حسد معاشرے کا ایک مرض ناسور

(محمد ساجد رضا مصباحی, کشی نگر یوپی انڈیا)
قرآن وحدیث کی روشنی میں حسد کی مذمت اور اس کے نقصانات

مسلم معاشرہ آج جن برائیوں کا شکار ہے ان میں ایک اہم اور خطرناک برائی حسد ہے، حسد معاشرے میں بغض وعداوت اور نفرت کے بیج بوتا ہے۔حسد سے آپسی محبت، خوش گوار تعلقات اور رشتے داریاں متا ثر ہوتی ہیں۔ صالح معاشرہ کی تشکیل میں حسد سب سے بڑی رکاوٹ اور سماج کے لیے زہرہلاہل ہے۔ذیل کے سطور میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں حسد کے مضر اثرات اور اس کے مضمرات پر روشنی ڈالیں گے۔

حسد کا معنی:
حسد یہ ہے کہ کوئی کسی کی نعمت کے زوال اور بر بادی کی تمنا کرے۔ امام جر جانی فرماتے ہیں:حاسد صاحب نعمت سے نعمتوں کے زوال کی چاہت کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ یہ نعمتیں اُس سے چھن کر مجھے مل جائیں۔ امام ماوردی کے مطابق:حسد کی حقیقت یہ ہے کہ انسان محترم شخصیات کی خوبیوں اور نعمتوں پر شدید افسوس میں مبتلا ہو جائے۔

حسد بہت بری بلا ہے، اس سے بغض وکینہ پیدا ہوتا ہے، قرآن مجید میں حسد کو یہودیوں اور منافقین کی علامت قرار دیا گیا ہے، قرآن پاک اور احادیث طیبہ میں متعد مقامات پر حسد کی مما نعت آئی ہے۔

حسد قرآن کی روشنی میں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسد سے پناہ مانگنے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا گیا:
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَؒ۰۰۵ ( )
(تم کہومیں پناہ مانگتا ہوں) حسد کر نے والے کے حسد سے جب وہ حسد کرے۔ اللہ عزوجل ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْـَٔلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا۰۰۳۲( )
اور اس کی آرزو نہ کروجس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی، مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے، عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ، اور اللہ سے اس کا فضل مانگو، بے شک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

صاحب تفسیرخزائن العرفان حضرت صدرا لافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں:
حسد نہایت بری صفت ہے، حسد والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا ہے تو اپنے لیے اس کی خواہش کرتا ہے، ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس نعمت سے محروم ہو جائے، یہ ممنوع ہے ،بندے کو چاہیے کہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہے، اس نے جس بندے کو جو فضیلت(بڑائی) دی ہے، خواہ دولت وغنا کی، یا دینی مناصب ومدارج کی، یہ اس کی حکمت ہے۔عورتیں زیادہ حسد کیا کرتی ہیں، اس لیے آیت مذکورہ میں خاص طور سے یہ بات بیان کر دی گئی ہے کہ ہر ایک کو اپنی جگہ رہنا چاہیے، جس نے جو کما یا یا عمل کیا ،ہر ایک کو اپنے اپنے حصے پر قانع ہو نا چاہیے، دوسرے کی نعمت یا دولت اور عہدے کوللچائی نظروں سے دیکھنا مناسب نہیں، بلکہ ہر ایک کو اللہ ہی سے اس کا فضل مانگنا چاہیے کہ وہی سب کو دیتا ہے کسی کو زیادہ تو کسی کو کم، اس میں اس کی حکمت ومصلحت پو شیدہ ہے، اور اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے لہذا حسد کر نا بے کار وبے سود ہے۔

حسد احادیث کی روشنی میں:
سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں حسد کی مذمت بیان فر مائی ہے اور اسے برائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔ حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:حسد ایمان کو ایسا بگاڑتا ہے جس طرح ایلوا شہد کو بگاڑ تا ہے۔ ( )

حضرت اصمعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: فر مایا کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ عزوجل فر ماتا ہے حاسد میری نعمت کا دشمن ہے، میری قضا(فیصلے) پر ناراض ہو تا ہے اور میں نے بندوں کو جو نعمت تقسیم کی ہے اس قسمت پر وہ راضی نہیں۔

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: کہ اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی، وہ بیماری بغض و حسد ہے، جو مونڈنے والی ہے، وہ دین کو مونڈتی ہے بالوں کو نہیں مونڈتی، قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں نہیں جاؤگے جب تک ایمان نہ لاؤ اورایمان والے نہیں ہو گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں کہ تم اسے کروگے تو آپس میں محبت کر نے لگوگے، آپس میں سلام پھیلاؤ یعنی سلام سے محبت بڑھتی ہے اورحسد کا جذبہ ختم ہو تا ہے۔( )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ نے فرمایا، ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تو دیکھا کہ ایک شخص(جس کا نام سعد بن مالک انصاری تھا) تشریف لائے، حالت یہ تھی کہ وضو کے پانی سے داڑھی تر تھی، پانی ٹپک رہا تھا اور دونوں جوتوں کو بائیں ہاتھ میں لیے تھے، تین دن حضور نے ایسا ہی فر مایا: اور تینوں دن وہی شخص اسی حالت میں نکلے(ہم میں عبد اللہ ابن عمر تھے) انہوں نے کہا میں ان کی رات کی عبادت دیکھوں گا، تین رات تک ان کی نگرانی کرتے رہے، مگر معمولی ہی عبادت دیکھی جسے دیکھ کر ان کو تعجب ہوا، فر مایا:اے اللہ کے بندے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے بارے میں سنا تھا کہ تم پر ایک جنتی آئے گا، حضور نے تین بار فرمایا اور تینوں بار آپ ہی آئے،تو میں نے سوچا کہ میں آپ کے رات کے عمل اور عبادت کو دیکھوں، پھر میں بھی اس پر عمل کروں (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی جنتی فر مادیں) لیکن میں نے آپ کو کوئی بڑا عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، آخرآپ کو اس مرتبے تک کس چیز نے پہنچایا؟ فر مایا وہی تھوڑا عمل جو آپ نے دیکھا، پھر میں چلا تو راستے سے بلا یا اور فر مایا وہی جو تم نے دیکھا اور مزید یہ کہ میں اپنے اندر کسی مسلمان سے کینہ نہیں رکھتا اور نہ کسی مسلمان پر اس کی نعمت کے سلسلے میں جو اللہ نے اسے عطا کی ہے حسد کرتا ہوں، تو حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا: یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس مرتبے تک پہنچایا۔

مذکورہ بالااحادیث آج کے معاشرے میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، احادیث سے معلوم ہواحسد و کینہ سے جہاں سماج و معاشرہ بگڑ تا ہے وہیں یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اورآخرت کی تباہی و بر بادی کا بھی ذریعہ ہے۔متعدد احادیث میں مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے قطع تعلق کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ غیر مسلم معاشرے میں آپسی میل و محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اور باہمی تعاون کا جذبہ تونظر آتا ہے، لیکن مسلم معاشرے میں بغض و کینہ اور آپسی نا اتفاقی، باہمی دشمنی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں،مسلمان اپنے دوسرے بھائی کی ترقی کو دیکھ کر خوش ہو نے کے بجائے کڑھنے لگتا ہے، آخر ایسا کیوں ہے، وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبی کے اسوہ حسنہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، ہم نے اسلامی تعلیمات سے دوری اختیار کر رکھی ہے، کیا سر کار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر مان ہمیں یاد نہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، کیا سرکار اقدس ﷺنے ارشاد نہیں فرمایا؟کہ کسی مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق جائز نہیں۔سچ بات یہ کہ آج مسلم معاشرہ اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ذلت و خواری کے دہانے پر ہے۔ان کی کوئی وقعت و حیثیت نہیں رہ گئی ہے،کل جوقوم اخلاق و کردار کی داعی مانی جاتی تھی آج وہی قوم اخلاقی پستی کا نمونہ بن چکی ہے۔
حسد جس طبقے میں پایا جائے برا ہے، خواہ عوام میں پایا جائے یا خواص میں، افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ بیماری عوام کے ساتھ ہمارے علما میں بھی درآئی ہے، آج اہل سنت میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کا ایک بڑا سبب علماکا آپسی حسد وکینہ بھی ہے، حجۃ الاسلام اما غزلی نے منہاج العابدین میں ارشاد فر مایا: چھ قسم کے لوگ چھ باتوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے:
۱۔ عرب تعصب کی وجہ سے۲۔ امرا(حکام) ظلم کی وجہ سے۳۔ گاؤں کے چودھری لوگ تکبر کی وجہ سے۴۔تاجر خیانت کی وجہ سے۵۔ دیہاتی جہالت کی وجہ سے۷۔علما حسد وکینہ کی وجہ سے

حسداقوالِِ سلف کی روشنی میں:
دلوں میں حسد پیدا ہو نے کی ایک بڑی وجہ خوف خداکا نہ ہونا بھی ہے، صاف دل اور پاکیزہ طینت افرادکبھی کسی کی نعمت پر حسد نہیں کرتے، وہ تو سب کی بھلائی اور خیر خواہی چا ہتے ہیں، سلف و صالحین اور بزر گان دین کے ارشادات وواقعات اس سلسلے میں ہمارے لیے نمونہ ہیں۔

حضرت وہب بن منبہ فر ماتے ہیں کہ حسد سے بچو، یہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ آسمان میں نا فر مانی کی گئی(یعنی شیطان کا حضرت آدم کو سجدے سے انکار کر نا) اور یہی وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ زمین پر نا فر مانی کی گئی(یعنی ہابیل وقابیل کاقتل)

حضرت سفیان ثوری فر ماتے ہیں کہ حسد سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، جو فہم و فراست میں خوبی پیدا کر نا چاہتا ہے وہ کسی پر حسد نہیں کرتا، اور میں بعض اوقات نئے کپڑے اس لیے نہیں پہنتا ہوں کہ میرے پڑوسی اور کسی دوسرے کے دل میں حسد نہ پیدا ہو۔

حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے تھے کہ کسی حاسد کو آرام نہیں ملتا اور نہ کسی بد اخلاق کو سیادت ملتی ہے، کیوں کہ حاسد کی عادت میں جلنا ہے اورجلنے والے کو آرام کیسے ملے گا، اور بد اخلاق آدمی سے لوگ دور بھاگتے ہیں لہذا وہ لوگوں کی قیادت وسیادت ہر گز نہیں کر سکتا، اور اگر اسے سیادت کا منصب مل بھی اجائے تو بد خلقی کے ساتھ وہ اپنی ذمہ داری نبھا ہی نہیں سکتا۔

حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فر مایا کرتے تھے کہ میں علما کی شہادت دوسرے لوگوں کے خلاف جائز قرار دیتا ہوں لیکن ان کی آپس میں شہادت جائز نہیں قرار دیتا ہوں کیوں کہ یہ لوگ آپس میں حسد کر نے والے ہو تے ہیں، حضرت مالک رضی اللہ عنہ ایسا ہی فر مایا کرتے تھے۔

کسی نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا، کیا مومن حسد کرتا ہے؟ آپ نے جواب دیا: تم حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کو بھول گئے، یعنی مومن بھی اگر حسد کرے تو تعجب نہ کرو،لیکن اس کا انجام ذلت ہو تا ہے، جیسا حضرت یوسف علیہ السلام کے مقابلے میں ان کے بھائیوں کا ہوا، بالآخر سب ان کے سامنے جھکے اور شر مندہ ہوئے،ہاں اگر دل میں آنے کے بعد زبان اور ہاتھ کام میں نہ لائے تو اس کا حسد اس کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

حسد کیوں پیدا ہوتا ہے؟
جو شخص اپنے آپ کو خلق خدا سے بہتر اور افضل و اعلیٰ سمجھتا ہے اس کی نظر میں دوسروں کی کوئی حیثیت ووقعت نہیں ہوتی، وہ اپنے علاوہ سبھی کوذلت ومشقت میں دیکھنا چاہتا ہے، ان کی ترقی اس پر شاق گزرتی ہے۔ دوسروں کی فرحت ومسرت اسے تکلیف پہنچاتی ہے، جب وہ کسی کو مشکلات اور مصائب میں مبتلا دیکھتا ہے تو اسے خوشی محسوس ہوتی ہے۔فخر وتکبر بھی حسد و کینہ کا ایک اہم سبب ہے،متکبر شخص ہر محفل میں اپنے آپ کو نمایاں اور ممتاز دیکھنا چاہتا ہے، دوسروں کی تعریف وتوصیف سے اسے انقباض ہو تا ہے۔بدگمانی بھی حسد کا ایک بڑا سبب ہے،قرآن پاک میں تجسس اور بد گمانی سے بچنے کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے، انسان اپنے دل میں کسی شخص کے بارے میں ایسے نظریات قائم کر لیتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہو تی، پھر اسی کے سہارے حسد کی ایک ایسی دیوار تعمیر ہو تی ہے جو آپسی محبت و مودت کے درمیان ہمیشہ کے لیے حائل ہو جاتی ہے۔

حسد کے نقصانات:
حسد بظاہر ایک گناہ ہے لیکن وہ متعدد گناہوں کا مجموعہ اور دنیا و آخرت کی تباہی و بر بادی کا ذریعہ ہے،حاسد محسود کی نعمتوں کے زوال کا خواہش مند ہو تا ہے،حسد کا جذبہ اسے اپنے اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہر اس عمل پر ابھارتاہے جس کے ذریعہ محسود کو تکلیف پہنچے، بسا اوقات وہ حسد کے نتیجے میں قتل و غارت گری تک بھی پہنچ جاتا ہے، حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والتسلیم کے بیٹے ہا بیل و قابیل کے درمیان پیش آنے والا قتل کا واقعہ بھی حسد ہی کا نتیجہ تھا۔

حسد حاسد کو حق بات قبول کر نے سے روکتا ہے، محسود کے ذریعہ کہی گئی حق بات بھی وہ قبول کر نے کے لیے تیار نہیں ہو تا، بلکہ وہ حسد کی وجہ سے ومزید سر کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے، انسان حسد میں گرفتار ہو کر حق و باطل کے در میان امتیاز کھو بیٹھتا ہے۔ ابلیس نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والتسلیم سے حسد کیا، حسد نے اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجاآوری سےروکا اور دنیا وآخرت میں ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوا۔حاسد محسود کو ذلیل کر نے کے تمام حر بے اپنا تا ہے، دوسروں کی نظر میں اسے ذلیل اور بے وقعت کر نے کے لیے غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی جیسے افعال کا عادی ہو جاتا ہے، جب کہ یہ چیزیں گناہ کبیرہ ہیں۔حسد حاسد کو اپنے بھائیوں کے حقوق کو پامال کر نے پرآمادہ کرتا ہے، حالاں کہ حاسد کے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے انعامات کو روکنے کی قوت نہیں ہوتی، نتیجہ کے طور پر اس کو افسردگی اور بے چینی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو تا، حاسد کی زندگی بدحال، بدمزاج اور پریشان حال گزرتی ہے، وہ کبھی بھی خوشی کی زندگی نہیں گزار پاتا، کبھی وہ مال ودولت کے حصول کے لیے سر گرداں رہتا ہے تو کبھی دوسروں کی خوش حالی دیکھ کر پریشان، در حقیقت حاسد پر یہ اللہ کا دنیاوی عذاب ہے۔غرض کہ حسد بے شمار دنیاوی و اخروی پریشانیوں کا سبب ہے۔

حسد سے کیسے بچا جائے:
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: اکثر لوگ تین چیزوں میں مبتلا ہیں، بد گمانی، حسد، بد فالی۔کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ان تینوں کے شر سے بچنے کی تدابیر کیا ہیں؟فرمایا: (۱)کسی سے اپنا حسد ظاہر نہ کرواور محسود کی برائی نہ کرو۔(۲) کسی مسلمان سے بد گمانی ہو تو اس کو صحیح نہ جانوجب تک کہ مشاہدہ نہ کر لو۔(۳) کہیں جاتے ہوئے راستے میں کیڑا یا کوا وغیرہ نظر آئے یا تیرا کوئی عضو پھڑ کے تو اس کی طرف دھیان نہ دو اور گزر جاؤ، اس طرح تم ان کے شر سے بچ جاؤ گے۔

کسی کی دولت ونعمت پر حسد کر نا گویا اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کر نا ہے، انسان کو حسد کر نے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کے پاس جو کچھ منصب و دولت ہے سب اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے، اللہ اس بات پر راضی ہے کہ یہ نعمتیں اس کے پاس رہیں،پھر کسی بندے کو اس پر اعتراض کا کیا حق بنتا ہے، لہذاکسی کے دل میں اگر اس طرح کا کوئی خیال پیدا ہوا تو اسے شیطانی سوچ سمجھ کر استغفار پرھے۔عربی کے ایک شاعر نے بڑی پیاری بات کہی ہے:
فاصبر علیٰ کید الحسود فان صبرک قاتلہ
کاالنار تاکل نفسھا ان لم تجد ما تا کلہ

حاسد کے حیلہ و مکر پر صبر کرو، اس لیے کہ تیرا صبر کرنا ہی اس کا قاتل ہے، بالکل ایسے ہی کہ آگ خود کو کھاتی اور ختم کرتی رہتی ہے، جب اسے کوئی چیز نہ ملے جسے وہ کھائے۔ یعنی حاسد اپنے حسد کے ذریعہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
حضرت شیخ سعدی نے گلستاں میں اسی مفہوم کو بیان کرتے ہو ئے کہا:حاسد کے پیچھے نہ پڑو، اس کو کوئی سزا نہ دو، وہ تو خود ہی اپنے حسد کی آگ میں جل رہا ہے، یہی سزا اس کو کیا کم ہے۔ لہذا حاسدین کے حسد سے بچنے کا ایک بہتر طریقہ یہ بھی ہے کہ صبر و شکیب کا دامن تھام کر معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے،حاسدین کے حسد پر کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا جائے۔

ماخذ ومراجع ۱۔ قران مجید ۲۔تفسیر خزائن العرفان۳۔صحیح البخاری۴۔ مشکوۃ المصابیح۔ منہاج العابدین۔۵۔ کیماے سعادت

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2178 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16800 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: