تعلیمات صوفیہ اور قومی یک جہتی

(محمد ساجد رضا مصباحی, کشی نگر یوپی انڈیا)
اسلام پر تشدد پسندی کا الزام لگا کر مذ ہبی منافرت پھیلانے والوں کے لیے ایک اصلاحی اور چشم کشا تحریر

اسلام پر تشدد پسندی کا الزام لگا کر مذ ہبی منافرت پھیلانے والوں کے لیے ایک اصلاحی اور چشم کشا تحریر

ہندوستا ن قدیم زمانے سے متعد د تہذیبوں ،مذہبوں اور زبانوں کا گہوارہ رہاہے، یہاں کی مشترکہ تہذیب اور کثرت میں وحدت کا رنگ وآہنگ اقوام عالم کے لیے ہمیشہ توجہ کا باعث رہا ہے ۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان تنہا ایسا ملک ہے جہاں تہذیب وثقافت میں اس قدر تنوع اور وسعت کے باوجود امن وشانتی ، مذہبی رواداری ،قومی یک جہتی اور بقاے باہم کے اصولوں کوترجیح دی گئی ہے ۔ کثرت میں وحدت اور نیرنگی میں یک رنگی کےاس تصور نے ہمیشہ ہندوستان کوعظمت ووقار بخشا ہےاوربقول شاعر مشرق یہی اس کی طاقت کا راز بھی ہے:
یونان ومصر روماں سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام ونشاں ہمارا
ہندوستان کے اس مشترکہ کلچرکو پروان چڑھانے میں یہاں کے صوفیہ نے بڑا اہم کر دارادا کیا ہے ،کثرت میں وحدت کے فلسفے کاصحیح ادراک صوفیہ کی خانقاہوں سے ہی ہوتا ہے ۔ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے صوفیہ نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ حق کی آواز بلند کر نے کے ساتھ یہاں کی تہذیبی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی جد وجہد کی ، انہوں نے ہندوستان میں بسنے والے مختلف تہذیب وثقافت کے حامل اور مختلف نظریات ومعتقدات پر یقین رکھنے والےانسانوں کو ایک مرکز اتحاد پر جمع کر کے قومی وحدت اور یک جہتی کی ایک ایسی بے مثال فضا تیار کی جس میں دین ومذہب ،رنگ ونسل ،طبقے اور علاقائی حد بندیوں کا احساس ختم ہوجاتاہے۔یہاں نہ تو ہندو مسلم میں کوئی بھید بھاؤ ہے اور نہ سکھ عیسائی میں کوئی تفریق۔مذہبی تحفظات اپنی جگہ مگر یہاں قومیت کے نام پر سب ایک بینر تلے جمع نظرآتےہیں۔زیر نظر مقالے میں ہم نے قومی یک جہتی اور مذہبی روا داری کے حوالے سے صوفیہ کرام کی تعلیمات کو موضوع سخن بنایا ہے۔
قومی یک جہتی:
جب کثرت میں وحدت کا ماحول پیدا ہوتا ہےتو وہیں سے قومی یک جہتی کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے،بلفظ دیگرقومی یک جہتی کا مفہوم یہ ہے کہ کسی ملک کے جغرافیائی حدود میں بسنے والے لوگ انفرادی طور پرعلاحدہ شناخت رکھنے کے باوجوداجتماعی امور میں ہم خیا ل ہو جائیں اور آپس میں نفرت وعداوت کے بجائےالفت ومحبت اور اختلاف وانتشار کے بجائے اتحاد واتفاق کے ساتھ رہنے لگیں،خواہ یہ اختلاف سیاسی ہو یا سماجی ، مذہبی ہو یا تہذیبی،بہرحال دلوں میں یگانگت اور نظریات میں وسعت ہو۔مذہب ، تہذیب ، ثقافت اور دیگر شعبہاے حیات میں اختلاف کے باوجودایک دوسرے کے تئیں مخلص اور ہم درد رہیں ۔
تعلیمات صوفیہ اور قومی یک جہتی:
تاریخی حقائق کی روشنی میں بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صوفیہ کرام نے ہمیشہ امن وآشتی ،بین المذاہب رواداری ،سماجی وثقافتی ہم آہنگی اورقو می یک جہتی کی تعلیم دی ہے ،صوفیہ کا مقصد حِیات اللہ کے پیغامات کو بندوں تک پہنچا کر بندوں کا رشتہ معبود سے مستحکم کرنا تھا ،اسی لیے دعوت دین کے لیے ان کا پسندیدہ مقام وہ ہوتا جوکثیر نسلی ، کثیر مذہبی ، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی معاشرے کا حامل ہو ، تاکہ وہ اپنی تعلیمات مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اللہ کے ان بندوں تک بھی پہنچا سکیں جنہیں اللہ کی وحدانیت کا شعور نہیں ، جو اللہ کے دین سے دور اور نفرت وعداوت کے ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔ صوفیہ کرام اسی مقصد خیر کی تکمیل کے لیے تکثیری معاشرے کواپنی دعوت وتبلیغ کے لیے ترجیح دیا کرتے تھے ۔
وطن عزیزکے طول وعرض میں پھیلے ہوئے صوفیہ کرام نے مسلمانوں کی اصلاح کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی اسلا م سے قریب کر نے کےلیے محبت اور رواداری کے اصولوں پر کام کیا ، سختی اور تشدد کو کبھی انہوں نے پسند نہیں کیا ، یہی دعوت دین کا زرین اصول بھی ہے ،دعوت کے عمل سے وابستہ شخص کو ہر فرد انسانی کے ساتھ شفقت ومحبت کا مجسمہ ہو نا چاہیے ،کیوں کہ داعی جب اپنے عمدہ اخلاق کے ذریعہ انسانی قلوب پر قبضہ کر لیتا ہے تو اپنا پیغام بڑی آسانی کے ساتھ ان تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے چشتی صوفیہ نے یہاں کے غیر مسلموں کے ساتھ شگفتہ تعلقات رکھنے کو دعوت وتبلیغ کے لیے موثر قرار دیتے ہوئے اس کی تاکید کی ۔
نافع السالکین (ملفوظات خواجہ سلیمان تونسوی )میں ہے :
حضرت قبلہ من قدس سرہ ( خواجہ سلیمان تونسوی ) فر مودند کہ در طریق ما ہست کہ با مسلمان وہند صلح باید داشت وایں بیت شاہد آورند۔ ( )
حافظا گر وصل خواہی صلح کن با خاص وعام
حضرت شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۱۸۵ھ۔۱۲۶۷ھ)سلسلہ چشتیہ کے عظیم المرتبت بزرگ تھے ، آپ اپنے عہد کے وسیع الخیال اور وسیع المشرب بزرگ کی حیثیت سے معروف ہیں ، دیگر اکابر صوفیہ چشت کی طرح آپ کا بھی نظریہ تھا کہ اپنے مذہب پر سختی سے عمل کیا جائے لیکن دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ بھی خوش گوار تعلقات رکھے جائیں ، ان کے ساتھ روا داری کا سلوک کیا جائے ، معاشرے میں یک جہتی کا ماحول قائم کیا جائے ۔ آپ اکثر اپنے مریدوں کو ہدایت فرمایا کرتے کہ اپنے مذہب اپنے تمدن ، اپنی شریعت پر قائم رہو لیکن سا تھ ہی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، تعلقات میں کبھی بد مزگی پیدا نہ ہو نے دو۔ ایک موقع پر فرمایا:
سالک را باید کہ ہیچ کس را رنج نہ دہد بلکہ با ہمہ مخلوق صلح کند ( )
سالک کو چاہیے کہ کسی کو رنج نہ پہنچائے بلکہ ساری مخلوق سے صلح رکھے ۔
صوفیہ نے اپنی ان ہی محبت آمیز تعلیمات کے ذریعہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ایک مشترکہ سماجی نظام قائم فرمایا تھا جس کی بنیاد رواداری اور یک جہتی پر تھی ، اس مشترکہ سماج میں مختلف افکار ونظریات کے حامل اور مختلف مذاہب کے ماننے والے امن وامان اور سکون واطمینان کے ساتھ زندگی گزارتےتھے، جہاں ہر طرف انسان دوستی اور بھائی چارگی کی خوشبوؤں سے چمن زار ہند معطر تھا۔
خواجہ شاہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۱۸۵ھ۔۱۲۶۷ھ) کے اولین خلفا میں عالم اجل حضرت حافظ سید محمد علی خیر آبادی ہیں جو علم وفضل ، زہد وورع اور اتباع سنت وشریعت میں اپنی مثال آپ تھے ، آپ انسانی مساوات اور اخوت و بھائی چارگی پر زور دیا کرتے تھے اور اس پر عامل بھی تھے ۔ ایک مرتبہ کھانے کے لیے دستر خوان پر تشریف لے گئے ، اسی درمیان ایک موچی پر نظر پڑی جو آپ کے صاحب زادے حضرت خواجہ سید اسلم خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی جو تی سی رہا تھا ، آپ نے اس سے فر مایا :ہاتھ دھو کر آؤ اور کھانا کھاؤ، پھر آپ نے اس موچی کو اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلایا ۔( )
حافظ سید محمد علی خیر آبادی مثنوی مولانا روم کادرس دیا کرتے تھے ،آپ کے درس میں مریدین اور عقیدت مند کثیر تعداد میں شریک ہوا کرتے تھے ، آپ کے حلقہ درس میں شریک ہو نے والوں میں بڑی تعدادغیر مسلم عقیدت مند وں کی ہوتی، خاص طورسے مثنوی شریف کے درس میں غیر مسلم پابندی سے شریک ہو تے ۔
مناقب المحبوبین کی روایت میں ہے کہ حضرت حافظ سید محمد علی خیر آبادی کے عقیدت مندوں میں غیر مسلموں کی بڑی تعداد تھی ۔ حیدر آباد کے چندر لال کو آپ سے بے حد عقیدت تھی ، اکثر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتا تھااسی طرح دہلی کا ایک کائستھ ہندو آپ کی خدمت میں آنے جانے لگااور آپ کے اخلاق وکر دار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ مسلمان ہو گیا ۔( )
صوفیہ کرام نبی کریم ﷺ کے فرمان عالی شان : الخلق عیال اللہ کے مقتضیات پر عمل پیرا تھے ، وہ عقائد ونظریات میں اختلاف کے باجود انسانی رشتوں کو نظر انداز نہیں کرتے تھے ، فرمان نبوی : کونوا عباد اللہ اخوانا کے فلسفے پر بھی ان کی نظر تھی ۔ان کی وسیع القلبی اور رواداری کا یہ حال تھا کہ ہندوؤں کی کوئی بات انہیں پسند آتی تو بر ملا اس کا اعتراف کرتے ، فوائد الفواد کی روایت کے مطابق بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں جوگی بھی آیا کرتے تھے، ایک بار حضرت خواجہ نظام الدین اولیا سے عالم علوی اور سفلی پر بات چیت چلی ، جوگی نے اپنے خیالات کی وضاحت کی تو آپ متاثر ہوئے اورارشاد فرمایا:
مرا سخن او خوش آمدید( )
ترجمہ:مجھے اس کی بات اچھی الگی۔
ایک مرتبہ امیر حسن سجزی رحمۃ اللہ علیہ (مرتب فوائد الفواد)کو کچھ دنوں تک تنخواہ نہ ملی اور آپ پریشان ہو گئے ، آپ کی اس پریشانی کی اطلاع حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کو ہوئی تو آپ نے امیر حسن سجزی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک بر ہمن کا واقعہ سنایا ، فوائد الفواد میں اس واقعے کی تفصیل اس طرح مذکور ہے :
ایک شہر میں کوئی مال دار بر ہمن رہتا تھا ، شاید اس پر اس شہر کے حاکم نے جرمانہ کیا ، اس کا سارا مال واسباب لے لیا ، بعد ازاں وہی بر ہمن مفلس اور مضطرب کسی راستے سے چل رہا تھا ، سامنے سے اسے ایک دوست ملا ، پوچھنے لگا کیا حال ہے؟ برہمن نے کہا:اچھا اور بہت عمدہ ہے ۔ اس نے کہا ساری چیزیں تو تجھ سے چھن گئیں، اب کیا خاک اچھا ہو گا۔ بولا: زنار من با من است، یعنی میرا زنار میرے پاس ہے۔( )
یہ واقعہ حضرت امیر حسن سجزی پر حد درجہ اثر انداز ہوااور آپ کا اضطراب دور ہوگیا ،آپ نے شیخ کے اس فرمان کا مقصد سمجھ لیااور سکون و اطمینان کی سانس لی۔
اپنی بار گاہ کے حاضر باشوں کی تربیت کے لیے ایک برہمن کے واقعے کو اس انداز میں ذکر کرنا اس کا بات کا ثبوت ہے کہ آپ خذ ما صفا ودع ما کدر کے اصول پرعمل پیراتھے،ان کی جو باتیں درست معلوم ہوتیں ان کے اعتراف میں تامل نہیں فرماتے۔
صوفیہ کی بارگاہ میں مسلمان عقیدت مندوں کے ساتھ بڑی تعداد میں غیرمسلم بھی حاضری دیا کرتے تھے ، مشائخ ان غیر مسلموں کے ساتھ اخلاق و محبت کے ساتھ پیش آتے ، ان کی باتیں سنتے ، ان کی ضیافت بھی فرماتے ، اس کا مقصد یہ ہو تا تھا کہ صالح صحبت ان کےقلوب پر اثر انداز ہو اور ان کی دل کی دنیا بدل جائے ۔
سیر الاولیا میں ہے :
ایک دن ایک مسلمان ، ایک ہندو کو لے کر شیخ نظام الدین اولیا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے ، حضرت شیخ(خواجہ نظام الدین اولیا ) نے پوچھا :
ایں برادر تو ہیچ میلے بمسلمانی دارد؟ ۔۔۔ کیا تمہارا یہ بھائی مسلمانی سے کچھ رغبت رکھتا ہے ؟
اس شخص نے عرض کیا: میں اسی غرض سے لایا ہوں کہ جناب کی نظر التفات سے وہ مسلمان ہو جائے ، شیخ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور فرمایا:اس قوم پر کسی کے کہنے کا اثر نہیں ہو تا ، ہاں اگر کسی صالح مرد کی صحبت میں آجایا کریں تو شاید اس کی بر کت سے مسلمان ہو جائیں۔( )
محبوب الہی حضرت شیخ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ نہ صرف یہ کہ مریدین کے لیے ارشاد وتلقین کا مر کز اور رشد وہدایت کا سر چشمہ تھی ، بلکہ اسے خلق خدا کی درد مندی کا بھی مر کز سمجھا جاتا تھا ، مسیحاے وقت کے اس مر کزِ جو د وسخا سے اپنے اور غیر سبھی فیض یاب ہوتے ، یہاں غریبوں کی شکم سیری کے لیے مسلسل لنگر جاری رہتا ،پریشان حال بلا تفریق مذہب وملت آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے کرب واضطراب کا اظہار کرتے ، اپنا درد دل بیان کرتے اور حضرت محبو ب الہی ہر ایک کے زخم پر مرہم لگاتے ،ہر ایک کے غم کو اپنے اوپر طاری کر کے رب ذوالجلال کی بار گاہ میں دعائیں کرتے۔
سیر الاولیا میں ہے:
آپ کی خانقاہ کا دروازہ ہر وقت کھلارہتا تھا ، امیر وغریب ، عارف وعامی ، شہری اور دیہاتی ، بوڑھے اور بچے سبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ، جو جس وقت ملاقات کے لیے حاضر ہو تا اسی وقت باریابی کی اجازت دی جاتی۔ ( )
بقول حضرت امیر خسرو:
در نظر او گدا وملوک
در شدہ بے جا دہ بسلک سلوک
بر در او ہر کہ اردت نمود
زندہ جاوید شدار مردہ بود
محبوب الہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیا جو معرفت روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو نے کے ساتھ علوم شریعت میں بھی درجہ اجتہاد پر فائز تھے ، ایک دن صبح کے وقت اپنے جماعت خانہ کی چھت پر چہل قدمی فرما رہے تھے، آپ کے ساتھ آپ کے محبوب خلیفہ حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ بھی موجودتھے۔ حضرت محبوب الہی نے ملاحظہ فرمایا کہ پڑوس میں کچھ ہندو بتوں کی پوجا کر رہے ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا:
ہر قوم را ست راہے وقبلہ گاہے
حضرت امیر خسرو نے اس پر فورا دوسرا مصرعہ لگایا اور فرمایا:
من قبلہ راست کردم جانب کج کلاہے
اس وقت حضرت محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ کے سر پر ٹوپی ٹیڑھی لگی ہوئی تھی( )
اس موقع پر حضرت محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ارشاد ان کی رواداری کا واضح ثبوت ہے۔
صوفیہ کرام نے اپنی بارگاہ میں حاضر ہو نے والے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ جس طرح رواداری کا برتاؤ کیا اور جس انداز میں وسیع پیمانے پر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیا اس سے واضح ہےکہ ان کی دعوت وتبلیغ کا یہ طریقہ بے حد موثر اور کار گر تھا ۔ہمیں آج کے نفرت بھرے ماحول میں ان کے داعیانہ حکمت و تدبیر کے اصولوں سے سبق حاصل کر نا چاہیے ، رواداری اور یک جہتی کا ماحول بناکر برادران َ وطن کو پہلے خود سے قریب کر نا چا ہیےپھر انہیں اسلام کی خوبیوں سے آگاہ کر کے دامن اسلام سےوابستہ ہو نے کی دعوت دینی چاہیے ۔
یہ بات مسلم ہے کہ غیروں میں تبلیغ دین کے لیے ان کی فطرت کی شناخت اور ان کے طیبعت کے تقاضوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے ، یہ اسی وقت ہو گا جب ان کے ساتھ ایک مشترکہ معاشرے میں رہ کر ان کی صبح وشام کا جائزہ لیا جائے ،ان کے خیالات کا باریکی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور اپنے اسلامی عقائد ونظریات کی تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان سے میل جول بھی رکھا جائے ۔
‘‘تاریخ مشائخ چشت ’’کے مؤلف خلیق نظامی کے بقول :
مشائخ چشت ہدایت فرماتے تھے کہ اگر کوئی ہندو تمہاری صحبت سے گروید گی یا عقیدت کی بنا پر تمہارے پاس آنے جانے لگے اور تم سے ذکر وغیرہ کے متعلق پوچھے توفورا بتادواس فکر میں نہ رہو کہ وہ باقاعدہ مسلمان ہو جائے جب اسے روحانی تعلیم دی جائے ۔( )
شیخ کلیم اللہ دہلوی نے اپنے ایک مکتوب میں فرمایا:
صلح باہند ومسلماں سازند وہر کہ ازیں دو فر قہ کہ اعتقاد بشما داشتہ باشند ، ذکر وفکر مراقبہ وتعلیم او بگویند کہ ذکر بخاصیت خود اورا بربقہ اسلام خواہد کشید ۔( )
ترجمہ:ہندو اور مسلمانوں کے ساتھ صلح رکھیں ان دونوں گروہوں میں سے جو بھی تم سے عقیدت رکھے اسے ذکر وفکر اور مراقبہ کی تعلیم دیں کیوں کہ ذکر اپنی خاصیت کے سبب اسے خود اسلام کے بندھن کی طرف کھینچ لے گا ۔
صوفیہ کی ان تعلیمات سے جہاں اسلام کی تبلیغ واشاعت کے راستے کھل جاتے وہیں یک جہتی ورواداری کا ایک خوشگوار ماحول قائم ہوتا ،نفرتیں محبتوں میں تبدیل ہو جاتیں ، دوریاں قربت میں بدل جاتیں پھرتوفیق الہی سے کفر وشرک کی ظلمت سے معمور دل ایمان کی روشنی سے منور ہو جاتے ۔
اقلیم ہند کے مختلف اطراف میں پھیلے ہوئے صوفیہ کرام نے کبھی نفرت وتشدد کا درس نہیں دیا اور نہ ہی کسی خانقاہ میں مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا بھید بھاؤروا رکھا ، اس ضمن میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا خاص طور سے ذکر کیا جاسکتا ہے۔آپ کی خانقا ہ ہندوستا ن میں قومی یک جہتی کا مرکز ہے،جہاں ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر مذہب کے ماننے والے بڑی عقیدت واحترام کے ساتھ حاضری دے کر قلبی سکون حاصل کرتے ہیں ۔ آپ پوری زندگی رواداری کے اصولوں پر عمل پیرا رہے ،کسی مذہب کے ماننے والوں کو اپنی بارگاہ سے نامراد نہیں لوٹا یا ، جب آپ اجمیر شریف تشریف لائے تو اس وقت ہندوستان کا یہ خطہ کفر وشرک کا مرکز تھا ، آپ نے اجمیر میں اپنی محبت آمیز ارشادات اور انسانیت نواز تعلیمات کے ذریعہ خلق خدا کو دین ِ اسلام کی طرف راغب کیا ، آپ نے جب یہاں اصلاح کی تحریک چلائی توبین المذاہب رواداری اور بھائی چارگی کے فروغ کے پیش نظر یہاں کے ان مقامی رسوم ورواج کو باقی رکھا جو اسلامی شریعت کے مخالف نہیں تھے ۔آپ نے انسانیت کے ناطے دوسرے مذہب کے لوگوں میں بھی اپنی محبت بانٹی ، آ پ کے لنگر کھانے سے اپنے اور غیر سبھی شکم سیری حاصل کیا کرتے تھے ، آپ کا فر مان مشہور ہے کہ جس شخص کے اندر دریا کی طرح سخاوت ، آفتاب کی طرح شفقت اور زمین کی طرح تواضع موجود ہو وہ اللہ کے نزدیک محبوب ہے ۔ آپ نے اپنے اس ارشاد کو عملی جامہ بھی پہنایا ،آپ کے بحر سخاوت سے ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگ فیض یاب ہوئے ، آپ کی شفقتوں کے سایے میں غمزدوں کو اپنے غموں کا مداوا ملا ۔
صوفیہ کرام خلق خدا سے محبت فرمایا کرتے تھے اور مخلوق کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر اس کے ازالہ کی کوشش کرتے ، خلق خدا کو خوش کر نا ان کے نزدیک ایک نیک اور محبوب عمل تھا ، اس سلسلے میں وہ مسلم اور غیر مسلم کے در میان کوئی تفریق نہیں کرتے تھے ۔
خواجہ فخر جہاں دہلوی اپنے چند درویشوں کے ہمراہ ایک تالاب کے کنارے سے گزرے ، دیکھا کہ چند ہندو وہاں غسل کر رہے ہیں اور وہاں پر موجودبر ہمنوں کو کچھ نقدی پیش کررہے ہیں ، لیکن ایک ضعیف العمر بر ہمن نہانے کا سامان لیے مایوس صورت کے ساتھ بیٹھا ہو اہے ، خواجہ فخر جہاں دہلوی نے اپنے درویشوں سے فرمایا : اگر آپ مجھ پر ناراض نہ ہوں تو میں اس بر ہمن کو خو ش کردوں ، درویشوں نے کہا کہ ہماری کیا مجال کہ ہم آپ کے کام پر ناخوش ہوں ،پھر آپ ہندوؤں کا لباس پہن کر اس بر ہمن کے پاس گئے اور کہا : میں نہا نے آیاہوں ، وہ بر ہمن خو ش ہو گیااور اس نے اپنے طریقے کے مطابق آپ کو غسل کرایا ، آپ نے اسے پانچ روپے دیے اور بڑی معذرت کی کہ فی الحال یہی قلیل معاوضہ پیش ہے ، بر ہمن بڑا خوش ہوااور اس نے کہا کہ اتنی اجرت تو آج تک مجھے کہیں نہیں ملی تھی ، جتنی اس شخص نے دی۔آپ اپنے مکان میں تشریف لائے اور تجدید غسل کیا ، دوسرے دن پھر اسی برہمن کے پاس جا کر غسل کیا اور اس کو دس روپے دیے ، تیسرے دن پندرہ روپے دے کر غسل کیا۔ جب واپس آنے لگے تو بر ہمن بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیاکہ مجھے دین محمدی سکھاؤ، آپ نے اس برہمن کو کلمہ طیبہ پڑھا کر اسلام میں داخل فر مالیااور اپنا خلیفہ بنایا۔
خواجہ فخر جہاں دہلوی نے ایک مایوس برہمن کی مایوسی کو دیکھ کر ترس کھاتے ہوئے اس کے طریقے پرغسل کیا تاکہ اس کی مایوسی دور ہوجائے اور دوسرے بر ہمنوں کی طرح وہ بھی خوش وخرم نظر آئے، آپ کا یہ عمل یقینا انسان دوستی اور رواداری ہی کی بنیاد پر تھا ، لیکن جب بر ہمن پر آپ کی رحم دلی کا راز کھلا تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ، آپ کے اس عمل نے اس پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ دامن اسلام سے وابستہ ہو گیا۔
در اصل صوفیہ کرام خلق خدا کی خدمت کو اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتے تھے ، اس میں مذہب وملت کی کوئی تفریق نہیں تھی ، وہ پریشان حال انسانوں کی پریشانیوں کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے ، بھوکوں کے بھوک کا خیال ان کے لقمہ کو حلق سے نیچےاترنے نہیں دیتا تھا، حضرت محبوب الہی کا لنگر مشہورتھا ، لیکن وہ خود اس لنگر سے نہیں کھاتے تھے ، آپ اکثر روزہ رکھا کرتے تھے ، کیوں کہ آ پ کو اپنے شہر کے ان بھوکوں کا خیال تھا جو فاقے کی حالت میں ہوتے ۔
صوفیہ کرام ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں پر شفقتیں بانٹتے ، ہر اس عمل سے باز رہنے کا حکم دیتے جو کسی انسان کی دل شکنی کا باعث ہو ، جو انسان کسی کے بھوک کا خیال کرتے ہوئے خود شکم سیر ہو کر نہ کھائے وہ کسی کو تکلیف کیسے پہنچا سکتا ہے ، وہ بے گناہ انسانوں کی ہلاکت کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے ؟۔
حضرت خواجہ غریب نواز کے اجل خلفا میں حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہو تا ہے۔ آپ زبردست عالم وفاضل تھے اور روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ آپ کی خدمت میں مسلمانوں کے ساتھ جین دھرم کے ماننے والے عقیدت مند بھی بڑی تعداد میں آیا کرتے تھے، جین دھرم کے لوگ گوشت سے حد درجہ پر ہیز کیا کرتے ہیں ۔ حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ان غیر مسلم عقیدت مندوں کی دل بستگی کا خیال رکھتے ہوئے اپنی خانقاہ میں گوشت پکا نے پر پابندی لگادی تھی ،یہاں تک اپنے عقیدت مندوں کے لیے یہ وصیت فرمادی کہ
‘‘ در فاتحہ من گوشت نہ دہند’’
آج بھی آپ کی خانقاہ کے لنگر میں گوشت نہیں پکتا ہے ، رواداری اور یک جہتی کی اس سے اعلیٰ مثال اور کیا ہو سکتی ہے ۔
سچ یہ ہے کہ صوفیہ کرام نے سر زمین ہندکو علم و آگہی ،معرفت و طریقت ،فقر ، مذہبی رواداری اور انسان دوستی کی ایسی لازوال خوشبو سے مہکادیا کہ آج تک یہ دھرتی ان خوشبوﺅں سے سرفراز ہے اور مسلسل مہک رہی ہے اور جب تک صوفیانہ تعلیمات ہماری رہبری کرتی رہیں گی ہماری قومی یک جہتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ ہندوستان کے گوشے گوشے میں موجود صوفیہ کرام ہمارے ملک کی سالمیت کے ضامن ہیں ۔اس بات کی صدا قت میں کوئی شک نہیں کہ صوفیانہ تعلیمات ہی کے فروغ سے دنیا میں امن وسلامتی اور بھائی چارگی کا ماحول قائم ہو سکتا ہے،انسانیت کے تحفظ اورفروغ امن کا واحدراستہ ہے تصوف اور صوفی ازم۔
٭٭٭٭

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 629 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجد رضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجد رضا مصباحی: 22 Articles with 16708 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ