے صوفیہ ٔ کرام نے نماز کو معراج المومنین فرمایا ہے ،اور واقعہ یہ ہے کہ خشوع، خضوع اور اﷲ تعالیٰ کے استحضار کے سبب جس نماز میں روح اور حقیقت پیدا ہو جائے اس نماز سے نمازی کی پرواز عرشِ الٰہی اور دربارِ الٰہی تک ہوجاتی ہے ،اس نمازی کا جسم بلاشبہ اپنی (محمدی یا اور کوئی)مسجد میں ہوتا ہے ،مگر اس کی روح گویا دربارِ الٰہی میں ہوتی ہے ۔اسی لیے کسی کہنے والے نے کہا:
تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

بعض علماء نے فرمایا کہ نماز کا اختتام سلام پر ہوتا ہے تو اس میں ایک راز یہ ہے کہ سلام کا ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کوئی کہیں باہر سے آئے ،چوں کہ حقیقی نمازی کی روح آسمانی وروحانی دنیا میں گئی تھی، اب نماز کے اختتام پر واپس آئی،لہٰذا اس نے سلام کیا، اس طرح نماز جو تحفۂ معراج ہے اسی کو مومن کی معراج کہہ دیا۔(و اﷲ اعلم )

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا دوسرا عطیہ خواتیم سورۂ بقرہ ہے ،ان دو آیتوں میں اﷲ تعالیٰ سے مانگنے کا طریقہ اور اس کے وسیع خزانوں سے لینے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے ،حتیٰ کہ درخواست کا مضمون بھی خود اﷲ تعالیٰ نے بتا دیا، گویا حق تعالیٰ نے ان دو آیتوں میں دعا کا مضمون بیان فرماکر ان کے پڑھنے والوں کے حق میں قبولیت کا پروانہ عطاکر دیا ۔

صاحبو ! کیا اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ہے ؟ایسا خالق و مالک جو بتائے کہ میرے پرستارو! مجھے اس انداز و الفاظ سے پکاروگے تو میں تمہاری دعا اور پکار کو قبول کر لوں گا،اس کے علاوہ کوئی نہیں ،اور ہر گز نہیں ،دینے والی ذات اسی کی ہے ،جس کو جو کچھ ملا اسی کے در سے ملا، لہٰذا اسی سے مانگو جس نے اس طرح مانگنا سکھایا: رَبَّنَالاَ تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَ لاَ تَحْمِلْ عَلَیْنَا اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلیٰ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ لاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃَ لَنَا بِہ وَ اعْفُ عَنَّا وَ اغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا أَنْتَ مَوَلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلیٰ الْقَوْمِ الکٰفِرِیْنَ
’’اے ہمارے رب ! ہم سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو ہماری گرفت نہ فرما، اور اے ہمارے رب! ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈالیے جیساکہ آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالاتھا، اور اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ لادئیے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہماری خطاؤں سے در گذرفرمائیے ، ہمیں بخش دیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ، آپ ہی ہمارے حامی و ناصرہیں،اس لیے کافر لوگو ں کے معاملہ میں ہمیں نصرت عطافرمائیے ۔‘‘
ان دو آیتوں میں تمام دعاؤں کے بعد رحم کی اپیل ہے ،اور وہ رحیم ہے ، اس لیے ضرور ہی قبول کر لے گا ۔

معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے موقع پر تیسرا عطیہ امت محمدیہ کی مغفرت کا وعدہ ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ جس کو چاہیں گے بغیر عذاب کے بخش دیں گے ،خواہ وہ مرتکب کبائر ہو یا صغائر ،لیکن شرط یہ ہے کہ شرک نہ کرے ،کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ دل اورعقیدے کے مریض ،بیمار ذہنیت کے بعض لوگ معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی وجہ سے احد اور احمد کو ایک سمجھنے لگ جائیں گے ،اسی لیے پہلے ہی باخبر کر دیا کہ خبر دار ! میری ذات اور (مخصوص) صفات میں کسی کو بھی کسی طرح ذرّہ برابر بھی شریک مت کرنا ،ورنہ میری مغفرت سے محروم رہ جاؤگے :بے شک اﷲ اس بات کونہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایاجائے (سورۃ النساء)

معلوم ہواکہ مشرک شب قدر اور شب برأت ہی میں مغفرت سے محروم نہیں رہتا، وہ محروم القسمت ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتاہے ، وہ شب معراج کی برکات وانوارات سے بھی محروم ہو جاتاہے ،کیونکہ شرک غداری ہے ،جو ناقابل معافی جرم ہے ، گناہ معاف ہو سکتے ہیں، غداریاں معاف نہیں ہو سکتیں ۔

المختصر!معراج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے موقع پر دربار الٰہی سے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم امت کے لیے یہ تین عظیم الشان انعامات وعطیات لے کر واپس لو ٹے اور اس طرح معراج النبی صلی اﷲ علیہ و سلم سے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کی حیاتِ طیبہ کا ایک اور روشن باب کھل گیا ۔حق تعالیٰ اس سے ہمارے دلوں کو بھی روشن فرمادے ۔ آمین۔
جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا ہُوَ أَہْلُہ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ullah Peshawari

Read More Articles by Rizwan Ullah Peshawari: 162 Articles with 107014 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2017 Views: 958

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ