ایس ایس سی کے بعد کیا کریں؟ --- ڈالو ستاروں پر کمند

(Farooq Tahir, Hyderabad)

عصر حاضر میں علم کی اہمیت و افادیت خاص طور پرجدید علوم کی اہمیت و افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔سائنس اور تکنالوجی نے دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔جدید علوم کی اہمیت اظہر من الشمس ہے۔مسلمانوں کی ان علوم سے دوری ، لاعلمی اور بے پرواہی نے ملت کو پستی اور پسماندگی کے آخری مقام پر پہنچادیا ہے۔اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ طلبہ میٹرک ایس ایس سی کے بعدصحیح رہنمائی اور مناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے الجھن میں پڑجاتے ہیں کہ ان کو کونسی فیلڈ اختیار کرنی چاہیے یاکس فیلڈ میں اچھے اور زیادہ مواقع میسر ہیں۔اس کے علاوہ اچھے اداروں کے متعلق لاعلمی،ان کے فیس اسٹرکچرکے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بہتر اداروں کا انتخاب نہیں کرپاتے ہیں۔کسی بچے سے پوچھا جائے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے۔اکثریت کا جواب ہوگا انجینیئریا ڈاکٹراور ان میں سے چندایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی واضح مقصد ہی نہیں ہوتا ہے ان کی حیثیت اس برگ آوارہ کی مانند ہوتی ہے جو ہوا کے دوش پرمحو سفر رہتا ہے۔طلبہ کی کثیر تعداد میڈیکل اور انجینیئرنگ کے علاوہ دوسرے شعبوں کی طرف توجہ مرکوز نہیں کرتی ہے۔طلبہ کی انجینیئرنگ اور میڈیسن کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سائنس کو آرٹس کے مقابلے میں بہتر مضمون اور اچھی ملازمت فراہم کرنے والی اسٹریم تصور کرتے ہیں۔عموما والدین اور طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹس اور کامرس کا انتخاب ایسے طلبہ کرتے ہیں جن کی تعلیمی کارکردگی اچھی نہیں ہوتی ہے۔بہتر رہنمائی نہ ملنے کے سبب طلبہ جو سائنس سے کسی قسم کا لگاؤ نہیں رکھتے ہیں والدین کے اصرار پر سائنس اور ریاضی کے مضامین اختیار کر لیتے ہیں تب آگے چل کی ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوجاتی ہے اور مستقبل بھی تاریک ہوجاتا ہے۔والدین ،اساتذہ طلبہ کے زندگی کے اس اہم موڑ پر بہتر رہنمائی فراہم کریں تاکہ وہ اپنی زندگی اور مستقبل کو درخشاں بنا سکیں۔کیرئیر کونسلنگ ،تعلیمی کونسلنگ،تعلیمی کیرئیر ، اور پروفیشنل کیرئیر دونوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

ایس ایس سی امتحانات کے نتائج آچکے ہیں۔ ایس ایس سی کامیاب طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد تعلیمی شعبے (مضامین) اور پیشے کے انتخاب میں شش و پنچ کا شکار نظر آتی ہے اوروہ اپنے آپ کو زندگی کے ایک ایسے دو راہے پر کھڑا پاتی ہے جہاں کوئی بھی فیصلہ کرنا ان کے لئے بہت ہی دشوار ہوتا ہے ۔اب طلبہ کیا کر یں کیا وہ ان راستوں پر گامزن ہوجائیں جو بہت ہی عام یا بالکل پامال و افتادہ ہیں۔ یا پھر ایسے راستہ کا انتخاب کریں جو عام راستوں سے ہٹ کر قدر دشوارہے لیکن عظیم الشان کامیابیوں کی سمت لے جاتا ہے۔زندگی میں پہلی بار تجربہ سے عاری معصوم طالب علم کو ایک ایسے سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ’’ تعلیمی شعبے (مضامین ) کے انتخاب کے بعد وہ کیا کرسکتا ہے؟‘‘ اور یہ سوال زندگی بھراس کا پیچھا کر تا ہے۔یہ سوال طالب علم کی زندگی کے ہر اہم سنگ میل پر سر اٹھا کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ طلبہ جو اپنے کیر ئیر اور تعلیمی منصوبہ بندی کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتے ہیں ان کے لئے یہ سوال بہت ہی پریشان کن ہوتا ہے۔اسکولی زندگی کے اختتام کے فوری بعد ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے جہاں طلبہ کو خود سے اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔اسکولی زندگی سے پیشہ وارانہ زندگی کی طرف کو چ کرتے وقت طلبہ کو واضح منصوبہ بندی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔اگر طلبہ اپنے تعلیمی شعبے اور پیشے کے انتخاب میں احتیاط نہ برتیں اور منتخب شدہ تعلیمی شعبے و پیشے کے مضمرات کا علم و ادراک نہ رکھتے ہوں تب یقینی طور پر وہ ایک ایسے پیشہ کو گلے لگائیں گے جو ہر گز ان کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق نہیں ہے۔ طلبہ کی زندگی کے ان ارتقائی مراحل پرغلط معلومات کی وجہ سے غلط فیصلے کربیٹھنا ایک عام بات ہے۔
پیشے کے انتخاب میں قوت فیصلہ سازی اساسی اہمیت کی حامل ہوتی ہے خواہ وہ کوئی بھی پیشہ ہو۔آدمی کی کامیابی کے پیچھے وہ عناصر اور استدلال کار فرما ہوتا ہے جس کے تحت وہ اپنے پیشہ کے انتخاب کا فیصلہ کرتا ہے۔ فیصلہ سازی کی یہ قوت ایک طالب علم میں وقت کے ساتھ فروغ پاتی ہے اور اس کا آغاز میٹرک(ایس ایس سی) کی تکمیل سے ہوتا ہے۔میٹرک سے قبل طالب علم کو مضامین کے انتخاب کا کوئی اختیار حاصل نہیں رہتا ہے لیکن میٹرک کامیاب ہوتے ہی صورتحال یکسر بدل جاتی ہے جہاں مختلف مضامین ، مختلف پیشے اپنے در وا کیئے اسے اپنی طرف راغب کرنے لگتے ہیں ان حالات میں ایک کم عمر نو خیز طالب علم کے لئے کسی ایک در کا انتخاب کرنا مشکل ہوتا ہے جو، اس کو اس کے خوابوں کی تعبیر تک پہنچادے ۔ اس کی آرزؤں اور ارمانوں کی تکمیل کا سبب بنے۔ان مسائل کے حل تلاش کرنے سے پہلے تعلیمی شعبوں اور پیشہ کے انتخاب میں والدین اور طلبہ کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے جنپر درج ذیل سطور کے ذریعہ روشنی ڈالی گئی ہے۔

ڈھیروں مضامین سے کسی ایک مضمون کا انتخاب کیسے کریں؛۔یہ والدین کے لئے بہت ہی دشوار ہوتا ہے کہ وہ کئی مضامین سے بچوں کے لئے کسی ایک مضمون کا انتخاب کریں۔دو دہائی قبل کے والدین جو آج کے بچوں کی جگہ تھے ان کو ریاضی اور حیاتیات(Mathematics and Biology)کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تھا کیونکہ جب اس قدر مضامین کی بھر مار اور انتخاب کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔لیکن آج صورت حال تبدیل ہوچکی ہے کئی مضامین دستیاب ہیں اور کئی راستے وا ہیں جس کی وجہ سے والدین اور طلبہ سے مضامین اور پیشے کے انتخاب میں غلطی کا احتمال بڑھ گیا ہے۔ایسے میں طلبہ کیا کریں؟زندگی کا کوئی بھی اہم فیصلہ کرتے وقت ضروری ہے کہ ہمیشہ اس کے عواقب و نتائج کو پیش نظر رکھا جائے۔دسویں کے بعد آپ صرف اپنے مستقبل کے کیرئیر کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ نہ کریں بلکہ فیصلہ لیتے وقت اپنے ماضی کے بارے میں بھی غور کریں اور اپنی طاقت (خوبیوں) اور کمزوریوں کی بنیاد پر تعلیمی شعبے اور پیشے کا انتخاب کریں۔ہر طالب علم کی استعداد مہارت خوبیاں اور خامیاں دوسروں سے مختلف پائی جاتی ہیں اسی لئے ہر طالب علم کو اپنی انفرادی صلاحیتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کورس اور کیرئیر کا فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔دسویں میٹرک(ایس ایس سی) کامیاب کرنے کے بعد مندرجہ ذیل تین بڑے اسٹریمس میں سے کسی ایک اسٹریم کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔آرٹس ،سائنس اور کامرس۔یہ تینوں اسٹریمس طلبہ کو مختلف پیشوں(کیرئیر) کی جانب گامزن کرتے ہیں۔بین السطور مذکورہ تین اسٹریمس کا جائز ہ لیا گیا ہے۔

(1)سائنس اسٹریم:۔ دسویں کے بعد انٹرمیڈیٹ کی سطح پر سب سے زیادہ منتخب کیا جانے والا مضمون سائنس ہے۔سائنس اسٹریم انجینئر نگ ،میڈیسن کے علاوہ بہت سارے منفعت بخش پیشوں کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔انٹرمیڈیٹ سطح پر سائنس مضمون لینے والے طلبہ ڈگری (گرائجویشن) سطح پر کامرس اورآرٹس اسٹریم کو اختیار کر سکتے ہیں جب کہ انٹر میڈیٹ سطح پرکامرس اور آرٹس پڑھنے والے طلبہ ڈگری (گرائجویشن) سطح پر سائنس کے مضامین اختیار نہیں کر سکتے ہیں۔اس طرح انٹرمیڈیٹ سطح پر سائنس مضمون کو اختیار کرنے سے ڈگری سطح پر مختلف مضامین کے انتخاب کا اختیار طلبہ کو حاصل رہتا ہے جب کہ آرٹس اور کامرس کے طلبہ کو اپنے مضمون کے علاوہ کسی دوسرے مضمون کا اختیار کرنے کی سہولت ڈگری سطح پر حا صل نہیں رہتی ہے۔انٹرمیڈیٹ میں سائنس اسٹریم کو اختیار کرنے والے طلبہ کو مضامین،ریاضی(Mathematics) یا حیاتیات(Biology)(باٹنی اور زوالوجی)،فزکس، کیمسٹری، بشمول انگریز ی اور عربی، اردو، ہندی،تلگو، فرنچ ،سنسکرت وغیرہ ان میں سے کوئی ایک زبان پڑھنا لازم ہوتا ہے۔سائنس اسٹریم میں پڑھائے جانے والے مقبول عام کورسس میں(1)ایم پی سی(MPC)ریاضی(میاتھامیٹکس)،طبیعات(فزکس)،کیمیاء(کیمسٹری)(2)بائی پی سی(Bi.PC)نباتات(باٹنی)،حیوانات(زوالوجی)،طبیعات(فزکس)،کیمیاء (کیمسٹری) شامل ہیں۔اگر طلبہ میڈیکل فیلڈ میں اپنا کیرئیر بنا ناچاہتے ہیں تو انھیں بائی پی سی (Bi.PC)مضمون کو منتخب کرنا ہوتا ہے۔انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کے بعد اس اسٹریم کے طلبہ کے لئے کئی پیشہ وارانہ کورسس کے در وا رہتے ہیں جن میںMBBS،BDS،BHMS،BUMS،BAMS،B.Pharmacy،PHARMA D.ِ,،B.Sc agriculture،B.sc Veternery،B.Sc Forestry،B.Sc Horiticulture،B.Sc Nursing،بی پی ٹی(Bachelor of Physiotherapy)،B.Sc Nurition،جنرل بی ایس سی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لئے طلبہ کو کل ہند سطح کے انٹرنس ٹسٹ نیٹ (NEET)میں نہ صرف کامیابی حاصل کرنا پڑتا ہے بلکہ بہترین رینک کے حصول کے ذریعہ وہ یہ دونوں کورسس میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ماباقی مذکورہ کورسس کے لئے ریاستی سطح پر منعقد ہونے والے انٹرنس ٹسٹ(EAMCET)میں نہ صرف کامیابی حاصل کر لینا کافی ہوتا ہے بلکہ اعلی رینک کے ذریعہ وہ ان کورسس میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ طلبہ جو ٹکنیکل فیلڈ میں دلچسپی رکھتی ہیں ان کو سائنس اسٹریم میں ریاضی (میاتھامیٹکس) کو اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔انٹرمیڈیٹ سطح پر ریاضی ،فزکس اور کیمسٹری پڑھنے والے طلبہ کے لئے انٹرمیڈیٹ کے بعد انجینئرنگ ،کمپیوٹر س ،الیکٹرانکس ،سول،آرکٹکچرل انجینئرنگ کرنے کے مواقع دستیاب رہتے ہیں۔ملک کے باوقار انجنیئرنگ کے ادارے IITمیں داخلہ کے لئے قومی سطح کے انٹرنس ٹسٹ میں اعلی رینک کا حصول ضروری ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انجینیئرنگ کے مختلف باوقار اداروں میں داخلہ کیلئے مختلف قو می سطح کے انٹرنس ٹسٹوں میں اعلی رینک کے ذریعہ داخلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ان امتحانات میں کامیابی کے بعد اعلی اداروں میں بہترین عہدوں پر ان کو فائز کیا جاتا ہے اور ان کی تنخواہیں ناقابل یقین حد تک پر کشش ہوتی ہیں۔

(2)کامرس اسٹریم؛۔سائنس کے بعد ہندوستان میں طلبہ میں دوسرا سب سے مقبول ترین کورس کامرس ہے۔ باوقار اورسب سے زیادہ تنخواہ پانے والی نوکریاں جیسے سرمایہ کاری ،بینکنگ،چارٹیڈ اکاؤنٹنسی،کمپنی سکریٹری شب، اکاؤنٹنسی اور مشیر مالیہ(فینانشل اڈوائزر)وغیرہ جیسے عہدے کامرس اسٹریم کے تعلیم یافتہ طلبہ کو ہی حاصل ہوتے ہیں۔کامرس کے زمرے میں جو تین مضامین پڑھائے جاتے ہیں ان میں معاشیات(اکنامکس)،اکاؤنٹس،قانون تجارت(بزنس لاء)یا بزنس اسٹڈی شامل ہیں۔کامرس کے زیادہ تر کالجس میں جو مضامین شامل نصاب رہتے ہیں ان میں قابل ذکر بزنس لاء،اکائنٹنسی،آڈیٹنگ(Auditing)،انکم ٹیکس،مارکٹنگ وغیرہ ہیں۔سائنس گروپ کے طلبہ کی طرح اس گروپ میں بھی طلبہ کو پانچ مضامین بشمول انگریزی اور ایک اختیاری زبان کو منتخب کرنا پڑتا ہے۔ایس ایس سی کے بعد انٹرمیڈیٹ میں کامرس کے مضامین کے گروپس میں دو گروپس بہت مشہور ہیں ایک سی ای سی(CEC)،شہریت(سوکس)،معاشیات(اکنامکس)،کامرس اور دوسرا ایم ای سی(MEC)،میاتھس اکنامکس اور سوکس،جو طلبہ آگے چل کر چارٹیڈ اکاؤنٹینٹ بننا چاہتے ہیں ان کو چاہیئے کہ وہ ایم ای سی کو اختیارکریں۔ سی ای سی کے ذریعہ بھی اس کورس کو کیا جاسکتا ہے لیکن ریاضی کے شامل نصاب ہونے سے حساب کتاب اور ریاضی سے منسلک اصطلاحات جیسے شماریات وغیرہ سے آگہی سے کورس کی تکمیل میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے ۔لیکن جو طلبہ ریاضی میں کمزور ہوں یا وہ ریاضی کو پسند نہ کرتے ہوں وہ ایم ای سی کے بجائے سی ای سی کو ہی ترجیح دیں۔دسویں (ایس ایس سی) کے بعد طلبہ CA Foundationکورس،کمپنی سکریٹری شب فاونڈیشن کورس ،انڈین کاسٹ اینڈ ورکنگ اکاؤنٹنس(ICWA)فاونڈیشن کورس کے انٹرنس ٹسٹ لکھسکتے ہیں۔

(3)آرٹس اسٹریم؛۔طلبہ میں اگر چیکہ یہ اسٹریم مقبول نہیں ہے لیکن اس میں بھی کیر ئیر سازی کے بے شمار مواقع دستیاب ہیں۔آرٹس اسٹریم میں بھی دیگر اسٹریمس کی طرح پانچ مضامین بشمول دو زبانوں کے دیگر تین اختیاری مضامین منتخب کرنا ہوتا ہے۔تین اختیاری مضامین کے انتخاب میں یہ اسٹریم بہت ہی وسیع ہے اس میں کئی انواع و اقسام کے مضامینپائے جاتے ہیں جن میں تاریخ (History)،جغرافیہ(Geography)،سیاسیات(Political Science)،نفسیات(Psychology)،سماجیات(Socialogy) اور جدید ہندوستانی زبانیں(Modern Indian Languages)،جیسے اردو ،ہندی، انگش،تلگو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اگر طلبہ ماس میڈیا،صحافت(Jounarlism)، انسانی نفسیات، تاریخ ،جغرافیہ،سیاسیات،ادب(Literature)،لسانیات(Linguistics)،سماجیات،سماجی خدمات(Social Work)،انسانی وسائل(Human Resource Mangement)،معاشیات پڑھنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے آرٹس اسٹریم سود مند ثابت ہوتی ہے۔ ایس ایس سی کے بعد مروجہ انٹر میڈیٹ میں آرٹس مضامین پر مشتمل کورسیزمیں عموما ایچ ای سی(HEC)،تاریخ ، اکنامکس اور سوکس قابل ذکر ہیں ۔اس کے علاوہ بھی مذکورہ بالا مضامین سے کوئی تین مضامین اختیار کرنے کا طالب علم کو حق حاصل رہتا ہے۔

پالی ٹکنیک؛۔وہ طلبہ جو ایس ایس سی کے بعد پالی ٹکنیک کا تین سالہ ڈپلومہ کرتے ہیں وہ انجینئرنگ ڈگری کورسیز میں دوسرے سال میں انٹرنس ٹسٹ کے ذریعے راست داخلے کے لئے اہل ہوتے ہیں۔ ایس ایس سی کے بعد اس کورس کی مدت تین سال ہوتی ہے۔پالی ٹکنیک میں جو مضامین طلبہ پڑھتے ہیں وہی مضامین انجینئرنگ میں بھی پائے جاتے ہیں اس طرح پالی ٹکنیک ڈپلومہ کرنے والے طلبہ کم اخراجات میں اپنی انجینئرنگ کی تکمیل کر لیتے ہیں اور یہ انٹر کے بعد انجینئرنگ کرنے والے طلبہ سے تعلیمی قابلیت میں بہتر ہوتے ہیں۔اگر ڈپلومہ کے بعد نامساعد حالات کے بدولت وہ انجینئرنگ کی تکمیل نہ بھی کر پائے تب بھی وہ ایک پیشہ وارانہ سند کے حامل ہوتے ہیں جس کی بدولت ان کو بہتر ملازمت حاصل ہوجاتی ہے۔دسویں کے بورڈ اگزامس کے فوری بعد اس کا انٹرنس ٹسٹ ریاستی سطح پر منعقد ہوتا ہے اگر اس میں بہتر رینک حاصل ہوجائے تو عمدہ پالی ٹکنیک کالجس میں مفت داخلہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اگر کوئی طالب علم انٹرنس ٹسٹ نہ بھی لکھ پائے یا اپلائی ہی نہ کیا ہو تب بھی راست پالی ٹکنیک میں داخلہ حاصل کیا جانا ممکن ہے۔

پیشہ وارانہ سرٹفیکیٹ کورسیز․۔اس اسٹریم کے تحت انٹرئیر ڈیزائنگ، فائر سیفٹی،سائبر لاز،جیولری ڈیزائنگ،فیشن ڈیزائنگ،کمپیوٹر نیٹ ورکنگ،Tallyوغیرہ موجو د ہوتے ہیں ان کورسیز کی مدت چھ ماہ سے ایک سال پر محیط ہوتی ہے۔اس کے ذریعہ مستحکم ملازمت اور پرکشش تنخواہ پانا مشکل ہوتا ہے اگر انٹرمیڈیٹ کے بعد ان مضامین پر مشتمل تین سالہ کورسیز کی تکمیل کی جائے تب طلبہ کا مستقبل درخشاں رہتا ہے۔
انڈسٹریل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ(Industrial Training Institute)؛۔وہ طلبہ جو ٹکنیکل کورسیز میں داخلے کے متمنی ہوتے ہیں لیکن وہ معاشی بحرانی کے باعث طویل کورسیز میں داخلہ حاصل کرنے سے کتراتے ہیں وہ آئی ٹی آئی کے ایک سالہ کورس میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے اپنے خوابوں کو سچ کر دیکھا سکتے ہیں۔اس کے بعد وہ پالی ٹکینک کے ڈپلومہ کورسیز میں داخلہ حاصل کر سکتے ہیں۔

کیریئر کونسلنگ؛۔کیریئر کونسلنگ(مشاورت)،تعلیمی کیریئر اور پروفیشنل کیریئردونوں کے لئے بے حد ضروری ہوتی ہے۔ایس ایس سی (میٹرک)کے بعد انٹرمیڈیٹ میں تعلیمی شعبے کے انتخاب،گرائجویشن اور پوسٹ گرائجویشن کی تکمیل کے بعدکیریئر کونسلنگ طلبہ کے لئے بہت ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔کیریئر کونسلنگ کا بنیادی مقصدطلبہ میں اس بات کا شعور پیدا کرنا ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی شعبے اور کیریئر کا انتخاب کرتے وقت اپنی دلچسپی،مشاغل،صلاحیتوں(خوبیوں اور کمزوریوں) کو پیش نظر رکھیں۔اکثر تعلیمی شعبے اور پیشے کے انتخاب میں والدین بچوں پر اپنی مرضی مسلط کردیتے ہیں بچوں کی پسند اور رائے کو اہمیت نہیں دیتے جس کی وجہ سے بچے مضامین اور پیشہ سے انصاف نہیں کر پاتے ہیں۔یہ ایک فطری امر ہے کہ جب کوئی فرد کسی شعبے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے تب اس شعبے میں اس کی کارکردگی یقینا متاثر ہوجاتی ہے۔نا پسندیدہ تعلیمی شعبے اور پیشے میں کسی سے بہتر کارکردگی کی توقع کرنا عبث ہوتا ہے۔ابتر کارکردگی کی وجہ سے آدمی پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی خود اعتمادی متزلزل ہوجاتی ہے۔آخر کار اس کا مستقبل تاریک و تبا ہ ہوجاتا ہے۔والدین تعلیمی شعبوں اور مضامین کے انتخاب کے وقت بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں بلکہ ان کی رائے اور صلاحیتوں کا جائز ہ لیں۔بچوں کوتعلیمی شعبوں کے حسن و قبیح سے واقف کریں۔بچوں کو بتائیں کہ کس طرح ان کا تعلیمی شعبے اور مضامین کا انتخاب ان کے مستقبل کو بد ل سکتا ہے۔مستقبل میں تعلیمی شعبوں کے انتخاب سے طلبہ کے لئے کونسے راستے کھلے رہیں گے اور وہ کونسے شعبوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔لیکن طلبہ تعلیمی شعبے اور مضامین کے انتخاب سے قبل اپنی صلاحیتوں کا جائز ہ لیں اور زمینی حقائق سے کام لیں۔ کسی مشکل مضمون کا اگر انتخاب کریں تو اس کے لئے درکار محنت کے لئے بھی خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں۔آدمی ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لئے جس پیشے کا انتخاب کرتا ہے اسے کیریئر کہاجاتا ہے۔کیریئر کسی بھی شخص کا طرز زندگی کہلاتا ہے۔اگر کیریئر انسان کا طرز زندگی ہے تو پھر انسان کو اس کاوسیع علم ہونا چاہیئے کیونکہ سوچ ،علم و ہنر کا عرفان ،عقل و دانش ،انفرادی صلاحیتں ،مہارتیں ،خوبیاں اور خامیاں یہ تما اجزاء مل کرہی کسی بھی فرد کے طرز زندگی کو تشکیل دیتے ہیں۔مذکورہ اجزاء کی نشوونما تعلیم و تربیت کی متقاضی ہوتی ہے۔اسی لئے مناسب تعلیم و تربیت کے حصول کے بغیر ایک بہتر اور درست طرز زندگی کا حصو ل ناممکن ہے۔ بہتر اور مناسب کیریئر کا انتخاب طلبہ کا ایک ایسا فیصلہ ہوتا ہے جو ان کی زندگی کے معیار کو بدل سکتا ہے۔اس فیصلے کے لئے بہت زیادہ غور و خوص اور بہتررہنمائی اور گہرے تجزیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔وسیع تر معلومات اور اپنی مہارتوں اور صلاحیتوں کا صحیح جائزہ اور تجزیہ ایک درست کیریئر کے انتخاب میں مدد گار ہوتا ہے۔ طلبہ اپنے زندگی کے اس اہم فیصلے کو تن آسانی اور لاپرواہی سے نہ لیں ورنہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farooq tahir

Read More Articles by farooq tahir: 114 Articles with 101510 views »
I am an educator lives in Hyderabad and a government teacher in Hyderabad Deccan,telangana State of India.. View More
20 May, 2017 Views: 678

Comments

آپ کی رائے