غیبت

(Rashid Ahmed Nadeem, Bahawalnagar)

معاشرتی برائیوں میں غیبت کے ٹو کی چوٹی کے برابر ہے ۔ 80سے ٪90 لوگ اس موذی مرض کا شکار ہیں ۔ ویسے ہمیں سر کھجانے کا ٹائم نہیں ۔ ہر بیماری کے برے اثرات مریض پر تو ظاہر ہوتے ہی ہیں لیکن اگر بیمار ی متعدی (وبائی) او رنظر بھی نہ آتی ہو تو یہ معاشرے کو بھی تباہ کردیتی ہے انہی خطرناک اور مہلک بیماریوں میں غیبت سر فہرست آتی ہے جس سے لوگوں میں تفریق ، نسلی عدوات کا پیدا ہونا اورلوگوں کی عزتوں کو بھرے مجمع میں تار تار کرنا تو معمولی چیز جبکہ اس سے بھی بھیانک نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
اس کارِخیر میں خواتین بہت پیش پیش ہیں ۔ بعض کوتو بد ہضمی کی شکایت ہو جاتی ہے ۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’غیبت گناہ میں بدکاری سے بڑھ کر ہے۔‘‘

غیبت ایک ایسا گناہ ہے جس کے مرتکب کو اللہ تعالیٰ باوجود ندامت اور توبہ کے اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کہ وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت میں غیبت کو تمام کبائر سے زیادہ مہلک اور سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک شخص غیبت کرتا ہے اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ غیبت نہ کرو تو وہ کہتا ہے میں تو اس شخص کا صحیح عیب بیان کر رہا ہوں یہ غیبت نہیں ہے۔ حالانکہ غیبت کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا بہتر علم ہے۔ ارشاد فرمایا : غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہے جو اسے بری لگے کسی نے عرض کیا اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو کیا اس کو بھی غیبت کہا جائے گا؟ فرمایا جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو تو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ تو بہتان ہے۔

بعض علماء کرام کے نزدیک تو غیبت کرنا کفر ہے: وہ قسم جہاں غیبت کرنا کفر ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی غیبت کر رہا ہو تو جب اس سے کہا جائے کہ تو غیبت نہ کر تو وہ جواب میں کہے، یہ غیبت نہیں۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو ایسے شخص نے اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال کیا اور ہر وہ شخص جو اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ لہذا اس صورت میں غیبت کرنا کفر ہے۔

کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟ حضرت علامہ ابوزکریا محی الدین بن شرف نوی متوفی ۶۷۶؁ھ نے مسلم شریف کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ شرعی اغراض و مقاصد کے لئے کسی کی غیبت کرنا جائز اور مباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں۔

اول : مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا۔ تاکہ اس کی دادرسی ہوسکے۔
دوم : کسی شخص کو برائی سے روکنے کے لئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اسکی برائیوں کا ذکر کرنا تاکہ وہ صاحب اقتدار اپنے رعب داب سے اسکو برائیوں سے روک دے۔
سوم : مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لئے کسی کے عیوب کو پیش کرنا۔
چہارم : مسلمانوں کو شر و فساد اور نقصان سے بچانے کے لئے کسی کے عیوب کو بیان کردینا۔ مثلاً جھوٹے راویوں، جھوٹے گواہوں، بد مذہب مصنفوں اور واعظوں کے جھوٹ اور بد مذہبی کو لوگوں سے بیان کردینا تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے محفوظ رہیں یا شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے عیوب کو بتادینا یا خریدار کو نقصان سے بچانے کے لئے سامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے باخبر کردینا۔
پنجم : جو شخص علی الاعلان فسق و فجور اور بدعات و معاصیات کا مرتکب ہو اسکے عیوب کا بیان کرنا۔
ششم : کسی شخص کی شناخت اور پہچان کرانے کے لئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر دینا۔ جیسے محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں امتیاز اور ان کی شناخت کے لئے اعمش (چُندھا) اعرج (لنگڑا) اعمیٰ (اندھا ) طویل (لمبا)وغیرہ عیوب کو ان کے ناموں کے ساتھ ذکر کردیتے ہیں۔ جس کا مقصد ہرگز ہرگز نہ توہین و تنقیص ہے، نہ ایذارسانی، بلکہ صرف راویوں کی شناخت اور ان کے تعارف کے لئے ایسا کیا جاتاہے۔ (نوی علی المسلم)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Ahmed Nadeem

Read More Articles by Rashid Ahmed Nadeem: 12 Articles with 8703 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Apr, 2017 Views: 443

Comments

آپ کی رائے