*ماہِ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟*

(Irfan raza misbahi, Malegaon Maharastara India)

ماہِ رمضان کا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھیں ـ: حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺجب رمضان کا چاند نکلتا تو اس کی طرف رخ کرتے اور کہتے، *اَللَّھُمَّ اَہِلَّهٗ عَلَیْنَا بِالاَمْنِ وَالاِیمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالِاسْلَامِ وَالعَافِیَةِالمُجِلَّلَةِ وَدِفَاعِ الْاَسْقَامِ وَالْعَوْنِ عَلٰی الْصَّلَاۃِ وَالْصِّیَامِ وِتِلَاوَۃِ الْقُرْآنِ اَللَّھُمَّ سَلِّمْنَا لِرَمْضَانَٗ وَسَلِّمْهٗ لَنَا وَسَلِّمْهٗ مِنَّا (رواہ ابن حبان ، والطبرانی)*
جس وقت رمضان شریف کا چاند دیکھا جائے تو ’’سورہ فتح ‘‘کو تین بار پڑھنے (کم از کم ایک بار ضرور پڑھنے )سے تمام سال رزق میں فراخی ہوتی ہے۔ اگر رمضان کا چاند دیکھ کر اس کے سامنے پڑھا جائے ، ان شاء اللہ سال بھر امن رہے گا۔(جنتی زیور، ص:۵۹۶)
رمضان المبارک کا ٹائم ٹیبل: رمضان المبارک میں اس کی برکتوں اور عظمتوں کو پانے کے لیے اور خدائے تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور جہنم سے آزادی کا پروانہ پانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک مکمل دینی جذبے کے ساتھ رمضان کی ساعتوں کو عبادتوں سے مزین کرنے کا عہد کریں اور ا س پر عمل کریں تو وقت کا صحیح استعمال ہوگا اور درجات میں اضافہ ہوگا۔کیونکہ اس مہینے میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر گنازیادہ ہوجاتا ہے۔
سحری کی فضیلت: روزے کی نیت سے سحر کے وقت کھانا پینا سنت ہے کہ اس پر مسلمان کو ثواب دیا جاتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
*’’سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔* بخاری شریف، حدیث ۱۱۲۸
سحری کے وقت سنت طریقے سے اٹھیں ، وقت رہتے تہجد کی نماز ادا کریں۔ اس کی کم از کم ۲؍ اور زیادہ سے زیادہ ۱۲؍ رکعات ہیں۔ *حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’جنت میں ایسے شفاف کمرے ہیں کہ جس کے اندر سے باہر کا سب کچھ نظر آتا ہے اور باہر سے اندر نظر آتا ہے ۔اوروہ اللہ نے ان لوگوں کے لیے تیار فرمائے ہیں جو نرم انداز میں گفتگو کرتے ہیں، غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں، اکثر روزہ رکھتے ہیں اور راتوں کو اٹھ کر نمازیں (تہجد) پڑھتے ہیں ، جبکہ لوگ سورہے ہوتے ہیں۔‘‘(ترمذی، بیہقی*
تہجد کے وقت دعاؤں کا اہتمام کریں۔ایک تسبیح کا معمول بنا لیں *(یَاوَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ)* پھر سحری کھائیں یہ نیت کرکے کہ سنت کی ادائیگی کے لیے کھارہے ہیں ۔پھر وقت ہوتو اوراد و وظائف میں مشغول ہوجائیں۔ فجر کی اذان سنیں اور اس کا جواب دیں اور پھر اذان کے بعد کی دعا پڑھیں ،اقامت اور اذان کے درمیان اپنے لیے دعائیں مانگیں، وہ مقبولیت کا وقت ہے۔ پھر فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر فجر کی فرض نماز اپنے تمام گھر والوں کو بھی پڑھنے بھیجیں ،خود بھی پڑھیں ۔ فجر کی نماز جس نے باجماعت پڑھ لی اور اسی طرح عشاء کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لی تو ایسا کرنے سے پوری رات نماز ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
*سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی اس کے لیے آدھی رات کے قیام کا ثواب ہے اور جس نے عشاء کے ساتھ فجر کی نماز بھی باجماعت اداکی وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے ساری رات اللہ کے حضور کھڑے ہوکر قیام کیا۔(مسلم)*
*تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ جو شخص ایک رات میں ’’سو آیتیں ‘‘پڑھ لے اس کے لیے ساری رات عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔(مسند احمد)* سو آیتیں پڑھنے میں دس منٹ بھی نہیں لگتا، اس کے لیے ’’سورۂ قلم اور سورۂ الحاقہ ‘‘کی تلاوت بھی کرسکتے ہیں ۔اور مہینہ تو قرآن کی سالگرہ کا مہینہ ہے ۔ اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا ۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا’’ *مَنْ قَامَ رَمْضَانَ اِیْمَاناًوَّاِحْتِسَاباًغُفِرَلَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه*ِ‘‘ جو رمضان کی راتوں میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ یعنی رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھی جائے ، اس میں قرآن کریم سنا جائے، لیکن رسم کے طور پر نہیں بلکہ خلوص کے ساتھ توما قبل گناہوں کی بخشش ہوجائے گی۔ قرآن رب کا کلام جانتے ہوئے رب سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرنے کی نیت سے پڑھیں اولاً درود قرآنی پڑھیں *اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیَّدِنَا مُحَمَّدٍوَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہِ بِعَدَدِ مِافِی جَمِیْعِ الْقُرْآنِ حَرْفاً حَرْفاً وَّبِعَدَدِ کُلِّ حَرْفٍ اَلْفَاً اَلْفَاً*
فضیلت اس کی یہ ہے کہ اگر اسے پڑھ کر قرآن یا حدیث کو پڑھا جائے تو ہر حرف کے بدلے ہزار نیکیاں ملیں گی۔ آیت سجدہ کی تلاوت کے وقت یہ پڑھ لینا بہتر ہے۔ اگر بعد میں سجدہ کرنا ہے *اَللَّھُمَّ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْر* اور سجدۂ تلاوت کی دعا *سَجَدَ وَ جَھِی لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَصَوَّرَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصْرَہٗ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ فَتَبِارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقیْن* ہوسکے تو سات منزلوں کو سات دن میں ختم کریں یا پھر جیسے دل جمے۔ تلاوت کے بعد *صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم* پڑھیں ۔ اور اس کے بعد دعا مانگیں ۔ *اَللَّھُمَّ نَوِّرْ قُلُوْبَنَابِالْقُرْآن وَزَیِّن اَخْلَاقَنَابِالْقُرْآن وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ بِالْقُرْآن وَاَدْخِلْنَاالْجنَّۃَ بِالْقُرْآن ۔*
فجر کی نماز اور مغرب کی فرض نماز کے بعد اسی حالت میں بیٹھ کر سات مرتبہ *اَللَّھُمَّ اَجِرنِیْ مِنَ النَّار*اور اخیر میں تین بار *یَامُجِیْرُیَامُجِیْرُیَامُجِیْرُ* پڑھیں ۔ اور ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھیں اس کی برکت سے دوسری نماز کے وقت تک ہر بلا و مصیبت سے حفظ و امان میں رہیں۔
*استغفار کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ جو شخص جمعہ کے دن فجر سے پہلے تین بار اَسْتَغْفِرُاللہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہ اِلّا ھُووَاَتُوْبُ اَلَیْہ پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں ۔(مجمع الزوائد)۔*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو اور کثرت سے استغفارکیا کرو کیونکہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری (عورتوں ) کی دیکھی ہے۔ (بخاری و مسلم)۔*
*حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے یہ کلمات کثرت سے پڑھتے ’’سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللہ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ (بخاری و مسلم)۔*
اسی طرح کثرت سے درور بھی پڑھتے رہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا *’’ بروز قیامت لوگوں میں سے میرے سب سے قریب وہ ہوگا جس نے دنیا میں مجھ پر زیادہ درود پڑھا ہوگا۔(ترمذی)*
*اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس نے یہ کہا’’ اَللَّھُمّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَنْزِلْہٗ اَلْمَقْعَدَالْمُقَرَّبِعِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃ ‘‘ اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔( معجم کبیر)۔*
حتی الامکان فضائل و برکات والی دیگر نفلی نمازیں ادا کریں مثلاً نمازِ اشراق ، اس کا وقت طلوع آفتاب سے بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے۔ اس کی کم از کم ۲؍ اور زیادہ سے زیادہ ۶؍ رکعات ہیں۔ اس کی فضیلت یہ ہے کہ اشراق کی ۴؍ رکعات پڑھنے والے کی کھال کو دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی۔ (بیہقی) یہ اس کے لیے مکمل حج اور عمرہ کے اجر کے برابرثواب ہوں گے۔(ترمذی) اس کے بعد اگر کچھ دیر آرام کرنا چاہیں تو کرلیں۔ روزے دار کو سونا بھی عبادت ہے۔پھر نمازِ چاشت کے لیے اٹھیں ، جس کا وقت آفتاب کے خوف طلوع ہوجانے(تقریباً۹، ۱۰؍ بجے) کے بعد ہوتا ہے۔اس کی کم از کم ۲؍ اور زیادہ سے زیادہ ۱۲؍ رکعات ہیں۔ *فضیلت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’جو شخص چاشت کی نماز کی حفاظت کرے تو اس کے گناہ اگرچہ سمند کے جھاگ کے برابر ہوں بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘*
پہلے عشرے میں ہر نماز کے بعد *رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِین*ْ اور دوسرے عشرے میں *اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہ* اور تیسرے عشرے میں *اَللّھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّار یَا مُجِیْرُ یَا مُجِیْرُ یَا مُجِیْر*ُ کا ورد ایک سو مرتبہ کرے ۔ شب قدر میں اس دعا کا ورد کثرت سے کرے *اَللّھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّیِ*
افطاری کی تیاری ظہر اور عصر کے درمیان ہی کرلیں ، تاکہ مغرب سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے ہی آپ کو ذکر و اذکار اور دعا مانگنے کا وقت مل جائے۔ اس وقت کثرت سے دعا کریں ۔ *حدیث پاک میں آیا ہے کہ’’ روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی‘‘(شعب الایمان، ابن ماجہ)*

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan raza misbahi

Read More Articles by Irfan raza misbahi: 15 Articles with 15131 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 May, 2017 Views: 866

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ