پاکستان میں نابینا افراد کو بھی ٹول، ٹوکن ٹیکس معاف نہیں

(Qazi Naveed Mumtaz, )

خطۂ ارض پر ممالک کی تقسیم کے بعد باہم تصادم، کو متعدد بار تباہی سے دوچار کر چکا ہابیل اور قابیل سے شروع ہونے والی زن کی لڑائی زر اور زمین کو شامل کرکے کروڑوں ناحق انسانوں کے خون سے اپنا دامن آلودہ کر چکی ہے ۔ گزشتہ صدی کے دوران دو ہولناک جنگوں کی تباہ کاری کے اثرات آج بھی ان ممالک میں خوف کی تصویر کی طرح موجود ہیں ۔ امریلہ کے جاپان پر کئے گئے ایٹمی حملے کو انسانی تاریخ کا بد ترین جرم قرار دے کر اگر اس شیطان کے خلاف دنیا صف آرا ہو جاتی اورہم پاکستانی امریکہ کی قیادت میں کل جہاد کے نام پر روس کے ٹکڑے نہ کرتے تو آج نہ رد الفساد کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی افغانستان پر B43غیر ایٹمی بم گرایا جاتا اورنہ ہی دنیا تیسری جنگ عظیم کے خطرے سے دوچار ہوتی۔ قارئین محترم شاید آپ کو یاد ہو کہ لاہور میں کچھ سال قبل سرِعام فائرنگ کرکے بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والا CIAکا ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس ہم نے گرفتار کیا۔ دوران قید جیل میں صبح کی اذان پہ وہ سیخ پا ہوتا کہ میری نیند میں خلل آتا ہے اور بالآخر ملکی مفاد کے نام پر اس قاتل کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے چڑی بازوں نے اُڑا دیا اُس کے گلے میں پھندا ڈالنے کے بجائے اسے امن کی فاختہ دے کر بدلے میں ورثاء کیلئے دیت لے لی گئی جو معلوم نہیں انہیں ملی یا نہیں ۔ اس دورمیں CIAاور بلیک واٹر کے ایجنٹس ہمارے سہولت کاروں کے باعث تعداد میں آوارہ کتوں سے بھی زیادہ ہو گئے اور یہ وہ راز ہے جو آج عز یر بلوچ اُگل رہا ہے۔ اسی دوران ہمارے ازلی دشمن دنیا کے سب سے بڑے دشمن دہشت گرد بھارت نے بھی یہ محسوس کیا کہ ہم امن کے پُجاری ہمیشہ خسارے کا کھیل کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں وہ ہمارے بے گناہ مچھیروں کو مار کر بھی اپنے کشمیر سنگھ جیسے جاسوس چھڑوا لیتا ہے ۔ ہمارے سویلین حکمران اگر ایشوریا اور سوناکشی کے دیوانے ہیں تو غیر سیویلین مادھوری اور مدھوبالا کے ۔ ہمارے بعض چینل اور اخبارات پاکستان کا لیبل لگا کر ہندوستان کی بولی بولتے ہیں سو اس نے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے حاضر سروس نیوی آفسیر کل بھوشن یادیو کو حسین مبارک پٹیل کی جعلی شناخت سے ایران کے ذریعے پاکستان بھیجا لیکن بربریت اور بدامنی پھیلانے کا خواب دیکھنے والا بنیا راحیل شریف کی زیر کمان فوج کے ہاتھ چڑھا۔ کل بھوشن ایک لاٹری کا نام ہے جسے ہماری حکومت کیشن نہ کراسکی۔ یہ سفارت کاری کیلئے ایک بلینک چیک تھا جسے شاید کاروباری مفاد کی بھینٹ چڑھادیا گیا۔ وزارت خارجہ، اطلاعات ، داخلہ اور وزیر اعظم ہاؤس بھارتی جاسوس کے ذریعے بھارت کی گندی تصویر دنیا کو دکھانے کے بجائے امن کارونا روتے رہے ۔ افضل گرو کو پھانسی ہوئی تو امن ، برہان وانی شہید ہوئے تو امن ، بے گناہ کشمیری بینائی سے محروم کر دئیے گئے تو امن ، یاسین ملک ، علی گیلانی پہ تشدد ہوا تو امن غرض نمک، آلو ، پیاز، انڈے مرغی کی ٹریڈ کے چکر میں پاکستانیوں اور کشمیریوں کا ناحق خون بہتا رہا۔ حکمران موم بتی مافیا کے پیچھے دُم ہلاتے روشن خیالی کا ترانہ گاتے رہے اور قومی ترانہ بھول گئے لیکن آرمی ایکٹ کے تحت اس جاسوس کا ٹرائل کرنے کے بعد اسے سزائے موت سنادی گئی ۔ سزائے موت کااعلان بھی گرفتاری کی طرحISPRکی جانب سے کیا گیا۔ فرق اتنا ہے کہ تب وزیر اطلاعات پرویز رشید پریس کانفرنس میں ساتھ تھے مگر گم سُم سے ۔ اس اعلان کے بعد بھارت کا روایتی رونا دھونا شروع ہوا سُشما سؤرراج، مسٹر سوامی، راج ناتھ سمیت سبھی جھوٹ کی ہانڈی میں گاؤ مُتر کی چائے بنانے میں مصرف ہیں۔ اس واقعہ کے سائیڈ لائن پر ایک ایسا واقعہ ہو اجو اگر خدانخواستہ پاکستان میں ہوتا تو حوا کو ماں نہ ماننے والی بے پردہ بیٹیوں کی بے پردہ بیٹیاں لال، پیلے، نیلے لباس میں شور مچادیتیں ۔ بھارتی علاقے ا ڑیسہ کے ایک حجام کی دس ماہ کی بچی کو اس کے چچا اور اس کے بیٹے نے بربریت کا نشانہ بناکر یوگی ناتھ اور مودی کے ملک کی اصلیت بتادی لیکن اس خبر کو ہمارے ہاں جگہ نہ مل سکی۔ شاید اسے سنسرکرنے کی وجہ بھی ہماری امن کی ناکام خواہش ہی ہوگی لیکن کل بھوشن کے معاملے پر آراء کا تقسیم پایا جانا کوئی انہونی بات نہیں شاید ہماری تاریخ ہی یہی ہے کہ ہم اپنے بے گناہ دشمن کو بیچ دیتے ہیں اور ان کے گناہ گار بھی بھی دیت کا سہارا لیکر چھوڑدیتے ہیں ۔ سکندر جتوئی کے قاتل بیٹے کہ جس نے DSPکے نوجوان لختِ جگر کا خون کیا نے کہا تھا کہ میرے گلے میں ڈالنے کیلئے اس قانون کے پاس پھندا نہیں اور اس کا کہا ٹھیک ثابت ہوا اسلام آباد کی سیکیورٹی کو چیلنج کرنے والا رنگ باز سکندر معلوم نہیں کہاں ہے ؟ وہ کیس آج بھی حل طلب ہے ۔ اسی طرح چھوٹو گینگ کا کچھ پتہ نہیں کہ ان کے ظلم کا شکار افراد انہیں عبرت کا نشان بنتا دیکھ کر سکھ کا سانس لے سکیں ۔ اگر میری رائے مقتدر قوتیں ہضم کر سکیں تو مجھے کہنے دیجئے کہ مجرم مجرم ہوتا ہے گڈ یا Badنہیں ۔ ہمیں ان خوارج کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اس پالیسی کو بھی بدلنا ہوگا جس کے باعث جرم پنپتا ہے اور مجرم پروان چڑھتے ہیں ۔ پاکستان کی منقسم قوم میں اگر کسی بات پر اتفاق ہے تو اس بات پر کہ بینظیرم کا قتل اس نے کیا کہ جسے اس کا بعد میں سب سے زیادہ فائدہ ہوا مگر اسی آئین اور قانون کے نیچے قوم کے شور کے باوجود حقِ حکمرانی اسے ملا کہ جس سے متعلق آج عزیر بلوچ راز اُگل رہا ہے تو پھر یہ خدشہ تو بجا ہے کہ کہیں کل بھوشن جیسے جاسوس اور دہشت گرد کو بھی پوری قوم کو اُلو بنانے کے بعد امن کے نام پر واپس نہ کر دیا جائے کیونکہ ریمنڈ ڈیوس کی واپسی بھی انہی امن کے سفیروں کے باعث ممکن ہوئی جو آج کے حاکم وقت ہیں ۔ اور ا س سے زیادہ بھارت ان کے دل میں بستا ہے یہ تو لا الہٰ کے نام پر بننے والی ریاست کو محض لکیر کہہ کر شہداء کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ شاید خود کو اس خام خیالی میں مبتلا کرکے مجھ جیسے وطن پرست کچھ لمحے راحت و اطمینان محسوس کرسکتے ہیں کہ کل بھوشن کو کورٹ مارشل کے مطابق عبرت کا نشان بنا کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلائی جائے گی۔ لیکن ایسی امید یں اکثر بے وفا محبوبہ کی طرح ارمانوں کا خون کرنے اور سدا کے دکھ دے جانے کے سوا کچھ نہیں کرتیں اسی طرح مخلصین وطن محبینِ پاکستان بھی اپنے آباؤ اجداد کی قربانیاں دے کر حال میں فاقہ کش رہے مگر مستقبل کی ریاست کو نہ ماں جیسا پایا نہ حکمرانوں کو قومی رہنما اور نہ قوم کو قوم۔ غور کیجئے وہ مہاجر جو اپنا گھر ، زمینیں ، سامان، جانورچولہے پہ رکھی ہانڈی چھوڑ کر صرف اس لیے اس وطن میں آئے کہ انہیں ایک اسلامی فلاحی مملکت ، نئی نسل کیلئے تعمیر کرنی تھی آج اس ریاست کا یہ حال دیکھ کر ان کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ پکی پکائی کو مزے لے لے کر کھانے والے ہم ناشکرے لوگوں کا یہ ہجوم سن47ء کے ایک ایک منٹ کی اذیت کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی کرنا چاہتا ہے۔ قلم کو حرمت اور سچائی کی امامت دیکر آج بھی قوم کے ذہنوں اور دلوں میں اقبال کی فکر بیدار کی جاسکتی ہے ۔ لیکن جب قلم ایک قیمت کے بعد زردار کے زر کی غلام ہو جائے تو پھر ریاست کی گلیوں میں کل بھوشن جیسے آوارہ کتے بھونکنے لگتے ہیں اور معصوم بچے ڈرجاتے ہیں ۔ بہنیں بیٹیاں دروازے بند کر لیتی ہیں او رمرد مجاہد بن کر سینہ تاننے کے بجائے محض مشوروں کی مالا بننے لگتے ہیں ۔خدارا! اس معاشرے کو اس کیفیت اور اس حالت سے دوچار نہ کریں انہیں مومن، مجاہد، مسلمان او رمرد رہنے دیں کیونکہ ان کے گھوڑے تیار ہوں گے تو دشمن کے کتے نہیں بھونکیں گے ورنہ حکمرانوں کی آستینوں میں پلنے والے سانپ سب سے پہلے انہیں ڈستے ہیں ۔ CIA، موساد، را یا بلیک واٹر یہود و ہنود کے ان ناجائز اور پالتو بلیک سکوبنیز کو بلاتفریق لٹکائیں ۔ کل بھوشن ہو یا کوئی ریمنڈ ڈیوس کی فوٹو کاپی پھندے وہ تیار کریں جو سب کے گلے میں فٹ آئیں تاکہ ہر دشمن جان لے پہچان لے ، سمجھ لے ، سمجھ سمجھ کر پھر سمجھ لے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الااﷲ ہے۔ یہ ہے جھوٹ کی فصیلوں سے بے خوف ٹکرا جانے والا تاریکی کی راہ میں دیا جلانے والا’’ کڑوا سچ۔‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Naveed Mumtaz

Read More Articles by Qazi Naveed Mumtaz: 28 Articles with 13366 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2017 Views: 361

Comments

آپ کی رائے