لو میرج اسلامی معاشرہ کا ایک سنگین مسئلہ

(محمد ساجد رضا مصباحی, کشی نگر یوپی انڈیا)
اسلامی معاشرے میں لو میرج کلچر کے بڑھتے اسباب اور سد باب کے طریقے

اسباب اور اصلاح کے طریقے

اسلامی معاشرہ آج جن تشویش ناک مسائل سے جوجھ رہا ہے ان میں ایک بد ترین مسئلہ معاشقہ اور لو میرج ہے ۔عاشقی کے اس مرض نے کتنے ہی جوانوں کا مستقبل تباہ کر کے انہیں نکما بنا دیا :
بقول غالب :
عشق نے غالب نکما کردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

عاشق کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی جیل سلاخوں کے پیچھے قیدو بند کی صعو بتیں برداشت کر نے پر مجبور ہو ئے ،دو خاندانوں میں ہمیشہ کے لیے عداوت ودشمنی قائم ہو گئی ، اور عشق کی ناکامی نے کبھی خود سوزی تو کبھی خود کشی پر مجبور کیا ، ناکام عاشق کچھ نہیں کر سکا تو معشوقہ کے گھر والوں کو جان سے مار نے کوشش کی ،معشوقہ نے بے وفائی کی تو صرف غالب کی طرح نکما ہی نہیں ہو ئے ،بلکہ محبوبہ کو قتل کر کے اپنے عشق کی آگ کو سرد کر نے کی ناکام کو شش کی، یہ حالات خیالی اور فر ضی نہیں ہیں ، بلکہ آئے دن ہم اپنے گرد وپیش ان حادثات وواقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ ان خبروں کا مطالعہ کرتے ہیں ۔

عشق ومعاشقے ہی کا نتیجہ لو میرج ہے ، جو مسلم سماج کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے، اسلام نے عورت کی عز ت وعصمت کی حفاظت کے لیے پردے کا حکم دیا اور غیر محرم کے ساتھ اختلاط، ان سے بلاضرورت بات چیت اور ہر طرح کے معاملات کو ناجائز قرار دیا ،لیکن آج اللہ ورسول کے ارشادات سے صرف نظر کرتے ہوئے بے حیائی اور بے شرمی کی حدیں پار کی جارہی ہیں ،جدیدیت کے نام پر فحاشیت کا فروغ ہو رہا ہے ،سرکار دوعالم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو نابینا صحابی کے سامنے آنے سے بھی منع فرمایا تھا اور آج مسلم معاشرے کی بیٹیاں اپنے حسن وجمال کی نہ صرف نمائش کر تی ہیں ، بلکہ وہ اس کی قیمت وصول کر نے کے لیے غیر محرم اور اجنبی لڑکوں سےدوستی کا سلسلہ بھی شروع کرتی ہیں ، دوستی پروان چڑھتی ہے تو عشق کا بھوت سوار ہو نے لگتا ہے ، پھر عشق ومحبت کی حدوں سے گزر کر لو میرج کھیل کھیلا جاتا ہے۔لڑکے اور لڑکیوں کا اس طرح دوستی کر نا ، عشق لڑانا یقینا ناجائز وحرام ہے ۔ ذیل کی سطور میں ہم نے اس حوالے سے موجودہ حالات کے اسباب وعوامل کا جائزہ لے کران کے سد باب کے طریقوں پر گفتگو کی ہے۔

دینی تربیت سے محرومی:
بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا نے کے ساتھ ان کی عمدہ تر بیت بھی ضروری ہے، آج ہم اپنے بچوں کوکسی نہ کسی طرح تعلیم تو دلوا دیتے ہیں لیکن ان کی تر بیت کی طرف توجہ نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی سوچ وفکر اورعادات واطوار اسلامی نہیں ہو پاتے، وہ اپنے آپ کو اسلام کے رنگ میں نہیں رنگ پاتے۔

بچوں کی صحیح تر بیت کے لیے والدین کا ان سے رابطے میں رہنا نیز ان کی ہرسر گرمی پر نظر رکھنا از حد ضروری ہے، رابطے ہی سے بچوں کی نفسیات سمجھنے اور اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار کر نے میں مدد ملتی ہے۔آج ہمارے معاشرے میں بچوں کو آزاد چھوڑ دیا جا تا ہے اور یہ معلوم کر نے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ بچے کیا کررہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، ان کے دوست کیسے ہیں؟نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ان کی عادتیں بگڑ نے لگتی ہیں، والدین کا خوف و رعب ان کے دل سے نکل جاتا ہے اور پھر وہ اپنی مرضی کے مطابق ہر وہ کام کرتے ہیں جو انہیں اچھا لگتا ہے۔بچے گھر میں ہوں یا گھر کے باہر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے، یہاں تک کہ ان کے کھیلوں، ان کے زیر مطالعہ کتب ورسائل، ان کی سہیلیوں اور دوستوں پر کڑی نگا ہ ہو نی چاہیے۔

مخلوط نظامِ تعلیم:
مخلوط طرزِ تعلیم لَو مَیرج کے اسبا ب میں سے ایک اہم سبب ہے۔ نئے نئے نواجونوں سے ملنے، نئے نئے عہد وپیمان کر نے اور دنیا کی نئی ہوا سے آشنا ہونے کے مواقع یہیں فراہم ہو تے ہیں، یہیں نگا ہوں سے دلوں تک کے فاصلے طے ہو تے ہیں، اور عشق محبت کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اسلام نے اجنبیہ کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھنا حرام قرار دیا: فر مایا گیا: فاالعینان زناھما النظر،والاذنان زناھما الاستماع واللسان زناہ الکلام، والید زناھا البطش اھ۔

آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سنناہے اور زبان کا زنا کلام کر نا ہے اور ہاتھ کا گرفت ہے ۔
اس نظامِ تعلیم میں آنکھ، دل، زبان، کان وغیرہ کوروزانہ کتنے ایسے مواقع میسر آتے ہیں جس میں وہ اس حدیث پاک کے مطابق گناہ گار ہو کر راہ راست سے پھسل جاتے ہیں، رفتہ رفتہ دل و نگاہ کی یہ سر گر میاں عروج پاتی ہیں اور معاملہ گھر والوں سے بغاوت اور لو میرج تک پہنچ جاتا ہے۔

اس ضمن میں ایک بُرائی یہ بھی ہے کہ ہماری تعلیم گاہوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک بڑی تعداد مرد اساتذہ کی ہوتی ہے،بالغ لڑکیاں ان غیر محرم اساتذہ کے سامنے بے پردہ ہو تی ہیں،اسکول کالج اور یونی ورسٹیز کے اساتذہ کا اپنی شاگردہ کے ساتھ عشق ومحبت اور لومیرج کی داستانیں آئے دن اخبار کی زینت بنتی ہیں۔ اسلام میں اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے۔

انٹر نیٹ اور سیل فون:
سیل فون اور انٹر نیٹ ادھرچند سالو ں میں بہت تیزی کے ساتھ ہمارے سماج میں داخل ہو چکا ہے۔گھر کے تمام افراد کے ہاتھ میں موبائل ہے، یہاں تک کے گھر کی خواتین اور دوشیزائیں بھی اس وبا سے محفوظ نہیں، مو بائل کے سستے کال اور کمپیوٹر پر انٹر نیٹ کنکشن نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔انٹر نیٹ پر چیٹنگ کا رواج ایک طرح کا فیشن بن چکا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ اب شریف گھرانے کی لڑکیاں بھی بند کمرے میں اپنے معاشقہ کو بآسانی فروغ دے سکتی ہیں اور دے رہی ہیں۔ یہیں سے دوستی کا سلسلہ چلتا ہے، یہیں سے جوڑے تلاشے جاتے ہیں، یہیں رشتے طے ہو تے ہیں اور پھر نوبت لو میرج تک پہنچتی ہے۔

سیل فون کے ذریعہ لڑ کے، لڑکیوں کا معاشقہ آسان ہو گیا ہے، پیغامِ محبت کی ترسیل کے لیے اب نہ تو ڈاک لفافے کی ضرورت ہے نہ ہی کسی قاصد کی۔ فون پر رابطہ ہو تا ہے، ملاقات کی جگہیں طے ہوتی ہیں، اور ایک دوسرے کو پیش آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کر دیا جا تا ہے۔ موبائل کے طفیل گھر والوں کی نگاہوں سے بچ بچا کر عاشق ومعشوق کا آپسی رابطہ کوئی مشکل کام نہیں۔ بلکہ والدین کی ذراسی بے توجہی بچوں کو مزید سہولت فراہم کر دیتی ہے اور گھنٹوں آپس میں بات کر نا ان کے روزانہ کا کھیل ہو تا ہے۔ حاصل یہ کہ انٹر نیٹ اور سیل فون نے بھی فروغِ عشق اور‘‘محبت کی شادی ’’ کو آسان بنانے میں اہم کر دار ادا کیا ہے۔

شادی میں تاخیر:
لو میرج کے اسباب میں سے ایک اہم سبب تاخیر سے شادی کر نا بھی ہے،بچے بالغ ہوجائیں تو والدین ان کی شادی کا انتظام کریں ،یہ والدین کا فریضہ ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں غیر ضروری چیزوں کے انتظار میں شادی میں تاخیر کر نا عام بات ہے، کبھی ملازمت کے انتظار میں تو کبھی اچھے گھر خاندان کے رشتے کے انتظار میں والدین اپنے بچوں کی شادی میں تاخیر کرتے ہیں۔ بعض نا عاقبت اندیش اور تنگ نظر والدین صرف یہ سوچ کر اپنے لڑکوں کی شادی نہیں کرتے کہ ابھی ان کی کمائی سے فائدہ حاصل کر نے کازمانہ ہے، شادی ہو جا نے کے بعد اس کی کمائی سے ہاتھ دھونا ہو گا، گھر میں بہو آجائے گی تو بیٹے پر اس کا تسلط ہو گا، لہذا جب تک ہو سکے شادی میں تاخیر کی جائے، لیکن اس کے مضراثرات تک ان کی کو تاہ نگاہیں نہیں پہنچ پاتیں، نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ لڑکا اپنے والدین کے اس رویے سے عاجز ہو کر اپنی دنیا خود ہی بسا نے کا انتظام کر لیتاہے۔

تدارک:
اسلامی شہزادیوں کی عفت وعصمت کے تحفظ اور لو میرج کی وبا سے نجات کا صرف ایک ذریعہ ہے، وہ ہے اسلامی نظامِ حیات اور اسلامی طرزِ زندگی۔ اسلام کے اوامر ونواہی میں بڑی حکمتیں پو شیدہ ہیں۔ اسلامی شریعت میں خاص طورسے عورتوں کےلیے زندگی کے قدم قدم پر بڑے واضح اصول بیان کیے گئے ہیں۔ذیل میں ہم صنف ِ نازک کے لیے اسلام کے چند رہنما اصول اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، کہ اگر ان اصول پر عمل در آمد کر لیا جائے تو اس لعنت کاخاتمہ ممکن ہے۔

شرم وحیا:
حیا صنف ِنازک کا خاص وصف ہے، اور نسوانی صفات کے حوالے سے بڑی اہمیت کاحامل ہے، حیا انہیں بے شرمی اور گناہ کی باتوں سے روکتی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا:
‘‘الحیاء لا یاتی الا بخیر’’حیا خیر کا باعث ہو تی ہے۔

جو لڑکیاں عشق ومحبت کی وادیوں میں سیر کرتی ہیں، وہ پہلے حیا کے تقاضوں کو پاما ل کرڈالتی ہیں۔باحیا بیٹیاں کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتیں جو اس کے اور اس کے خاندان کے لیے رسوائی کا باعث ہو۔

تحفظ ِ نگاہ:
اسلامی نظامِ حیات میں نگاہوں کی حفاظت کی خاص تاکید کی گئی ہے،خاص طورپر اسلامی خواتین کے تعلق سے فر مایا گیا:یغضضن من ابصارھن،عورتیں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ کیوں کہ نگاہ دل کے لیے قاصد کا کام کرتی ہے، نگاہوں کا تیر دل میں پیوست ہو کر اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح نگاہوں کے انتخاب کو حاصل کر لیا جائے۔اس لیے نگاہوں کی حفاظت کے ذریعہ معاشقہ اور لومیرج کی آفت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

غیر محرم سے ہم کلامی سے بچنا:
غیر محرم کے ساتھ بغیر شدید ضرورت کے ہم کلامی کو شریعت نے نا جائز قرار دیا ہے،لو میرج کے شکار نوجوان اس گناہ کے بھی باربار مر تکب ہو تے ہیں بلکہ لو (Love)کے بعد میرجMarraigeتک نوبت با ہمی گفتگو ہی کے ذریعہ پہنچتی ہے۔ آج کل سیل فون اور انٹر نیت کی سہولیات نے مزید آسانیاں پیدا کردی ہیں،باہمی گفتگو کے ذریعہ عہد وپیمان ہوتا ہے، منصوبے بنتے ہیں، وقت اور جگہ کی تعیین ہو تی ہے،پھر منصوبے پر عمل در آمد کیا جاتا ہے۔پہلے لوگ اپنے بچوں کو گھروں میں دیکھ کر سکون محسوس کرتے تھے، اور انہیں محفوظ تصور کرتے تھے، لیکن آج گھر کی چہار دیواری میں قید ہو نے کے با جودعاشقوں کو فروغِ عشق میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔

لو میرج کی آفت سے معاشرے کو محفوظ رکھنے کے لیے لڑکیوں کو حجاب کا عادی بنایا جائے، انہیں غیر محرموں سے تنہائی میں ملاقات کے مواقع نہ فراہم کیے جائیں، تنگ وچست لباس کے استعمال سے رو کا جائے، مخلوط نظام تعلیم اور ایسی ملازمتوں سے دور رکھا جائے جہاں مردوزن کا اختلاط ہو اور ان تمام راستوں کو بندکر دیا جائے جو لو میرج کی شاہراہ تک پہنچاتے ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 337 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16807 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: