لیاری کا نوجوان :-

(Abdul rahman Fazal., Karachi)

یوں تو پورے پاکستان میں ٹیلینٹ کی کمی نہیں مگر کراچی کا قدیم علاقہ لیاری جو کراچی کا دل مانا جاتا ہے یہاں ٹیلینٹ کی کوئ کمی نہیں اسپورٹس سے لے کر تعلیم تک یہاں کے نوجوان بچے بچیوں نے پورے پاکستان بلکےپوری دنیاں میں اپنے لوہے منوائے لیکن انتہائ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے لیاری کے ٹیلینٹڈ اسپورٹس مین کی قدر نہیں خواہ وہ فٹبالر ہو یہ باکسر جنہونے دنیاں بھر میں پاکستان کا نام روشن آج وہ بدحالی کی ذندگی گذارنے پر مجبور ہیںاور محنت مذدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان سے فٹبال کی ایک یوتھ ٹیم ن بینلاقوامی سطح پرکھیلنے گئ اور بہت جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا برازیل یوتھ جیسی زبردست ٹیم کو ھار کا مزاہ چھکایا یہ پاکستان کی پھلی یوتھ ٹیم تھی جنھو نے بہت ھی زبردست کھیل کا مظاھرہ کر کے سب کو چونکا ڈالا چونکہ اس ٹیم میں لیاری اور ماڑی پور کی کھلاڑیو کو موقع دیا گیا اتنی بہترین کارکردگی کا کیا حاصل؟

ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے ان روشن مستقبلوں کو نظر انداز کیا گیا دنیاں میں نام کمانے والے اسی غربت اور افلاس میں ذندگی گزارنے پر مجور ہیں۔
لیاری کو لیٹل برازیل کہا جاتا ہے۔

کیونکہ یہاں فٹبال کے بہت ہی اچھے کھلاڑی موجود ہے اگر ان کھلاڑیوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہو تو وہ دن دور نہیں جب فٹبال کی دنیاں میں لوگ پاکستان کو پہچانینگے۔ حکومت کی عدم توجہ کے باعث پہلے کی طرح آج بھی لیاری کے ٹیلینٹ دفن ہو رہے ہیں بلکہ یوں سمجھے کہ انھیں دفن کیا جا رہا ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ کراچی کا ایک برا وٹ بینک رکھنے والا علاقہ جس کے نام سیاست کی جاتی ہےوٹ لیے جاتے ہیں حکومت بنائ جاتی ہے اسی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے حکمران تبقے کو لیاری کے ان عظیم سپوتوں کے مطعلق سنجیدگی سے سوچنا ہوگاصرف لیاری کے فٹبال کھیل کا معاملا نہیں یہ ملک و قوم کہ بہترین مستقبل اور لیاری کی ترقی و خوش حالی کا سوال ہے۔
لیاری کے نوجوان اپنے ذہن میں ان گنت سوالات رکھتا ہے۔
کیا ہوگا اس کا مستقبل؟
کیا دنیا بھر میم کھیل کے میدانوں میں نام کمانے والے یوں ہی بے نشان رہینگے؟
کیا لیاری میں اسپورٹ کے حوالے سے کوئ خوب پورا نہیں ہو پاے گا؟
کیا لیاری کے فٹبالر بوکسر یونہی تنگ دستی کا اور غربت کی ڈندگی گزارینگے؟
اور ان سب سوالوں کا کوئ جواب نہیں صرف تاریکی ہی تاریکی۔
جب دیکھتا ہوں مستقبل ء لیاری ،
نیندھ اڑھ جاتی ہے ،آنکھ بھر آتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul rahman Fazal.
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 May, 2017 Views: 415

Comments

آپ کی رائے