غیروں کی خوا ہش پر اپنوں کا خون

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: قدسیہ ملک، جامعہ کراچی
ردا کو پڑھنے کا شوق ماں سے ورثے میں ملا تھا ۔ اب ورثے میں ملی چیز کی اہمیت ہی الگ ہوتی ہے۔ بعض لوگ تو ورثہ کا غلط اور بے دریغ استعمال کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ ورثہ تمام ہوجاتا ہے اور بعض ولی صفت لوگ اپنے ورثے کی حفاظت اپنی جان کی حفاظت جیسی کرتے ہیں مبادہ ان سے چھن نا جائے۔
ردا انہی چند افراد میں سے تھی ۔ماں کی کم عمری میں ہی شادی کردی گئی تھی پھر یکے بعد دیگرے کئی بچوں کی پیدائش سے وہ اب اتنی مصروف ہوگئی تھی کہ اب چاہنے کے باوجود وہ اپنے بچوں کے علاوہ الگ سے اپنے لیے کوئی وقت نہ نکال پاتی تھی۔سسرال میں مالی وسائل کی کوئی کمی نہ تھی۔ خاندانی نظام بہت مضبوط تھا۔ روپے پیسے کی فراوانی تھی۔ردا کی والدہ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کمی بیشی نہ چھوڑنا چاہتی تھی۔اپنے تمام بچوں کو وزیرستان کے مشہور اسکول میں پڑھارہی تھی۔۔۔ جس کے لیئے اسے اپنے سسرال والوں اور شوہر کی بھر پور معاونت حاصل تھی ۔

اس کی سب سے بڑی بیٹی ردا تھی جس کی تربیت اور تعلیم میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں رکھنا چاہتی تھی جبھی تو اسے اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھرداری دینی تعلیم وتربیت بھی خوبصورت انداز میں سکھاتی تھی۔

ردا نے بچپن ہی سے سنا تھا کے ان کے علاقے میں فوجی کارروائی کی جارہی ہے اور روز کچھ دہشت گروں کو ہلاک کردیا جاتاہے وہ سوچتی یہ کیسے دہشتگرد ہیں جو نہ چوری کرتے ہیں نہ ڈاکہ ڈالتے نہ ہی کسی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

14 مئی 2004 میں پاکستانی سالمیت پر ہونے والا پہلا حملہ افغانستان اور پاکستان کی قریبی بارڈر شمالی وزیرستان میں کیا گیا تھا۔ جس میں امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق القاعدہ کا حاتم المینی جاں بحق ہوا۔۔۔پاکستان میں اس کاردعمل بہت شدید تھا۔۔جس کے بعد ڈرون حملے روک دیئے گئے ۔لیکن پھر 30 نومبر کو میران شاہ کے علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں القائدہ کا لیڈر ابو حمزہ ربیعہ جاں بحق ہوگئے ۔ ۔۔
شدید ردعمل کے نتیجے میں امریکی سفیر کو طلب کیا گیا لیکن جب انہوں نے بتایا کے پچھلی حکومت کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف تعاون کی جنگ میں پاکستان سب سے بڑا اتحادی ہے اور معاہدے پر پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ساتھ تمام وزرائے اعلیٰ کے دستخط دیکھا کر موجودہ حکومت کو بھی باربار مدد کی پیشکش کی گئی تو عوام کی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کی آوازیں کہیں نقار خانے میں طوطی کی آواز کی طرح دبتی چلیں گئیں۔۔۔ملکی سالمیت پر سودے بازی کرلی گئی عاقبت کی بجائے دنیا خرید لی گئی ۔ ……اور واقعی غیروں کی خواہشات کے نتیجے میں اپنوں کا خون کردیا گیا۔
وھنا وزیرستان میں 2004 اور 2005 میں شروع ہونے والے ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ردا علھ عروسۃ البحر شایان ولی خان بابر شجاعت رباب زینب زین عجون زرولی شایان آفریدی اور اس جیسے بہت سے بچے اب گھروں اور آس پاس کے علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئے ۔ ۔۔۔

ردا کے گاؤں میں آج خوشی کے شادیانے بج رہے تھے ۔محلے میں ہر آنکھ میں خوشی تھی۔ بچے بڑے بھائی بہن چچا تایا ماسی خان بابا کی مسرت دیدنی تھی اور کیوں نہ ہوتی آج میر انشاء میں کا کول کے علاقے میں بارات آرہی تھی۔ کہیں دیگیں چڑھیں تھی کہیں بچے کھیل رہے تھے ۔کہیں خوشی کے گیت گیت گائے جارہے تھے۔ یکایک منظر تبدیل ہوتا ہے ۔ساتھ والے گاؤں میں ڈرون حملے کی آواز سے ردا کا گاؤں گرج اٹھا ۔بچے سہم کر ماؤں کی گود میں جا بیٹھے ۔گیت کی جگہ خاموشی کا راج ہوگیا۔ دیگوں کی آگ بند کر دی گئی۔لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔ ڈرون حملے مانیٹر کرنے والے امریکہ میں بیٹھے ہوئے انجینئر نے تفریحا چندڈرون بم شہری علاقے میں پھینک دیئے تاکہ روتے چلاتے بچوں کی دلروز چیخوں کا مشاہدہ اپنے کیمرے کی آنکھ سے کرسکے ۔۔۔زمین اور آسماں اس سفاکیت پر حیران تھے۔
پرندے کیوں نہیں آتے کنکر کیوں نہیں گراتے۔۔

اگلی صبح دنیا نے اپنے ہی ملک میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیئے جانے والے وانا و وزیرستان کے لوگوں کی سب سے بڑی ہجرت دیکھی۔ لاکھوں روپے مالیت خرچ کرکے خیبر پختون خواہ کے مہاجرین کیمپوں میں غربت اور افلاس کیزندگی گزارنے پر مجبور کی جانے والی ردا کبھی روٹی کے لیئے روتی اپنی بہن کو دیکھتی اور کبھی بوڑھے دادا کو کیونکہ ڈرون حملے کے نتیجے میں پورے کنبے کے یہی تین افراد بچے تھے۔۔۔اپنی بہن کو راشن کی لمبی قطاروں میں لگ کر روٹی کے چند ٹکڑے لاکر دیتی اور شام میں اسی جگہ اپنے دادا اور بہن کے ساتھ اپنے خوابوں کو اپنے ساتھ لیئے سوجاتی۔ صبح صبح وہ اپنے خواب جھٹک کر دوبارہ پناہ گزین کیمپ میں راشن کی قطار میں لگ جاتی ۔
پھر سے آنکھوں میں خواب انشاء جی
اجتناب اجتناب اجتناب انشا جی

پھرایک دن خیبر یونیورسٹی کے کچھ طلباء مہاجرین بچوں کی امداد کے لیئے آئے وہ اپنے ساتھ بہت سے کھلونے اور کتابیں بھی لائے ۔انہوں نے ردا اور اس کی چھوٹی بہن فدا کو بھی کتابیں اور کھلونے دیئے۔ ردا کتابیں دیکھ کر خوش ہوگئی اور خوش خوش خیمے کے باہر کھلی ہوا میں بیٹھ کر ماضی کے دریچے کھولنے لگی۔
میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی
آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 499618 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 310

Comments

آپ کی رائے