قرض

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:ثمرین یعقوب
ڈئیر ابو!
کبھی سوچا نہیں تھا کہ ا س طرح کوئی خط لکھوں گی۔ وقت کا ستم کہوں یا آزمائش۔ ابو آپ پر ایک قرض تھا جو میں ادا کررہی ہوں۔ میری امی غصے کے تیز نانا اور ماموں سے ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ آکر آپ کی طرف راغب ہوئی یہ وہ پہلی چوری تھی جو ان سے سرزد ہوئی اس کے بعد تو معمول بن گیا۔ آپ کو بھی امی پسند تھی مگر محبت نہیں تھی مگر ساری زندگی اس غلط فہمی میں گزاردی۔ آپ نے رشتہ بھیجا، نانا ا س وقت احساس ملکیت کے نشے میں چور تھے سو فورا انکار کردیا۔ ماموں نے امی کی زندگی مزید اجیرن کردی۔ امی باغی ہوگئی ایک رات نانا کی عزت کا قرض اٹھائے آپ کی دہلیز پار کرلی۔

امی نے گھر سے بھاگ کر آپ سے شادی تو کرلی مگر ناقابل معافی جرم اپنے کھاتے لکھوا لیا۔محبت کی سزا یہ ملی کہ جس شخص کی وفادار تھی اپنوں کو بھی ٹھکرا دیا۔ آپ کو بھی امی مال مفت دل بے رحم لگی۔ شک کرتے آپ نہیں تھکتے تھے۔ اسمیں آ پ کا قصور نہیں یہ معاشرے کا اصول ہے۔مگر ان سب باتوں سے اہم آپ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ میری ہر فرمائش پوری کرتے تھے ۔

سسرال کے ظلم وستم میکے کی جدائی شوہر کے ناروا سلوک سے تنگ ماں پر موت کو ترس آگیا۔میں امی کا انجام دیکھ کر خوفزدہ تھی۔ اس لیے محبت فارغ لوگوں کا مشغلہ لگتا تھا۔ اور نہ ہی مجھے یہ سننا گوارہ تھا کہ لوگ کہیں گے جیسی ماں ویسی بیٹی۔ پھر میری زندگی میں ایک شخص آیا۔ اس کی محبت سچی تھی۔ میں نہ چاہیتے ہوئے بھی اس کے سنگ چلنے لگی۔ یہ تلخ حقیقت جاننے کے بعد کہ وہ میرے ماموں کا بیٹا ہے۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ نہ ماموں کی التجائیں مجھے منا سکی اور نہ ہی اس کی موت۔ آپ نے میرا رشتہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی پسندسے شادی کروگی تو عزت نہیں ملے گی ،جیسے تمہاری ماں کو نہیں ملی۔ عزت تو دور وہ لوگ مجھے تم سے ملنے بھی نہ دیں جیسے میں تم کو تمہارے نانا سے نہیں ملنے دیتا تھا۔ حالانکہ میری پسند جوتھی وہ اس دنیا سے بھی چلا گیا ۔پتا نہیں آپ کے اندر یہ ڈر کیوں تھا؟پھر میری شادی آپ کی خواہش پر ہوگئی۔ وہ آپ کارشتے دار تھا آپ سے مختلف کیسے ہوسکتا تھا۔ جب میرا شوہر مجھے آپ سے ملنے سے روکتا ہے۔ آپ کی تذلیل کرتا ھے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ آپ میرے گھر کے دروازے سے لوٹ آتے ہیں تو مجھے نانا یاد آتے ہیں۔ آپ کی بے بسی میں مجھے نانا کی بے بسی یاد آتی ہے۔ جب وہ گھر سے چھپ کر ایک نظر امی کو دور سے دیکھتے تھے۔ ایک بار نانا کا دل گبھرایا تو وہ مجھے گھر سے باہر ملے امی کی ڈیتھ کاسن کر سکتہ طاری ہوگیا۔ پھر وہ کچھ دن بعد امی کے پاس چلے گئے۔ مجھے آپ کا قرض چکانا پڑا میرا شوہر آپ جیسا ہی ہے۔ پر میں ماں جیسی نہیں ہوں.۔ نیل جسم پر ماں کی طرح ہیں۔اپنی تذلیل برداشت کرنا مشکل نہیں جتنی والدین کی۔ لہذا مجھے معاف کردینا میں خودکشی کررہی ہوں۔ میرا پہلا اور آخری خط۔
فقط
آپ کی بیٹی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521134 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 367

Comments

آپ کی رائے