مغربی تہذیب کی تباہ کاریاں اور اسلامی تہذ یب کے اثرات

(محمد ساجد رضا مصباحی, کشی نگر یوپی انڈیا)
جدید طرززندگی کے تباہ کن اثرات اور اسلامی طرز زندگی کے فوائد پر ایک بے لاگ تحریر

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
اقبال نے کہا تھا کہ قو موں کی زندگی میں کٹھن منزل آئین نو سے ڈرنا اور طرز کہن پہ اڑنا ہے۔ آئین نو اور طرز کہن کی الگ الگ تعبیر وتشریح کے مطابق ارباب فکر ودانش نے اقبال کے اس نظریہ کی تائید وتردید کے سلسلے میں الگ الگ موقف اختیار کیا ہے۔میرا ماننا ہے کہ اقبال کی یہ فکر صالح ہو نے کے ساتھ دور رس نتائج کی بھی حامل ہے۔آئین نو سے مکمل بے زاری اور طرز کہن سے جامد وابستگی قوموں کے لیے خوش آئند نہیں ہوتا۔حالات کی تبدیلی اور زمانے تقاضوں سے صرف نظر کر کے ہر نئی چیز سے اظہار بےزاری شاید خسارے کا سودا ہے۔اسی لیے اقبال نےاسے قوموں کے لیے کٹھن منزل قرار دیا ہے۔ بلفظ دیگر اقبال اپنی قوم کوقدیم صالح اور جدیدنافع کا حسین سنگم دیکھنا چاہتے تھے۔

اسلامی تہذیب اپنے اندر بے پناہ وسعت اور جامعیت رکھتی ہے اوراسلامی اصول وقوانین اپنے اندر حد درجہ لچک اور وسعت رکھتے ہیں ، اسلام ایک ایسا جامع نظام حیات ہے جو کسی بھی زمانے میں فرسودہ اورناقابل عمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اسلام کی یہ بڑی اہم خصوصیت ہے کہ وہ زمانے کے حالات اورمقتضیات پر کھرا اتر تا ہے۔اسلام جدت پسندی کا مخالف نہیں اور نہ ہی اہل اسلام کو جدیدیت سے احتراز ہے ، نئی تہذیب ،نیا نظام ، نئی طرز زندگی اگر اسلامی اصولوں سے متصادم نہیں ہے تو اسلام اس کی کبھی مخالفت نہیں کرتا ۔ اسلام کا ہر حکم اور اہل اسلام کا ہر عمل سخت اصولوں میں جکڑا ہوا ہے ، صحیح و غلط کی تمیز کے لیےاسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایسا معیا ر عطا کیا ہےجس کی روشنی میں وہ صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کر سکتے ہیں ۔ لیکن جدیدیت کے شوق میں اسلامی اصول وقوانین سے صرف نظر اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی پر وا ہ کیے بغیرہر نئی چیز کو گلے لگانے میں فخر محسوس کر نا نہایت مذموم عمل ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کا ایک بڑا طبقہ آج اسلا می طرز حیات سے بےزار اور مغربی تہذیب کا دل دادہ ہو تاجارہا ہے ۔ اسلامی طرز حیات انہیں فرسودہ نظر آتا ہے لیکن جدید طرززندگی خواہ وہ سیکڑوں برائیوں اور خباثتوں کا مجموعہ ہی کیوں نہ ہو ترقی یافتہ ہو نے کی علامت نظر آتی ہے ۔ جدید طرز زندگی کے سبب سماج و معاشرے میں برائیوں کا جو سیلاب آیا ہوا ہے اس کا اندازہ مختلف شعبہاے حیات کا تجزیہ کر کے لگایا جا سکتا ہے۔اس وسیع عنوان پر تفصیلی گفتگو اس کالم میں ممکن نہیں ، تاہم چند ضروری امور پرروشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ بات اب کو ئی راز نہیں ہےکہ یہودیوں کی تحریک استشراق کے بطن سے گلوبلائزیشن کی جو تنظیم وجود میں آئی ہے اس کا نشانہ خاص طور سے اسلام اور مسلمان ہے،معاشی،اقتصادی اور سیا سی طور پر مسلمانوں کو مغربی قوموں کا دست نگر بنا نے کے ساتھ ساتھ انہیں خاص طور سےاسلامی تہذیب و ثقافت سے بےزار کر نا بھی اس تحریک کا اہم مقصد ہے۔ اپنی بے پناہ عیارانہ چالوں کی وجہ سے یہودی قوم اپنی اس تحریک کے مقاصد میں مکمل طور پر کامیاب بھی ہے۔ مسلمان اپنی سادہ لوحی اور مر عوبیت کی وجہ سےجانے انجانے میں اس تحریک کوتقویت پہنچار ہے ہیں ۔ جدیدیت کے نام پر مسلمانوں کو مغربی تہذیب کا اس قدر دل دادہ بنا دیا گیا ہے کہ اسے نہ تو اپنے دین کا پاس و لحاظ ہے اور نہ ہی اپنی شریعت کا خیال۔ مسلمان کس طرح اپنی تہذیب و ثقافت کا جنازہ نکال رہے ہیں اور مغربی تہذیب کو فروغ دے کر اسلامی تہذیب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کا اندازہ تھوڑی توجہ سے لگایاجا سکتا ہے۔

ہر قوم کا لبا س اس کی تہذیب و ثقافت کا مظہر ہو تا ہے،لیکن یہو دیو ں نے اقو امِ عالم کی قومی و مذہبی تشخصا ت کو ختم کر نے کے لیے میڈیا اور وسیع پیما نے پر نشر ہو نے والی فلموں کا سہارا لے کر بو ڑھے بچے اورجو ان لڑکے اور لڑکیو ں کو مغربی لبا س کا دل دادہ بنا دیا ہے۔لباس کی دنیا میں صنفی امتیازات بالکلیہ ختم ہو چکے ہیں۔عرب قوم جو اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے پو ری دنیا میں ایک امتیاز ی شنا خت رکھتی ہے وہ بھی اپنے قومی و مذہبی لبا س کو ترک کر کے مغرب کی تقلید کو با عث فخر و مبا ہا ت سمجھنے لگی ہے۔یہودیوں کی مسلسل سازشوں کے طفیل اسلامی لبا س کو ‘‘دہشت گردی’’ کی علامت سمجھا جا نے لگا ہے۔طریقہ خوردو نو ش میں بھی امریکی تہذیب کو بڑے منظم انداز میں رائج کیا جا رہا ہے۔ مکڈانا لڈ،ہیم بر گر گ جیسے فاسٹ فوڈ اسی شازش کا حصہ ہیں ۔ امریکی طرز خورد ونوش کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پزا، ہاٹ ڈاگ کو رواج دینے کے لیے امریکہ نے با ضا بطہ ایسے ادارے قائم کر رکھے ہیں جہاں ان ہوٹلو ں میں کام کر نے والے افراد کو تربیت دی جا تی ہے۔

غرض کہ آج امریکی ثقافت پو ری دنیا میں پورے آب و تا ب کے ساتھ فروغ پارہی ہے،شاید ہی دنیا کا کو ئی ملک ہو جہا ں اس سیلاب نے تبا ہی نہ مچا ئی ہو،مغرب کے اس ثقافتی حملے کی زد میں دنیا کی تمام تہذ یبیں ہیں،لیکن اصل ہدف اسلامی تہذیب ہے ،کیو ں کہ یہودیوں کو یہ با ت اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کا خواب اسلا می تہذیب کو ختم کیے بغیر کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔جدیدیت کے نشے میں چور ہماری قوم نے اہل مغرب کے ہر عمل کی تقلید کو اپنے اوپر واجب کر لیا ہے ، اہل یورپ کھڑے ہو کر جانوروں کی طرح کھائیں تو ہمارے بھائی بھی اسی کو ترقی کی علامت سمجھ کر اپنا نے میں کو ئی تامل نہیں کرتے۔ آج ہندوستان میں مسلم خاندانوں میں بھی شادیوں میں اس طریقے کوکافی پسند کیا جارہا ہے۔لڑکے لڑکیاں،مرد وعورت نہایت بے شر می کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ لذت کام ودہن کا لطف اٹھا تے ہیں ۔دھیرے دھیرے اسلامی طور طریقے ہماری زندگی سے ختم ہو تے جارہے ہیں ، حجاب ، نقاب ، عفت وحیا، شرم وجھجک، ہمارے سماج سے رخصت ہو رہے ہیں ۔

نئی تہذیب کی تقلید میں ہمارے گھر کی عورتیں شمع محفل بنتی جارہی ہیں ، ہمارے سماج کی خواتین اب گھر کے کام کاج کے بجائے آفس کی ذمے داریاں نبھا نے اور مارکیٹ سے سودا سلف لا نے میں زیادہ آرام محسوس کرتی ہیں ۔ ہم اپنی بیٹیوں کو قرآن کی تعلیم اورنماز روزے کے مسائل تو نہیں سکھا پا تے لیکن انگلش میڈیم اسکولوں میں داخلہ دلانےکے بعد چین کی سانس ضرور لیتے ہیں ۔ نوجوان لڑکیوں کاآفس میں کام کر نا، تنہا اسکول کالج جانا، اقامتی ا داروں کے ہاسٹلوں میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا ،کیسے کیسے مسائل کا سبب ہو تا ہے ، آئے دن ہم اس کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔کیا اسلام ہمیں اپنی عورتوں کے بارے میں یہی درس دیتا ہے ؟ کیا اسلامی تہذیب ان چیزوں کی اجازت دیتی ہے ؟ شاید ان نکات پر غور کر نے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔

جدید تہذیب کےخرافات میں موجودہ ترقی یافتہ مواصلاتی نظام نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، اب بند کمروں میں بھی ہمارے بچے ،بچیاں محفوظ نہیں ہیں ، ہماری تہذیب کو تہ وبالا کر نے والے ڈاکو ہما رے مہربان دوستوں کی طرح درون خانہ اس شان سے گھس چکے ہیں کہ ہم بڑی خوش دلی کے ساتھ ان کی ضیافت کر رہے ہیں ، آخر وہ ایک دن ہمارا سب کچھ لوٹ کر چلے جائیں گے اور ہمارے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا۔ موبائل ، انٹر نیٹ ، ڈش، ٹی وی ،سی،ڈی، ڈی وی ڈی کی شکل میں اب ہمارے گھروں میں ہر طرح کے سامان خرافات مہیا ہیں ۔ آج جب تک ہمارے بیڈ روم میں کلر ٹی وی اور انٹر نیٹ کنکشن (Connection )سے لیس کمپیوٹر موجود نہیں ہو تا ہم اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتے ہیں ۔ہمارے ہاتھ میں اگر مہنگا اور جدید ترین ورزن Version کا موبائل نہ ہو تو ہم اپنے دوستوں سے جھجھک محسوس کرتے ہیں ،آخر ایسا کیوں ہے ۔صرف اس لیے کہ ہم نے ان لوازمات کو اپنے ترقی یافتہ ہو نے کا معیار سمجھ لیا ہے ، اور ان کے بغیر ہم نے اپنے آپ کوادھورا محسوس کرتے ہیں ، یہ جدید تہذیب سے مرعوبیت اور قدیم اسلامی تہذیب سے بےزاری کی وجہ سے ہے۔

ہمارے جدید معاشرے میں جو برائیاں رائج ہو رہی ہیں ان میں شراب ایسی برائی ہے جس کو نشہ کے ساتھ ساتھ فیشن کا درجہ بھی حاصل ہے، آج شراب پینے والوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو شراب نوشی کو فیشن سمجھتا ہے، آج کی پارٹیوں کی تکمیل شراب کے بغیر نہیں ہو سکتی ، افسو س اور شدید افسوس کی بات ہے کہ مسلم معاشرے میں یہ لعنت تیزی کے ساتھ پھیلتی جارہی ہے ۔ شراب کی حر مت او ر اس کے نقصانات سے کون مسلمان واقف نہیں ، لیکن جدیدیت کے نشے میں سارے اسلامی احکامات کو بالاے طاق رکھ کرشیطان کی پیروی کو اپنے لیے فخر ومباہات سمجھا جارہا ہے۔ میوزک یعنی گانا بجا نا ہمارے معاشرے کا حصہ بنتا جارہا ہے ، ہماری کوئی بھی تقریب میوزک سے خالی نہیں ہوتی، ہمارے نوجوان کفریات پر مشتمل گانوں سے بھی پر ہیز نہیں کرتے،اسلام کی مقدس شہزادیوں کو ڈانس کے اسٹیجوں میں تھرکتے دیکھا جا رہا ہے ، آج کے جدید سماج میں بسنے والا مسلمان اسے قبیح بھی نہیں سمجھتا ، بلکہ اسے بھی تعلیم کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔نادان باپ اپنی بیٹی کو ڈانس کے اسٹیج پر دیکھ فخر محسو س کر تا ہے،ہمارے ایک دوست نے بتا یا کہ ان کے یہاں کا ایک جدت پسند اور دین بے زارمسلم بینک مریجراپنے یہاں کے ایک مفتی صاحب سے بڑے سنجیدہ انداز میں کہتا ہے ، حضرت !میری بیٹی ڈانس کے مقابلے میں شر کت کرنے جارہی ہے، آپ دعا فر مادیں کہ وہ کا م یاب ہو جائے۔ مفتی صاحب لاحول پڑھتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنی بیٹی کی ڈانس کے مقابلے میں شرکت پر عار نہیں بلکہ فخر محسوس کرتا ہے،آخر مسلمانوں میں یہ سوچ اور اس قدر بے حسی کہاں سے پیدا ہو ئی ؟مسلمان اپنی ہی تہذیب اور اپنے ہی دین سے اس قدر نا آشنا کیوں ہو گیا؟۔

قدیم تہذیب کے مقابلے میں جدید تہذیب کے اندر اسباب تعیش کی فروانی ہے،جدید آلات نے بڑی آسانیاں پیدا کر دی ہیں،گھنٹوں کاکا م منٹوں میں ہو رہا ہے، نہ ٹھنڈی کی فکر ہے اور نہ گرمی سے کوئی پریشانی،ہر طرف چکا چوند ہے ، پیسوں کی ریل پیل ہے ،ایسے سماج میں سانس لینے والا انسان بھی اگراضطراب اور بے چینی کا اظہار کرے تو سمجھ لینا چا ہیے کہ
؏ وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پر تھے

در ج بالاسطور میں میں نے جو کچھ کہا ہے اس سے میرا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ جدید ایجادات ہمارے لیے ممنوع ہیں ، اور ان کا استعمال ترک کر دیا جائے، کمپیوٹراورانٹر نیٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے ، اپنے بچے اور بچیوں کو دینی وعصری تعلیم سے دور رکھا جائےبلکہ مقصد صرف اتنا ہے کہ ان کا صحیح استعمال کیا جائے، ہر اس جدید طرز زندگی سے بچا جائے جس سے اسلامی تہذیب و ثقا فت کا خون ہو تا ہو۔ اپنی تہذیب و ثقافت کی بقا بہر حال ضروری ہے اسی میں ہماری کام یابی مضمر ہے۔ ہماری کو شش یہ ہوکہ خذ ماصفا ودع ماکدر کے اصول پر عمل کرتے ہو ئے ایک ایسا سماج تشکیل دیں جو قدیم صالح اور جدید نافع کا ایک حسین سنگم ہو۔
٭٭٭٭

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 808 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16809 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: