دور حاضر میں خون کیسے سفید ہوتا ہے

(Aslam Lodhi, Lahore)

نماز فجر کے بعد میں امام مسجد قارمی محمداقبال صاحب کے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ (جو بظاہر تو بہت مطمئن دکھائی دے رہے تھے) لیکن جیسے ہی امام صاحب کے قریب بیٹھے تو انہوں نے پھوٹ پھوٹ کررونا شروع کردیا ۔ کچھ دیر تک وہ مسلسل روتے چلے گئے ۔ امام صاحب نے دلاسہ دیتے ہوئے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بزرگ بولے ......قاری صاحب میری یہ بات آپ اپنی کسی کتاب میں لکھ لیں اور یہ بات میری آپ پر قرض ہے ۔اگر آپ نے میری بات پوری نہ کی تو میں آپ کی شکایت بھی رب سے جاکر کروں گا ۔ قاری صاحب نے پوچھا بزرگو کچھ بتاؤ تو سہی..... ہواکیا ہے ۔اس قدر اضطراب اور پریشانی کی وجہ کیا ہے ۔ بزرگ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔قاری صاحب جب میری موت واقع ہوجائے تو جنازہ بھی آ پ نے ہی پڑھانا ہے۔ اس وقت آپ نے دیکھنا ہے کہ اگر میرے بیٹے اور بھائی میری موت پر دھاڑیں مار مار کر رورہے ہوں تو آپ نے اور کچھ نہیں دیکھنا ۔اپنے ہاتھ میں پہلے سے پکڑی ہوئی چھڑی اٹھاکر میرے بیٹوں اور بھائیوں کو خوب پیٹنا ہے اور جنازے میں شریک لوگوں کو بتانا ہے کہ جب ان کا باپ اور بھائی زندہ تھا تو اس وقت انہیں مرنے والے پر ترس نہیں آیا۔ اس وقت یہ بیٹے باپ کی ہر بات اور ہر آرزو کو ٹھوکر مارکر سنی ان سنی کر دیاکرتے تھے ۔آج یہ اسی باپ کی موت پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ۔ان کے دل میں اس وقت باپ کی محبت کیوں نہیں جاگی جب وہ زندہ تھا ۔ یہ سب ڈرامے ہیں جو دنیا والے مرنے والوں پر کرتے ہیں اگر انہیں یہ یقین نہ ہو کہ مرنے والے نے کبھی لوٹ کر نہیں آنا تو شاید میت پر رونے والے بھی اپنے آنسو کسی اور وقت کے لیے سنبھال کررکھ لیں ۔

بزرگ نے کہا قاری صاحب آپ نے جنازے میں شریک لوگوں سے بلند آواز میں پوچھنا ہے کہ مرنے والے کے بھائی کون کون ہیں۔ جب وہ سامنے آئیں تو اگر آپ نے بیٹوں کو دس بار چھڑیوں سے مارا ہے تو بھائیوں کو بیس بار مارنا ہے کیونکہ یہ وہ بے حس بھائی ہیں جنہیں برادران یوسف سے بھی ظالم اور مطلب خور کہاجاسکتاہے۔ جنہوں نے زندگی میں ہی اپنے بڑے بھائی کے دکھ درد کو بھول کر حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح اندھے کنویں میں پھینک رکھا تھا ۔ یہ وہ بھائی ہیں جن کی شادیوں پر میں نے ہزاروں روپے خرچ کیے اور ان کی ہرضرورت کو پورا کیا ۔ لیکن ماں باپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی سب سے پہلے انہوں نے آبائی مکان پر قبضہ کیا اور ماں کے زیورات بھی خودہی ہڑپ کرگئے ۔ کیا میں اس ماں اور باپ کا بیٹا نہیں تھا جو ہر وقت ان کا سایہ بن کر اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ رہتا ۔ قاری صاحب ۔جب میرے باپ کی دونوں آنکھوں میں سفید موتیا اتر آیا تو ان دونوں بھائیوں میں سے کوئی ایک بھی باپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر نہیں گیا کہ جیب سے پیسے نہ خرچ ہوجائیں ۔ جب میں نے پوچھا تو کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہاں جانا ہے اور کس کے پاس آنکھوں کا علاج ہوتا ہے ۔ قاری صاحب ۔ ان سے آپ نے ضرور پوچھنا ہے کہ اپنے سسرال کے گھر کا راستہ بھی کبھی تم بھولے ہو ۔ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے تب بھی یہ اپنے اپنے سسرال پہنچ جائیں گے ۔ بیویاں آہستگی سے کان میں سرگوشی کرتی ہیں تو میرے یہ بھائی دفتروں سے ایمرجنسی کی چھٹی لے کر کئی کئی دن اپنے سسرال میں یہ بھول کر گزار آتے ہیں کہ ان کے پیچھے ایک بڑا بھائی بھی ان کی راہ دیکھ رہا ہے اور اسے بھی ان کی محبت کی ضرورت ہے ۔ جب میں نے والدین کے آبائی گھر (جسے ایک بھائی تو فروخت بھی کرچکا ہے ) حصہ مانگا تو جواب ملا کہ والدین یہ گھر صرف ہم دوبھائیوں کو دے گئے ہیں ۔قاری صاحب آپ نے ان سے ضرور پوچھنا ہے کہ کیا مرحوم والدین کی وراثتوں کی تقسیم شریعت کے مطابق کیا اسی طرح ہوتی ہے ۔ یہ بات میرے وہ بھائی کہہ رہے ہیں جو نہ باپ کو دونوں آنکھوں کا آپریشن کروانے کے لیے ہسپتال لے کر جاسکے ۔جہاں میں سردیوں کی کئی کئی راتیں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر لیٹ کر میں نے گزاری تھیں ۔

میں بھی انکار کرسکتا تھا کیا مجھے سردی نہیں لگتی۔ کیا مجھے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رات گھر پر گزارنا برا لگتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب ان دونوں بھائیوں نے والد کے ساتھ ہسپتال میں رات رہنے سے انکار کردیا تو میں نے کہا ابا جان میں آپ کا بیٹا ہوں اور جتنی بھی سردیوں کی راتیں مجھے آپ کے لیے ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر گزارنی پڑیں ٗ میں انکار نہیں کروں گا ۔ کیونکہ مجھے یادہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو آپ نے میری خاطر کس قدر مشکل حالات کا سامنا کیا تھا ۔ اباجان میں وہ بیٹا نہیں ہوں جو آپ کو پیٹھ دکھاکربھاگ جاؤں ۔میں زندگی کے آخری سانس تک آپ کے ساتھ سایہ بن کے رہوں گا ۔ اس کے باوجود کہ اب آپ کے جسم میں نہ چلنے کی طاقت ہے اور نہ ہی دیکھنے کی قوت ۔اس مشکل گھڑی میں ٗمیں آپ کی آنکھیں بنوں گا اور میں ہی آپ کے پاؤں بن کر آپ کو چلنے میں مدد دوں گا ۔ اباجان ساری دنیا بھی اگر آپ کو چھوڑ جائے لیکن میں آپ کو چھوڑنے کاتصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ میں اپنے رب کے سامنے پانچ وقت جھکتا ہوں اور اﷲ تعالی نے والدین کے منکر اور نافرمان بچوں کے لیے جنت حرام کررکھی ہے ۔اﷲ تعالی کے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اس بات پر آمین کہا جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا لعنت ہو ان پر جن کی زندگی میں والدین کو بڑھاپا آئے اور وہ ان کے صحیح طریقے سے نگہداشت نہ کرسکیں ۔ ابا جان میں تو جنت میں بھی اس وقت نہیں جاؤں گا جب تک مجھے آپ کا اور ماں کاساتھ نہ ملے گا ۔ مجھے یاد ہے قاری صاحب اس وقت میرے نابینا باپ کی آنکھوں میں کس قدر آنسو تیر رہے تھے وہ عاجزی اور انکساری کی تصویر بنے میری گفتگو سن رہے تھے ۔ پھر اﷲ تعالی کے کرم سے اور ڈاکٹر واصف محی الدین کے آپریشن سے میرے والد کو دونوں آنکھیں واپس مل گئیں اور وہ زندگی کے آخری سانس تک دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے اور اپنے قدموں پر چلتے پھرتے رہے۔

قاری صاحب ۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب میرے والد کو پیشاب میں خون آنے لگا ۔ غدود بڑھنے کی بنا پر پیشاب میں بھی رکاوٹ پیدا ہوچکی تھی ۔ عید کا دن تھا اور میرے یہ بھائی اپنے بیوی بچوں میں ہنسی مذاق کررہے تھے لیکن میرے کان باتھ روم کی جانب لگے ہوئے تھے جہاں میرے والد کوپیشاب کرنے میں سخت تکلیف کا سامنا تھا اور ان کی تکلیف بھری آواز واش روم سے باہر آرہی تھی ۔ میں عید کیسے منا سکتا تھا۔ میں نے والد کو عید والے دن ہی اپنی بائیک پر بٹھایا اور ڈاکٹر کی تلاش میں نکل پڑا ۔عید کی وجہ سے ہر کلینک بند تھا پھر میں ہسپتال لے گیا جہاں چند ڈاکٹر موجود تھے انہوں نے ہسپتال میں داخل کرنے سے تو انکار کردیا لیکن ایسی دوائی دے دی جس سے پیشاب میں خون آنا وقتی طور پر بندہوگیا اور تکلیف بھی کچھ کم ہوگئی ۔ کیا اس وقت میرے ان بھائیوں کو (جنہوں نے باپ کی کمائی سے خریدے ہوئے مکان پر قبضہ کرلیا ہے ) باپ یاد آیا تھا ۔ قاری صاحب ان سے پوچھیں کہ کیاباپ سدا جوان ہی رہتا ہے کیا انہوں نے خود کبھی بوڑھا نہیں ہونا ۔ والد کو دنیا سے رخصت ہوئے 23 سال ہوچلے ہیں ۔ ان کوصرف ایک مرتبہ ہی قبر پر آنا نصیب ہوا اور وہ بھی اس وقت ٗ جب انہیں دفن کرنے آئے تھے ۔قبر میں اترتے ہی باپ کیوں بیگانہ ہو گیاہے ان لوگوں کے لیے ۔ کیا قبرمیں باپ کو ان کی دعا اور خیرات کی ضرورت نہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا تو ارشا د ہے کہ میت دفن کرنے کے بعد اتنا وقت قبر پر قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی رہی جتنا وقت اونٹ کوذبح کرنے اور اسکاگوشت بنانے میں صرف ہوتا ہے ۔ کیا والد کے مکان پر قبضہ کرنے والے میرے ان بھائیوں کومرنے کے بعد باپ بھول چکا ہے ۔ نہ وہ مسجد جاتے ہیں اور نہ ہی انہیں موت کا خوف آتا ہے ۔

قاری صاحب ۔ میں کتنے عرصے سے آپ کے پیچھے نماز پڑ ھ رہا ہوں ۔سارے دکھوں کو میں نے اپنے سینے میں سمو رکھا ہے لیکن اب مجھ سے اور برداشت نہیں ہوتا ۔میرا دل زخموں سے چور ہے ۔ مجھے وہ کندھا نہیں ملتا جس پر میں سر رکھ کر جی بھر کے رو لوں ۔ لوگ میرا مذاق اڑائیں گے کہ بڈھا پاگل ہوگیا۔لیکن آپ تو اﷲ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔اﷲ اور اس کے رسول ﷺ سے پیار کرنے والے ہیں ۔میری یہ دکھ بھری داستان آپ ہی کو سننی پڑے گی ۔ قاری صاحب ۔ میرے ان بھائیوں سے پوچھو جب ان کی شادی کے لیے ماں کو پیسوں کی ضرورت تھی تو کس نے پیسوں کا انتظام کیا تھا کس نے روتی ہوئی ماں کی آنکھوں سے آنسو پونچھے تھے ۔ یہ بھائی تو یہ کہہ کر گھر سے باہر نکل گئے تھے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ۔جبکہ ان کے بنک اکاؤنٹ میں پیسے موجود تھے ۔ قاری صاحب ۔ جب ماں آنسو بہارہی تھی کہ شادی کی تاریخ مقرر ہوگئی لیکن پیسوں کا انتظام نہیں ہو پارہا تو میں اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکا۔ میں نے اپنے بیو ی بچوں کو بھو ل کر کہا ماں جی میری جان بھی آپ پر قربان ہے ۔ آپ فکر نہ کریں جتنے پیسے آپ کو شادی کے لیے چاہیں ٗ میں دوں گا ۔ میری اس بات پر ماں کو کچھ حوصلہ ملا اور وہ روتی روتی ہنس پڑی اور بولی بیٹا کیا تمہارے بیوی بچے نہیں ہیں پھر تم کیوں مجھے روتا ہوا دیکھ کر پیسے دینا پر آمادہ ہو۔ تم بھی چپ چاپ آنکھیں بچا کر گھر سے باہر نکل جاتے ۔ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا ؟میں نے ماں کی آغوش میں سر رکھ کر کہا ۔ ماں جی میری زندگی کاایک ایک لمحہ اور میرے جسم کاایک ایک قطرہ خون صرف اور صرف آپ کی خوشنودی کے لیے ہے ۔ میں آپ کے بغیر اپنے وجود کا تصوربھی نہیں کرسکتا ۔ مجھے یاد ہے آپ نے میری پرورش کے لیے کس قدر تکلیفیں برداشت کیں ٗ اپنے دامن پر پہنے ہوئے کپڑوں پر آپ نے کتنے پیوند لگائے ہوئے تھے ۔ ہمارا پیٹ بھرنے کے لیے کتنی مشکل سے لکڑیوں کو آگ لگاکر آپ کھانا تیار کرتیںٗ جب سارا گھر دھویں سے بھر جاتا اورآپ کی آنکھیں بھی دھویں کی وجہ سے سرخ ہوجاتیں ۔کیا آپ نے اس وقت ہمارا پیٹ بھرنے کے لیے روٹی پکانے سے انکار کیا تھا ۔ سوئی گیس تو اب آیا ہے پہلے تو دو دوگھٹنے آگ جلانے میں ہی صرف ہوجایا کرتے تھے۔ ماں جی مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب آپ روٹی پکانے کے بعد توے کو الٹا کھڑا کرتیں تو توے کے پیچھے سیاہی پر سرخ رنگ کے ٹمٹاتے ہوئے ستارے رقص کرتے اور جلتے بجھتے دکھائی دیاکرتے تھے ۔ان ستاروں کو دیکھ کر آپ اپنے تمام دکھ بھول کر کہتی یہ میرے بیٹے کی بارات آرہی ہے ۔ وہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں سنائی دیتے ہیں ۔

ماں جی۔ میں کیسے بھول جاؤں جب بچپن میں مجھے بخار ہوا تو آپ کتنی راتیں صرف اور صرف میری وجہ سے سو نہیں سکی تھی ۔ گھر کے سب افراد سو جاتے میرے مونہہ سے معمولی سی ہائے نکلتی توماں صدقے ماں واری کہہ کر آپ میری تکلیف کو رفع کرنے کی کوشش کرتیں۔ ماں جی بخار تو مجھے اس وقت بھی ہوتا لیکن میں آپ کو تسلی دینے کے لیے جھوٹ موٹ کہہ دیتا کہ میں ٹھیک ہوں ۔ مجھے پتہ تھا کہ آپ کو میری تکلیف بے چین کردیتی ہے میرے سکون کے لیے آپ نے کتنی راتیں آنکھوں میں جاگ کر گزاریں اور کتنے دن پریشانی میں بسر کیے ۔ سب کو چھوڑ کر آپ کی توجہ کا مرکز صرف میں ہی ہوتا ۔ میں وہ وقت کیسے بھول جاؤں ۔

ماں جی مجھے وہ سردیوں کی رات بھی یاد ہے جب ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں سورہے تھے کہ طوفانی بارش نے پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا ۔گھر کی چھت اس قدر بوسیدہ تھی کہ شاید ہی کوئی جگہ ہوگی جہاں سے بارش کا پانی نہ رستا ہو ۔ آپ نے ہماری نیند کی خاطر بستر کو چھوڑ کر اپنی رضائی بھی ہم پر ڈال دی تھی تاکہ بارش کا پانی ہم تک نہ پہنچ پائے اورنیند نہ خراب کردے ۔ اس رات فرش پر چار انچ بارش کا پانی کھڑا ہوگیا تھا جس میں آپ کھڑی ہوکر ہمارا تحفظ کرتی رہیں ۔ اس لمحے میں نے خود نیند سے بیدار ہوکر دیکھا کہ آپ بارش کے پانی میں ساری رات چلتی پھرتی رہیں جس سے آپ کو بخارآگیا تھا جو علاج کے باوجود کئی دن تک چلتا رہا ۔ وہ قیامت جیسی رات مجھے کبھی نہیں بھول سکتی۔

قاری صاحب..... میں کیا کیا باتیں آپ کو بتاؤں ۔ دل چاہتا ہے کہ اپنا سینا کھول کر آپ کے سامنے رکھ دوں اور آپ خود دیکھ لیں کہ میرے اندر اپنوں کی بے رخی کتنے زخم ہیں اور کس قدر طوفان اٹھ رہے ہیں ۔ میں کس کو اپنے پیٹ کا درد سناؤ ں۔ اگر میں کسی سے بات کرتا ہوں تو اپنا ہی پیٹ ننگا ہوتا ہے ۔ پھر کسی کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ یہ داستان درد سنے اور مجھے حوصلہ دے ۔

قاری صاحب میری والدہ کے جگرمیں اچانک پتھر یاں نمودار ہوگئیں ۔ڈاکٹر آپریشن پر زور دے رہے تھے ۔ماں آپریشن کروانا نہیں چاہتی تھی ۔ اب میں تیسرے راستے کی تلاش میں تھا تاکہ وقتی طور پر درد کی شدت کو ممکن حدتک کم کیا جاسکے ۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ شاہدرہ سے کالا خطائی روڈ پر 20کلومیٹر کے فاصلے پر ایک حکیم ہے ۔جس کا نام بابا گردوں والاہے ۔ آپ اگر اپنی والدہ کو اس کے پاس لے جائیں تو ہوسکتا ہے شفا مل جائے ۔ اس وقت ماں کی تکلیف کو دیکھ کر نہ مجھے دن کو سکون تھااور نہ رات کو ۔ جب بھی میں آنکھیں بندکرتا تو ماں تکلیف میں تڑپتی نظر آتی اور میں اٹھ کر بیٹھ جاتا ۔ بیگم میری پریشانی کو دیکھ کر اسکی وجہ پوچھتی تو اسے جھوٹ موٹ کوئی کہانی سنا دیتا۔ لیکن میرے جسم میں ایک ایسا درد مسلسل اٹھ رہا تھا کہ اگر ماں تکلیف ہے تو میں کیسے سکون سے رہ سکتا ۔ مجھے عباس تابش کا ایک شعر یاد تھا ۔
مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش
میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

جب ماں ٗبچے کو ڈر سے بچانے کے لیے اپنی نیند قربان کرسکتی ہے اور خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور بچے کو سوکھی جگہ سلاتی ہے تو مجھے سکون کیسے مل سکتا تھا ۔ قاری صاحب ......ساری دنیا گواہ ہے اور میرے یہ دونوں بھائی بھی جانتے ہیں کہ میں خطرات سے گھبرائے بغیر اکیلا اپنی بائیک پر ماں کو بٹھا کر گاؤں کی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر (یہ ڈرے بغیر کہ اگر بائیک پنکچر یا خراب ہوگئی تو کیا ہوگا )45 کلومیٹر دوراس گاؤں جا پہنچا جہاں وہ حکیم رہتا تھا ۔ دو تین مرتبہ مجھے وہاں جانا پڑا اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ماں بالکل ٹھیک ہوگئی اور جگر کی پتھری نے پھر مرتے دم تک ماں کو پریشان نہیں کیا۔

قاری صاحب۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب 10 جون کو میری والدہ سخت بیمار تھیں اور ان میں سے ایک بھائی ماں کو تشویش ناک حالت میں چھوڑ کر ڈیوٹی پر چلا گیا اور دوسرا اپنے کمرے میں بیگم کے ساتھ مصروف گفتگو تھا اور ماں اکیلی برآمدے میں رکھے ہوئے صوفے پر درد کی شدت سے کراہتے ہوئے مجھے پکار رہی تھی ۔ جیسے ہی ماں کی بیماری کی اطلاع مجھے ملی تو میں سب کچھ چھوڑ کر ماں کے پاس پہنچ گیا ۔اس لمحے ماں پر موت کی غنودگی طار ی تھی ۔ ماں میری آواز کو سنتے ہی کہنے لگی ۔ بیٹا اچھا کیا تم آگئے ہو۔ صبح سے ہی مجھے الٹیوں نے بے حال کررکھا ہے ۔ مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔ میں نے کہا ماں جی آپ بالکل پریشان نہ ہوں ۔میں آگیا ہوں ۔اﷲ نے چاہاتو آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گی ۔ اس وقت میرے یہی بھائی اپنے کمرے سے نکلنے کی تکلیف گوارہ نہیں کررہے تھے ۔ ماں کو گاڑی پر لیٹا کر سروسز ہسپتال لے گیا اور ایمرجنسی وارڈ میں ان کا علاج شروع کروایا ۔ ماں جب کچھ بہتر ہوگئی تب میں گھر واپس آیا اور اپنی جگہ بیٹے شاہدکو ہسپتال چھوڑ آیا ۔سہ تین بجے جب میں دوپہر کا کھانا کھاکر ہسپتال جانے کے لیے گھر سے نکلا تو بیٹے شاہدکا فون آیا کہ دادی فوت ہوگئی ہیں ۔یہ سننا ہی تھاکہ جسم سے میری بھی جان نکل گئی ۔میرے جسم کے ہر ہرحصے سے چیخ و پکار شروع ہوگئی۔ باپ تو پہلے ہی فوت ہوچکا تھا اب ماں بھی ہمیں چھوڑکر ایسی دنیا میں جابسی جہاں سے کو ئی واپس نہیں آتا ۔

حسن اتفاق سے 10 جون 2007ء کے اس دن سورج سوا نیزے پر تھا اور صبح ہی سے گرمی کا ٹمپریچر 48 تک پہنچ گیا تھا ۔ انسان ہوں یا جانور پیاس سے زبانیں حلق سے باہر نکلی ہوئی تھیں ۔ قاری صاحب ۔ میں بتا نہیں سکتا کہ اس وقت میری حالت کیا تھی اور میں کس کرب کا شکار تھا ۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میرے سر سے آسمان ہٹ گیاہے اور سورج میرے سر کے اوپر آپہنچا ہے۔ دل پھٹا جارہا تھا ۔ آنسو تو روکنے کانام بھی نہیں لے رہے تھے میں اپنے گھر میں ہی دھاڑیں مارمار کر بچوں کی طرح رونے لگا کیونکہ میری تو دنیا ہی اجڑ چکی تھی ۔میں تو وہ شخص ہوں جس نے کبھی ماں کی جدائی کا تصور بھی نہیں
کیا تھا ۔ موت بھی کس قدر بے رحم ہوتی ہے کہ وہ رشتوں کے تقدس کو بھی نہیں جانتی۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مرنے والے کے بچے ماں کی جدائی میں کس حال میں ہوں۔ ان پر ماں کی موت پر کیا کیفیت طاری ہوگئی ۔ موت کا فرشتہ اپنا کام دکھاکر چلتا بنا اور اپنے پیچھے ماں کی یادوں کے لامحدود سلسلے چھوڑ گیا ۔ روتا کرلاتا میں جب اس گھر پہنچا جہاں ماں میری آمد پر ہمیشہ اٹھ کے بیٹھ جاتی تھی ۔ نہ جانے کس سفر پر وہ روانہ ہوچکی تھی ۔ میں نے بار بار انہیں سلام کیا مجھے کوئی جواب نہ ملا ۔کسی نے اٹھ کر میرے سر پر ہاتھ بھی نہیں رکھا ۔ ماں ہمیں چھوڑ کر بہت دور بہت دور جاچکی تھی ۔

عشا کے بعد نماز جنازہ کاوقت مقرر کیاگیا ۔ جب سنی ویو گلبرگ تھرڈ لاہور کے قبرستان میں ماں کا جنازہ پڑھایا گیا اور نماز جنازہ کے بعد تدفین کرکے سب لوگ قبرستان سے باہر نکل رہے تھے تو میں نے قاری افتخار صاحب سے اجازت لے کر اس قدربلند آواز میں اذان دی کہ قبرستان کا شاید ہی کوئی حصہ ہوگا جہاں رات گیارہ بجے میری اذان کی آواز نہ پہنچی ہو ۔ پورا قبرستان اﷲ اکبر کی صدا سے گونج رہا تھا ۔میں نے اکثر علمائے کرام سے سن رکھا تھاکہ تدفین کے وقت اگر قبر پر اذان دی جائے تو مرنے والا اذان کی آواز سن کر قبر میں ہی سجدہ ریز ہوجاتاہے جس سے قبر کا حساب کتاب آسان ہوجاتا ہے ۔ میں چونکہ ریلوے کوارٹروں میں جہاں میرے والد ین 1964 سے 1984ء تک رہائش پذیر تھے وہاں کی مسجد میں سپیکرکے بغیر ہی اتنی اونچی آواز میں اذان دیا کرتا تھا کہ اذان کی آواز میری ماں تک پہنچ جا یاکرتی تھی اور وہ قریب بیٹھی ہوئی سہلیوں کومخاطب ہوکر کہا کرتی تھی ۔اے بہن تم سن رہی ہو میرا بیٹا اذان دے رہا ہے ۔ مجھے کامل یقین تھا کہ قبر میں بھی جب ماں نے میری اذان کی آواز سنی ہوگی تو ان کی خوشی بے حساب ہوگی ۔ جب اذان ختم ہوئی تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ قبر پر رکھے اور ماں کو اس طرح اﷲ کے سپرد کردیا جس طرح گھر سے دفتر جاتے ہوئے ماں مجھے ہر روز اﷲ کے سپرد کیا کرتی تھی ۔ اور اﷲ میری حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کردیتا تھا۔ یہ ماں کی دعاؤں کاہی نتیجہ تھا کہ بے شمار حادثات سے آج تک بچتا چلا آرہا ہوں ۔کئی مرتبہ محسوس ہوا کہ اب میری موت یقینی ہے لیکن کوئی غیبی ہاتھ درمیان میں آتا اور مجھے اس مشکل حادثاتی صورت حال سے نکال کر دور لے جاتا۔

قاری صاحب ۔ میرے بھائی اس قدر سنگدل ہیں کہ ماں باپ کی جائیداد پر قبضہ تو انہوں نے کر ہی لیا ہے ۔مجھے جیسے بڑے بھائی کو بھی وہ زندگی میں ہی بھول چکے ہیں میں 63 سالہ زندگی میں پانچ مرتبہ آپریشن کے مشکل ترین مرحلے سے گزر چکا ہوں ۔میرے ان بھائیوں نے دوران آپریشن خون دینا تو دور کی بات ہے میری خیریت پوچھنے بھی ہسپتال نہیں آئے ۔ جب میں ہسپتال سے ڈسچارج ہوگیا تب بھی ان کے قدم میرے گھر کی جانب اٹھنا بھول جاتے ہیں ۔کسی نے کیا خوب کہاہے کہ دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرلیتے ہیں یہ دشمنوں سے گئے گزر ے ہیں ۔ آج تک میرے ذہن میں یہ خلش اور کسک باقی ہے کہ میں کس قدر بے رحم خاندان میں پیدا ہوا ہوں جہاں مقدس رشتوں اور انسانی قدروں کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔

قاری صاحب ......میری اہلیہ کے بھی دو تین آپریشن ہوچکے ہیں نہ یہ خود مزاج پرسی کے لیے تکلیف گوارہ کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے بیوی بچے ۔ ہم عمرے پر گئے بیگم کا سارا خاندان الوداع کرنے ائیرپورٹ پر موجود تھا لیکن میرا خاندان زندہ ہونے کے باوجود غیر حاضر تھا ۔ کوئی ایک فرد بھی مجھے الوداع کرنے اور واپسی پر مبارک دینے نہیں آیا ۔ اس لیے قاری صاحب میں یہ ذمہ داری آپ کو تحریر ی طور پر دے رہا ہوں کہ جب یہ میری موت پر مگرمچھ کے آنسو بہانے لگیں تو آپ نے ان کو ایسی سزا دینی ہے کہ ساری دنیا نفرت کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگے ۔ اگر آپ خود لاٹھی چارج نہیں کرسکتے تو کسی اور شخص کی ڈیوٹی ضرور لگا دینا تاکہ ان جیسے مقدس رشتوں کے دشمن لوگوں کو بروقت سزا دے کر ذلیل و خوار کیاجاسکے ۔

قاری مجھ پر جتنے ظلم وستم بھائیوں نے کیے ہیں اگر میرے بیٹے (جو اب ماشا اﷲ جوان ہوچکے ہیں) ہی میرا سہارا بن جاتے تو شاید میں یہ سارے دکھ اور پریشانی بھول جاتالیکن میرے بیٹے بھی میری بات کو سنی ان سنی کرکے رفوچکرہوجاتے ہیں اورمیں ان کا چہرہ دیکھتا رہ جاتا ہوں ۔ ماں کی آدھی آواز میں بھی پوری دنیا کا چکر لگا آتے ہیں لیکن باپ کی اونچی آواز بھی سننا گوارا نہیں کرتے ۔ یہ وہی بچے ہیں جنہوں نے میری انگلی تھام کر زمین پر چلنا سیکھا ۔ہر روز دفتر جانے سے پہلے یہ بات میری ڈیوٹی میں شامل تھی کہ میں انہیں بائیک پر بٹھا کر پہلے سیر کروں پھر اپنے دفتر روزانہ ہوں ۔ اگر کبھی جلد ی میں ایسا نہ کرسکتا تویہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھالیتے اورشام تک رو رو تک اپنا برا حال کرلیتے ۔ میں نے تین تین نوکریاں کرکے ان کے تعلیمی اخراجات پورے کیے ۔ میں رات بارہ بجے تک بیٹھ کر محنت مزدوری کرتا رہا تاکہ ان کے سر پر اپنے گھر کی چھت کھڑی کرسکوں میں نے اپنے پیٹ پھر پتھر باندھ کر جو بھی پیسے تنخواہ سے بچتے ان پیسوں سے گھر کو رہائش کے قابل بنایا ان کے زندگی کی ہر آسائش خریدی ۔ جب یہ ٹھنڈا پانی پینے کے لیے بھی پڑوس سے برف مانگ کرلایا کرتے تھے اور پڑوسی برف دیکھنے کی بجائے نفرت سے اپنا دروازہ بند کرلیا کرتے تھے میں نے ادھارمانگ کر ان کو گرمیوں میں ٹھنڈا پانی پلانے کے لیے فریج خریدا پھر ان کے لیے پہلے بلیک اینڈ وائٹ پھر رنگین ٹی وی خرید کرلایا ۔ہر عید بکر عید پر ان کے لیے نئے کپڑے اورنئے بوٹ خرید کر لاتا ۔ سکول چھوڑنے اور واپس لانے کے لیے بھی دفتر سے افسران کی جھڑکیں کھاکر نکلتا اور اپنے بچوں کو گھر پہنچا کر واپس دفتر پہنچتا ۔

وہی بچے جو کبھی میری انگلی تھام کر بازار جانے کی ضد کیا کرتے تھے اب جبکہ مجھے ان کے سہارے کی ضرورت ہے تو ان کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ وہ مجھے اپنے انگلی کے سہارا چلنے پھرنے میں سہولت فراہم کریں ۔میں نے ایک مرتبہ ٹریفک پولیس کے دفتر لائسنس کی تجدید کروانے جانا تھا میں نے بڑے بیٹے سے درخواست کی تواس نے صاف جواب دے دیا کہ مجھے دفتر سے چھٹی نہیں ملتی ۔ میں نے کہا جب بیگم کے ساتھ کہیں جانا ہوتا ہے تواس وقت چھٹی کیسے مل جاتی ہے ۔ میری اس بات کا بیٹے نے جواب دیا کہ بیگم کے ساتھ میرا نکاح ہوا اس لیے اس کے لیے چھٹی مل جاتی ہے ۔ گویا ماں اور باپ کی اب اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ چنانچہ میں کسی اورکا سہارا لے کر ڈرائیونگ لائسنس بنوانے گیا اور وہاں چلنے پھرنے اور کھڑے رہنے سے جومیری حالت ہوئی اسکا ذکر الفاظ میں نہیں کیاجاسکتا ۔

قاری صاحب ....آپ میری باتیں سن رہے ہیں نا ۔ ایک مرتبہ بجلی کا بل میری مالی اوقات سے بہت زیادہ آگیا تو میں نے کہا بیٹالیسکو اتھارٹی کے دفتر جاکر یہ بل کچھ کم کروالائیں ٗ دونوں بیٹوں نے میری بات کو سنی ان سنی کر دیا اور اپنے اپنے دفترچلے گئے ۔ بجلی کا کنکشن لگوانے کے جتنے پاپڑ میں نے بیلے تھے انہیں اس بات کاکوئی احساس نہیں تھا ۔ جب میں لیسکو کے دفتر پہنچا تو نظر کی کمزوری کی بناپر سیڑھی کا ایک سٹیپ مجھے دکھائی نہ دیا اور میں فرش پر گرا پڑا ۔ ایک گھٹنے کے آپریشن کی وجہ سے میں اٹھ نہیں سکتا تھا ۔ارد گرد سے گزرنے والے لوگ مجھے حسرت سے دیکھ کر آگے پیچھے ہورہے تھے پھر ایک نوجوان آگے بڑھااور اس نے اپنے ہاتھ کاسہارا دے کر مجھے کھڑا کیا۔ وہ سہارا جو میرے بیٹے کو دینا چاہیئے تھا وہ سہارا کسی اجنبی نوجوان نے دیا ۔میں اپنی نظر اور جسمانی کمزوری کا تماشہ دکھاکر جب لیسکو کے دفترمیں داخل ہوا تو وہاں بل ٹھیک کروانے والوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی ۔ اس پیرانہ سالی میں جب کہ مجھ سے چند منٹ بھی کھڑا نہیں ہواجاتا ۔ آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا پڑا ۔ ارد گرد کہیں بیٹھنے کی جگہ موجود نہیں تھی ۔ پھر جب بل کلرک سے مخاطب ہونے کی باری آئی تو کلرک جو بات دھیمے لہجے میں کہہ رہا تھا وہ سماعت کی کمی کی بنا پر مجھے سمجھ نہ آئی ۔ میں نے اسے دوبارہ بتانے کے لیے کہا اس نے پھر اپنا فقرہ دھرایا جب دوسری بار بھی مجھے بات کی سمجھ نہ آئی تو اس نے بل میرے ہاتھ میں تھما کر دونوں ہاتھ جوڑے اور کہا بابا معاف کرو کسی ایسے بندے کو یہاں بھیجو جس کے کان ٹھیک ہوں ۔اس لمحے میں کبھی اپنی بے بسی کوکوستا توکبھی اپنی اولاد کے بے حسی کودیکھتا۔

پھر وہاں ایک شخص نے میری مددکی اور اس کے توسط سے بل کی رقم کچھ کم ہوئی ۔ اس لمحے مجھے خود پر غصہ آیا ۔ سیانے کہتے ہیں ہانڈی ابلے گی تو اپنے ہی کنارے جلائے گی ۔ شام ڈھلے جب بیٹے گھر پہنچے تو سلام کیے بغیر ہی اپنے کمرے میں جا پہنچے۔ انہوں نے آدھے منہ سے بھی نہیں پوچھا کہ ابا جان بل ٹھیک ہوگیا کہ نہیں ۔آپ کو وہاں کسی دقت کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا ۔ ان کی بلا سے بجلی کا میٹر عدم ادائیگی کی وجہ سے کٹے یا گیس کا ۔ وہ اپنی دنیا میں مگن اس انتظار میں ہے کہ باپ کی آنکھیں بند ہوں اور باپ کے بنائے ہوئے گھر کوتقسیم کرلیں یا اس کو فروخت کرکے آپس میں بانٹ لیں ۔اس وقت یہ سب ضرور کہیں گے کہ یہ گھر ان کے باپ کا ہے ۔ اسے باپ سے زیادہ نہایت مشکل سے بنائے ہوئے گھر میں دلچسپی ہے ۔ کیا بیٹے بھی جوان ہوکر اس قدر تبدیل ہوجاتے ہیں کیا انہیں اپنا بچپن بھی یاد نہیں رہتا جب وہ ہر قدم پر باپ کی کمی محسوس کرتے ہیں ۔جب وہ باپ کو ہر مشکل وقت میں سر پر تنا ہوا آسمان تصور کرتے ہیں لیکن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہے یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ قاری صاحب ایسا کیوں ہے ؟ کیا اولاد کی رگوں میں باپ کا خون نہیں دوڑتا ۔ ؟

قاری صاحب ۔ چند سال پہلے کی بات ہے ہم دونوں باپ بیٹا ایک ہی دفتر میں ملازمت کرتے تھے۔ میری میز اس کی میز سے چندفٹ کے فاصلے پر تھی۔ ایک دن اچانک مجھے اس قدر کھانسی اٹھنے لگی کہ اردگرد بیٹھے ہوئے تمام ملازمین اور افسر تشویش میں مبتلا ہوکر میرے اردگرد جمع ہوکر مزاج پرسی کرنے لگے ۔ اس وقت میرا بیٹا اپنی میز پر بیٹھا سکون سے کام کررہا تھا ۔ جسے یہ کہنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ابا جی طبیعت اگر ٹھیک نہیں تو میں آپ کوکسی ڈاکٹر کے پاس لے چلوں ۔ وہ اپنی دنیا میں مگن کام کرتا رہا۔ چند دن بعد کا واقعہ ہے ۔ جمعہ کا دن تھا ۔اس بات کا میرے گھر والوں اور دفتر میں کام کرنے والوں کو علم تھا کہ میں الحمد اﷲ تمام نمازیں پڑھتاہوں اور جمعہ کا اہتمام تو سید الایام کی حیثیت بطور خاص کرتا ہوں ۔یادداشت کی کمزوری کی بناپر مجھے یادنہ رہا کہ آج جمعہ کادن اور نماز جمعہ پڑھنے بھی مجھے دفتر سے دورکسی جامع مسجد میں جانا ہے ۔ میں دفتر میں ہی بیٹھا نماز ظہر کا انتظار کرتا جب سارا دفتر خالی ہوگیا تو مجھے ایک فون کال آئی تو مخاطب ہونے والے شخص نے پوچھا سر آپ نماز جمعہ پڑھ نے نہیں گئے ۔ جب اس کے یہ الفاظ میری سماعت سے ٹکرائے تو یوں محسوس ہوا جیسے مجھ پر بجلی گر گئی ہو ۔ دونوں ہاتھوں سے میں نے سر کو پکڑلیا۔ اف میرے خدایا یہ کیاہوگیا میں نماز جمعہ پڑھناہی بھول گیا۔ جب میں بائیک نکال کر کسی ایسی مسجد کی تلاش میں سرگرداں تھا جہاں کچھ دیر بعد جمعہ کی نماز ہوتی ہے تو میں یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ میرا بیٹا نماز جمعہ پڑھ کراپنے دوستوں کے ساتھ واپس آرہاتھا ۔ اسے دیکھ کر تو میرا دماغ خراب ہوگیا پھر میرے منہ میں جو کچھ آیا میں نے اس کو کہہ دیا ۔

قاری صاحب میرا داستان غم بہت طویل ہے آپ تھک جائیں گے لیکن میں بولتا رہوں گا ۔ میں تو ایسے بندے کی تلاش میں ہوں جو میرے دل کابوجھ کم کرسکے ۔ چونکہ آپ کو اﷲ تعالی نے ایک درد منددل عطا کیا ہے اور آپ دکھی اور پریشان حال انسانوں کے دکھوں کے مداوا کرتے ہیں ۔ دعاکے وقت میرے لیے بھی چند الفاظ اداکردیاکریں ۔آپ سے آخری درخواست یہ ہے کہ اگر آپ خود میری نمازجنازہ سے پہلے میرے بھائیوں اور بیٹوں پر لاٹھی چارج نہ کرسکیں تو کم ازکم ان سب کو لوگوں کے سامنے شرمندہ ضرور کردینا تاکہ ان جیسے معاشرے میں رہنے والے اور لوگوں کو بھی عقل آسکے ۔ بزرگ جاتے ہوئے یہ بھی کہہ گئے قاری صاحب یہ میرے دکھوں کی پہلی قسط ہے کسی دن پھر موقع ملا تو چندمزید واقعات آپ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ میں نے آپ کا بہت قیمتی وقت لیا ہے جس پر معذرت خواہ ہوں ۔
....................
میں نے محسوس کیا کہ جب وہ بزرگ اپنی داستان غم سنا رہے تھے تو قاری محمداقبال صاحب کی آنکھوں میں بھی آنسو چھلک رہے تھے۔ وہ بار بار اپنے جذبات پر کنٹرول کرتے اور بزرگ کا دل رکھنے کے لیے ہاں ہاں کررہے تھے کیونکہ جس قسم کے واقعات انکے گوش گزار ہوئے انہیں جاننے کے بعد کوئی بھی شخص آپے سے باہر ہوسکتا ہے ۔ میری حالت بھی قاری صاحب سے مختلف نہ تھی لیکن ہمارے قریب ہی ایک صاحب اور بیٹھے یہ ساری باتیں بہت غور سے سن رہے تھے ان کانام محمدنذیر ہے وہ فیصل آباد کے رہنے والے ہیں اور واپڈا میں ہیڈ ڈرافٹسمین ہیں ۔ ان کاشمار خوش قسمت باپوں میں ہوتا ہے جو اپنے بیٹے کوہ ہمالیہ سر کرنے کا حکم جاری کریں توبیٹا کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گااور ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچ کر دم لے گا ۔ میں سمجھتا ہوں یہ نذیر صاحب پر اﷲ تعالی کا کرم ہے۔ کسی انسان کی اپنی کوئی خوبی نہیں ہے ۔ اﷲ جس کا چاہتا ہے دل نرم کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پتھر بنادیتا ہے ۔ فرق صرف اتناہے کہ نذیر صاحب کے بیٹے پابندصلوۃ ہیں اوروہ خدا سے ڈرنے والے ہیں جبکہ جولوگ رب سے بھی ڈرتے ہیں ان کو والدین کے دکھ درد کا احساس کیسے ہوسکتا ہے ۔ بدقستمی سے ہم اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں داخل کروا کر انگریز تو بنانا چاہتے ہیں لیکن مسلمان بنانے کے لیے ہم نے کبھی توجہ نہیں دی۔ انگریز تو پھر انگریزوں جیسی ہی حرکتیں کریں گے ان سے والدین سے حسن سلوک کی توقع رکھنا بہت مشکل ہے ۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ جن بچوں کے سینے میں قرآن ہوتا ہے وہ والدین اور بزرگوں کی نافرمانی سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ اﷲ تعالی کا حکم ہے کہ جو نوجوان اپنے والدین کی عزت اور خدمت نہیں کرے گا وہ دوزخ میں جائیگا اس پر اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ کی لعنت پڑیگی اوروہ نوجوان جو دنیاکوہی اول و آخر تصور کربیٹھتے ہیں انہیں آخرت کا خوف بھی نہیں ہوتا وہ اسلامی سانچے میں خودکوکیسے رنگ سکتے ہیں ۔یہ کہانی صرف ایک بزرگ کی نہیں ہے دور حاضر میں ہزاروں بزرگ ایسی ہی صورت حال سے دوچارہیں ۔جن میں سے کچھ اولڈ پیپلز ہوم میں بیٹھے روزانہ اپنے بیٹوں کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2017 Views: 444

Comments

آپ کی رائے