بلال کا قاتل کون ہے؟

(عابد محمود عزام, Lahore)

مردان میں بلال کی شہادت برسوں سے پلنے والی اس نفرت کا شاخسانہ ہے جس کو مذہب دشمن منافق ذہنوں نے اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی اس ریاست پاکستان میں مذہب، مذہبی طبقے، داڑھی، ٹوپی، مدرسے اور مولوی کے خلاف برسوں پروان چڑھایا۔ بلال کا قتل داڑھی اور ٹوپی کے خلاف جنم لیتی متعفن سوچ اور نفرت و بغض کا اظہار ہے جس کے پھیلاؤ کا کردار ہر اس گھٹیا سوچ کے حامل انسان نے ادا کیا جو مولوی کی آڑ میں دین کو گالی دینا چاہتا ہے۔ اس نیچ سوچ کے لوگ میرے ملک کے تمام اداروں میں موجود ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں، جنہوں نے داڑھی اور ٹوپی کو معاشرے میں نفرت کی علامت ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا۔ مذہبی طبقے کو دیوار کے ساتھ لگا کر اشتعال دلایا۔ ہر قدم پر اس طبقے کے ساتھ ناانصافی کی، تاکہ یہ طبقہ مشتعل ہوکر اپنا حق لینے کے لیے میدان میں اترے اور پھر مغرب کی پیسے سے پلنے والی این جی اوز اور ان کے زرخرید غلام چاروں طرف سے کیمرے لے کر انہیں انتہا پسند اور دہشتگرد ثابت کرنے پر تل جائیں اور مذہب دشمن ممالک کے اشاروں پر ایک خاص سوچ کا طبقہ مولوی کے خلاف اپنے دماغوں میں بھری غلاظت ٹی وی اسکرینوں پر انڈیل سکے۔ مردان میں بلال کی شہادت نے ایک بار پھر اس لکیر کو مزید گہرا کردیا ہے جس کا انجام معاشرے کی تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بلال کو صرف شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ کر قتل کیا گیا ہے۔ اس کا قصور اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی، سر ٹوپی اور مولویانہ حلیہ ہے جس کو معاشرے میں برسوں سے دہشتگرد کا حلیہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بلال نامی بیس سالہ نوجوان مدرسے کا طالب علم تھا۔ ذہنی معذور تھا، اسے دورے پڑتے تھے۔ اس کا باپ اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے کر جا رہا تھا کہ وہ موٹرسائیکل سے اتر کر بھاگ نکلا۔ وہاں موجود پولیس اہلکار نے اسے رکنے کو کہا اور ہوائی فائرنگ کی۔ کمزور ذہن رکھنے والا بیس سالہ ذہنی معذور بلال فائرنگ سے خوفزدہ ہو کر مزید تیز دوڑا۔ بلال کے باپ نے چیخ کر پولیس اہلکار کو بتایا کہ بلال ذہنی طور پر معذور ہے۔ پولیس اہلکار نے سیدھی فائرنگ کی اور اس ذہنی معذور کو خودکش بمبار سمجھ کر اس کے سر میں گولیاں اتار دیں اور بلال ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔

داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے شک کی بنا پر بلال کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ بلال کے قاتل صرف ایک پولیس والا نہیں، بلکہ وہ سب لوگ ہیں جو برسوں اس معاشرے میں داڑھی اور ٹوپی کو دہشتگردی کی علامت ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ جنہوں نے مدارس کے طلبہ کو ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور راہ سے ہٹے ہوئے چند سر پھرے لوگوں کی غلطی کو ہزاروں مدارس کے سر تھوپا۔جنہوں نے ہمیشہ بلا تحقیق مدارس پر دہشتگردی کا الزام لگایا۔ جس ملک ہر بم دھماکے، خود کش حملے یا کسی دنگے فساد کے فوراً بعد دینی مدارس، داڑھی، ٹوپی اور پگڑی والوں پر یلغار شروع کر دی جاتی ہو۔ جس معاشرے میں دینی مدارس کے طالب علموں کو ایسے گھور گھور کر دیکھا جاتا ہو کہ جیسے ان سے بڑا مجرم کوئی ہے ہی نہیں۔ جس ملک اسکول کی چھٹی کے وقت مدارس کے کچھ طالب علم اسکول کے قریب سے گزرتے ہیں تو ایک بڑا اخبار اس کیپشن کے ساتھ ان کی تصویر شایع کرتا ہے کہ ’’ اسکول کی چھٹی کے وقت کچھ مشکوک افراد کسی بھی سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘‘ جس ملک میں سرکاری ادارہ دہشتگردی کے خلاف اشتہار دیتا ہے اور نمونے کے طور پر داڑھی اور پگڑی والے شخص کو دہشتگردی کی علامت قرار دیتا ہو، وہاں ایک بلال کا قتل فطری امر ہے، کیونکہ ایسے معاشرے میں ہر داڑھی والا نشانے پر ہوتا ہے۔ کچھ معلوم نہیں کہ کون شک کی بنیاد پر کسی داڑھی والے کو بلال کی طرح کس کو دہشتگرد قرار دے کر بھون ڈالے۔

اس بات سے انکار نہیں کہ دینی مدارس میں بھی طلباء کا لبادہ اوڑھے کئی شیطان ہوں گے۔ ہم ہرگزیہ نہیں کہتے کہ دینی مدارس میں جانے یاپڑھنے والاہرشخص فرشتہ ہے،مگر یہ حقیقت ہے کہ ان مدارس میں اکثریت محب وطن، شریف اور سادہ ح نیک انسانوں کی ہے۔ ایسے میں طلبہ کالبادہ اوڑھے چند شرپسندوں کی وجہ سے تمام دینی مدارس کو نشانے پر رکھ کر ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے سارے طلبہ کو مجرم و ملزم اوردہشتگرد ثابت کرنا ناانصافی اور بغض کی بدترین مثال ہے۔ اکثریت کا اطلاق تو اقلیت پر ہوتا ہے، لیکن اقلیت کی وجہ سے اکثریت پر دہشتگردی کا الزام دھرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ہم تو ملک کی ترقی کے لیے عصری تعلیمی اداروں کو بھی انتہائی ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ یہی کہا کہ کوئی مدرسہ ہویاکوئی یونیورسٹی یہ سارے ہمارے اپنے ہی ہیں۔ ہم ان میں کوئی تمیزوتفریق نہیں کرتے۔ کالج یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے اگر ہمارے بھائی ہیں تو دینی مدارس میں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے والے بھی اسی قوم کے بچے اور اسی ملک کے محافظ ہیں اور ان کی رگوں میں ہمارا ہی خون اور اس مٹی کی محبت شامل ہے۔ بعض لوگوں نے ان اداروں میں بے حیائی کو فروغ دیا، مشرقی روایات کو پاؤں تلے روند ڈالا، مگر ہم نے چند غلام ذہنوں کی وجہ سے کسی تعلیمی ادارے سے نفرت نہیں کی، مگر دین بیزار لوگوں کی منافقت کا اندازہ اس وقت ہوتا جب داڑھی ٹوپی والا کوئی ایک انسان کوئی غلط کام کرتا ہے تو ہزاروں مدارس، اور ملک میں رہنے والے لاکھوں باریش لوگوں کو دہشتگرد ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے اور یہی ناانصافی انتہاپسندی کو فروغ دیتی ہے اور مذہبی طبقے کو اشتعال دلاتی ہے جس کے ذمے مذہبی طبقے سے امتیازی سلوک برتنے والے افراد ہیں۔

اس بات سے انکار نہیں کہ مذہبی طبقے میں بھی انتہا پسندی پائی جاتی ہے، لیکن یہ انتہاپسندی جنم کیسے لیتی ہے، اس پر تو کوئی غور نہیں کرتا۔ انتہا پسندی اس ناانصافی سے جنم لیتی ہے جو طاقتور لوگ مذہبی طبقے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ مدارس سے تعلیم یافتہ داڑھی ٹوپی والے افراد کے ساتھ جگہ جگہ پر امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ جگہ جگہ پر ان کی داڑھی ٹوپی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملک کے تمام اداروں میں ان کے لیے دروازے بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میرے سامنے ایسی بیسیوں مثالیں ہیں کہ بہت سے باصلاحیت لوگوں کے ساتھ صرف داڑھی ٹوپی کی وجہ سے ان کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں ایک بڑے اخبار کا گروپ ایڈیٹر کہے کہ باریش صحافی کو صرف اس لیے نہیں رکھ سکتا، کیونکہ وہ مولوی ہے۔ ایک بڑے میڈیا گروپ کا ایڈیٹر جاب کے لیے کیے جانے والے انٹرویو کے دوران باریش صحافی سے سوال پوچھے کہ کیا آپ کو خودکش جیکٹ بنانا آتی ہے؟ ایک گروپ ایڈیٹر اور ایڈیٹر انٹرویو کے دوران باریش صحافی سے سوال پوچھے کہ آپ صحافی ہیں یا امام مسجد؟ آپ کے والد امام مسجد ہیں؟ کیا آپ اس حلیے میں کام کرسکیں گے؟ کیا آپ تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن سے جو داڑھی، ٹوپی اور مذہبی طبقے کے خلاف چھپا بغض کا کھل کر سامنا آتا ہے۔ یہی لوگ بلال کے قاتل ہیں، جنہوں نے ہمیشہ داڑھی والوں کے ساتھ منافقت کا رویہ اپنایا ہے۔ جو کبھی انصاف کی بات نہیں کرتے، بلکہ ہمیشہ مذہبی طبقے کے خلاف بغض رکھتے ہیں۔

ہمیں تو مشال خان کے بہیمانہ قتل پر بھی افسوس ہوا تھا، ہم نے اس وقت بھی اس درندگی کی مذمت کی تھی۔ ہماری آنکھیں تو آج بھی پشاور آرمی اسکول میں دہشتگردوں کی جانب سے سفاکیت و درندگی کے مظاہرے کی وجہ سے بھر آتی ہیں، کیونکہ سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچے بھی ہمارے ہی تھے۔ ہم تو مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشتگردی کو اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے کے مترادف سمجھتے ہیں اور کسی بھی عنوان سے بے گناہ لوگوں کا خون کرنے والے سفاک حیوانوں پر ہمیشہ چار حرف بھیجتے آئے ہیں، مگر ہمیں تو افسوس اس وقت ہوتا ہے جب اس ملک میں داڑھی ٹوپی والوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے تو اس وقت بات بات پر مذہب مذہبی طبقے پر تنقید کرنے والوں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔جب لاہور میں ایک مشتعل ہجوم باریش حافظ قرآن کو آگ لگا کر کوئلہ بنا دیتا ہے تو ان کے منہ کو تالا لگ جاتا ہے۔ مذمت کے چند الفاظ بھی نہیں نکلتے۔ ان کی منافقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے، جب لاہور میں صرف شک کی بنیاد پر پاک میں شہید ہونے والے محمد یوسف کو خودکش بمبار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے الفاظ تو اس وقت ختم ہوجاتے ہیں جب باجوڑ میں مدرسے پر حملہ کرکے پچاس سے زاید مدرسے کے بچوں کو شہید کردیا جاتا ہے۔ یہی لوگ ملک میں دہشتگردی کے ہر واقعہ کے بعد ہر داڑھی ٹوپی والے کو تنقید کا نشانہ بنانے لگتے ہیں۔یہی لوگ معاشرے کو انتہاپسندی کی جانب دھکیلنے والے ہیں۔ یہی لوگ بلال کے قاتل ہیں۔ یہی لوگ معاشرے میں نفرت و بغض کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ جو لوگ آگ یہ لوگ بھڑکا رہے ہیں، اگر اسے بجھایا نہ گیا تو گھر تو سلامت آگ لگانے والوں کے بھی نہیں رہیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 427655 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2017 Views: 429

Comments

آپ کی رائے