ماہ شعبان میں روزوں کی فضیلت !

(Inayat Kabalgraami, )

 شعبان المعظم اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے ،جواپنی رحمتوں،برکتوں اورسعادتوں کے اعتبارسے ماہ رمضان کے لئے پیش خیمہ کی حیثیت رکھتاہے،اس مہینے میں رمضان المبارک کے استقبال،اس کے سا یہ فگن ہونے سے قبل ہی اس کی مکمل تیاری اور مختلف ضروری امور کا بھرپورموقع ملتاہے،یہ وہ قابل قدر مہینہ ہے جس کی نسبت نبی محترمﷺ نے اپنی طرف فرمائی اوراس میں خیرو برکت کی دعاء فرمائی،نیز اس ماہ کواعمال کی پیشی کا مہینہ قرار دیا ۔ چوں کہ انسان کے اندر دو صفتیں پائی جاتی ہیں: ایک روحانیت،، دوسری حیوانیت، پہلی میں انسان ترقی کر تا ہے اور فرشتوں جیسا بن جاتا ہے، اس وجہ سے اسے مَلکیت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور دوسری میں اضافہ کی صورت میں انسان حیوا ن سے بھی بدترین ہوجاتا ہے، روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جس سے حیوانیت روحانیت کے تابع ہوجاتی ہے، انسان اپنی خواہشات کو دباکر خود کو اﷲ تعالیٰ کے احکام کا پابند بنالیتا ہے اور نیک لوگوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے، رسول اکرم ﷺنے امت میں روحانیت اور تقوے کو بڑھانے فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزوں کے اہتمام کی بھی تلقین کی ہے ۔

ایک مسلمان کی روحانی ترقی صرف روزہ سے ہی ممکن ہے چاہے فرض روزہ ہو یا نفلی روزہ سے حیوانی وشہوانی قوات کا زور ختم ہوتا ہے ۔ نبی محترم ﷺ فرض روزہ کے ساتھ نفلی روزہ کا بھی کثرت سے اہتمام کیا کر تی تھے اور صحابہ ؓ کو بھی اس روزہ کے فضلت سے اشنا کیا کرتے تھے ۔

حدیث قدسی میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان کا ہر نیک کام دس گُنا سے سات گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے البتہ روزہ اس میں شامل نہیں کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہشِ نفس اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے (پس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی قربانی اور نفس کُشی کا صلہ دوں گا) روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک ومولیٰ کی بارگاہ میں حضوری اور شرفِ باریابی کے وقت، اور قسم ہے کہ روزہ دار کے منھ کی بو، اﷲ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے اور روزہ (دنیا میں شیطان اور نفس کے حملوں کے لیے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے حفاظت کے لیے) ڈھال ہے اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہوتو اسے بے ہودہ اور فحش باتیں نہیں بکنا چاہیے اور نہ ہی شور وغُل کرنا چاہیے اور اگر کوئی دوسرا اُسے گالی دے یا جھگڑے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں‘‘ (اس پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے)

نبی محترم ﷺرمضان کے بعد سب سے زیادہ اس ما ہ میں روزوں کا اہتمام فرمایاکرتے تھے،حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا فرماتی ہیں کہ: میں نے رمضان کے علاوہنبی محترن ﷺ کوکبھی پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھاسوائے شعبان کے، کہ اس کے تقریباً پورے دنوں میں آپﷺ روزے رکھتے تھے۔ (بخاری،مسلم)

حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی محترم ﷺسے سوال کیا کہ میں نے آپﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں(نفلی) اتنے کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا؟نبی محترمﷺے فرمایاکہ:رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے جس کی برکت سے لوگ غافل ہیں،اس ماہ میں اﷲ تعالی کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہیں،میری خواہش ہے کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔(نسائی،مسند احمد،ابوداود:2076)ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہانے نبی محترمﷺ سے معلوم کیا کہ کیا آپ شعبان کے روزے بہت پسند کرتے ہیں؟آپﷺنے فرمایا:اﷲ تعالیٰ اس سال انتقال کرنے والوں کے نام اس ماہ میں لکھتا ہے،میری خواہش ہے کہ میری موت کا فیصلہ اس حال میں ہو کہ میں روزے سے ہوں۔(رواہ ابو یعلی)

ایک اور حدیث مبارک میں ہے کہ کہ نبی محترمﷺ شعبان کے اکثر ایام کا روزہ رکھتے تھے۔ سیدہ امِ سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں :
میں نے عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے نبیﷺ کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تووہ کہنے لگیں: آپﷺ روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں، اورجب آپ ﷺ روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہیں رکھیں گے، میں نے نبی ﷺ کو شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اورمہینہ میں نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے، آپ ﷺ شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے۔ (صیحح مسلم: 1156 )

’’تطبیق‘‘بعض محدثین کی رائے یہ ہے کہ نبی کریمﷺ رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور مہینہ میں مکمل مہینہ کے روزے نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے سیدہ ام سلمہ والی حدیث کو اکثر پر محمول کیا ہے، کیونکہ اگر کوئی مہینہ کے اکثر ایام میں روزے رکھے توعام لغت میں بطور مبالغہ یہ کہنا جائز ہے کہ اس کے مکمل مہینہ کے روزے رکھے۔جبکہ دیگر محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ مختلف اوقات میں تھا، کچھ سالوں میں تو آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھا کرتے اور بعض سالوں میں شعبان کے اکثر ایام کا روزہ رکھتے تھے۔
ان احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کے سلسلے میں آپ ﷺکا کوئی لگا بندھا دستور ومعمول نہیں تھا، کبھی مسلسل روزے رکھتے، کبھی مسلسل ناغہ کرتے؛ تاکہ امت کو آپ ﷺ کی پیروی میں زحمت، مشقت اور تنگی نہ ہو، وسعت وسہولت کا راستہ کھلا رہے، ہر ایک اپنی ہمت، صحت اور نجی حالات کو دیکھ کر آپ ﷺ کی پیروی کرسکے، علما ء کرام نے نبی محترمﷺ کی شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنے کی کچھ حکمتیں بھی بیان کی ہیں :

(۱)اس مہینے میں اﷲ تعالیٰ کے دربارمیں انسانوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں ،اس لئے نبی محترم ﷺ کی یہ خواہش تھی کہ جب میرے اعمال پیش ہو تو میں روزے سے ہوں جیسے کہ اُ پر ایک حدیث میں گزرا جس حدیث کا روای اسامہ بن زید ؓ تھے۔(۲) نبی محترم ﷺ کی ایک خواہش یہ بھی تھی کے اس مہینے پورے سال میں مرنے والوں کی فہرست میں ملک الموت کے حوالے کی جاتی ہے؛ اس لیے آپ ﷺیہ چاہتے تھے کہ جب آپ ﷺ کی وفات کے بارے میں ملک الموت کو احکام دیے جائیں تو اس وقت آپﷺ روزے سے ہوں۔ اس حدیث پاک کہ راویا سیدہ عایشہ ؓ ہے (معارف الحدیث: ۵۵۱/۴)(۳)چوں کہ یہ مہینہ رمضان کے قریب ہے اور اس کے خاص انورات و برکات ہے اس ہی انوار وبرکات سے مناسبت پیدا کرنے کے شوق میں آپ ﷺشعبان کے مہینہ میں روزے کا اہتمام کثرت سے فرماتے تھے، جس طرح فرض نمازوں سے پہلے سنتیں پڑھتے تھے، اسی طرح فرض روزے سے پہلے نفلی روزے رکھا کرتے تھے اور جس طرح فرض کے بعد سنتیں اور نفلیں پڑھتے تھے؛ اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھتے اوراس کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔
چوں کہ اسلام اعتدال اور میانہ روی کا درس دیتا ہے ، اس لئے نفلی عبادات کو اتنی عظمت حاصل ہیں ، جس سے آدمی اپنے جسم و جان ،عزیز قریب اور زیردستوں کی پوری ذمہ داری کو بہ حسن وخوبی نبھاسکینبی محترم ﷺ نے ہم پر شفقت کرتے ہوئے نوافل میں اعتدال کی راہ بتائی؛ اس لیے ہر مہینے میں صرف تین دن روزہ کو صوم الدہر (ہمیشہ روزہ رہنے) کے برابر بتایا، اور مزید قوت وطاقت ہوتو ایک دن روزہ ایک دن فاقہ کرکے نصف ماہ روزہ کی اجازت دی اور قرآن پاک کو مہینہ میں ایک بار ختم کرنے کی تعلیم دی اور اگر ہمت وطاقت ہوتو ہفتہ میں ایک بار ختم کی اجازت دی۔ (مشکوٰۃ شریف: ص:۹۷۱) اس لیے ہمیں اعتدال کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں نبی محترم ﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہونا پڑیگا یہی ہماری دنیا و آخیرت کی کامیابی ہے ،شعبان کہ پورے مہینہ یا اکشر دنوں روزہ رکھنا نبی محترم ﷺ کی خصوصیات تھی ، ہمارے لئے نصب شعبان روزے رکھنا سنت ہے ، اس کا بھر پور اہتمام ہی ہمارے لیئے باعث نجات ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یا اﷲ ہمیں دین اسلام ور شریعت محمد ﷺ پر عمل پیرا فرما:(آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 51974 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 343

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ