انڈویجوئل لینڈ کے زیر اہتما م صحافیوں اور میڈیا پرسنز کی ایک بیٹھک

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

سماجی تنظیم انڈویجوئل لینڈ Individualland کے زیر اہتمام میڈیا پرسنز اور صحافیوں کے ساتھ ایک سماجی بیٹھک Social Thon with Media Personnel & Journalists آئی بی اے گارڈن روڈ کے آڈیٹوریم میں 9 مئی 2017کو منعقد کی گئی۔ یہ سماجی بیٹھک انڈویجوئل لینڈ کے تحت منعقد ہونے والے مختلف سیمینارز کا تسلسل تھی جن میں سے ایک 8 اپریل 2017 کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا تھا۔ انڈویجوئل لینڈ ایک فلاحی تنظیم ہے جو مختلف سماجی، فلاحی ،صحت، تعلیم و ادبی موضوعات پر عوام الناس کی توجہ مبزول کراتا ہے اور انہیں آگاہی فراہم کرتا ہے ۔ سیمینارز کا موضوع سیف چیریٹی Safe Charity ‘ تھا، عطیات دینے والوں سے یہ کہنا مقصود تھا کہ عوام جن لوگوں یا فلاحی اداروں کو عطیات دیتے ہیں ، سوچ سمجھ کر، دیکھ بھال کر بلکہ ٹھوک بجا کر دیں، گویا حق دار کو اس کا حق پہنچنا چاہیے۔ اس موضوع پر اہل قلم کو قلم و قرطاس پر اپنے اپنے رشحات قلم کی دعوت بھی دی گئی تھی۔ آج کی اس سماجی بیٹھک میں مضامین و کالم لکھنے والوں کو سرٹیفیکیٹ اور شیلڈ بھی دی جانا تھی۔ انڈویجوئل لینڈ کی میڈیا پرسنز اور صحافیوں اور کالم نگاروں کے ساتھ اس بیٹھک میں یوں تو بے شمار قلم کار وں نے شرکت کی لیکن اسٹیج پر براجمان میڈیا اورصحافت کے شعبے کی اہم شخصیات میں انڈویجوئل لینڈ کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر گل مینا بلال، معروف صحافی غازی صلاح الدین اور ٹی وی اینکر ضرار کھوڑواور آئی بی اے کے کمال صدیقی شامل تھے جب کہ انڈویجوئل لینڈ کی سندس سید نے چلتی پھرتی کوآردینیٹر کے فرائض انجام دیے۔ گفتگو کا آغاز گل مینا صاحبہ نے کیا اور انڈویجوئل لینڈ کے مقاصد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عطیات کی ادائیگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ عطیات دیے جاتے ہیں۔ عطیات جن میں صدقات، خیرات اور ذکواۃ بھی شامل ہے جس کسی شخص یا ادارے کو دئے جائیں بہت ہی سوچ سمجھ ، اس بات کی تصدیق اچھی طرح کرلی جائے کہ آپ کی دی ہوئی رقم کسی غلط کام میں تو استعمال نہیں ہورہی۔ اس گفتگو میں میڈیا یعنی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرنک میڈیا بھی زیر بحث آیا کہ وہ اس حوالے سے کیا کردار ادا کررہا ہے اور کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔ سینئر صحافی اور کالم نگار غازی صلاح الدین کا کہنا تھا کہ جب ہم میڈیا کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں الیکٹرانک میڈیا ہی آتا ہے ، پرنٹ میڈیا یا اخبارات کی اب وہ اہمیت نہیں رہی۔ حالانکہ پرنٹ میڈیا جس میں اخبارات و رسائل اور کتابچے، پمفلیٹس آتے ہیں عوام کو معلومات فراہم کرنے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں اب یہ بات زبان زد عام ہوگئی ہے کہ ہمار ا الیکٹرانک میڈیا شام 7بجے سے رات 12بجے تک جو تماشا کرتا ہے وہ دیکھنے کے قابل نہیں۔ اس میں ماسوائے ایک دوسرے پر الزام در الزام اور انتہائی نا مناسب زبان کا استعمال کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اسے لوگ سیاسی دنگل کا نام بھی دیا کرتے ہیں۔غازی صلاح الدین کا کہنا تھا ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ جب عطیات دے تو بہت ہوشیاری رہے ، ایسا تو نہیں کہ اس کی دی ہوئی رقم کسی غلط ہاتھوں میں جارہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انڈویجوئل لینڈ نے عطیات کی ادائیگی کے حوالے سے جس مہم کا آغاز کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ٹی وی اینکر ضرار کھوڑو صاحب کا فرمانا تھا کہ میڈیا کے بے شمار چینل ہیں ، ٹی وی دیکھنے والوں کے ہاتھ میں رموٹ ہوتا ہے جو چیز پسند کی نہ ہو چینل بدل لیا کریں۔ یعنی ہم اپنی اصلاح نہ کریں، اپنی غلطیوں پر نظر ثانی نہ کریں، یہ اینکر پرسنز جو کچھ کر رہے ہیں انہیں آزاد چھوڑ دیا جائے جس کا جی چاہے وہ کرے، جس کی چاہیں تذلیل کریں، جو چاہیں تبصرہ کریں، جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں، مہمانوں کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں اور مہمان بھی خاص طور پر سیاسی مہمان جس طرح کی چاہیں زبان استعمال کریں، مُغَلَّظات بکیں، بکنے دیں، دُشنام طرازی کریں کرنے دیں، ایک دوسرے پر لَعن طَعن کریں کرنے دیں، خواتین کی موجودگی میں بے لگام ہوجائیں ، ہوجانے دیں، خواتین کا احترام دور کی بات لِحاظ ، مروت، ادب احترام سب کچھ جاتا رہا ۔ چینل کو ریگولیٹ کرنے والا ادارہ ، ان کی غیر اخلاقی، غیر قانونی، سرزنش کرنے والا ادارہ پمرا قائم تو ہے لیکن اس کا حال اس کے چیئمین نے چند روز قبل پریس کانفرنس کر کے دنیا کو آواز بلند سنا دیا کہ اس کی کیا حیثیت ہے، اس کے کیااختیارات ہیں، معصومیت کی تصویر بنے، بے قصور، بھولے بھالے ابصار عالم نے اپنے دکھوں کی داستان جس کرب ، درد و الم اور دکھ کے ساتھ سنائی ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پاکستان میں اگر کوئی مظلوم اور ستم رسیدہ کوئی ہے تو پیمرا کا چیئمین ہی ہے۔ انڈویجوئل لینڈ کی اس سماجی بیٹھک میں میڈیا کے کردار پر کھل کر بات ہوئی، حاضرین نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ بحث میں حصہ لینے والوں کا خیال تھا کہ صحافیوں اور کالم نگاروں ، میڈیا پرنسز پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ لوگوں میں شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔گفتگو میں صحافیوں، کالم نگاروں، بلاگرز، سی پی ایک ای کے ممبران ، پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے اراکین نے حصہ لیا۔بعض لکھاریوں نے اپنی اپنی نیوز اسٹوری بھی بیان کیں۔دوران مباحثہ غازی صلاالدین ، ضرار کھوڑو، کمال صدیقی اور گل زرمینا صاحبہ سے سوالات بھی کیے گئے جن کے انہوں نے اپنی دانشت میں تسلی بخش جوابات دینے کی کوشش کی۔ میڈیا کی آزادی سے ایک جانب تو بے شمار فوائد ہوئے تو دوسری جانب آزاد میڈیا کے منفی اثرات بھی بے شمار سامنے آئے ہیں۔ برقی میڈیاپاکستان میں آزاد کیا ہو ا، فہاشی، عریانیت، بے حیائی کا کھلے عام دور دورہ ہوگیا۔ جس چینل کا جی چاہتا ہے ڈراموں، اشتہاروں کے نام سے فہش،عریاں اور بے حیا قسم کے سین شامل کرکے کھلے عام دکھاتا ہے۔ ا س پر شرم و ندامت بھی محسوس نہیں کرتا۔ برقی میڈیا کی ا س بے مہار آزادی نے گھر گھر داخل ہوکر ہماری عزت و آبرو اور ہماری مشرقی روایات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ انڈویجوئل لینڈ کی اس سماجی بیٹھک میں گفتگو گھوم پھر کر عطیات کی ادائیگی اور’ سیف چیریٹی Safe Charity پر آجایا کرتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عطیات دینے میں ہمیں بہت ہی احتیاط اور سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیے اس لیے کہ عطیات لینے والوں کا جو مینا بازار ہمارے ملک میں لگا ہوا ہے شاید ہی کہیں اور یہ صورت حال پائی جاتی ہو۔ انڈویجوئل لینڈ اپنے اس ایونٹ کے توسط سے لوگوں کو یہی پیغام پہنچانا چاہتا تھا کہ عطیات تو ہم آپ دیتے ہی ہیں ، یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے، اخلاقیاتی قدریں بھی ہمیں یہی تعلیم دیتی ہیں،جنہیں اللہ نے دیا ان پر اس کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عطیات ضرور دیں لیکن دیکھ بھال کر، آپ کی دی ہوئی رقم کسی غلط جگہ یا اس کا غیر ضروری مصرف تو نہیں ہورہا، جس ادارے کو ، جس شخص کو ہم اپنے عطیات دے رہے ہیں وہ اس کا استعمال اسلام کے بتائے ہوئے اور قانون کے مطابق کررہا ہے۔ کہیں رقم کسی ذریعے سے ملک سے باہر تو نہیں لے جائی جارہی، وہ ادارہ اس رقم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کر رہا ۔ آج کل مذہب کے نام پر عطیات جمع کرنے کا رواج عام ہے، دینی تعلیم کے بیشتر ادارے عطیات کی بنیاد پر ہی چل رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی تعلیم کے ادارے صدقہ، خیرات، زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہیں لیکن فی زمانہ ان کے بارے میں بھی چھان بین ضروری ہے۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ دیکھ بھال کر لینا ، اطمینان کر لینے میں کوئی مزائقہ نہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ زبردستی عطیات یا چندہ لینے والے اشخاص یا اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں ۔ اس لیے کہ ایسے عناصر عطیات کا استعمال دہشت گردی کے کاموں میں بھی کرسکتے ہیں۔ بَحث و مباحثے کے بعدچند لکھاریوں کو جن میں مزمل احمد فیروزی، منصور احمد خان مانی شامل تھے اسناد کے علاوہ شیلڈ سے نوازا گیا جب کہ عطیات کے موضوع پرمتعدد لکھنے والوں کو بشمول اس ناچیز کے تعریفی اسناد دی گئیں۔ اس طرح یہ سماجی بیٹھک طعام کے اہتمام کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659849 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
11 May, 2017 Views: 692

Comments

آپ کی رائے