قائدِاعظم کا اسلامی جھموریہ پاکستان

(Amna yousaf, Lahore)
ہاکستان میں دینِ اسلام کے نفاذ کے لئے آواز اٹھائیں اور قائدِ اعظم کا خواب پورا کریں -

"جیسا دیس ویسا بھیس" یہ محاورہ آپ نے سنا ہی ہو گا اور اکثر باہر سے آنے والوں کے "طور طریقے" جو باہر رہنے کی وجہ سے آدھے "انگریزنما" بن ہی جاتے ہیں لوگوں کو دیکھ کر آپکی سمجھ میں بھی آہی گیا ہو گا کہ "جیسا دیس ویسا بھیس" کا در حقیقت مطلب کیا ہے -
ظاہر ہے جہاں انسان رہتا ہے وہاں کے طور طریقے سیکھ ہی جاتا ہے کیونکہ وہ "اپنا ملک"چھوڑ کر ایک ایسی سر زمین پر جاتا ہے جو اسکے لئے "الگ" ہوتی ہے اور وہ وہاں "پردیسی"کہلاتا ہے - عرصے بعد واپسی پر وہ اپنی "روایات و تہذیب" تقریبً آدھے سے زیادہ بھول ہی چکا ہوتا ہے -
باہر تک یا "باہر والوں" تک تو یہ سمجھ میں آتا ہے لیکن جب یہ "محاورہ"اپنے "دیس"پر لاگو کیا جائے تو کچھ ہضم نہیں ہوتا -

کیونکہ ہم نے بچپن سے ہی سنا ہے "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ'الااللہ" جسکی تاریخ کھولو تو پتہ چلتا ہے کہ "اسلام" کے نام پر حاصل ہوا یہ "ملک" کتنی ہی "جانوں" کا نظرانہ ہےجو ہماری "آزادی" کے لئے تھا -
جسکی "چاہ" نے کتنے ہی گھرانے "موت" کے گھاٹ اتار دئے۔
جسکے "حصول" نے لوگوں کے "لہو" کو گرمایا-
"اسلام" کا "نعارہ" لگانے والوں نے " اپنا تن من دھن " سب اسکی نظر کر دیا-
"رتجگے"کاٹے - "ناانصافیاں"برداشت کیں"-
"مخالف چالوں" کا مقابلہ کیا -
نہ جانے کون کون سی "سیاسی تحریکیں" چلائیں کہ بس ایک بار "دو قوموں کا ملاپ" جو کسی بھی صورت ممکن نہ تھا کھل کر دنیا کے سامنے آئے اور دنیا کو "اسلام" اور "مسلمانوں" کی طاقت کا اندازہ ہو جائے-
سو سو بار مرنے والوں نے ایک ہی بار جینے کی قسم کھائی جب انکی "کوششوں" اور "جدوجہد " سے 14 اگست 1947 کو " اسلامی جھموریہ پاکستان" معرضِ وجود میں آیا -

"اسلام" کے نام پر حاصل ہوا یہ "ملک" جو ہمارے "عظیم رہنماؤں" کی سر توڑ کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس "ریاست" کے وجود میں آنے کے بعد سکھ کا سانس لیا -

آج جب اس " ملک" کے نام پر میں کھیلنے والوں کو دیکھتی ہوں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کتنی آسانی سے اس " ملک" کو دوسری "تہذیب" کے حوالے کر دیا اور " لبرل نامی بھوت" کو فروغ دیا جو ہماری رگوں میں خون کی مانند دھوڑنے لگا اور بڑی تیزی کے ساتھ ہماری سوچوں پر حاوی ہواکہ ہم نے "حیا" کے درس کو چھوڑ کر "بےحیائی" کا درس دینا شروع کر دیا اور "موڈرنیزم" کے" وہم" کو اپنے سروں پر "تاج" کی مانند سجا لیا -

ذرا سوچیں اور غور کریں !
جس ملک کا مطلب "اسلامی قوانین کا نفاذ"تھا-
جو ہر پل "اسلامی تہذیب" کو فروغ دینے والا تھا اور جسکے نام کی ابتداء ہی "کلمہ" سے ہوئی آج اسی "ریاست" کے"اسلامی قوانین"کی ہم نے دھچیاں اڑادیں
اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنے ہی وطن میں رائج " دین" کو آہستہ آہستہ بڑی چلاکی کے ساتھ اس وقت ختم کردیا جب ہم نے"ترّقی" کے نام پر "عورت مرد کے شانہ بشانہ چل سکتی ہے" کی سکیم کو ہوا دی اور یہاں تک دی کہ " مسلمان پاکستانی عورت" " کافر ہندو مرودں" کی بانہوں میں جھولنے لگی اور "آذادی" کا ناجائز مطلب دنیا کے سامنے کرنی لگی اور ایک ایسے "ملک" کی سپورٹر بن گئ جو دراصل "رسولِ خدا" کے قوانین و تعلیمات کو رائج کرنے کے لئے تھا اور "دینِ اسلام" کے نام پر تھا -
"مخالف ریاست" میں جا کر اپنے "تن" سے "کپڑے" الگ کرنے لگی اور "دوستی اور انسانیت " کے رشتے کو "بے حیائی" کی رو سے سمجھانے لگی جو اسکے ذمہ ہی نہیں تھا -
اتنا ہی نہیں بلکہ یہ سب اس "ملک" میں جا کر سر انجام دیتی ہے جو روزِاول سے "مسلمانوں"کا "دشمن" ہے-

جس "قائدِاعظم" نے اپنی جان پر کھیل کر "الگ ریاست" کا مطالبہ کیا اور جس "عوام" کے لیے کیا
آج وہی"عوام بیچاری" اپنے آپکو ان "ہندوؤں" کی دیکھا دیکھی میں "پاپولیریٹی " کی بنیاد پر "عریانیت" کا شکار کر چکی ہے - جن سے علٰیحدگی کی بنیاد ہی "اسلام" تھا

تاریخ میں جاؤں تو یاد پڑتا ہے "قراردادِپاکستان"کے مقاصد بیان کرتے ہوئے "قائدِاعظم" نے فرمایا تھا " آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کےمطالبہ کا جزبہ محرکہ کیا تھا ؟ مسلمانوں کے لیے جداگانہ مملکت کی وجہ جواز کیا تھی؟ تقسیمِ ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اسکی وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال- یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا -"

حکومتِ پاکستان کے افسران کو خطاب کرتے ہوئے اکتوبر 1947 کو "قائدِاعظم " نے کہا
" ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں جو ہماری تہزیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھو لے اور جہاں معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پوری طرح نپپنے کا موقع ملے"

تو مجھے یہ بتائیے کہ کیا "پاکستان" اس لئے حا صل کیا گیا تھا کہ وہاں "دینِ اسلام"کے قوانین کے نفاذ کے بجائے اسکے قوانین کو ہوا میں اڑا دیا جائے؟
یا پھر اس لئے حاصل کا گیا تھا کہ "آزادی"کا"مطلب "بے حیائی"اور"بے غیرتی"کو لیا جائے؟
یا پھر اس لیےحاصل کا گیا تھا کہ جنکی "قربانیوں" سے یہ"وطن" حاصل کیا گیا انکی "قربانیاں" ضائع کریں ؟"
یا پھر اس لئےحاصل کیا کہ "نام کے آڑٹسٹ" اپنی "عزت" "دشمن ملک" بیچ آئیں اور واپس وطن آ کر ایسی دھوم مچائیں جیسے معلوم نہیں کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو -

یقین کریں جس "اسلامی جھموریہ پاکستان" کا ہم "دم بھرتے" ہیں آج اس ملک میں "آپ"نے اور "میں" نے کسی صورت بھی کوئی "حق"ادا نہیں کیا-

مجھے اس بات کا احساس تب ہوا جب میں نے سوشل میڈیا پر "مسلم پاکستانی آرٹسٹس "کوکچھ نا زیبہ لباس میں ملبوس دیکھا اور "اسلامی جھموریہ" کا مزاق اڑھتے دیکھا -

اور حال ہی میں ایک پاکستانی ڈرامہ جسکا نام" ناگن "ہے جس کے ذریعے "اسلامی دین" میں "بدعات" کا شمار دیکھا جو "ہندوستان" کی دیکھا دیکھی میں بنایا گیا ہے کیونکہ یہ سیریل اسی نام کے ساتھ "ہندوستانی چینل" پر لگ چکا ہے جسکا پچھلے دنوں ہمارے ملک میں کافی واویلا تھا
"ہندو دھرم"تک تو یہ سب باتیں سمجھ میں آتیں ہیں لیکن "اسلام" سے اسکا کیا تعلق؟ -
جب میں نے دیکھا تو ناقابلِ بیان افسوس ہوا کہ ہم "میڈیا کی آزادی" کس طرف استمال کر رہے ہیں ؟
وہ باتیں جسکی ممانعت "رسولِ خدا" نے 1400 سال پہلے کر دی تھیں ہم پھر اسکا شمار "دین"میں کرنے لگے -
ایک لمحہ کے لئے میں شدید صدمے میں چلی گئی کہ یہ "اسلامی جھموریہ پاکستان"ہے ؟
جسکی ترّقی کا خواب "قائدِاعظم"نے زندگی کے آخری لمحات تک دیکھا -

کیا "آپ" اور "میں" " قائدِاعظم" کے "خواب" کو پورا کر رہے ہیں ؟
کیا "آپ" اور "میں" " اللہ اور رسول اللہ" کے دین کے خلاف بولنے اور "نیا دین" بنانے والوں کے خلاف " آواز" اٹھا رہے ہیں؟
جسکو ہمارا "مسلم میڈیا" پروموٹ کر رہا ہے -

میرا سوال آپ سب سے ہے کہ مجھے یہ بتائیں کہ

کس نے "خوبصورتی کی بنیاد" گورے رنگ پر رکھی؟

"موڈرنیزم" کو کسنے "عریانیت" اور تنگ کپڑوں " کی نظر کیا ؟

"جدید ٹیکنالوجی" کا کس نے یہ استعمال بنایا کہ ہم "گھروں" کے اندر "محفوظ" نہیں ؟

کسنے "ویسٹرن کلچر" کو پروموٹ کیا ؟

یہ کسکا ہاتھ ہے جسنے آہستہ آہستہ "اخلاقیات" کا قلع قمع کیا؟

یہ کون ہے جو اندر اندر سے ہماری "جڑیں" کاٹ رہا ہے؟

کون ہے جو "اسلامی جھموریہ پاکستان" کو مٹانے پر تلا ہے اور اس ملک میں "دین" کا خاتمہ کر رہا ہے ؟

آخر کون ؟

بڑے ہی عزت ساتھ مجھے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ اس میں کسی اور کا ہاتھ نہیں بلکہ "میں" اور "آپ" اس میں برابر کے شریک ہیں جو ان تمام تر سازشوں کا حصہ ہیں -
اور "بدعات اور خرافات" کے نام پر "ترّقی" کو بڑھاوا دے رہے ہیں ۔

"پاکستانی" ہونے سے پہلے ہم ایک "مسلمان قوم" ہیں اور کسی صورت یہ "مسلمان قوم" کی شان نہیں کہ وہ "ظلم" کا ساتھ دے کیونکہ "رسولِ خدا" کی حدیث کا "مفہوم " بتاتی چلوں کہ "ظلم کو دیکھنے والا بھی ظالم ہے اور گناہ میں برابر کا شریک ہے"
پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ "ظلم"تو روز ہوتا ہےاسکے خلاف "آواز" کون اٹھاتا ہے؟
اور دنیا میں اس سے بڑا "ظلم" اور کیا ہے جو "اللہ اور اسکے رسول اللہ" پر بہتان باندھے اور دین میں "نیا دین" پیدا کرے ؟
کیا یہ ظلم نہیں ؟

اور مزے کی بات یہ ہو بھی ہمارے اپنے ملک"اسلامی جھموریہ پاکستان " میں رہا ہے ۔

ایک اور "حدیث " کا "مفہوم" آپکی نظر کرتی چلوں ،
رسولِ خدا کا ارشاد ہے ،
"جہاں برائی دیکھو ہاتھ سے روکو ہاتھ سے نہ روک پاؤ تو زبان سے برا کہو زبان سے بھی نہ کہ سکو تو دل میں برا جانو اور دل میں برا جاننا ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے"
اس حدیث کی رو سے معزرت کے ساتھ مجھے "ہم سب بے ایمان" لگتے ہیں کیونکہ میرے خیال میں ہم نے برائی کا خاتمہ کرنا تو دور کی بات کبھی "دل"میں بھی "برائی"کو "برائی" نہیں جانا ہوگا-

اب "سوال"یہ ہے کہ کیا ہم سب کا "ایمان کمزور"ہے ؟

کیونکہ ہماری ہی" مسلمان عورت" جو "دوستی" اور "انسانیت" کے ناطے " ہندو دشمن ملک" میں جائے اور " دوستی"کے نام پر وہ وہ کارنامے سر انجام دے کر آئے جسکا تعلق نہ "اسلام " سے ہے نہ " اسلامی جھموریہ پاکستان" سے اور یقینً نہ ہی "ترّقی" سے تو کیا آپ "برائی" کے خلاف آواز نہ اٹھائیں گے ؟
کیونکہ "میری " اور "آپکی" آنے والی نسل اس معاشرے کا حصہ بنے گی اور اسی معاشرے میں رہے گی اور "آج" کی طرح "کل" بھی اِسی"بے حیائی" کو پروموٹ کرے گی جسطرح اب کر رہی ہے جس سے قطعیً انکار نہیں ۔
جو سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے جسکو "ہماری" اولاد لاکھوں کی تعداد میں " لائکس اور کمنٹس"کی نظر کرتی ہے ۔
کیونکہ ہمارے "ینگسٹرز" کو ہی" بے حیائی "کا مہرہ بنا کر "اسلامی تہذیب" کے خلاف استعمال کیاجارہا ہے ۔ اور ہمارے بچے اپنا "آئیڈئل" بھی "بے حیائی" کو ماننے لگے ہیں -

سوال یہ ہے کہ
کیا "ترّقی " یہ ہےکہ "اسلامی تہذیب" کو "ہندو دھرم" سے جوڑا جائے اور اپنے ملک میں "ہندوؤں کے طور طریقے" اپنائے جائیں ؟
کیا "ترقی" یہ ہے کہ رہیں تو "اسلام جھموریہ پاکستان " میں اور کھائیں حرام؟
کیا ترّقی یہ ہے کہ اپنی "ریاست کی ثقافت" کو چند روپوں کی خاطر بیچ دیا جائے ؟
کیا ترّقی یہ ہے کہ دین میں اپنی مرضی سے "کانٹ جھانٹ" کر لی جائے ؟
کیا ترّقی یہ ہے کہ "فیم" کے ترازو میں "عزتیں" فروخت ہوں ؟

افسوس کے ساتھ کہ جس "رسول" نے "جہالت" سے ہمیں نکالا اور "اسلام " جیسے خوبصورت "دین" کو ہماری نظر کیا ہم نے "ترّقی " کے نام پر اسی "دین" کو پیچھے چھوڑ کر "موڈرنیزم" کا سہرا سجایا اور اپنا آپ ہی "برہنہ" کر لیا ۔

کیا یہ " دین" ہے ؟
یا یہ " اسلامی جھموریہ پاکستان" کا مقصد تھا ؟

بڑے ہی گہرے صدمے کے ساتھ یہ بات کہنے لگی ہوں جو سو فیصد سچ ہے کہ اس "اسلامی ریاست" کا خون کرنے والے بھی "ہم" خود ہیں ۔
جنہوں نے بس "بجلی و سوئی گیس کی عدم فراہمی" اور "مہنگائی" کے بھوت کو پکڑ رکھا ہے اور پیچھے ملک میں "دین" کا خاتمہ کسطرح ہورہا ہے نہ اس کی ہمیں خبر ہے اور نہ ہی اس سے ہمیں کوئی فرق پڑتا ہے کیونکہ ہم" کھوکھلے" ہو چکے ہیں اور جہاں اپنا"مفاد" نظر آتا ہے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں چاہے وہ " حرام" ہی کیوں نہ ہو ۔

میرے عزیز پڑھنے والوں!
ذرا یہ بھی سوچئے کہ اپنے ہی مفاد کی خاطر لڑتے لڑتے ہم کیا کھو رہے ہیں اور کیا پا رہے ہیں ۔
میرا نہیں خیال کے "زلت" کے سوا ہم کچھ اور پا رہے ہیں کیونکہ جس "ریاست" کی بنیاد ہی "دینِ اسلام" پر ہو اور وہاں "غیر مسلم" جیسے طور طریقوں کو بڑ ھاوا دیا جائے پھر وہاں کتنے ہی "پُل" بنیں اور "نئی طرز کی بسیں" بن جائیں "ترّقی" کبھی نہیں ہو سکے گی کیونکہ نا تو اس مملکت کا نظام" اللہ اور رسول اللہ"کے رائج کیے گئے "احکامات" کے مطابق ہے اور نہ ہی اس قوم کی حالت "امتِ مسلمہ" کی سی رہ گئی جسکو حکم تھا کہ "اللہ کی کتاب" کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور "تفرقوں" میں نہ بٹو ۔
اور ہم نے بڑی محارت سے نعوذوباللہ نہ ہی "اللہ کی کتاب" کو چھوڑا بلکہ ساتھ ہی ساتھ "سنتوں" کو بھی "رد" کر دیا ۔
اور آپس میں ایک "جھنڈے"تلے کھڑے ہونے والے " لا الہٰ الااللہ محمدرسول اللہ" کا نعارہ لگانے والے ایک دوسرے کے ایسے دشمن ہوئے کہ اس "ملک" کی دیواریں "خون" سے رنگنے لگیں ۔

ہم کسطرح ترّقی کر سکتے ہیں ؟ کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں
جہاں ہماری ہی"قوم" کا غریب طبقہ" "امیر طبقہ " کے ہاتھوں رلنے لگے۔
جہاں "بیٹا" "باپ" کو "قتل "کرنے لگے ۔
جہاں "جسم فروشی" کو "کمائی" کا زریعہ بنایا جائے ۔
جہاں"والدین" "اولاد کے ہاتھوں "اولڈ ہومز "منتقل ہونے لگیں ۔
جہاں دکانوں میں "زہر" سستے داموں بکنے لگے۔
جہاں ہر شے میں "ملاوٹ" ہو ۔
جہاں "حلال" کا ٹھپہ لگا کر "حرام" بیچا جائے ۔
جہاں"شراب" کو عام کیا جائے۔
جہاں"بے حیائی" کو فروغ دیا جائے۔
جہاں "زنا" رواج بن جائے۔
جہاں"ظلم" "نوکری " سمجھ کر کیا جائے۔
جہاں"انصاف" کی فراہمی ایک "خواب" لگے۔
جہاں"انسان" کے روپ میں "حیوان" ہوں۔
جہاں"انسانیت" نا ہونے کے برابر ہو۔
جہاں"طاقت" کا زورزورہ ہو ۔
جہاں"تعلیم " کا "قتل" ہو ۔
جہاں "موڈرنیزم" کو "بےغیرتی"اور"بےحیائی"سمجھا جائے۔
جہاں "عورت " اپنا "پردہ" ایک "قید" سمجھے۔
جہاں مرد اپنی عزت "بےغیرتی" میں سمجھتا ہو ۔
جہاں "مسلمان نام کا ہو"۔
جہاں"اسلام" کو "تنگ نظر" سمجھا جائے۔
جہاں "قرآن" کو عقیدت کی نگاہ سے عرصہ دراز تک الماریوں کی نظر کر دیا جائے ۔
جہاں "اسلام بدعاتِ عام" کے حوالے کر دیا جائے۔
جہاں "جھوٹ،چوری،فریب،مکاری،دھوکہ دہی، اور دوسروں کی حق تلفی شہری اپنا فرضِ اول سمجھتا ہو"۔
جہاں "مردہ قوم" کا راج ہو ۔

اور وہ "مردہ قوم"کوئی اور نہیں بلکہ "آپ" اور "میں" ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر زندگی جئے جا رہے ہیں -

پھر بتائیے کیسے ہو گی ترّقی ایک ایسی مملکت میں جہاں پر ہر وہ بات موجود ہو جسکی تلافی "اسلام" کرتا ہے ۔؟

"اسلامی جھموریت" کی تعریف کرتے ہوئے فروری 1948 سبی دبار بلوچستان میں "قائدِ اعظم" نے فرمایا
" میرا ایمان ہے کہ نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو پیغمبرِاسلام رسولِ خدا نے ہمارے لئے وضع کیاتھا ہمیں اپنی جھموریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصّورات پر رکھنی چاہیئں"

افسوس کے ساتھ اور گہرے دکھ کے ساتھ یہ خیال آتا ہے کہاں ہیں یہ تصورات اور اصول؟
کہاں ہے دین ؟

جنوری 1948 میں عید میلاد النبی کے موقع پر قائدِ اعظم نے فرمایا
"اسلام محض چند رسومات یا روایات کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے- اسلام سیاسی اور معاشی دونوں شعبوں میں ہماری رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے - اس کے اصولوں کی بنیاد احترام انسانیت آذادی اور انصاف پر ہے جو لوگ یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کے مطابق نہیں ہوگا انہیں جان لینا چاہیے کہ شرعی قوانین آج بھی اس طرح قابلِ عمل ہیں جسطرح تیرہ سو سال پہلے تھے"

یہ پڑھ کر آپکو لگتا نہیں یہ خواب و خیال ہو گیا ؟

ایسا مضبوط اور با ہمت انسان جس نے نہ صرف "اسلام" کو "پروموٹ" کیا بلکہ " ہم " جیسے "کھوکھلے" اور "ذاتی مفادات" کے رکھوالوں کے لئے ایک سر زمین حاصل کی جسکی تاریخ میں "ہم" اور"ہماری نسلیں" شائد جانا بھی پسند نہ کریں کیونکہ شائد ہمیں یہ ملک" اللہ واسطے" مل گیا ہے جسکی ہم سے نہ رکھوالی ہو رہی ہے اور نہ ہی قدر -

آج جس"دین" کو ہم نے بھلا دیا اور "ملک" کی "عزت " چند روپوں کی خاطر بیچ ڈالی اور جن کو اپنا"آیڈئیل" بنا لیا "ان سے" اور "آپ" سے میرا ایک سوال ہے کہ "آخر کب تک ہم "اسلامی جھموریہ پاکستان" کا مذاق بناتے رہیں گے"؟
اور اپنی "کمائی" کے لیے "ملک کی عزت" داؤپر لگاتے رہیں گے؟

کیونکہ اگر میں غلط نہیں تو پچھلے دنوں " ہندوستان" نے ہمارے"پاکستانی آرٹسٹس" کو دھمکی دے کر نکالا تھا اور "پاکستانیوں" کو وہاں سے ہر حال میں نکلنا پڑا -

سوال یہ بنتا تھا کہ "ہندوستانی آرٹسٹس " نے اپنی حکومت کے اس عمل پر کس حد تک ردِ عمل دکھایا - چلیں اگر اتنے ہی "آرٹسٹس " انسانیت اور دوستی کو پروموٹ کرنے والے ہیں تو آج تک کسی ایک نے بھی "کشمیر" کے مسئلہ پر ایک آواز نہ اٹھائی جہاں روز درندگی کی مثالیں قائم ہوتی ہیں جہاں کوئی "پنجابی پٹھان بلوچی سندھی" نہیں بلکہ " مسلمان" رلتا ہے -
مارا جاتا ہے بے عزت کیاجاتا ہے-
کہاں ہے پاکستانی "آرٹسٹس" کی "انسانیت" جو اپنے مسلمان بھائی بہن کے لئے ایک دفعہ بھی ظالموں کا "بائیکاٹ" نہ کر سکی -
تو پھر اپنے مفادات کی بات کیوں نہ آئے؟
پاکستانی ریاست" کا سر شرم سے کیوں نہ جھکے؟-

میرے عزیزوں اسکی بڑی وجہ "ہم ہی لوگ" ہیں جو انکی بے حیائی کو پروموٹ کرتے ہیں جو"پاکستان" کے نام پر ہوتی ہے -
ایک بار ہی صحیح ہم میں سے کوئی آواز تو اٹھاتا اور کوئی واویلا مچاتا اور اعتراضات تو اٹھتے پھر شائد " اسلامی جھموریہ پاکستان" کی عزت پامال نہ ہوتی -
لیکن جب ہم نے ہی "سینیما گھروں" کی طرف رخ کیا تو سو فیصد ہم نے ہی بے حیائ کو ہوا دی -

مارچ1977 میں ایک تحریک چلی تھی جسے "تحریک نظامِ مصطفٰی " کا نام دیا جو بھٹو کے دور میں تھی -
جسکا مقصد صرف ملک میں "اسلامی قوانین" کا نفاذ تھا - جس کے بعد "صدر ضیاء الحق" نے اقتدار سنبھالا اور کافی حد تک ملک میں " اسلامی قوانین" کا نفاذ کیا -
جسمیں شرعی سزاؤں کا نفاذتھا
بلا سود بنکاری تھی
عربی زبان کا فروغ تھا
دینی مدارس کی سرپرستی تھی
علماء و مشائخ کا احترام تھا
قومی لباس اور زبان کی ترویج تھی
اور شانِ رسالت میں گستاخی کی سزا" سزائے موت" رکھی تھی اور احترامِ رمضان آرڈیننس جاری کیا تھا جسکی رو سے رمضان میں عام کھانے پینے والوں پر پابندی عائد کی اور اسکی خلاف ورزی کرنے والوں کو "تین ماہ قید" اور " 500 " روپے جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی -

یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اُس دور میں بھی " پاکستانی" تھے جو "اسلام کے نفا ذ کا سوچتے تھے اور آج بھی "ہم" جسے "پاکستانی"ہیں جو اپنی"اصل"ہی کھو چکے ہیں-

یہ " وطن" ہمیں راستے میں پڑا نہیں ملا بلکہ اس کے پیچھے بڑی کہانیاں رقم ہیں جو چلتے چلتے آج مجھے یہ لکھنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ
خدارا اپنے "وطن"کی "حالت" پر رحم کریں اور اس ملک کو نوچنے والوں اور اس ملک کا خاتمہ کرنے والوں سے نہ جا ملیں -
ہم " مسلمان " ہیں ہمارا " مذہب اسلام" ہے اور " اسلام" "بے حیائی اور بے غیرتی" کی اجازت نہیں دیتا اور "دین"کہتا ہے جہاں " بے حیائی اور برائی" دیکھو اسے روکو ضرور -

اپنے"کل" کے لئے " آج" کو اپنے ہاتھ میں لیں -
خدا کے واسطے اس ملک میں "اسلام کے نفاذ " کے لئے اٹھیں اور ملک کی حالت بدلنے میں اک دوجے کا ساتھ دیں-
اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ہم مسلسل حادثات اور ظلم کا شکار رہیں گے-

اور اللہ سورہ بقرہ آیت نمبر 7 میں ارشاد فرماتا ہے
ترجمعہ
"اللہ نے ان کے( اپنے انتخاب کے نتیجے میں)ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور انکی آنکھوں پر پردہ (پڑگیا) ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے "

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارا شمار بھی تو ان لوگوں میں سے نہیں ہو گیا جنہوں نے "دینِ اسلام"کو چھوڑ کر اپنے لئے بے حیائی کا انتخاب کرلیا اور آخرت میں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی لئے "عذابِ علیم"تیار کر لیا ؟

اللہ سورہ انفال میں ارشاد فرماتا ہے
ترجمہ
آیت نمبر 20
"اے ایمان والوں ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو "
آیت نمبر 21
"اور ان لوگوں جسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم(خدا)سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے"

آیت نمبر 22
"کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے "

اب میرا سوال "ہم سب" سے ہے کہ کیا ہمارے پاس "کان" نہیں جس سے ہم "حکمِ خدا" سنیں یا "آنکھ" نہیں جس سے "حکمِ خدا" پڑھیں کیونکہ ہم پڑھتے بھی اور سنتے بھی ہیں پر "عمل"نہیں کرتے کیوں؟

میرے عزیزوں اس لئے کہ "ہمارا ایمان بہت کمزور ہو چکا ہے" اور ہم نے اللہ اور رسول اللہ کی تعلیمات کو چھوڑ کر "ہندو کلچر"کو اپنانا شروع کر دیا ہے

خدارا ہوش کے ناخن لیں !
اپنی بند آنکھیں ,کان,دل,دماغ کھولیں بے حیائی کے خلاف آواز اٹھائیں پاکستان بچائیں -
اپنے ,میرے اور باقی بہن بھائیوں کے حق میں "ہدایت کی دعا" کریں کیونکہ اللہ انکی "حالت" نہیں بدلتا جو اپنی حالت "خود" نہ بدلے -
اپنے اندر آج سے ابھی سے تبدیلی لائیں
یہ سوال چھوڑدیں کہ ملک نے آپکو کیا دیا ؟
بلکہ یہ سوال شروع کر دیں کہ آپ نے ملک کو کیا دیا؟
"ملک"آپکا ہے اور "جھموریت" بھی آپکی ہی ہے -
"سوال"اٹھائیں "جواب" مانگیں -
"اسلام کا جھنڈا بلند کریں"-
"اسلام کا نعارہ لگائیں"-
" ترّقی "بے حیائی " سے نہیں آنی آپ کی وجہ سے " اسلام کے نفاذ " سے آ نی ہے -
اور "ہم جوان نسل"اس ملک کا "سرمایا"ہیں-

میری گزارش پڑھے لکھے والدین سے ہے کہ اپنی اولاد کو "ملک" کی نظر کریں جو "دین" کو پروموٹ کرے کیونکہ "قائدِاعظم" جیسی اولاد سو بار ڈھونڈنےسے بھی نہیں ملتی -
ہم ایک الگ"قوم ریاست اور دین" والے ہیں ہمارا بھلا اس سے کیا تعلق جو "بے ایمان اور بے حیا ہو"
جاتے جاتے "قائدِ اعظم کا ایک کوٹ آپکی نظر کر کے جاؤں گی جو انہوں نے "جداگانہ قومیت" کی وضاحت کرتے ہوئے 23 مارچ 1940 قراردادِ پاکستان کے موقع پر کہا تھا جسکی ہم نے دھچیاں اڑاتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں کی

" اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں ہیں - بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں چنانچہ اس خواہش کو خواب و خیال ہی کہنا چاہئے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق کر سکیں گے - میں واشگانہ الفاظ میں کہتا ہوں کہ وہ مختلف تہزیبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تہزیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہے"

ایک اور جگہ نومبر 1945 میں " گاندھی" کے نام ایک خط میں آپ نے لکھا
"ہم ہندو اور مسلمان ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں - ہم اپنے مذہب, تہذیب و تمدن تاریخ,زبان,طرزِتعمیر,فنِ موسیقی,اصول وقوانین معاشرت اورلباس غرضیکہ ہر چیز میں مختلف ہیں "

تاریخ میں اہمیت کے حامل یہ الفاظ اپنے آپ میں بڑی گہرائی کے حامل ہیں جن کو آپ اور مجھ جیسے "خود غرض" کی تعریف کی ضرورت نہیں -
" پاکستان " آپکی اور میری ذمہ داری ہے اسے دوسروں پر نہ ڈالیں اور ایک شہری اور محبِ وطن ہونے کے ناطے اسکا خیال رکھیں-
اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت طلب ہے کہ آئندہ آنے والے حالات میں جب ملک میں " اسلامی نفاذ" کو کھیلواڑ بنایا جائے گا آ پ ایک مسلمان ہونے کا ثبوت دیں گے اور اسکے خلاف آواز اٹھائیں گے-

اللہ آپکا اور میرا حامی و ناصر ہے طالبِ دعا
آمنہ یوسف

پاکستان زندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna yousaf

Read More Articles by Amna yousaf: 16 Articles with 10206 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 May, 2017 Views: 761

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ