تعلیم سب کے لئے

(Amir ismail, Lahore)
تعلیم سب کے لئے

تعلیم آئین پاکستان کی رو سے ہر شہری کا بنیا دی اور آئینی حق ہے ،بحثیت مسلمان ہمارے لئے رحمت عالم ﷺ کے فرموادات تعلیم کی اہمیت لئے بہترین نمونہ ہیں ۔ آپ پر نازل ہونے والے پہلی وحی تعلیم کی افادیت اور اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے ۔ قوموں کی زندگی میں تعلیم جتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہے قومیں اتنا ہی اخلا قی ، سماجی ، معاشی اور اقتصادی ترقی کی بام عروج پر نظر آتی ہیں ۔ تعلیم یافتہ معاشرے اقوام عالم کے سامنے عزت کی نگاہ سے دیکھے اور جانے جاتے ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان نے 12مارچ 2014ءکو اقوام متحدہ کے خصو صی ایلچی برائے تعلیم سابق وزیر اعظم گورڈن براﺅن سے ملا قات میں کہا تھا کہ ہما ری کوشش ہوگی کہ آئندہ 3سال میں ” تعلیم سب کیلئے “ کے مقرر کردہ اہداف حاصل کرلئے جائیں ۔ متفقہ طور پر منظورہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت کا شعبہ صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہے لیکن بد قسمتی سے سات سال گزرنے کے باوجود ان اہم شعبہ جات کے اختیارات صوبائی حکومتوں تک منتقل نہیں کئے جاسکے ان اختیارات کی عدم منتقلی کے باعث مقرر کردہ تعلیمی اہداف کا حصول کسی صورت ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکو متیں مربوط اقدام کرتیں ۔یہ نعرہ اب محض مذاق بن کر رہ گیا ہے کہ تعلیم کیلئے مجموعی قومی آمد ن کا 4فیصد بجٹ مختص کیا جائے گا،چار برسوں میں تعلیمی شعبہ کے بجٹ کیلئے محض 30ارب روپے سے بھی کم اضافہ کے باعث موجودہ حکمران جماعت کو اپنے دور اقتدار کے دوران شعبہ تعلیم کیلئے 4فیصد جبکہ اعلی تعلیم کیلئے 25فیصد مختص کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ وفاقی حکومت 2018ءتک تعلیم کیلئے مجمو عی آمد ن کا 0.8فیصد مختص کرنے کے کا ارادہ رکھتی ہے جسکے مطابق 2018ءتک تعلیم کیلئے 250ارب روپے مختص کرنا ہونگے ۔2016/17کیلئے مختص تعلیمی بجٹ گزشتہ برس کی نسبت 76ملین روپے کم مختص کیا گیا جبکہ الفاظ کے ہیر پھیر سے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کا تاثر دیا گیا جسے تعلیمی حلقوں کی جانب سے مسترد کردیا گیا تعلیمی حلقے تعلیم کیلئے 5 فیصد اور اعلی تعلیم کیلئے 25فیصد بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔تر قی یافتہ جمہوری معاشروں میں شعبہ تعلیم میں ترقی کیلئے شرح خواندگی کو 100فیصد تک لے جانا بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر ہم اعلی تعلیمی شعبہ میں اپنی جامعات کے بجٹ کی بات کریں تو بدقسمتی سے ہم جن بین الا قوامی جامعات کے برابر آنے کی بات کرتے ہیں حیران کن طور پر ان ممالک کی کئی جامعات کا بجٹ مسلم ممالک کی تمام جامعات سے زیادہ ہے اس لحاظ سے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیاجاناوالا بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ۔قوموں میں مقابلے کی فضا کو برقرار رکھنا نیک شگون ہے لیکن ہماری جامعات کو دنیاکی بہترین جامعات کی صف میں شامل ہونے کیلئے بظاہر ابھی کوئی صورت نظر نہیں آتی ، جامعات کے انتظام و انصرام کیلئے 14سال قبل بنایا جانیوالے ادارہ جسے ہائیر ایجو کیشن کمیشن کہا جاتا ہے خود بد انتظامی کا شکار نظر آتا ہے ۔حالیہ شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ کیمطابق ملک بھر کی جامعات کے نگران یہ ادراہ پچھلے تین برسوں میں کمیشن اراکین کی تعداد ہی مکمل نہیں کرسکا جو کہ افسوسناک امر ہے ۔اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ بنیا دی تعلیم کیلئے بھی وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ ہے لیکن جو وسائل استعمال کئے جارہے ہیں وہ بھی مکمل طو ر پر بروئے کار نہیں لائے جارہے دورافتادہ بنائے جانے والے بہت سے سکولز مخصوص معاشرتی عوامل کے باعث اشاعت تعلیم میں کوئی کردار ادا نہیں کررہے جبکہ شدید غربت ، جہا لت اور بڑے زمینداروں اور وڈیروں کے غلبوں کے باعث گھوسٹ سکول اب تک ختم نہیں کئے جاسکے ۔ افسو سناک امر یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق ان سکولوں میں با قاعدہ تعلیم دی جاتی ہے لیکن عملا ان کی عمارات اور مالی وسائل زور آور زمینداروں اور وڈیروں کے تصرف میں ہیں ۔وہ سکولوں کی عمارتوں کو اپنے مویشی باڑوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ذرائع ابلاغ وقتا فوقتا ایسے گھوسٹ سکولوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن اس جعل سازی اور لوٹ مار کو ختم نہیں کیا جاسکا ۔100فیصد بچوں کو سکول بھجوانے کی ذمہ داری صو بائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ، انہیں چاہیے کہ وہ ان تمام سکولوںکو آباد کرے جنہیں وڈیروں اور زمینداروں نے برباد کر رکھا ہے ۔تعلیم کا گرتا ہوا معیار بھی باعث تشویش ہے ،جسکا بنیادی سبب ذریعہ تعلیم ہے ۔ بنیا دی تعلیم لازما اپنی زبان میں ہونی چاہیے ۔نام نہاد انگلش میڈیم پر اصرا رمعیار تعلیم میں مسلسل پستی کا باعث بن رہا ہے ۔اس حقیقت سے کسی صورت اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ اپنی زبان میں پڑھے بغیر بنیا دی تصورات کا فہم اور ادراک ناقص اور ادھورا رہتا ہے ۔ ابتدائی تعلیم کا معیار بہتر بنانے کیلئے ضرروی ہے کہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے اور انگریزی زبان کو ایک مضمون کے طور پر نصاب کا حصہ بنایا جائے ۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ملک میں تعلیم کے فروغ کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاسکے وطن عزیز میں تعلیم کے نام پر ہمیشہ شب خون مارا گیا ۔ ضررورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی سے پاک وطن عزیز کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنا نے کیلئے ”تعلیم سب کیلئے “ کے فارمولے پر عمل کیا جائے جس سے یقینا پاکستان ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر ابھرے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir ismail
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 536

Comments

آپ کی رائے