آنکھوں سے اوجھل تعلیمی شعبہ

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

وطن عزیز میں کم و بیش تمام ہی سیاسی قائدین تعلیم کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں اور شد و مد کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ تعلیم کو فروغ دئیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا' یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جب ان کی جماعت اقتدار میں آئے گی تو تعلیم ان کی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہوگی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد تعلیم ان کی ترجیحات میں بہت پیچے چلی جاتی ہے پاکستان برصغیر کا وہ واحد ملک ہے جو خطے میں دیگر ممالک سے تعلیم کے شعبے میں کم تر درجے پر پہنچ چکا ہے اس کی شرح خواندگی حکومتی اعدادو شمار کے مطابق زیادہ مگر مختلف آزاد زرائع سے بہت کم ہے اس کی بنیادی وجہ وہ بنیادی سہولیات نہ ہوناہے جن کی وجہ سے کوئی بھی ملک تعلیمی شعبے میں ترقی کر سکتا ہے اس کے لئے حکومت اور عوام کو ملکر کام کرنا ہو گا تاکہ ملک میں شرح خواندگی کو ناصرف بڑھایا جا سکے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میسر آسکیں حال ہی میں پاکستان اور چین کے درمیان بننے والے سی پیک منصوبے میں کروڑوں مواقع آئیں گے جن میں تعلیم یافتہ افراد کو ترقی کے مواقع ملیں گے اگر ابھی حکومت نے کوئی اقدامات نہ کیے تو پھر شاید ان منصوبوں ے فوائد بھی کوئی اور سمیٹ لے گا ۔ تعلیم کے فروغ اور اس شعبے کی ترقی کے لئے ملک میں تعلیمی اصلاحات بہت ہی ضروری ہیں سب سے پہلے حکومتی سطح پر قائم سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے اور ان میں وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جو کسی بھی اچھے ادارے میں میسر ہوتی ہیں اس کے بعد نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے پورے ملک میں ناسہی ہر صوبے کا ایک نصاب ہونا ضروری ہے تاکہ غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی تعلیم حاصل کر سکے نجی شعبے جو تعلیم فراہم کر ہے ہیں ان کو ریگولر کیا جائے ایک ایسا انفراسٹکچر بنایا جائے جس سے یہ سب ادارے ایک چھتری تلے آ جائیں اور ان اداروں پر کڑی نظر رکھی جائے یہ ا دارے عوام تعلیم کی فراہمی میں معاون ہوں ملک بھر میں پھیلے ہوئے ان کے نیٹ ورک کو بہتر بنایا جا ئے سابق دور حکومت میں تعلیم کے فروغ کے لئے کوئی بھی قابل ذکر منصوبہ نہیں بنایا جبکہ موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ایک بھی سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی جبکہ اس کے برعکس پڑوسی ملک بھارت میں گزشتہ چار برسوں کے دوران 52 سرکار یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا پاکستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد13لاکھ55ہزار ہے جس میں 7لاکھ53ہزار لڑکے اور 6لاکھ لڑکیاں شامل ہیں جبکہ بھارتی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد دو کروڑ96لاکھ ہے جس میں ایک کروڑ60لاکھ لڑکے اور ایک کروڑ30لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کے نجی شعبہ میں دو یونیورسٹیوں کے قیام کے بعد پاکستان میں یونیورسٹیوں کی کل تعداد163ہوگئی ہے جس میں 91سرکاری اور 72پرائیویٹ ہیں بھارت میں یونیورسٹیوں کی کل تعداد785ہوگئی ہے نجی شعبہ کی یونیورسٹیوں کی تعداد258ہے پاکستان میں یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد83ہزار 375ہے جس میں 80فیصد سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھا رہے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے اس اعتبار سے اس کی تعلیمی ضروریات بھی بہت زیادہ ہیں لیکن پاکستان میں اس کی ضروریات کے مطابق بھی یونیورسٹیاں نہیں ہیں تعلیم کا شعبہ صوبوں کے زیرانتظام ہے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لئے زیادہ بجٹ مختص کریں مگر بدقسمتی سے کسی صوبے نے اس شعبے پر وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ متقاضی ہے طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ ملک میں کئی ایک یونیورسٹیوں کے سرے سے وائس چانسلر ہی مقرر نہیں کئے گئے فروغ تعلیم کے لئے یہ ضروری ہے کہ نجی شعبہ کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مزید یونیورسٹیاں قائم کر سکے اس وقت ملک میں تعلیمی معاملات میں جو بھی تھوڑی بہت بہتری دکھائی دیتی ہے یہ نجی شعبہ کی مرہون منت ہے'نجی شعبہ کے تعلیمی ادارے اگر موجود نہ ہوتے تو وطن عزیز میں تعلیمی شعبہ تباہی سے دوچار ہوتا اب بھی یہ لازم ہے کہ نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے سلسلے میں اس شعبہ کو مراعات اور سہولتیں دی جائیں حکومت کو اپنے طور پر بھی مرکز اور صوبوں میں اس شعبہ کے لئے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہے ۔سیاسی قائدین اور جمہوری حکومتوں کو اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جو سڑکوں ،پلوں میٹرو بسوں اور دیگر منصوبوں پر رقم لگانے کو ترقی کہہ رہی ہے وہ سب سے اہم شعبے تعلیم پر بھی توجہ دے اور جو وعدے اس نے اقتدار کے حصول کی خاطر عوام سے کیے تھے ان کو پورا کرتے ہوئے فروغ تعلیم کے لئے اسی طرح فنڈز مہیا کرئے جس طرح وہ سڑکوں ،پلوں اور میٹروبسوں وغیر ہ کیلئے دے رہی اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی ڈیکلئیر کی جائے کیونکہ آزاد ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ملک اس وقت تعلیمی شعبے میں زوال پذیر ہے اور دیگر ممالک ہم سے کہیں آگے جا رہے ہیں اس کی واضح مثالیں چین ،ترکی ،ملائشیاء ،سری لنگا اور دیگر کئی ممالک ہیں کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت تعلیم کے شعبے کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرتی اور سالانہ بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرتی فراہمی تعلیم کے لئے کاغذی نہیں بلکہ عملی منصوبے دیتی مگر شاید ہم وہ قوم ہیں جو آنکھوں دیکھے حال پر خوش ہوتے ہیں اور انھیں آنکھوں دیکھے منصوبوں پر اپنے ووٹ دیتے ہیں عوام کی اس خوبی کو موجودہ حکومت خوب اچھی طرح کیش کروانے کی کوشش میں ہے مگر دوسری طرف وہ شعبے جو کہ انتہائی ضروری ہیں ان پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے جس کا نقصان ہم اور ہماری آنے والی نسلوں کو ہو سکتا ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 133513 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
08 May, 2017 Views: 538

Comments

آپ کی رائے