سعودی عرب کا مقدس فوجی اتحاد

(نذر حافی, islamabad)
دنیا کا ہر مسلمان ، سعودی عرب سے عشق کرتا ہے، یہ عشق بلا وجہ نہیں ہے بلکہ سعودی عرب سے مسلمانوں کے عشق کی بنیادی وجہ وہاں پر پائے جانے والے مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں۔جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کی کمان سنبھالی تو انہی مقدس مقامات کے دفاع کی وجہ سے اہلیانِ پاکستان کو بہت خوشی ہوئی۔

دنیا کا ہر مسلمان ، سعودی عرب سے عشق کرتا ہے، یہ عشق بلا وجہ نہیں ہے بلکہ سعودی عرب سے مسلمانوں کے عشق کی بنیادی وجہ وہاں پر پائے جانے والے مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں۔جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کی کمان سنبھالی تو انہی مقدس مقامات کے دفاع کی وجہ سے اہلیانِ پاکستان کو بہت خوشی ہوئی۔

انہی مقدس مقامات کی وجہ سے ،سعودی حکمرانوں کو خادم الحرمین شریفین کہا جاتا ہے، انہی مقدس مقامات کی وجہ سے سعودی عرب کو عالم اسلام کا قلب کہا جاتا ہے، انہی مقدس مقامات کی وجہ سے سعودی عرب کے بنائے ہوئے فوجی اتحاد کو عالم اسلام کا فوجی اتحاد کہا جاتا ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے میڈیا میں لکھائی، دکھائی اور سنائی دیتا ہے۔ لیکن آئیے آج اسی میڈیا سے پوچھتے ہیں کہ وہ مقدس مقامات کس حال میں ہیں جن کی وجہ سے دنیائے اسلام، سعودی عرب سے عشق کرتی ہیں !؟
کیا کبھی اس میڈیا نے ہمیں بتایا کہ مکے اور مدینے میں حضور نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پیارے اور جلیل القدر اصحابؓ کے تاریخی آثار اور ان کی نورانی قبور کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے!؟
کیا کبھی اس میڈیا نے ہمیں بتا یا کہ وہ مقدس مقامات جن کی وجہ سے دنیائے اسلام ، سعودی عرب کو قلبِ اسلام سمجھتی ہے ، جب ان پر کوئی مسلمان پہنچ جاتا ہے تو اسے ان مقامات کو چومنے اور چھونے تک کی اجازت نہیں دی جاتی!؟

کیا کبھی اس میڈیا نے ہمیں بتا یا کہ وہ مقدس ہستیاں جن کا وطن ہونےکی وجہ سے ہم سعودی عرب کے بھی تقدس کے قائل ہیں، آج ان ہستیوں کی مقدس قبور کا نام و نشان مٹا دیا گیاہے!؟

اگر آپ کو اس میڈیا نے نہیں بتایا تو ہم آپ کو مختصرا بتا دیتے ہیں کہ سعودی حکمرانوں نے اپنے دور حکومت میں ان مقدس مقامات کے ساتھ کیا کیا ہے!

جنت البقیع میں سرکارِ دوعالم کے اصحاب اور ان کی آل و اولاد کے مزارات کی توہین کی گئی اور منہدم کر دئیے گئے۔جدہ میں مقبرہ حوا کو کنکریٹ سے بند کر دیا گیا ، دار الارقم نامی وہ پہلی درسگاہ جس میں نبی پاک نے تعلیم دی ، مدینہ میں بی بی فاطمہ کا گھر ،مدینہ میں امام جعفر صادق کا گھر ، بنو ہاشم کا محلہ صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، ١٩٩٨ میں ہمارے پیارے نبیﷺ کی والدہ بی بی آمنہ کے مقبرے اور قبر کو گرانے کے بعد نظر آتش کر دیا گیا ، مدینے میں نبی ﷺکے والد مکرم حضرت عبداللہ کی قبر مٹادی گئ ، حضرت امام علی کرم اللہ وجہ کا وہ گھر جس میں امام حسن اور امام حسین کی ولادت ہوئی مٹادیاگیا ، وہ گھر جس میں ٥٧٠ میں اللہ کے آخری نبی کی ولادت ہوئی ، اس گھر کو گرانے کے بعد اسکو مویشی بازار میں منتقل کر دیا گیا ،پیارے نبی کی پہلی زوجہ، بی بی خدیجہ کا گھر جہاں قرآن مجید کی کچھ پہلی آیات کا نزول ہوا،وہاں پر غسل خانے بنا دئیے گئے ،مکّے سے ہجرت کے بعد مدینہ میں جس گھر میں نبی اکرم نے قیام کیا تھا اس گھر کو گرادیاگیا، حضرت حمزہ کی قبر سے منسلک مسجد گرادی گئ، مسجد فاطمہ زہرا ، مسجد المنارا تین اور امام جعفر صادق کے بیٹے سے منسوب مسجد اور مزار کو ٢٠٠٢ میں گرایا گیا ، مدینہ میں جنگ خندق سے منسوب ٤ مساجد ، مسجد ابو رشید ، سلمان الفارسی مسجد مدینہ ، رجعت اشمس مسجد مدینہ ، مدینہ میں مسجد جنت البقیہ اور مکّے میں جنّت الموللہ گرا دی گئیں، اسی طرح فرزند رسول حضرت موسیٰ کاظم کی والدہ کی قبر اور مکّہ میں بنو ہاشم کی قبریں بالکل مٹا دی گئیں، احد کے مقام پر حضرت حمزہ اور باقی شہدا کے مقبروں کو منہدم کر دیا گیا۔

میں صرف اس وقت جنت البقیع کے قبرستان کی عظمت اور تقدس کے حوالے سے اتنا بتا تا چلوں کہ صرف اس قبرستان میں دس ہزار سے زیادہ رسول ﷺ کے جلیل القدر اصحاب رسول مدفون تھے۔ ان میں سے چند ایک کے نام پیش کر رہاہوں، بیت، اُمّہات المومنین، فرزند رسولؐ حضرت ابراہیم، رسولؐ کے چچا حضرت عباس ، پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطّلب، خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی اور سینکڑوں اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ اس قبرستان کی عظمت و تقدس کے کیا کہنے کہ جو ، ہجرت کے بعدشہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔

اگریہ کسی ایک مسلک یا فرقے کی مقدس شخصیات ہوتیں تو راقم الحروف کبھی بھی اس مسئلے میں نہ پڑھتا ،یہ تو مکمل طور پر اسلام کی تاریخ تھی جسے مسل دیا گیا ہے۔

میڈیا کو سوال کرنا چاہیے سعودی حکمرانوں اور ان کے طرفداروں سے کہ آپ کے نزدیک قبریں تعمیر کرنا بدعت ہے تو پھر کیا یہ بڑے بڑے شیش محل، پلازے ، ہوٹل اور عشرت کدے تعمیر کرنا نعوز باللہ سنّت ہے۔
آپ امام کعبہ سے یہ سوال کر کے دیکھیں کہ اگر اولیائے خدا کی قبور پر گنبد کی تعمیر بدعت ہے تو پھر آپ نے نعوز باللہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ اطہر کا گنبد کیوں نہیں گرایا!؟

جب آپ رسول اکرم ﷺ کے مزار پر گنبد کے بارے میں سوال پوچھیں گے تو تب آپ کو پتہ چل جائے گا کہ سعودی عرب کے حکمران حرمین شریفین کا کتنا احترام کرتے ہیں اور ان کی قیادت میں بننے والا فوجی اتحاد مسلمانوں کی کیا خدمت کرے گا۔

المختصر یہ کہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے بادشاہوں کی ملازمت ضرور کریں، لیکن عوام کو یہ تو نہ کہاجائے کہ مقدس مقامات کا دفاع کیا جارہاہے،خود سعودی حکومت مقدس مقامات کا کتنا احترام کرتی ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 33854 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2017 Views: 405

Comments

آپ کی رائے