شیطنَت کیا ہے؟

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

چغلخوری کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف، یا ایک جماعت سے دوسری جماعت کی طرف ، یا ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ کی طرف یاایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف فساد اور جھگڑے کی غرض سے کوئی کلام منتقل کرنا، یعنی ہر اس چیز یا راز کو تلاش کرنا جو نا پسندیدہ ہو، خواہ اس شخص کو ناپسند ہو جس سے متعلق نقل کیا گیا یا اس شخص کو جس کی طرف نقل کیا گيا، یا تیسرا شخص اس کو ناپسند کرتا ہو، چاہے یہ برائی قول سے ہو یا فعل سے ہو یا اشارے سے ہو، اور چاہے منقولہ چیز قول کی شکل میں ہو یا فعل کی شکل میں، اور چاہے یہ چیز منقول عنہ کے لئے عیب اور نقص کی بات ہو یا نہ ہو ؛ لہذا انسان کو لوگوں کےدرمیان وسوسے ڈال کر شیطانی کرنے سے باز رہنا چاہیئے۔

چغل خوری کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں: 1-منقول عنہ کے حق میں برائی کی نیت 2- منقول الیہ سے محبت کا اظہار 3- فضول اور بے کارباتوں میں مشغول ہو کر لطف اندوز ہونا، بہر حال چغلی کھانا ان تینوں طریقوں سےاسلام میں حرام ہیں، چنانچہ اگر کسی شخص سے کوئی کسی قسم کی چغلی کرتا ہے تو اس شخص کو چاہیے کہ اس چغل خور کی تصدیق نہ کرے، کیونکہ چغل خور فاسق اور گواہی میں غیر معتبر ہوتا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: ﺍﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ ! ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻛﮧ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﻮ ﺍﯾﺬﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ ۔

مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اسے چغلی سے روکے، اسے نصیحت کرے، اور اس کے اس فعل کی مذمت کرے، کیونکہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: اچھے کاﻣﻮﮞ ﻛﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﺮﮮ کاﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻧﺎ ۔ اور اللہ تعالی کی خاطر اس چغل خور سے بغض رکھے، اور منقول عنہ کے سلسلے میں برا خیال نہ کرے بلکہ اچھا ہی گمان رکھے، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ ! ﺑﮩﺖ ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ﻛﮧ ﺑﻌﺾ ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯿﺎﮞ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﯿﮟ۔ اور نبی أکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ،کسی کے سلسلے میں تجسس سے کام نہ لے، اوراپنے لئے اس عمل کو پسند نہ کرے جس سے چغل خور کو منع کیا ہے کہ خود تک پہنچی ہوئی چغل خوری کو دوسرے سے بیان کرے۔

چغلی کی حرمت پربہت سے دلائل کتاب وسنت میں موجود ہیں، جن میں سے ایک دلیل اللہ رب العالمین کا یہ فرمان ہے: ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻛﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ کا ﺑﮭﯽ ﻛﮩﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ، ﺑﮯ ﻭﻗﺎﺭ، ﻛﻤﯿﻨﮧ، ﻋﯿﺐ ﮔﻮ، ﭼﻐﻞ ﺧﻮﺭہو۔اور الله تعالى كا یہ فرمان ہے: ﺑﮍﯼ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮨﮯﮨﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﻛﯽ ﺟﻮ ﻋﯿﺐ ﭨﭩﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻏﯿﺒﺖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں چغل خور داخل نہیں ہوگا۔

غیبت اور چغلی دونوں حرام ہیں؛ کیونکہ ان کے ذریعہ لوگوں میں فساد، پھوٹ، انتشار، بدامنی، انارکی ، عداوت، کینہ، بغض، حسد اور نفاق کی آگ بھڑکتی ہے، اور دو بھائیوں کے درمیان انس ومحبت کی جگہ تفرقہ، دشمنی اور منافرت پیدا ہوجاتی ہے، اور اسی طرح ان دونوں چیزوں میں جھوٹ، دھوکہ، خیانت، بے قصور پرتہمت، گالی گلوچ اور برائیوں کا تذکرہ ہوتا ہے، نیز یہ چیزیں بزدلی، کمینگی اور کمزوری کی پہچان ہوتی ہیں، مزید برآں ایسا کرنے والوں سے اتنے بے شمار گناہ سرزد ہوجاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کے غضب، ناراضگی، اور اس کے دردناک عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں، بعض اوقات یہ سب کچھ حسد کی وجہ سے ہوتاہے،حسد بھی ایک مذموم خصلت ہے انسان کو اس سے بہت دور رہنا چاہیے۔

آج کل لوگ نادانی میں اور بہت سے دانستہ لوگوں کے درمیان بگاڑ کی ایسی بیج بو دیتے ہیں کہ اگلے کو یا توکبھی بھی پتہ نہیں چلتا کہ خرابی کہاں سے آئی،یاجب تک معلوم ہو جاتاہے تب تک پانی سر سے گذر چکا ہوتاہے،ساس بہو،باپ بیٹا،دو بھائی،أستاذ شاگرد،مالک اور مزدور کے اچھے بھلے تعلقات میں شیطان لوگ صرف ایک دو سوالوں سے ایسی خطرناک دراڑیں ڈال دیتے ہیں جو ٹینک اور توپ کی گولہ باری سے بھی شاید ناممکن تھیں،چغلخوری اسلام اور تمام أدیان میں اسی لئے ممنوع ،مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔

قدیم زمانوں میں چغلخوریوں سے اکثر وبیشترخانوادے تباہ ہوجاتے تھے آج کے زمانے میں اس سے ممالک اور پورے پورے معاشرے برباد ہوتے ہیں،کچھ ملکوں نے تو اس حوالے سے اپنے بڑے بڑے اور وسیع وعریض ڈپاٹ قائم کر رکھے ہیں ،جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ معاشرے میں یا کسی خطے میں ایجی ٹیشن برپا کریں،یوں وہ جتنی بڑی خرابی پیدا کریں گے اُتناہی اُنہیں معاوضہ ملے گا۔

نظرِ بد ایک فطری عیب ہے لیکن کچھ اُسے بھی بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں،عیب جوئی بھی بہت بری عادت ہے،مسخرے اُڑانا بھی ایک شیطانی عمل ہے،مگر اِن تمام میں وسوسے ڈالنے والاکام بالکل شیطنَت ہے، الله کے لئے اپنے آپ کو اس سے بچائیں ،ذیل میں ہم اس شیطانی عمل کی تخریب وتدمیر کی کچھ مثالیں اصلاحی کہانیوں میں ذکر کریں گے:
(۱)
زید حامد سے:
تم کہاں کام کرتے ہو؟
حامد: فلاں دکان میں.
ماہانہ کتنی تنخواہ ہے؟
حامد: 1500 دينار.
زید: 1500 دینار بس.
تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟
حامد: (گہری سانس کھینچتے ہوئے) بس یار کیا بتاوں.

کچھ دنوں کے بعد حامد اپنے کام سے بے زار ہوگیا اور تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کردیا. جسے لمحہ بھر میں مالک نے رد کردیا.
نوجوان نے نوکری چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا. پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا.

سیانے سچ کہتے ہیں:
"تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اُس مال سے بہتر ہوتا ہے، جو چھپّڑ پھاڑ کر ملے اور جلدی سے ختم ہوجائے.
(۲)
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا:
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا؟
سہیلی نے کہا کچھ بھی نہیں.
اس نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟ کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟

لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی.

تھوڑی دیر بعد جب اس کاشوہر گھر آیا تو بیوی کا منہ لٹکا ہواپایا.
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا. ایک دوسرے کو لعنت بھیجی. مار پیٹ ہوئی. شوہر نے اسے طلاق دے دی.

جانتے ہیں مسئلہ کی شروعات کہاں سے ہوئی؟

اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا.
(۳)
ایک بے فکر باپ تھا. ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا؟ کیا اسے تم سے محبت نہیں؟
باپ نے بیٹے کے لیے عذر تراشا اور کہا کہ
اس کے کام کاج کی ترتیب بہت سخت ہے. اسے بہت کم وقت ملتا ہے.

دوسرے آدمی نے کہا کہ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا؟ یہ تو نہ ملنے کا نیا بہانا ہے.

اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے متعلق پہلی جیسی بات نہ رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی.

بے شک! کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے.

ہماری روز مرّہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں اور ہم وہ سوالات نادانی میں یا بلا مقصد پوچھ بیٹھتے ہیں، جب کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت کا کون سا بیج بورہے ہیں.

فساد پھیلانے والے نہ بنو!
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاو! اور گونگے بن کر واپس آؤ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 490565 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
18 May, 2017 Views: 944

Comments

آپ کی رائے