حکمت آمیز باتیں-حصہ ہشتم

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBokhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں۔

جن کو اپنے مستقبل کی فکر ہوتی ہے وہ آدھے دن تک سویا نہیں کرتے ہیں۔

غصے میں کئے گئے فیصلے اکثر تکلیف دیتےہیں۔

آج کل یہ وبا عام ہو گئی ہے کہ ہر کوئی خود کو کسی نہ کسی جادو کے اثرات کا شکار سمجھتا ہے، کوئی اس جانب توجہ نہیں دیتا ہے کہ نفسیاتی یا کوئی جسمانی یا منفی سوچ کی وجہ سے بھی اس کے ساتھ عجیب و غیریب مسائل ہو سکتے ہیں یا دین سے دوری بھی اسکی وجہ ہو سکتی ہے۔

زندگی سے ایک تلخ سبق سیکھا ہے کہ کسی کو بھی اتنا موقعہ نہ دو کہ وہ آپ کو کمزور کرکے چلا جائے اور آپ لحاظ رکھ کرخاموش ہو جائیں یا درد جھیلتے رہیں۔برائی کرنے والوں کو اتنا ضرور بتانا چاہیے کہ غلط کرنے کا انجام غلط ہی ہوا کرتا ہے۔

سفارش آپ کو نوکری دلوا سکتی ہے مگر نوکری آپ کی محنت اور لگن کی وجہ برقرار رہتی ہے۔

فارغ رہنا آپ کے لئے بے پناہ مسائل کھڑے کر دیتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ آپ خود کو کہیں نہ کہیں مشغول رکھیں۔

اپنی غلطی تسلیم کرنا بڑے دل کے لوگوں کا کام ہے۔

محبت عمروں کی،رنگ کی،ذات پات کی محتاج نہیں ہوا کرتی ہے۔

اگر آپ سے سمجھنے میں غلطی ہو یا کسی کو غلطی سے کچھ کہہ دیں تو پھر معافی طلب کرنے میں دیر نہ کریں کہ جتنی دیر ہوگی،اتنا ہی رشتہ کمزور ہوتا جائے گا اور ٹوٹ جائے گا۔لہذا کبھی ضد پر،دوسروں کے کہنے میں آکر اپنی خوشی سے جوڑے تعلق کو نہ توڑیں۔

پیسے سے آپ سب کچھ خرید سکتے ہیں سوائے محبت کے،دل سے جوڑے تعلقات روپے کے محتاج نہیں ہوتے ہیں۔

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کہنے والا کچھ کہنا چاہتا ہے،کہہ کچھ اور جاتا ہے،سمجھا کچھ کا کچھ جاتا ہے اوررشتوں میں دراڑ پڑجاتی ہے۔مگرجو شعور رکھتے ہیں وہ دراڑ یا خاتمے سے قبل اپنی اپنی غلطیاں تسلیم کر کے رشتے کو قائم رکھتے ہیں کہ غلطی فہمی کو دور کرلیتے ہیں۔

جب آپ مخلص ہوتے ہیں تو آپ لوگوں کی پروا نہیں کرتے ہیں،وہ غلط کریں،دکھ دیں، بے عزت کریں ہم پھر بھی انکے لئے اچھائی سوچتے ہیں۔انسان دنیا میں عارضی طور پر آتا ہے تو کسی دوسرے انسان کی رضا سے زیادہ ہمیں رب کی خوشنودی کو دیکھنا چاہیے اور اپنی نیکی کو برائی کے بعد ختم نہیں کرنی چاہیے۔ہمیں اجر رب کی ذات دینے والی ہے تو جو جس کا ظرف ہوگا وہ دے گا،لیکن ہمارا رب ہمیں آزما کر وہ عطا کرتا ہے جو ہم چاہتے ہیں یا اس سے بڑھ کر عطا کرتا ہے کہ وہ بے حساب دینے والا ہے۔اگرچہ خود کو مضبوط رکھ کر دوسرے کے لئے سوچنا مشکل ہے مگر بہت سے لوگ دوسرے کے درد کو بھی خوشی سے جھیلتے ہیں اس میں کسی جذبے کی کارستانی ہوتی ہے۔اسے محبت کے سوا آپ کیا دوسرا نام دے سکتے ہیں؟

دوسرے جیسے بھی ہوں آپ کو اپنی انفرادیت رکھنی چاہیے اور اپنی جداگانہ پہچان بنانی چاہیے۔

جھوٹ کا پردہ جب چاک ہوتا ہے تو سوائے شرمساری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔

اگر آپ خود مثبت طرزفکر رکھتے ہیں تو ماحول جیس طرح کا بھی ہوگا اس کا آپ پر اثر بہت کم ہوگا،اگر ہوگا بھی تو بھی اپنی قوت ارادی کو استعمال کرتے ہوئے ماحول کے اثرات سے بچ کر بھی کچھ کیا جا سکتا ہے۔جہاں آپ کی قوت ارادی کمزور ہوتی وہاں ہی آپ منفی سوچتے ہیں اورعمل کرنے سے گریز کرتے ہیں۔لہذا کوشش کریں کہ اپنے اردگرد کی منفی سرگرمیوں کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں،وقتی پریشانی ہوگی مگر بعد میں سب ٹھیک سا ہو جاتا ہے، یوں بھی منفی سوچ کو جتنا گہرائی میں جا کردفن کریں گے اتنی کم ہی وہ ہمارے لئے مسائل کھڑے کرتی ہے۔

ہر انسان غلطی کرتا ہے مگر ہر غلطی کچھ سکھاتی بھی ہے مگر ہم ایسے ہیں کہ اپنی غلطی نہیں مناتے ہیں بس یہی کہتے ہیں کہ دوسرا ہی غلط انسان ہے

سچ کی جیت ہوتی ہے مگر سچے کو اسکی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے

دھوکے باز کو اپنے دھوکے کی بدترین سزا ملتی ہے۔

جو جھکتے نہیں ہیں وہ پھر ایسے ٹوٹ کر گرتے ہیں کہ پھر اُٹھ بھی نہیں سکتے ہیں۔

کچھ دکھاوے کے طور پر یہ تو ظاہر کرتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر اور کوئی مومن نہیں ہے مگر عملی پر اللہ کے حکم پر چلنے کا وقت آئے تو اپنی انا اور لوگ کیا کہیں گے کے سامنے ہار تسلیم کرلیتے ہیں۔

خاموشی سے بڑھ کر کوئی اور جرم اس دنیا میں نہیں ہے، جب ہم معاملات کو خاموشی کی نظر کر دیتے ہیں تو پھر بے شمار مسائل ہماری زندگی میں آجاتے ہیں، ہم چپ رہ کر گرد بیٹھ جانے کا انتظار تو کرتے ہیں مگر غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں اور ساری عمر ایک کسک محسوس کرتے رہتے ہیں کہ کاش تب ہم یہ کہتے اور یہ ہو جاتا۔

کچھ خوف ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری سوچ سے پیدا ہوتے ہیں مگر دراصل انکی کوئی بنیاد نہیں ہوتی ہے جب آپ ڈر کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں تو وہ بھاگ جاتا ہے،ہمارے اکثر ذہنی امراض بھی ایسے ہی ہیں جن پر قابو پالیا جائے تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔

چھوٹا ہو یا کوئی بڑا جو بھی اگر بات منطق سے کرتا ہے تو اس کو تسلیم نہ بھی کیا جائے تو کم سے کم سراہا ضرور جانا چاہیے۔

غلطی کرنا بری بات نہیں ہے مگر اس سے سبق نہ لینا بے وقوفی ہے۔

جب ہمیں یہ احساس نہ ہو کہ ہم کتنا حد سے بڑھ کر غلطی در غلطی کررہے ہیں مگر جب اس کا ردعمل سامنے آئے تو ہم چیختے ہیں کہ ہمارا گناہ کیا تھا جو اتنی بڑی سزا ملی ہے، ہم خود کو کم دوسروں کو زیادہ خطاکار سمجھتے ہیں۔

عمر بھر کے رشتے کے لئے پسندیدگی دو طرف سے ہو تو زندگی کا سفر مزید خوشگور ہو جاتا ہے

والدین کو حقیقت جان کر بچوں کی خوشی میں شامل ہونا چاہیے نہ کہ انا کا مسئلہ بنا کر اپنی من مانی کرنی چاہیے ۔ پتانہیں ہم لوگ اپنی اولاد بالخصوص لڑکیوں کو جینے کا حق کیوں نہیں دیتے ہیں جبکہ ہمارے دین میں اسکی بھرپوراجازت ہے۔مگر ہم اسلام کو اپنا مذہب قرار دینے والے سچا مسلمان کہنے والے کبھی بھی دین کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کی دل سے کوشش نہیں کرتے ہیں۔

ہمیں تعریف تو بے حد پسند ہے مگر اصلاحی تنقید کی جائے تو ہمارے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے۔

حق و باطل کی جنگ کو جاری رہنا چاہیے وگرنہ تباہی و بربادی ہی ہر جگہ دیکھنے کو ملے گی۔

اگر وہ بیان نہ کریں جو محسوس کرتے ہیں تو پھر تو ہمیں مرجانا چاہیے۔

جب دوسرے تکلیف دے کر بھی معذرت نہ کریں وہاں بول کر خود کو پرسکون رہنا کہاں غلط ہوگا؟

بس کچھ دنوں کی بات ہے پھر ایسا ہو جائے گا ویسا ہو جائے گا،ابھی منصوبہ بندی ہو رہی ہے انشااللہ کامیابی مل جائے گی،ایسا تو اکثر سننے میں آتا ہے مگر بدقسمتی سے بہت کم ہی ایسے افراد دیکھنے کو ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ جناب میں نے اپنی کامیابی کا سفر شروع کر دیا ہے۔یاد رکھیے گا کہ زیادہ سوچ و بچار کرنے سے اکثر عمل کی نوبت کم ہی پیش آتی ہے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ منصوبہ بندی نہ کریں،آپ سوچ کے بعد عملی قدم بھی اُٹھا لیں تبھی کچھ ہو سکے گا۔

تجربات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اگر آپ سیکھنے کے عمل سے گذرنا چاہتے ہیں تو تجربات آپ کے لئے بہترین ذریعہ ہیں۔جب تک آپ تجربات نہیں کریں گے اسوقت تک آپ سیکھنے سے بھی قاصر رہیں گے۔

کسی کی مدد کرنا بری بات نہیں ہے مگر کسی سے مدد لینا کہ وہ اپنی طرف سے آپ کے مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کرے،آپ کی کمزور قوت ارادی کی جانب نشاندہی کرتی ہے یہ یاد رکھئے خدا بھی انکی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت اپنی زندگی میں مسائل کے خاتمے اور اپنی کمروریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

زندگی میں بہت سے لوگ چوروں کی طرح ہوتے ہیں جو کہیں دھوکا کرکے،فریب دے کر، دل توڑ کرسامنے آنے سے ڈرتے ہیں،اتنا حوصلہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر سکیں اور اکثر یہی عمل انکو مزید گمراہی میں دھیکلتا رہتا ہے ۔جس کے بعد وہ نہ تو اللہ کی رعایت کے مسحتق رہتے ہیں اور نہ کوئی بندہ انکو معاف کرنا چاہتا ہے ۔وہ خود بھی ایک دن ضمیر کی عدالت میں جب پیش ہوتے ہیں تو اپنے آپ کا بھی سامنا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔جبکہ روزمحشر بھی انکو اپنے حساب کے لئے کڑاامتحان دینا پڑنا ہے کاش وہ اپنے لئے دنیا میں آسانی پیدا کرسکیں اگر وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں۔

جب مرد کے دل میں اترنے کا راستہ معدے سے ہو کر گذرتا ہے تو پھر اچھے اچھے کھانے پکانے والیوں کے گھر کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ سوچنے کی بات ہے کہ کھانے میں کچھ مسئلہ ہوتا ہے یا پھر رویوں میں مسئلہ ہوتا ہے؟

جب تک کسی معاشرے میں باغی اپنا وجود رکھتے ہیں معاشرہ مکمل بربادی سے محفوظ رہتا ہے۔

چھوٹے جرائم اور گناہوں کی سزا اگر نہیں ملتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ آپ بڑے گناہ کرنا شروع ہو جائیں،اس کو آپ ایک موقعہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آپ باز آجائیں ورنہ کسی دن پکڑ میں آئے تو سب حساب بے باق ہو جائے گا۔

بدعنوان افراد کو کھلی چھوٹ دے دی جائے تو مزید افراد کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ بھی جرم کرلیں گے تو سزا نہیں مل پائے گی۔

ہر انسان کو اپنے انداز سے جیے کا حق حاصل ہے مگر دوسرے بلاوجہ یہی سوچتے ہیں کہ یہ حقیقی کردار نہیں ہوگا مگر وہ یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ وہ خود کس طرح کے کردار کے حامل شخس ہیں۔

اگر ہمارے معاشرے کا ہر فرد ہی درست ہے تو پھر بدکردار کون ہے؟ جس کی وجہ سے سارے جہاں میں فساد ہو رہا ہے۔

اصلاح کی بچے کو بھی،بڑے کو بھی اور بزرگ کو بھی ضرورت پڑسکتی ہے،مگر ہم اپنی انا کے آگے جھک کر اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنے پربضد رہتے ہیں اوراپنی اصلاح کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

سچ بولنا گناہ کیبرہ نہیں ہے مگرجھوٹ بول کر تذلیل کرنا بدترین عمل ہے۔

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر ہمیں ہمارا رب پھر بھی معافی دے دیتا ہے مگر ہم اپنی انا،ضد،گھمنڈ،خاندان میں نیک نامی میں کوئی کمی دیکھیں یا کسی کو کرتا ہوا پا لیں تو ہماری غیرت جاگ جاتی ہے۔

کُتا اپنے مالک کے لئے جان تک دے دیتا ہے مگر ہم انسان اپنے مالک کے احکامات کو بھول کر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں۔

کہتے ہیں کہ کُتا بڑا وفاداری دکھاتا ہے،کم سے کم یہ بات ہم انسانوں کے لئے باعث شرمساری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 322 Articles with 271476 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
27 Apr, 2017 Views: 473

Comments

آپ کی رائے
very nicee.......... welldone
By: umama khan, kohat on Apr, 29 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks lot Umama Sister for appreciation......
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on May, 01 2017
0 Like