منگنی کےقابل اصلاح رسوم

(محمد ساجد رضا مصباحی, کشی نگر یوپی انڈیا)
رسم منگنی کی ادائیگی کے نام پر رائج خرافات کا تجزیہ
اور ان کی اصلاح کے طریقے

شادی ایک شدید ترین فطری ضرورت ہو نے کے ساتھ آقاے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم سنت بھی ہے ، اس سنت کی تکمیل اسلامی اصول وقوانین کی روشنی ہی میں ہو نی چاہیے ، نکاح کی پاکیزہ اور اہم تقریب میں بدعات و خرافات اور متعدد غیر اسلامی رسوم ورِواج کی شمولیت نہ صرف یہ کہ اس کی بر کتوں اور سعا دتوں سے محرومی کا سبب ہو تی ہے بلکہ ان کی نحوستوں کا اثرازدواجی زندگی پر بھی مُرتب ہو تا ہے۔

آج ہمارے سماج میں شادیوں کے اخراجات میں اضافہ بھی شادیوں کو دشوار بنا رہا ہے ،طرح طرح کے رسوم رائج ہو رہے ہیں ، جن کا لحاظ نہ کرنا سماج میں عار اور دقیا نوسیت تصور کیا جاتا ہے ، اہل ثروت کو ان رسوم کی ادائیگی میں تو کوئی دشواری نہیں ہوتی ، لیکن سماج کا غریب طبقہ ان رسوم کی چکّی میں بُری طرح پس جا تا ہے ، بسا اوقات ان سماجی رسوم کے چکر میں شادیوں میں تاخیر ہو جاتی ہے، بوڑھا باپ اپنے بچوں کی خوشی کے لیے دردر کی خاک چھاننے پر مجبور ہو تا ہے ،لا کھوں کے قرضے میں ڈوب جاتا ہے ۔ آخر ان رسوم و رواج کو ہمارے مسلم سماج نے اپنے اوپر اس طرح مسلّط کیوں کر لیا ہے ؟ ہر چند کہ ان میں سے بہت سارے رسوم ایسے ہیں جو شرعی نقطہ نظر سے جائز ومباح ہیں، لیکن ان کی ادائیگی کو اپنے اوپر واجب سمجھ لینا کہاں تک درست ہے؟۔ خدارا ان خود ساختہ اصولوں سے اپنے آپ کو آزاد کیجیے اور سماج ومعاشرے کو پاکیزہ بنانے کے لیے شادیوں کو آسان اور سہل بنائیے ۔ سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا :
اِن اعظم النکاح بر کۃ ایسرہ مؤنۃ (بیھقی شعب الایمان)

سب سے با بر کت شادی وہ ہے جس کا بار کم ہو ۔

ہمارے اسلامی معاشرے میں تقریباً ہر معاملے میں بگاڑ کے ساتھ ساتھ نکاح جیسے مقدس فریضے میں بھی غیر اسلامی رسومات داخل کر کے اس کے حسن کو بگاڑ دیا گیا ہے۔ نکاح کے پہلے زینے ‘‘ منگنی ’’کے ساتھ ہی غیر اسلامی رسومات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جو ولیمہ کے بعد تک جاری رہتا ہے۔بر صغیر ہند وپاک میں نکاح سے پہلے منگنی کی تقریب کا انعقاد برسوں سے رائج ہے ، جس کا مقصد چند ذمے دار افراد کی موجودگی میں رشتہ پختہ کر نا اور شادی سے متعلق دیگر امور پر باہم تبادلہ خیال کر نا ہو تا ہے ،ظاہر ہے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اس میں کوئی قباحت نہیں بلکہ عقد نکاح کو بحسن وخوبی انجام تک پہونچانے میں ممد ومعاون ہے، لیکن منگنی کے نام پر ایسی تقریب کا انعقادجس میں غیر شرعی امور انجام دینے کے ساتھ ساتھ لڑکی والوں پرمہمانوں کی ایک لمبی جماعت کی اعلیٰ ضیافت کا بوجھ ڈالنا اور ان کی خدمت میں تحفے تحائف پیش کر نے کو ضروری خیال کر کے اس پر مجبور کرنا کب درست ہو سکتا ہے۔

شریعت اسلامیہ نے نکاح کرنے والے مرد کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ نکاح سے قبل اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھ لے۔ یہ عمل نکاح کومستحکم بناتا ہے اور بعد نکاح پیش آنے والی بہت ساری دشواریوں کا ازالہ کرتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے نکاح کرنے والے مختلف صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ شادی سے قبل اپنی ہونے والی بیوی کو ایک نظر دیکھ لیں۔لیکن بہت سارے علاقوں میں ہمارے اسلامی بھائی بھی غیرمسلموں کی تہذیب وثقافت سے متاثر ہوکرمنگنی کی تقریب میں سجا سنوار کر اپنی بیٹی کو غیر محرموں کی بھری مجلس میں پیش کرتے ہیں،اوردولھے والوں کی طرف سے آنے والےلوگ دلھن کو دیکھنا اپنابنیادی حق سمجھ کر اس مجلس ِخاص میں ضرور شرکت کر تے ہیں، یہ نا جائز وحرام ہو نے کے ساتھ بہت بے غیرتی کی بات بھی ہے۔ بعض ماڈرن فیملز میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لڑکا بنفس نفیس منگنی کی تقریب میں شر کت کرتا ہے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے اپنی ہو نے والی دولھن کو انگوٹھی پہناتا ہے ، پھر مجوزہ دولھا اور دولھن کو ایک ساتھ بٹھا کر عزیز واقارب مبارک بادیاں پیش کرتے ہیں ، اور اس یادگار لمحہ کو محفوظ کرنے کے لیے بے محابا تصویر کشی ہو تی ہے ، ویڈیو ریکارڈنگ کی جاتی ہے۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ منگنی کی ایسی تقریبات نا جائز و حرام ہیں ، ایسی محلفوں میں شرکت بھی ناجائزہے۔

موبائل کے عام ہونے کے بعد سماج و معاشرے میں جہاں متعدد پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں ایک وبا یہ بھی پھیلی ہو ئی ہے کہ منگنی کی تقریب منعقد ہو نے کے بعد دولھا اور دولھن آپس میں موبائل پر بلا روک ٹوک گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ، اور اس کو وہ اپناحق سمجھتے ہیں ، طرفہ یہ کہ والدین بھی اس مسئلے میں کوئی نوٹس نہیں لیتے اور نہ ہی منع کر نے کی ہمت جٹا پاتے ہیں ، بہت سارے ایسے واقعات ابھی سامنے آئے ہیں کہ لڑ کے نے شادی سے اس لیے انکار کر دیا کہ لڑ کی کے گھر والوں نے شریعت کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے لڑکے کو اس عمل قبیح سے روک دیا ۔ واضح رہے کہ منگنی ایک معاہدہ نکاح ہے ، نکاح نہیں ۔ جب تک نکاح نہیں ہو جاتا ، لڑ کی کے لیے اس کا ہو نے والا شوہر غیر محرم ہے ، اس کے لیے ہراس عمل سے اجتناب ضروری ہے جو غیر محرموں سے جائز نہیں ، لیکن ہمارے سماج میں یہ وبا تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے ، اور سماجی سطح پر اس کو عار سمھنےل والوں کی تعداد بھی کم ہو تی جارہی ہے۔

صنف نازک کا غیر محر م سے اختلاط اور تخلیہ حرام ہے ، اس سے بہت سارے گناہوں کے دروازے کھلتے ہیں ،شریعت مطہرہ کے اس حکم کو بالائے طاق رکھ کر مسلم نوجوان اپنی منگیتر سے ملنے جلنے کو اپنا حق سمجھتا ہے،بلکہ بعض مذہب بیزار خاندانوں کے بگڑے ہوئے بیٹے اپنی منگیتر کے ساتھ ڈیٹنگDating پر بھی جاتے ہیں ،مزاج شناشی اور باہمی تکلفات کو دور کر نے کے نام پراپنے اوقات تفریح گاہوں اور ریستورانوں میں گزار تے ہیں ، والدین اس ملاقات کا جواز یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ اس سے ایک دوسرے کی پسند اور ناپسندیدگی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور آنے والی ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنا نے کے لیے ممد ومعاون ہو تا ہے،حالاں کہ منگیتر کے ساتھ اس طرح کا اختلاط شرعا نا جائز و حرام ہو نے کے ساتھ بہت ساری پریشانیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو تا ہے،ان ملا قاتوں کی خباثت سے طےشدہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ، بنی ہو ئی بات بگڑ جاتی ہے ، اور نکاح سے پہلے ہی سارے ارمان بکھر جاتے ہیں ، اس طرح کے واقعات آئے دن اخبارات کی زینت بنتے ہیں ۔

شادیوں میں طرح طرح کے اخراجات ، جہیز کا بڑھتا رواج ، لمبی چوڑی بارات کا شاہانہ انتظام لڑکی والوں کے لیے خودہی وبال ِ جان ہے، اس پر دن بہ دن منگنی کے رسم میں نت نئے خرافات کا اضافہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے مزید دشواریاں پیدا کر رہا ہے ،رشتہ پختہ کر نا ہی مقصود ہو تو اس کے لیے پوری بارات سجاکر لڑکی والوں کو کنگال کر نے کی کیا ضرورت ہے ، اس تقریب کو سادگی کے ساتھ بھی منعقد کیا جا سکتا ہے ، چندمعتمد اور با اثر لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت لڑکی والوں کے گھر پہنچ کر معمولی ضیافت کے بعد رشتے کی بات اور نکاح کے دیگر معاملات طے کرسکتی ہے۔لیکن سماج میں دکھاوا اور ایک دوسرے پر فخر کر نے کے لیے لڑکے والے ایک طویل ترین جماعت اور درجنوں لگزری کاروں کے ساتھ شاہانہ انداز میں منگنی کے لیے جانا ضروری سمجھتے ہیں ، دوسری طرف لڑکی والے بھی ان کا مقابلہ کرتے ہوئے ، طرح طرح کے پکوانوں اور اعلیٰ انتظامات کے ذریعہ ان کی ضیافت اور خاطر ومدارات کو اپنے اوپر واجب سمجھتے ہیں ، چاہے اس کے لیے سودی قرض ہی کی نوبت کیوں نہ آجائے ، ظاہر ہے ان چیزوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، اور نہ ہی ہمارے اسلاف نے شادیوں میں ان چیزوں کا اہتمام کیا ہے ۔

حالات کا شدید تقاضا ہے کہ منگنی اور شادی کے ایسے رسوم جوخلاف شریعت ہیں یا ان کی وجہ سے سماج کے متوسط اور غریب طبقہ کے لوگ مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں ، ان کی مخالفت کی جائے ، ان کے مضر اثرات سے عوام کو آگاہ کیا جائے ، اوراس کے ساتھ سنت رسول کی روشنی میں شادی کے اسلامی طریقے کو رواج دینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ، اگر ہمارے علما وخطبا رسوم شادی کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا لیں تو مثبت نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 382 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16798 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: